Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الفَرِیضَۃِ فِی السَّفَرِ · حديث 962

أن يونس ابن عبد الأعلى ثنا قال أخبرنا ابن وهب أخبرني عمرو ابن الحارث أن قتادة ابن دعامة أخبره عن أنس أنه حدثه : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى الظهر والعصر والمغرب والعشاء ورقد رقدة بالمحصب ثم ركب إلى البيت فطاف به قال أبو بكر ثم خرج صلى الله عليه وسلم من ليلته تلك متوجها نحو المدينة

حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ظہر ، عصر ، مغرب اور عشا ء کی نمازیں ( مکہ مکرمہ ) پڑھیں ، پھر وادی محصب میں کچھ دیر سائے، پھر آپ سوار ہو کر بیت اللہ آئے اور اس کا طواف کیا ۔" امام ابو بکر رحمۃ اللہ فرماتے ہیں : " پھر نبی اکرم ﷺ اسی رات مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہو گئے۔"

أَنَسِ، أَنَّهُ ← عمرو ابن الحارث أن قتادة ابن دعامة ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أن يونس ابن عبد الأعلى

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of obligatory travel · Hadith 962

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الفَرِیضَۃِ فِی السَّفَرِ · حديث 963

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر قال كذلك ثنا بندار ثنا أبو بكر يعني الحنفي نا أفلح قال سمعت القاسم ابن محمد عن عائشة : فذكرت بعض صفة حجة النبي صلى الله عليه وسلم وقالت فأذن بالرحيل في أصحابه فارتحل الناس فمر بالبيت قبل صلاة الصبح فطاف به ثم خرج فركب ثم انصرف متوجها إلى المدينة قال أبو بكر ولم نسمع أحدا من العلماء من أهل الفقه يجعل ما وراء البناء المتصل بعضه ببعض في المدن من المدن وإن كان ما وراء البناء من حد تلك المدينة ومن أراضيها المنسوبة إلى تلك المدينة لا نعلمهم اختلفوا أن من خرج من مدينة يريد سفرا فخرج من البنيان المتصل بعضه ببعض أن له قصر الصلاة وإن كانت الأرضون التي وراء البناء من حد تلك المدينة وكذلك لا أعلمهم اختلفوا أنه إذا رجع يريد بلدة فدخل بعض أراضي بلدة ولم يدخل البناء وكان خارجا من حد البناء المتصل بعضه ببعض أن له قصر الصلاة ما لم يدخل موضع البناء المتصل بعضه ببعض ولا أعلمهم اختلفوا أن من خرج من مكة من أهلها أو من قد أقام بها قاصدا سفرا يقصر فيه الصلاة ففارق منازل مكة وجعل جميع بنائها وراء ظهره وإن كان بعد في الحرم أن له قصر الصلاة فالنبي صلى الله عليه وسلم لما قدم مكة في حجته فخرج يوم التروية قد فارق جميع بناء مكة وسار إلى منى وليس منى من المدينة التي هي مدينة مكة فغير جائز من جهة الفقه إذا خرج المرء من مدينة لو أراد سفرا بخروجه منها جاز له قصر الصلاة أن يقال إذا خرج من بنائها هو في البلدة إذ لو كان في البلدة لم يجز له قصر الصلاة حتى يخرج منها فالصحيح على معنى الفقه أن النبي صلى الله عليه وسلم لم يقم بمكة في حجة الوداع إلا ثلاثة أيام ولياليهن كوامل يوم الخامس والسادس والسابع وبعض يوم الرابع دون ليله وليلة الثامنة وبعض يوم الثامن فلم يكن هناك إزماع على مقام أربعة أيام بلياليها في بلدة واحدة فليس هذا الخبر إذا تدبرته بخلاف قول الحجازيين فيمن أزمع مقام أربع أنه يتم الصلاة لأن مخالفيهم يقولون أن من أزمع مقام عشرة أيام في مدينة وأربعة أيام خارجا من تلك المدينة في بعض أراضيها التي هي خارجة من المدينة على قدر ما بين مكة ومنى في مرتين لا في مرة واحدة ويوما وليلة في موضع ثالث ما بين منا إلى عرفات كان له قصر الصلاة ولم يكن هذا عندهم إزماعا على مقام خمس عشر على ما زعموا أن من أزمع مقام خمس عشرة وجب عليه إتمام الصلاة

حضرت عائشہ ؓ نے نبی کریم ﷺ کے حج کی کچھ کیفیت بیان کی اور فرمایا: " آپ نے اپنے صحابہ کرام کو روانگی کا حکم دیا تو لوگ روانہ ہونا شروع ہو گئے، آپ ( روانگی کے وقت ) صبح کی نماز کے وقت بیت اللہ کے پاس سے گزرے تو اس کا طواف کیا ، پھر آپ ( بیت اللہ ) سے باہر تشریف لائے، پھر آپ سوار ہو کر مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہو گئے۔" امام ابو بکر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : " ہم نے کسی فقیہ عالم دین کے بارے میں نہیں سنا کہ اس نے کسی شہر کی باہم متصل آبادی اور عمارات کے بعد والے علا قے کو اسی شہر کا حصہ قرار دیا ہو، اگرچہ آبادی کے بعد والا علاقہ اسی شہر کی حدود سے اور اس شہر کی طرف منسوب زمینوں میں سے ہو ۔ ہمارے علم میں نہیں کہ علمائے کرام کا اس بارے میں کوئی اختلاف ہو کہ جو شخص سفر کے ارادے سے شہر سے نکل جائے ، اور وہ باہم متصل آبادی اور عمارات سے باہر چلا جائے تو وہ نماز قصر کر سکتا ہے اگرچہ آبادی کے بعد والی زمینیں اسی شہر کی حدود میں ہوں ۔ اسی طرح ہمارے علم میں علمائے کرام کا کوئی اختلاف نہیں ہے کہ جب وہ شخص واپس کسی شہر میں آنا چاہے اور وہ اس شہر کی بعض زمینوں میں داخل ہو جائے اور آبادی میں داخل نہ ہوا ہو اور وہ ابھی باہم متصل آ بادی کی حدود سے باہر ہو تو وہ قصر کر سکتا ہے جب تک کہ آپس میں ملی ہوئی آبادی میں داخل نہ ہو جائے اور مجھے اس بارے میں بھی علمائے کرام کااختلاف معلوم نہیں ہے کہ جو شخص مکہ مکرمہ سے سفر کی نیت سے نکل گیا، وہ مکہ کا رہائشی ہو یا جو وہاں عارضی مقیم تھا وہ مکہ ( کی حدود میں ) نماز قصر کر سکتا ہے ۔ جب اس نے مکہ مکرمہ کی منازل کو چھوڑ دیا ، اور ساری آبادی اپنے پیچھے چھوڑ دی ، اگر چہ وہ حدود حرم میں دور نکل جائے تو وہ نماز قصر کر سکتا ہے ۔ نبی کریم ﷺ جب اپنے حج کے لیے مکہ مکرمہ تشریف لائے تو آپ یوم الترویہ کو مکہ مکرمہ سے نکل گئے۔ آپ نے مکہ مکرمہ کی تمام آبادی کو چھو ڑ دیا اور منی ٰ روانہ ہو گئے ، جبکہ منی ٰ مکہ مکرمہ شہر میں داخل نہیں ہے۔ لہٰذا فقہی نقطہ نظر یہ درست نہیں ہے کہ جو شخص سفر کی نیت سے و ارادے سے شہر سے نکل گیا اور اس کی لیے نماز قصر کرنا جائز ہے، اسے کہا جائے : " جب وہ شہر کی آبادی سے نکل گیا کہ وہ ابھی شہر ہی میں ہے ۔ " کیونکہ اگر وہ ابھی تک شہر ہی میں ہے تو اس کی لیے نماز قصر کرنا درست نہیں ہے حتی کہ وہ شہر سے نکل جائے۔ لہٰذا فقہی رو سے یہی بات صحیح ہے کہ نبی اکرم ﷺ حجۃ الوداع کے موقع پر مکہ مکرمہ میں صرف تین دن رات مکمل قیام پذیر رہے، پانچ ، چھ اور سات تاریخ کو ۔ چار تاریخ کا کچھ حصہ سوائے اس کی رات کے اور آٹھویں تاریخ کی رات اور اس کے دن کا کچھ حصہ، لہٰذ اوہاں کسی ایک شہر میں چار دن وات کے قیام کا پختہ ارادہ نہیں تھا ۔ اس لیے یہ روایت ، جب تم غوروفکر کرو، تو اہل حجاز کے اس قول کے مخا لف نہیں ہے کہ جو شخص کسی ایک مقام پر چار دن رہنے کا پختہ ارادہ کر لے وہ نماز مکمل پڑھے۔ کیونکہ ان کے مخالفین کہتے ہیں : " جس شخص نے کسی شہر میں دس دن کے قیام کا پختہ ارادہ کر لیا ، اور چار دن اسی شہر سے باہر اس شہر کی ایسی زمینوں میں رہنے کا ارادہ کیا جو شہر سے مکہ مکرمہ اور منیٰ جیسی دوہری مسافت کے برابر ہو ، اکہری نہ ہو ۔ اور ایک رات اور ایک دن کسی تیسری جگہ پر گزارے جو منیٰ سے عرفات جتنی مسافت پر ہو تو وہ نماز قصر کر سکتا ہے اور یہ ان کے نزریک ایک مقام پر پندرہ دن کے قیام کا پختہ ارادہ نہیں ہے کیونکہ ان کے نزدیک جس شخص نے بندرہ دن ٹھہرنے کا پختہ ارادہ کر لیا اس پر مکمل نماز ادا کرنا واجب ہو جاتا ہے۔"

أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of obligatory travel · Hadith 963

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الفَرِیضَۃِ فِی السَّفَرِ · حديث 964

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، نَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ عَوْدًا وَبَدْءًا لَوْ حَلَفْتُ عَلَيْهِ مِائَةَ مَرَّةٍ سَمِعْتُهُ، مِنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ.

" امام ابو سفیان بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام زہری کو دہرائی اور درس حدیث کی ابتداء کرتے وقت یہ فرماتے ہوئے سنا : " اگر سو بار بھی قسم اٹھانا چاہوں تو اٹھا سکتا ہو کہ میں نے یہ حدیث حضرت سالم سے سنی ہے اور اپنے والد گرامی حضرت عبد اللہ ؓ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کو جب سفر میں جلدی ہوتی تو آپ مغرب اور عشاء کی نماز جمع کر لیتے۔"

أَبِيهِ ← مِنْ سَالِمٍ، ← الزُّهْرِيَّ عَوْدًا وَبَدْءًا لَوْ حَلَفْتُ عَلَيْهِ مِائَةَ مَرَّةٍ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of obligatory travel · Hadith 964

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الفَرِیضَۃِ فِی السَّفَرِ · حديث 965

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، ثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ. وَقَالَ يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

" حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ کو سفر کرنے میں جلدی ہوتی تو آپ مغرب اور عشا ء کی نمازیں جمع کر لیتے ۔" جناب یحییٰ نے " نبی کریم ﷺ " کی جائے " رسول اللہ ﷺ " کے الفاظ روایت کیے ہیں ۔"

يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ← رَأَيْتُ النَّبيَّ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ جَمَعَ بَيْنَ المَغْرِبِ وَالعِشَاء.(2/90) ← ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of obligatory travel · Hadith 965

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الفَرِیضَۃِ فِی السَّفَرِ · حديث 966

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، نَا قُرَّةُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، ثَنَا أَبُو الطُّفَيْلِ، ثَنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ قَالَ: جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفْرَةٍ سَافَرَهَا، وَذَلِكَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ. فَجَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَبَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ. قَالَ: قُلْتُ: مَا حَمَلَهُ عَلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ.

" حضرت معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ تبوک کے سفر میں نمازیں جمع کر کے ادا کیں ، لہٰذا آپ نے نماز ظہر اور عصر ، نماز مغرب اور عشاء کو جمع کر کے پڑھایا ۔ ( جناب ابو الطفیل ) کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : آپ نے ایسے کیوں کیا ؟ تو حضرت معاذ ؓ نے جواب دیا : " آپ اپنی امت کو تنگی اور مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتے تھے۔"

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← أَبُو الطُّفَيْلِ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← قُرَّۃَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of obligatory travel · Hadith 966

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ التَّطَوُّ ع غَیرَ مَا تَقَدَّمَ ذِکرُنَا لَھَا · حديث 1205

ثَنَا بُنْدَارٌ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "اجْعَلُوا مِنْ صَلَاتِكُمْ فِي بُيُوتِكُمْ، وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا".

حضرت ابن عمرؓ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : اپنی نمازوں کا کچھ حصہ اپنے گھروں میں پڑھا کرو اور انہیں قبرستان نہ بناو۔

"اجْعَلُوا مِنْ صَلَاتِكُمْ فِي بُيُوتِكُمْ، وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا". ← النَّبِيِّ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← بُنْدَارٌ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of volunteering doors other than the aforementioned · Hadith 1205

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ التَّطَوُّ ع غَیرَ مَا تَقَدَّمَ ذِکرُنَا لَھَا · حديث 1206

ثَنَا أَبُو مُوسَى، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ فِي الْمَسْجِدِ، فَلْيَجْعَلْ لِبَيْتِهِ نَصِيبًا مِنْ صَلَاتِهِ، فَإِنَّ اللَّهَ جَاعِلٌ فِي بَيْتِهِ مِنْ صَلَاتِهِ خَيْرًا". رَوَى هَذَا الْخَبَرَ أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، وَعَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَغَيْرُهُمْ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، لَمْ يَذْكُرُوا أَبَا سَعِيدٍ. [131 - أ]. ثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، نَا أَبُو خَالِدٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ؛ ح وَثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ؛ ح وَثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَعَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَا: ثَنَا الْأَعْمَشُ.

حضرت ابو سعید خدری ؓنبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں اپنی نماز پڑھ لے تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنی نماز سے اپنے گھر کا حصہ بھی رکھے ۔ پس بے شک اللہ تعالی اس کی نماز کے باعث اس کے گھر میں خیر و برکت کر دیتے ہیں ۔ یہ روایت ابو خالد احمر،ابو معاویہ اور عبدہ بن سیلمان وغیرہ نے اپنی اپنی اسانید کے ساتھ حضرت جابر ؓ سے بیان کی ہے اور انہوں نے حضرت ابو سعید ؓ ذکر نہیں کیا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← أَبُو مُوسَى،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of volunteering doors other than the aforementioned · Hadith 1206

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ التَّطَوُّ ع غَیرَ مَا تَقَدَّمَ ذِکرُنَا لَھَا · حديث 1207

ثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْمِصْرِيُّ، ثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ فَرُّوخَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَكْرِمُوا بُيُوتَكُمْ بِبَعْضِ صَلَاتِكُمْ".

حضرت انس بن مالک ؓبیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا :اپنی کچھ نماز کے ساتھ اپنے گھروں کو عزت و شرف دو۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← ابْنُ فَرُّوخَ، ← ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْمِصْرِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of volunteering doors other than the aforementioned · Hadith 1207

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ التَّطَوُّ ع غَیرَ مَا تَقَدَّمَ ذِکرُنَا لَھَا · حديث 1208

ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ وَمُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ، قَالَا: ثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ، وَقَالَ الدَّوْرَقِيُّ قَالَ: ثَنَا أَبُو حَيَّانَ؛ ح وَثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ -يَعْنِي ابْنَ بِشْرٍ- أنَا أَبُو حَيَّانَ، نَا أَبُو زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبِلَالٍ عِنْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ: "يَا بِلَالُ! حَدِّثْنِي بِأَرْجَى عَمَلٍ عَمِلْتَهُ عِنْدَكَ مَنْفَعَةً فِي الْإِسْلَامِ، فَإِنِّي قَدْ سَمِعْتُ اللَّيْلَةَ خَشْفَ نَعْلَيْكَ بَيْنَ يَدَيَّ فِي الْجَنَّةِ". فَقَالَ: مَا عَمِلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي الْإِسْلَامِ أَرْجَى عِنْدِي مَنْفَعَةً مِنْ أَنِّي لَمْ أَتَطَهَّرْ طَهُورًا تَامًّا قَطُّ فِي سَاعَةٍ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ إِلَّا صَلَّيْتُ بِذَلِكَ الطَّهُورِ لِرَبِّي مَا كَتَبَ لِي أَنْ أُصَلِّيَ.

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺ نے حضرت بلال ؓ کو نماز فجر کے وقت فرمایا: اے بلال ! مجھے اپنا وہ عمل بتائو جو تمہارے نزدیک اسلام لانے کے بعد سب سے زیادہ نفع کی امید والا ہے ۔ بے شک میں نے آج رات جنت میں تیرے جوتوں کی آہٹ اپنے آگے سنی ہے ۔ تو انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! میرے نزدیک میں نے اسلام لانے کے بعد اس سے زیادہ نفع اور اجر و ثواب کی امید والا کوئی عمل نہیں کیا کہ میں نے رات یا دن کی جس گھڑی میں بھی مکمل وضو کیا تو میں نے اس وضو کے ساتھ اپنے رب کی رضا کے لیے نفل نماز پڑھی جتنی اس نے میرے مقدر میں لکھی تھی۔

اللَّيْلَةَ خَشْفَ نَعْلَيْكَ بَيْنَ يَدَيَّ فِي الْجَنَّةِ". فَقَالَ: مَا عَمِلْتُ ← بِأَرْجَى عَمَلٍ عَمِلْتَهُ عِنْدَكَ مَنْفَعَةً فِي الْإِسْلَامِ، فَإِنِّي قَدْ ← نَبِيُّ اللَّهِ لِبِلَالٍ عِنْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ: "يَا بِلَالُ! ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبُو زُرْعَةَ ← أَبُو حَيَّانَ، ← مُحَمَّدٌ -يَعْنِي ابْنَ بِشْرٍ- ← وَثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، ← أَبُو حَيَّانَ، ← أَبِي حَيَّانَ، وَقَالَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَبُو أُسَامَةَ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ وَمُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of volunteering doors other than the aforementioned · Hadith 1208

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ التَّطَوُّ ع غَیرَ مَا تَقَدَّمَ ذِکرُنَا لَھَا · حديث 1209

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَدَعَا بِلَالًا، فَقَالَ: "يَا بِلَالُ! بِمَ سَبَقْتَنِي إِلَى الْجَنَّةِ؟ إِنِّي دَخَلْتُ الْبَارِحَةَ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ خَشْخَشَتَكَ أَمَامِي". فَقَالَ بِلَالٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا أَذْنَبْتُ (1) قَطُّ إِلَّا صَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ، وَمَا أَصَابَنِي حَدَثٌ قَطُّ إِلَّا تَوَضَّأْتُ عِنْدَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "بِهَذَا".

حضرت بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ نے صبح کی تو حضرت بلال ؓ کو بلا کر فرمایا : اے بلال ! کس عمل کی وجہ سے تم جنت میں مجھ سے سبقت لے گئے ہو؟ بے شک میں گزشتہ رات جنت میں داخل ہوا تو میں نے تمہارے چلنے کی آواز اپنے آگے آگے سنی ۔ تو حضرت بلال ؓ نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! میں نے جب بھی کوئی گناہ کیا تو میں نے دو رکعات ادا کیں ، اور جب بھی میرا وضو ٹوٹ جاتا تو میں اسی وقت وضق کر لیتا ہوں پس رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس عمل کی وجہ سے (تم سبقت لے گئے ہو)۔

بِلَالٍ ← خَشْخَشَتَكَ أَمَامِي". ← "يَا بِلَالُ! بِمَ سَبَقْتَنِي إِلَى الْجَنَّةِ؟ إِنِّي دَخَلْتُ الْبَارِحَةَ الْجَنَّةَ ← أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ يَوْمًا فَدَعَا بِلَالًا، ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of volunteering doors other than the aforementioned · Hadith 1209

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ التَّطَوُّ ع غَیرَ مَا تَقَدَّمَ ذِکرُنَا لَھَا · حديث 1210

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا مُحَمَّدٌ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، نَا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى -وَهُوَ ابْنُ عَطَاءٍ- أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا الْأَزْدِيَّ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ؛ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "صَلَاةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى". ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَلِيٍّ الْأَزْدِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.

حضرت ابن عمرؓنبی اکرم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : رات اور دن (نفل) نماز دو دو رکعات ہیں۔

النَّبِیِّ بمثلہ۔ ← ابْنِ عُمَرَ ← عَلِيٍّ الْأَزْدِيِّ، ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← «صَلَاةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى» ← النَّبِيِّ ← ابْنِ عُمَرَ ← عَلِيًّا الْأَزْدِيَّ، أَنَّهُ ← يَعْلَى -وَهُوَ ابْنُ عَطَاءٍ- أَنَّهُ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدٌ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of volunteering doors other than the aforementioned · Hadith 1210

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ التَّطَوُّ ع غَیرَ مَا تَقَدَّمَ ذِکرُنَا لَھَا · حديث 1210

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا مُحَمَّدٌ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، نَا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى -وَهُوَ ابْنُ عَطَاءٍ- أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا الْأَزْدِيَّ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ؛ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "صَلَاةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى". ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَلِيٍّ الْأَزْدِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.

نبی اکرم ﷺ کے ایک فرمان میں اس طرح مذکور ہے : جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو اسے بیٹھنے سے پہلے دو رکعات ادا کرنی چاہیئں ۔ اور آپ سے مروی روایات میں یہ بھی ہے۔جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو جبکہ امام خطبہ دے رہا ہو تو اسے بیٹھنے سے پہلے دو رکعات پڑھ لینی چاہیے ۔ اور حضرت کعب بن مالک ؓ کی روایت میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ سفر سے واپس صرف دن میں چاشت کے وقت آتے تھے ، تو آپ پہلے مسجد میں تشریف لاتے اور اس میں دو رکعات ادا کرتے ۔ حضرت جابرؓ جب آپ کے پاس آپ کے اونٹ سپر د کرنے آئے تھے تو آپ نے انہیں فرمایا تھا: کیا تم نے(تحیتہ المسجد)نماز پڑھی ہے ؟تو انہوں نے جواب دیا نہیں ۔ آپ نے فرمایا : کھڑے ہو جائو اور دو رکعات ادا کرو ۔ حضرت ابن عباس ؓکی روایت میں ہے : جو شخص دو رکعات ادا کرے اور ان میں اپنے نفس سے گفتگو نہ کرے اور اس کا ایک غلام یا گھوڑا ہو ۔نبی کریم ﷺ کا دن کے وقت دو رکعات نماز استسقا ادا کرنا بھی اس کی دلیل ہے ۔آپ یہ رکعات رات کو ادا نہیں کرتے تھے۔ حضرت ابن عمر ؓ کی حدیث میں ہے : میں نے نبی اکرم ﷺ سے ظہر سے پہلے دو رکعات ، اور اس کے بعد بھی دو رکعات ،اور مغرب کے بعد دو رکعات اور عشا کے بعد بھی دو رکعات یاد رکھی ہیں ۔ اور مجھے حضرت حفصہ ؓنے بتایا کہ آپ صبح کی نماز سے پہلے بھی دو رکعات ادا کرتے تھے ۔حضرت علی بن ابی طالب ؓ کی روایت میں ہے : نبی اکرم ﷺ نماز فجر اور عصر کے علاوہ ہر فرض نماز کے بعد دو رکعات پڑھتے تھے ۔ حضرت بلال ؓ کی روایت میں ہے : میں نے جب بھی کوئی گناہ کیا ہے میں نے دو رکعات ادا کیں ۔ حضرت ابو بکر صدیق ؓ کی حدیث میں ہے جو بندہ کوئی گناہ کر لے پھر وضو کر کے دو رکعات نماز پڑھے ، پھر اللہ تعالی سے اپنے گناہ کی معافی مانگے تو اللہ تعالی ا س کو معاف فرما دیتے ہیں ۔ حضرت انس بن مالک ؓ کی روایت میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ کسی منزل پر پڑائو ڈالتے تو آپ دو رکعات پڑھ کر اس کو چھوڑتے ۔ حضرت عائشہ ؓ کی روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ ظہر سے پہلے چار رکعات ادا کرتے تھے پھر میرے گھر واپس تشریف لا کر دو رکعات ادا فرماتے۔ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی روایت میں ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ عالیہ تشریف لا رہے تھے ، حتی کہ جب آپ بنی معاویہ کی مسجد کے پاس سے گزرنے لگے تو آپ اس میں داخل ہو گئے اور دو رکعات ادا کیں اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی ۔ حضرت محمود بن ربیع کی حضرت عتبان بن مالک کی روایت میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ان کے گھر چاشت کی دو رکعات ادا کیں۔ حضرت ابو ہریرہؓ کی حدیث میں ہے:میرے خلیل نے مجھے تین کاموں کی وصیت فرمائی ، اور اس میں ہے کہ چاشت کے دو رکعات (پڑھا کرو) اور جناب عبداللہ بن شفیق کی حضرت عائشہ ؓ سے روایت میں ہے کہ وہ فرماتی ہیں : میں نے رسول اللہ ﷺ کو کبھی چاشت کی نماز پڑھتے نہیں دیکھا ، الا کہ آپ سفر سے تشریف لاتے تو دو رکعات پڑھتے۔ حضرت ابو ذر ؓ کی روایت میں ہے کہ بنی آدم کے ہر جوڑ پر صبح کے وقت صدقہ واجب ہوتا ہے ۔ اور آگے فرمایا : اور چاشت کی دو رکعات اس کے لیے کافی ہیں ۔ حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت میں ہے: جس شخص نے چاشت کی دو رکعات کا اہتمام اور اس پر باقاعدگی کی اس کے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں اگرچہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں ۔جناب انس بن سیرین کی حضرت انس بن مالک سے روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک انصاری کے گھر والوں کے پاس تشریف لے گئے، تو انہوں نے عرض کی ؛ اے اللہ کے رسول ! اگر آپ دعا فر ما دیں (تو ہمارے لیے خیر و برکت کا باعث ہو گی) چنانچہ آپ نے گھر کے ایک کونے کی صفائی کا حکم دیا ،(تو صاف کر دیا گیا)اور پانی چھڑک کر ایک چٹائی بچھا دی گئ ، تو آپ نے وہاں کھڑے ہو کر دو رکعات ادا کیں ۔ امام ابو بکر فرماتے ہیں : ان تمام روایات میں اس بات کی دلیل ہے کہ دن کے نفلی نماز دو دو رکعات ہیں ،چار چار نہیں ، جیسا کہ اس شخص کا دعوی ٰ ہے جس نے ان روایات کو حاصل کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ کسی ایسے عالم انہیں سن لیتا ہو جو ان کو سمجھتا ہو۔رہی حضرت عائشہ ؓ کی حدیث جو ہم نے ذکر کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ظہر سے پہلے چار رکعات ادا کیں ،تو اس حدیث میں ذکر نہیں ہے کہ آپ نے انہیں ایک ہی سلام کے ساتھ ادا فرمایا تھا ۔ جبکہ حضرت ابن عمر ؓ نے بیان کیا ہے کہ آپ نے ظہر سے پہلے دو رکعات ادا کی ہیں ۔ اور ان کی نفلی نماز چار چار رکعات ہی ہوتی تو کسی شخص کے لیے یہ جائز نہ ہوتا کہ وہ ظہر کے بعد دو رکعات ادا کرے،بلکہ اس کے لیے واجب ہوتا کہ وہ ان کے ساتھ دو اور رکعات ملائے تاکہ چار رکعات مکمل ہو جائیں ۔ اور اس کے لیے یہ بھی واجب و ضروری ہوتا کہ وہ نماز فجر سے پہلے بھی چار رکعات ادا کرتا کیونکہ وہ بھی دن کی نماز ہے ، رات کی نہیں ۔ اور ہن نے نبی اکرم ﷺ سے منقول اور ثابت شدہ کوئی روایت نہیں سنی کہ آپ نے دن کی نفلی نماز چار رکعات ایک ہی سلام کے ساتھ ادا کی ہوں ۔ اگر کسی ایسے شخص کو جس نے غور و فکر نہیں کیا ، یہ خیال آئے کہ حضرت عبداللہ بن شفیق کی حضرت عائشہ ؓ سے حدیث میں ہے کہ نبی اکرمﷺ نے ظہر سے پہلے چار رکعات ایک ہی سلام کے ساتھ ادا کی ہیں، کیونکہ اس روایت میں چار کا تذکرہ ہے ( تو اس کا مطلب ہے کہ ایک ہی سلام سے پڑھی ہوں گی) تو اس شخص کو جواب دیا جائے گا کہ جناب سعید مقبری نے حضرت ابو سلمہ کے واسطے کے ساتھ حضرت عائشہ ؓ سے نبی کریم ﷺ کی نماز تہجد کے بارے میں بیان کیا ہے : آپ فرماتی ہیں :رسول اللہ ﷺ چار رکعات پڑھتے تھے ، تم ان کے حسن اور طوالت کے بارے میں مت پوچھو ۔ پھر آپ چار رکعات پڑھتے ۔چنانچہ نماز تہجد کے بارے میں یہ الفاظ حضرت عبداللہ بن شفیق کے حضرت عائشہ ؓ سے ذکر کردہ نماز ظہر سے پہلے چار رکعات کے بارے میں الفاظ جیسے ہی ہیں ۔ تو کیا یہ جائز ہے کہ کوئی تاویل کرنے والا یہ تاویل کرے کہ رسول اللہ ﷺ رات کے وقت چار چار رکعات ادا کرتے تھے، اور چار ہر رکعات ایک ہی سلام کے ساتھ ادا کرتے تھے۔ حالانکہ ہمارے مخالفین اس بات میں ہمارے ساتھ متفق ہے کہ وتروں کے علاوہ رات کی نماز دو دو رکعات کر کے ادا کی جائے گی۔لہذا ابو سلمہ کی حضرت عائشہ سے روایت کا جو معنی ان کے نزدیک ہے وہی معافی ہمارے نزدیک عبداللہ بن شفیق کی روایت کے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے چار رکعات دو دفعہ سلام پھیر کر ادا کی تھیں ، ایک سلام کے ساتھ نہیں ۔ جناب عاصم بن ضمرہ کی حضرت علی بن ابی طالب ؓ کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب سورج اس (مشرقی) جانب اتنا بلند ہوتا جتنا عصر کے وقت (مغربی جانب میں)ہوتا ہے تو آپ دورکعات ادا کرتے ، اور جب سورج اس (مغربی) جانب اتنا بلند ہوتا جتنا ظہر کے وقت اس (مشرقی) جانب ہوتا ہے تو آپ چار رکعات ادا کرتے ، اور آپ ظہر سے پہلے چار رکعات اور اس کے بعد دو رکعات ادا فرماتے ۔ اور آپ عصر سے پہلے چار رکعات ادا کرتے اور آپ دو رکعات کے بعد اللہ کے مقرب فرشتوں اور تابعدار مسلمانوں پر سلام بھیج کر الگ کرتے۔

النَّبِیِّ بمثلہ۔ ← ابْنِ عُمَرَ ← عَلِيٍّ الْأَزْدِيِّ، ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← «صَلَاةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى» ← النَّبِيِّ ← ابْنِ عُمَرَ ← عَلِيًّا الْأَزْدِيَّ، أَنَّهُ ← يَعْلَى -وَهُوَ ابْنُ عَطَاءٍ- أَنَّهُ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدٌ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of volunteering doors other than the aforementioned · Hadith 1210

chevron_left Previous
1…616263…258
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals