Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ التَّطَوُّ ع غَیرَ مَا تَقَدَّمَ ذِکرُنَا لَھَا · حديث 1214

حدثناه علي بن حجر نا محمد بن يزيد الواسطي ح و ثنا سلم بن جنادة نا وكيع عن عبيدة بن معتب الضبي عن إبراهيم عن سهم بن منجاب عن قزعة عن القرثع عن أبي أيوب عن النبي صلى الله عليه وسلم وحدثنا بندار نا أبو داود ثنا شعبة حدثني عبيدة و كان من قديم حديثه عن إبراهيم عن سهم بن منجاب عن قزعة عن القرثع عن أبي أيوب : عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : أربع قبل الظهر لا يسلم فيهن تفتح لهن أبواب السماء هذا لفظ حديث شعبة فأما محمد بن يزيد فإنه طول الحديث فذكر فيه كلاما كثيرا فحدثنا بندار نا محمد نا شعبة عن عبيدة بن معتب عن ابن منجاب عن رجل عن قرثع الضبي عن أبي أيوب : عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه و عبيدة بن معتب رحمه الله ليس ممن يجوز الاحتجاج بخبره عند من له معرفة برواية الأخبار وسمعت أبا موسى يقول : ما سمعت يحيى بن سعيد ولا عبد الرحمن بن مهدي حدثا عن سفيان عن عبيدة بن معتب بشيء قط وسمعت أبا قلابة يحكي عن هلال بن يحيى قال : سمعت يوسف بن خالد السمتي يقول : قلت لعبيدة بن معتب : هذا الذي ترويه عن إبراهيم سمعته كله ؟ قال : منه ما سمعته و منه ما أقيس عليه قال : قلت : فحدثني بما سمعت فإني أعلم بالقياس منك وروى شبيها بهذا الخبر الأعمش عن المسيب بن رافع عن علي بن الصلت عن أبي أيوب عن النبي صلى الله عليه وسلم إلا أنه ليس فيه : لا يسلم بينهن

حضرت ابو ایوبؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : طہر سے پہلے چار رکعات ، نمازی ان میں سلام نہ پھیرے تو ان کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ۔ یہ جناب شعبہ کی حدیث کے الفاظ ہیں ۔ جبکہ جناب محمد بن یزید نے بڑی طویل حدیث بیان کی ہے اور اس میں بہت ساری باتیں ذکر کی ہیں (آگے امام صاحب نے اپنی سند بیان کی ہے) اور عبیدہ بن معتب ؒ کا شمار ان راویوں میں نہیں ہوتا جن کی روایت سے علمائے روایت استد لال کرتے ہیں ۔ اور میں نے جناب ابو موسیٰ کو فرماتے ہوئے سنا : میں نے کبھی امام یحییٰ بن سعید اور امام عبد الرحمان بن مہدی ؒ کو سفیان کے واسطے سے عبیدہ بن معتب سے کوئی روایت بیان کرتے نہیں سنا ۔ اور میں نے جناب ابو قلابہ کو ہلال بن یحییٰ سے بیان کرتے ہوئے سنا ، وہ کہتے ہیں : میں نے یوسف بن خالد سمتی کو فرماتے سنا ، وہ کہتے ہیں : میں نے جناب عبیدہ بن معتب سے پوچھا : جو روایات آپ ابراہیم سے بیان کرتے ہیں ، کیا آپ نے وہ تمام روایات ان سے سنی ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا : ان میں سے کچھ میں نے ان سے سنی ہیں ، اور کچھ ایسی ہیں کہ میں ان پر قیاس کر لیتا ہوں ۔ جناب یوسف کہتے ہیں : میں نے کہا : آپ مجھے صرف وہ احادیث بیان کریں جو آپ نے سنی ہیں ، کیونکہ میں قیاس کے بارے میں آپ سے زیادہ جانتا ہوں اس روایت کے مشابہ روایت جناب اعمش نے مسیب بن رافع کی سند سے حضرت ابو ایوب ؓ سے نبی اکرم ﷺ سے بیان کی ہے مگر اس میں یہ الفاظ موجود نہیں ہیں: ان کے درمیان سلام نہ پھیرے۔

أَبِي أَيُّوبَ، ← الْقَرْثَعِ ← قَزَعَةَ ← سَهْمِ بْنِ مِنْجَابٍ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← عبيدة و كان من قديم حديثه ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← بُنْدَارٌ ← أَبِي أَيُّوبَ، ← الْقَرْثَعِ ← قَزَعَةَ ← سَهْمِ بْنِ مِنْجَابٍ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← عُبَيْدَةَ بْنِ مُعَتِّبٍ الضَّبِّيِّ، ← وَكِيعٌ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ← و، ← محمد بن يزيد الواسطي ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of volunteering doors other than the aforementioned · Hadith 1214

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ التَّطَوُّ ع غَیرَ مَا تَقَدَّمَ ذِکرُنَا لَھَا · حديث 1215

حَدَّثَنَاهُ أَبُو مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، ثَنَا شَرِيكٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ؛ ح وَثَنَا أَبُو مُوسَى، نَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَلَسْتُ أَعْرِفُ عَلِيَّ بْنَ الصَّلْتِ هَذَا، وَلَا أَدْرِي مِنْ أَيِّ بِلَادِ اللَّهِ هُوَ، وَلَا أَفْهَمُ أَلَقِيَ أَبَا أَيُّوبَ أَمْ لَا؟ وَلَا يَحْتَجُّ بِمِثْلِ هَذِهِ الْأَسَانِيدِ (2) -عِلْمِي- إِلَّا مُعَانِدٌ أَوْ جَاهِلٌ.

امام صاحب نے امام اعمش کی مکمل سند بیان کی ہے۔ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں :(اس سند کے راوی) علی بن صلت کو میں نہیں جانتا اور نہ مجھے یہ معلوم ہے کہ وہ اللہ تعالی کے کس ملک کا باشندہ ہے ۔ اور میری سمجھ میں یہ بات آئی ہے کہ کیا وہ حضرت ابو ایوب ؓ سے ملا ہے یا نہیں ؟ میرے علم کے مطابق اس قسم کی (ضعیف و کمزور) اسانید سے صرف کوئی مخالف (ضدی ، ہٹ دھرم) یا جاہل شخص ہی استدلال کر سکتا ہے۔

أَبِي أَيُّوبَ، ← رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ ← الْمُسَیِّبِ بْنِ رَافِعٍ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَبُو مُوسَى، ← الْاَعْمَشِ ← شَرِيکٍ ← أَبُو أَحْمَدَ ← أَبُو مُوسَى،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of volunteering doors other than the aforementioned · Hadith 1215

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ التَّطَوُّ ع غَیرَ مَا تَقَدَّمَ ذِکرُنَا لَھَا · حديث 1216

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ -أَمْلَى بِالْكُوفَةِ- نَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَبُو شُعَيْبٍ الْعَدَنِيُّ -وَهُوَ الَّذِي يُقَالُ لَهُ: الْقَنْبَارِيُّ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: أَصْلِي فَارِسِيٌّ- قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ: "يَا عَبَّاسُ! يَا عَمَّاهُ! أَلَا أُعْطِيكَ، أَلَا أُجِيزُكَ، أَلَا أَفْعَلُ لَكَ عَشْرَ خِصَالٍ، إِذَا أَنْتَ فَعَلْتَ ذَلِكَ غَفَرَ اللَّهُ ذَنْبَكَ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ، قَدِيمَهُ وَحَدِيثَهُ، خَطَأَهُ وَعَمْدَهُ، صَغِيرَهُ وَكَبِيرَهُ، سِرَّهُ وَعَلَانِيَتَهُ، عَشْرَ خِصَالٍ، أَنْ تُصَلِّيَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ تَقْرَأُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ فَإِذَا فَرَغْتَ مِنَ الْقِرَاءَةِ فِي أَوَّلِ رَكْعَةٍ قُلْتَ وَأَنْتَ قَائِمٌ: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ، خَمْسَ عَشْرَةَ مَرَّةً، ثُمَّ تَرْكَعُ وَتَقُولُ وَأَنْتَ رَاكِعٌ [133 - أ] عَشْرًا، ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ مِنَ الرُّكُوعِ فَتَقُولُهَا عَشْرًا، ثُمَّ تَسْجُدُ فَتَقُولُهَا عَشْرًا، ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ فَتَقُولُهَا عَشْرًا، ثُمَّ تَسْجُدُ فَتَقُولُهَا عَشْرًا، ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ فَتَقُولُهَا عَشْرًا، فَذَلِكَ خَمْسٌ وَسَبْعُونَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، تَفْعَلُ فِي أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ، إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تُصَلِّيَهَا فِي كُلِّ يَوْمٍ مَرَّةً فَافْعَلْ، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّةً، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي كُلِّ شَهْرٍ مَرَّةً، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي سَنَةٍ مَرَّةً، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي عُمُرِكَ مَرَّةً". وَرَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِكْرِمَةَ مُرْسَلًا لَمْ يَقُلْ فِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَكَمِ.

حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عباس بن عبدا لمطلب سے فرمایا : اے عباس ! اے چچا جان ! کیا میں آپ کو عطیہ نہ دوں ، کیا میں آپ کو تحفہ اور انعام نہ دوں؟ کیا میں آپ کے لیے دس چیزوں کو کر لیں گے تو اللہ تعالی آپ کے پہلے اور پچھلے ، پرانے اورنئے ، غلطی سے کیے ہوئے اور عمدا سر زد ہونے والے ، چھوٹے اور بڑے ، خفیہ اور علانیہ سارے گناہ معاف فرمادے گا۔ وہ دس چیزیں یہ ہیں ۔ تم چار رکعات اس طرح پڑھو کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے ساتھ کوئی اور سورت بھی تلاوت کرو ، پھر جب پہلی رکعت میں قرات سے فارغ ہو جائو تو کھڑے کھڑے یہ کلمات پندرہ مرتبہ پڑھو۔: سُبُحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُ لِلہِ وَلَا اِلَہَ اِلَّا اللہُ وَاللہُ اَکْبَرُ،"اللہ پاک ہیں ، اور تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں ، اور اللہ تعالی کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں ، اور اللہ سب سے بڑا ہے۔ پھر تم رکوع کرو تو رکوع کی حالت میں یہی کلمات دس مرتبہ پڑھو ، پھر رکوع سے سر اٹھا کر یہ کلمات دس بار پڑھو ، پھر سجدہ کرو تو یہ کلمات دس دفعہ پڑھو ، پھر سجدے سے سر اٹھا کر یہ کلمات دس مرتبہ پڑھو ، پھر سجدہ کرو تو یہ کلمات دس بار پڑھو ، پھر سجدے سے سر اٹھا کر دس بار پڑھو، اسی طرح ہر رکعت میں یہ کلمات پچتر مرتبہ ہو جائے گا اسی طرح چاروں رکعات میں پڑھو گے ، اگر تمہیں اسطاعت ہو تو ہر روز ایک بار یہ نماز پڑھ لیا کرو ، اگر ہر روز ممکن نہ ہو تو ہفتے میں ایک بار پڑھ لیا کرو،اور اگر تم یہ بھی نہ کر سکو تو ہر مہینہے میں ایک بار ادا کر لیا کرو ، اور اگر تم سے یہ بھی ممکن نہ ہو تو سال میں ایک مرتبہ پڑھ لیا کرو ، اگر یہ بھی نہ کر سکو تو پوری عمر میں ایک بار پڑھ لینا ۔ جناب ابراہیم بن حکم بن ابان نے اپنے باپ کے واسطے کے ساتھ حضرت عکرمہ سے یہ روایت مرسل بیان کی ہے ، اس میں حضرت ابن عباس ؓ کا نام ذکر نہیں کیا ۔ ہمیں یہ روایت محمد بن رافع نے ابراہیم بن حکم سے بیان کی ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، ← أَصْلِي فَارِسِيٌّ- ← مُوسَى بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَبُو شُعَيْبٍ الْعَدَنِيُّ -وَهُوَ الَّذِي يُقَالُ لَهُ: الْقَنْبَارِيُّ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ -أَمْلَى بِالْكُوفَةِ-

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of volunteering doors other than the aforementioned · Hadith 1216

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ التَّطَوُّ ع غَیرَ مَا تَقَدَّمَ ذِکرُنَا لَھَا · حديث 1217

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هشام، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ثَنَا عُثْمَانُ -وَهُوَ ابْنُ حَكِيمٍ- أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ ذَاتَ يَوْمٍ مِنَ الْعَالِيَةِ حَتَّى إِذَا مَرَّ بِمَسْجِدِ بَنِي مُعَاوِيَةَ، دَخَلَ فَرَكَعَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ، وَصَلَّيْنَا مَعَهُ وَدَعَا رَبَّهُ طَوِيلًا، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيْنَا، فَقَالَ: "سَأَلْتُ رَبِّي ثَلَاثًا، فَأَعْطَانِي اثْنَتَيْنِ، وَمَنَعَنِي

حضرت سعد ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن عالیہ سے واپس تشریف لائے حتی کہ جب بنی معاویہ کی مسجد کے پاس گزرنے لگے تو اس میں داخل ہو گے اور دو رکعت نماز ادا کی، اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی ، آپ نے رب سے بڑی لمبی دعا مانگی ، پھر آپ ہماری طرف مڑے اور فرمایا : میں نے اپنے رب سے تین دعائیں مانگیں تو اس نے میری دو دعائیں قبول فرمائیں اور ایک قبول نہیں فرمائی ۔ میں نے اپنے رب سے یہ دعا مانگی کہ میری امت کو قحط سالی کے ساتھ ہلاک نہ کرنا، تو میری یہ دعا اللہ تعالی نے قبول کر لی ۔ اور میں نے یہ دعا کی کہ میری امت کو غرق کر کے ہلاک نہ کرنا تو اس نے یہ بھی قبول فرما لی۔ اور میں نے اس سے یہ سوال کیا کہ ان کی باہمی جنگ نہ ہو تو یہ دعا قبول نہیں فرمائی۔

أَبِيهِ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ← عُثْمَانُ -وَهُوَ ابْنُ حَكِيمٍ- ← عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هشام،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of volunteering doors other than the aforementioned · Hadith 1217

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ التَّطَوُّ ع غَیرَ مَا تَقَدَّمَ ذِکرُنَا لَھَا · حديث 1218

حدثنا سعيد بن يحيى بن سعيد الأموي ثنا أبي نا الأعمش عن رجاء الأنصاري عن عبد الله بن شداد بن الهاد عن معاذ بن جبل قال : خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم وخرجت معه ألتمسه أسأل كل من مررت به فيقول : مر قبل حتى مررت فوجدته يصلي فانتظرته حتى انصرف وقد أطال الصلاة فقلت : لقد رأيتك طولت تطويلا ما رأيتك صليتها هكذا قال : إني صليت صلاة رغبة ورهبة سألت الله ثلاثا فأعطاني اثنتين ومنعني واحدة سألته أن لا يهلك أمتي غرقا فأعطانيها وسألته أن لا يسلط عدوا من غيرهم فأعطانيها وسألته أن لا يلقي بأسهم بينهم فرد علي

حضرت معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ باہر تشر یف لے گئے تو میں بھی آپ بھی آپ کو تلاش کرتے ہوئے باہر نکلا ، میں جس شخص کے پاس سے گزرتا ، اس سے آپ کے بارے میں پوچھتا تو وہ جواب دیتا کہ آپ تھوڑی دیر پہلے گزرے ہیں ۔ حتی کہ میں ایک جگہ سے گزرنے لگا تو آپ کو نماز پڑھتے ہوئے پایا ۔ میں نے آپ کا انتظار کیا حتی کہ آپ نے نماز مکمل کر لی اور آپ نے ایک طویل نماز ادا فرمائی ۔ میں نے عرض کی: (اللہ کے رسول) میں نے آپ کو بڑی طویل نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ، میں نے آپ کو (پہلے کبھی) اس طرح نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا۔آپ نے فرمایا : بے شک میں نے ترغیب و ترہیب والی نماز ادا کی ہے ۔ میں انے اللہ تعالی سے تین دعائیں مانگیں تو اس نے میری دو دعائیں قبول کر لیں اور ایک قبول نہیں فرمائی ۔ میں اس سے یہ دعا کی وہ میری امت کو غرق کر کے ہلاک نہ کرے تو یہ میری دعا اس نے قبول فرمالی، اور میں نے اس سے سوال کیا ان پر انکے دشمن کو مسلط نہ کرنا تو اس نے میری یہ دعا بھی قبول فرمالی۔ اور میں نے یہ دعا مانگی کہ ان کی باہمی خانہ جنگی نہ ہو تو اس نے میری یہ دعا رد کر دی۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، ← رَجَاءٍ الأَنْصَارِيِّ ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of volunteering doors other than the aforementioned · Hadith 1218

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ التَّطَوُّ ع غَیرَ مَا تَقَدَّمَ ذِکرُنَا لَھَا · حديث 1219

حدثنا محمد بن بشار و أبو موسى قالا : حدثنا عثمان بن عمر نا شعبة عن أبي جعفر المدني قال : سمعت عمارة بن خزيمة يحدث عن عثمان بن حنيف : أن رجلا ضرير أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال : أدع الله أن يعافيني قال : إن شئت أخرت ذلك وهو خير وإن شئت دعوت قال أبو موسى قال : فادعه وقالا فأمره أن يتوضأ قال بندار : فيحسن وقالا : ويصلي ركعتين ويدعوا بهذا الدعاء : اللهم إني أسألك وأتوجه إليك بنبيك محمد نبي الرحمة يا محمد إني توجهت بك إلى ربي في حاجتي هذه فتقضي لي اللهم شفعه في زاد أبو موسى : وشفعني فيه قال : ثم كأنه شك بعد في : وشفعني فيه

حضرت عثمان بن حنیف ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک نا بینا شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت اقدس میں میں حاضر ہو کے کہنے لگا : آپ اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ مجھے عافیت و سلامتی عطا فرمادے۔ آپ نے فرمایا: اگر تم چاہو تو میں دعا مئو خر کر دیتا ہوں (تم صبر کرنا)تو یہ (تمہارے حق میں ) بہت بہتر ہے اور اگر تم چاہو تو میں دعا کر دیتا ہوں ۔ جناب ابو موسیٰ کی روایت میں ہے کہ ، اس شخص نے عرض کی : آپ دعا فرما دیں جناب ابو موسیٰ اور محمد بن بشار کی روایت میں ہے اچھی طرح وضو کرنے کا حکم دیا ۔ جناب بندرا کی روایت میں ہے۔اچھی طرح وضو کرنے کا حکم دیا :پھر دونوں راویوں نے کہا : اور دو رکعت نماز پڑھ کر یہ دعا مانگو۔ اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور میں تیری طرف نبی محمد نبی رحمت کے ذریعے سے متوجہ ہوتا ہوں ، اے محمد(ﷺ)! میں نے آپ کے ذریعے سے اپنے رب کی طرف توجہ کی،اپمی اس ضرورت اور حاجت کے پورا کرنے کے لیے ، تاکہ وہ میری یہ حاجت پوری فرمادے ۔اے اللہ!(اپنے نبی کی) سفارش میرے لیے قبول فرما ۔ ابو موسیٰ کی روایت میں یہ اضافہ ہے: اور اس نے میری سفارش اس کے بارے میں قبول فر مالی۔ فرماتے ہیں گویا کہ بعد میں ان الفاظ میں شک ہو گیا:"وشَفـَعَنِیْ فِیْہِ"(اس لیے بعد میں بیان نہیں کرتے تھے)۔

عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ، ← عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ ← أبي جعفر المدني ← شُعْبَةُ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← محمد بن بشار و أبو موسى

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of volunteering doors other than the aforementioned · Hadith 1219

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ التَّطَوُّ ع غَیرَ مَا تَقَدَّمَ ذِکرُنَا لَھَا · حديث 1220

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ، أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ أَبِي الْوَلِيدِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَيُّوبَ بْنَ خَالِدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "اكْتُمِ الْخِطْبَةَ، ثُمَّ تَوَضَّأْ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ، ثُمَّ صَلِّ مَا كَتَبَ اللَّهُ لَكَ، ثُمَّ احْمَدْ رَبَّكَ وَمَجِّدْهُ، ثُمَّ قُلِ: اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، فَإِنْ رَأَيْتَ لِي فِي فُلَانَةَ -تُسَمِّيهَا بِاسْمِهَا- خَيْرًا لِي فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَآخِرَتِي فَاقْدُرْهَا لِي، وَإِنْ كَانَ غَيْرُهَا خَيْرًا لِي مِنْهَا فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَآخِرَتِي فَاقْضِ لِي بِهَا -أَوْ قَالَ-[133 - ب] اقْدُرْهَا لِي". جُمَّاعُ أَبْوَابِ صَلَاةِ الضُّحَى وَمَا فِيهَا مِنَ السُّنَنِ

ابو ایوبؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : منگنی کا پیغام چھپا کر رکھ، پھر وضو کر اچھی طر ح نماز پڑھ جتنی اللہ نے تمہارے لیے لکھ دی ہے پھر اپنے رب کی حمد اور بزرگی بیان کر پھر یہ دعا مانگو ، اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ تَقْدِرُ۔۔۔۔۔فَاقْضِ لِیْ بِھَا:اے اللہ بے شک تو قادر ہے اور میں قادر نہیں ہوں ، تو جانتا ہے میں نہیں جانتا ، تو غیبوں کو خوب جاننے والا ہے پس اگر تو فلاں عورت کو ( اس کا نام لو) میرے لیے دین و دنیا اور میری آخرت کے حق میں بہتر سمجھتا ہے تو وہ اسے میرے مقدر میں کر دے اور اگر اس کے علاوہ کوئی دوسری عورت میرے لیے میرے دین و دنیا اور میری آخرت کے حق میں بہتر ہے تو اس کا میرے حق میں فیصلہ فرما دے، یا فرما: اسے میرے مقدر میں کر دے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← أَنَّ أَيُّوبَ بْنَ خَالِدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ، ← حَيْوَةُ أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ أَبِي الْوَلِيدِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of volunteering doors other than the aforementioned · Hadith 1220

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ الضُّحٰی وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1221

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، نَا إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ- نَا مُحَمَّدٌ -وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ- عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: أَوْصَانِي حبيبي بِثَلَاثٍ لَا أَدَعُهُنَّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَبَدًا، أَوْصَانِي بِصَلَاةِ الضُّحَى، وَبِالْوِتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ، وَبِصَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ.

حضرت ابو ذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میرے خلیل ﷺ نے مجھے تین باتوں کی وصیت فرمائی ، میں انہیں کبھی ترک نہیں کروں گا ۔ ان شا اللہ۔ آپ نے مجھے نماز چاشت ادا کرنے کی وصیت فرمائی۔ اور سونے سے پہلے وتر ادا کرنے کی وصیت کی اور ہر مہینے تین روزے رکھنے کی وصیت فرمائی۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← مُحَمَّدٌ -وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ- ← إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ- ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it · Hadith 1221

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ الضُّحٰی وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1222

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلَاثٍ، بِصَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَلَا أَنَامُ إِلَّا عَلَى الْوِتْرِ، وَرَكْعَتَيِ الضُّحَى.

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ میرے خلیل ﷺ نے مجھے تین کاموں کی وصیت فرمائی۔ ہر مہینے تین روزے رکھنے ، اور یہ کہ میں وتر پڑھ کر سویا کروں ، اور چاشت کی دو رکعات پڑھنے کی وصیت فرمائی۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it · Hadith 1222

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ الضُّحٰی وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1223

ثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الدِّرْهَمِيُّ، ثَنَا يَزِيدُ -يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ- عَنِ الْعَوَّامِ -هُوَ ابْنُ حَوْشَبٍ- حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلَاثٍ لَسْتُ بِتَارِكِهِنَّ، أَنْ لَا أَنَامُ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ، وَأَنْ لَا أَدَعَ رَكْعَتَيِ الضُّحَى فَإِنَّهَا صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ، وَصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ.

حضرت ابو ہریعہؓ بیان کرتے ہیں کہ میرے دوست اور خلیل ﷺ نے مجھے تین باتوں کی وصیت کی ، میں انہیں نہیں چھوڑوں گا ، یہ کہ میں وتر پڑھ کر سویا کروں، اور یہ کہ میں نماز چاشت کی دو رکعات کو ترک نہ کروں کیونکہ وہی نماز اوا بین ہے۔ اور ہر مہینے میں تین روزے رکھنے کی وصیت فرمائی۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ← العوام هو ابن حوشب ← يَزِيدُ -يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ-، ← عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الدِّرْهَمِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it · Hadith 1223

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ الضُّحٰی وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1224

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَارَةَ الرَّقِّيُّ بِبَغْدَادَ، ثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا يُحَافِظُ عَلَى صَلَاةِ الضُّحَى إِلَّا أَوَّابٌ". قَالَ: "وَهِيَ صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَمْ يُتَابَعْ هَذَا الشَّيْخُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَلَى إِيصَالِ هَذَا الْخَبَرِ. رَوَاهُ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ مُرْسَلًا؛ وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَوْلَهُ.

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نماز چاشت کی حفاظت اور اہتمام صرف اداب (بہت زیادہ توبہ کرنے والا شخص) ہی کرتا ہے اور فرمایا کہ اور یہی نماز اوابین ہے۔امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : اس خبر کو موصول بیان کرنے میں شیخ اسماعیل بن عبداللہ کی متابعت کسی راوی نے نہیں کی ۔ اس روایت کو دراوردی نے محمد بن عمرو کے واسطے سے حضرت ابو سلمہ سے مرسلا بیان کیا ہے اور حماد بن سلمہ نے بھی محمد بن عمرو کے واسطے سے حضرت ابو سلمہ کے قول کی حیثیت سے بیان کیا ہے ۔(یعنی اسے موقوف بیان کیا ہے)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَارَةَ الرَّقِّيُّ بِبَغْدَادَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it · Hadith 1224

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ الضُّحٰی وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1225

نَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثَنَا مَهْدِيٌّ -وَهُوَ ابْنُ مَيْمُونٍ- عَنْ وَاصِلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمُرَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: "يُصْبِحُ أَحَدُكُمْ وَعَلَى كُلِّ سُلَامَى مِنْهُ صَدَقَةٌ. فَكُلُّ تَهْلِيلَةٍ وَتَحْمِيدَةٍ، وَتَكْبِيرَةٍ، وَتَسْبِيحَةٍ صَدَقَةٌ، وَأَمْرٌ بِمَعْرُوفٍ، وَنَهْيٌ عَنْ مُنْكَرٍ صَدَقَةٌ، وَتُجْزِئُ مِنْ كُلِّ ذَلِكَ رَكْعَتَا الضُّحَى".

حضرت ابو ذر ؓ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص صبح کرتا ہے تو اس کے ہر جوڑ پر صدقہ واجب ہو تا ہے چنانچہ ہر تحلیل(لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ) ، ہر تحمید (اَلَحَمدُلِلہِ)اور تکبیر (اَللہُ اَکْبَر)اور(ہرتسبیح سبحان اللہ)کہنا صدقہ بن جاتا ہے ۔ نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا بھی صدقہ بن جاتا ہے اور ان سب سے چاشت کی دو رکعت کفایت کر جاتی ہیں۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← أَبِي الْأَسْوَدِ ← یَّحْیَی بْنِ یَعْمُرَ ← یَّحْیَی بْنِ عَقِیلٍ ← وَاصِلٍ، ← مَهْدِيٌّ وَهُوَ ابْنُ مَيْمُونٍ ← أَبِي ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it · Hadith 1225

chevron_left Previous
1…636465…258
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden22. The groups of the gates of obligatory travel23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness24. The congregation of the gates of prayer on the rows25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr37. The gates of the prayer of fear38. Collections of the gates of an eclipse prayer39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals