Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَفعَالِ المَکرُوھَۃِ فِی الصَّلاَۃِ الَّتِی قَد نُھِیَ عَنھَا المُصَلَّی · حديث 939

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ إِيَاسٍ (1)، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ: عَنِ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ الَّذِي كَانَ يَسْكُنُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ أَنَّهُ مَكَثَ فِي طَلَبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ بِالْمَدِينَةِ فَسَأَلَ عَنْهُ، قَالُوا: قَدْ سَارَ إِلَى مَكَّةَ، فَأَتْبَعَهُ فَوَجَدَهُ قَدْ سَارَ إِلَى الطَّائِفِ، فَأَتْبَعَهُ فَوَجَدَهُ فِي زَرْعِهِ، يَمْشِي مُخَاصِرًا رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ، وَالْقُرَيْشِيُّ يُزِنُّ بِالْخَمْرِ، فَلَمَّا لَقِيتُهُ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ، وَسَلَّمَ عَلَيَّ. قَالَ: مَا عَدَا بِكَ الْيَوْمَ، وَمِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتَ؟ فَأَخْبَرْتُهُ، ثُمَّ سَأَلْتُهُ هَلْ سَمِعْتَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ شَرَابَ الْخَمْرِ بِشَيْءٍ؟ قَالَ: نَعَمْ. فَانْتَزَعَ الْقُرَشِيُّ يَدَهُ ثُمَّ ذَهَبَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "لَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ رَجُلٌ مِنْ أُمَّتِي فَيُقْبَلُ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا".

" جناب عروہ بن رویم ، ابن دیلمی سے روایت کرتی ہیں جو کہ بیت المقدس میں رہتے تھے ، وہ حضرت عبد اللہ بن عمر و بن عاص ؓ کی تلاش ( اور ان سے ملاقات ) کی لیے مدینہ منورہ میں ٹھہرے اور حضرت عبد اللہ کے بارے میں پوچھا تو لوگوں نے بتایا کہ وہ مکہ مکرمہ روانہ ہو گئے ہیں ، وہ ان کے پیچھے گئے تو معلوم ہوا کہ وہ طائف چلے گئے ہیں ، تو وہ ان کے پیچھے ( طاعف) گئے تو انہیں ایک کھیت میں ایک قریشی شخص کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے ہوئے چلتے ہوئے دیکھا ۔ جبکہ قریشی کے بارے میں شرابی ہونے کا گمان کیا جاتا تھا ، پھر جب میں ان سے ملا تو میں نے انہیں سلام کیا ، اور انہوں نے بھی مجھے سلام کیا ۔ انہوں نے پو چھا : آج تمہیں کس چیز نے دوڑایا ہے اور کہاں سے آرہے ہو؟ تو میں نے انہیں بتایا ( کہ میں مدینہ سے آپ کی ملاقات سے آرہا ہوں ) پھر میں نے ان سے پوچھا : اے عبد اللہ بن عمرو ! کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ سے شراب پینے کلے متعلق کوئی فرمان سنا ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں ۔ تو قریشی اپنا ہاتھ چھڑا کر چلا گیا ، انہوں نے فرمایا : " میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : " میری امت کا جو شخص شراب پیے گا تو چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں ہو گی ۔"

ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ الَّذِي كَانَ يَسْكُنُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ ← عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ إِيَاسٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden · Hadith 939

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَفعَالِ المَکرُوھَۃِ فِی الصَّلاَۃِ الَّتِی قَد نُھِیَ عَنھَا المُصَلَّی · حديث 940

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "ثَلَاثَةٌ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ لَهُمْ صَلَاةً، وَلَا يَصْعَدُ لَهُمْ حَسَنَةٌ. الْعَبْدُ الْآبِقُ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى مَوَالِيهِ فَيَضَعُ يَدَهُ فِي أَيْدِيهِمْ، وَالْمَرْأَةُ السَّاخِطُ عَلَيْهَا زَوْجُهَا حَتَّى يَرْضَى، وَالسَّكْرَانُ حَتَّى يَصْحُوَ".

" حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : " تین شخص ایسے ہیں ان کی نماز قبول نہیں ہوتی اور نہ ان کے نیک عمل اوپر چڑھتے ہیں : بھگوڑا غلام حتی کہ وہ اپنے آقاوں کے پاس لوٹ آئے اور اپنا ہاتھ ان کے ہاتھوں میں دے دے( یعنی ان کا فرماں بردار بن جائے) اور وہ عورت جس کا خاوند اس پر ناراض ہو حتی کہ وہ راضی ہو جائے ، اور نشے میں مدہوش شخص حتی کہ اسے ہوش آ جائے۔"

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden · Hadith 940

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَفعَالِ المَکرُوھَۃِ فِی الصَّلاَۃِ الَّتِی قَد نُھِیَ عَنھَا المُصَلَّی · حديث 941

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، نَا أَبُو دَاوُدَ، ثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْغَدَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ جَرِيرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا أَبَقَ الْعَبْدُ لَمْ يُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى مَوَالِيهِ".

" حضرت جریر ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جب غلام فرار ہو جائے تو اس کی کوئی نماز قبول نہیں ہوتی، حتی کہ وہ اپنے آقاوں کے پاس واپس آجائے۔"

"إِذَا أَبَقَ الْعَبْدُ لَمْ يُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى مَوَالِيهِ". ← النَّبِيِّ ← جَرِيرٌ ← الشَّعْبِيِّ، ← مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْغَدَانِيُّ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← یَحْیَی بْنُ حَکِیمٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden · Hadith 941

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَفعَالِ المَکرُوھَۃِ فِی الصَّلاَۃِ الَّتِی قَد نُھِیَ عَنھَا المُصَلَّی · حديث 942

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ -يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْمَجِيدِ- وَمُحَمَّدٌ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ- عَنْ عَوْفِ بْنِ أَبِي جَمِيلَةَ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ؛ ح وَثَنَا بُنْدَارٌ نَحْوَهُ فِي كِتَابِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: ثَنَا يَحْيَى، وَقَرَأَهُ عَلَيْنَا مِنْ كِتَابِنَا، قَالَ: ثَنَا عَوْفٌ، ثَنَا أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِأَصْحَابِهِ: "هَلْ رَأَى أَحَدٌ [104 - ب] مِنْكُمْ رُؤْيَا؟ " فَيَقُصُّ عَلَيْهِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُصَّ، وَإِنَّهُ قَالَ لَنَا ذَاتَ غَدَاةٍ: "إِنَّهُ أَتَانِي اللَّيْلَةَ آتِيَانِ وَإِنَّهُمَا ابْتَعَثَانِي، فَقَالَا لِي: انْطَلِقْ، انْطَلِقْ. فَأَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ مُضْطَجِعٍ، وَإِذَا آخَرُ قَائِمٌ عَلَى رَأْسِهِ بِصَخْرَةٍ، وَإِذَا هُوَ يَهْوِي بِالصَّخْرَةِ فَيَثْلَغُ رَأْسَهُ فَيُدَهْدِهُ الْحَجَرَ هَاهُنَا، فَيَتْبَعُهُ فَيَأْخُذُهُ فِمَا يَرْجِعُ إِلَيْهِ حَتَّى يُصْبِحَ رَأْسُهُ كَمَا كَانَ، ثُمَّ يَعُودُ عَلَيْهِ فَيَفْعَلُ بِهِ كَمَا فَعَلَ الْمَرَّةَ الْأُولَى، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَقَالَ: "قَالَا: أَمَا إِنَّا سَنُخْبِرُكَ، أَمَّا الرَّجُلُ الَّذِي أَتَيْتَ عَلَيْهِ يُثْلَغُ رَأْسُهُ، فَإِنَّهُ رَجُلٌ يَأْخُذُ الْقُرْآنَ فَيَرْفُضُهُ، وَيَنَامُ عَنِ الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ". وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ. جُمَّاعُ أَبْوَابِ الْفَرِيضَةِ فِي السَّفَرِ

" حضرت سمرہ بن جندب ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ( صبح کی نماز کے بعد ) اپنے صحابہ کرام سے پوچھا کرتے تھے : تم میں سے کسی نے خواب دیکھا ہے ؟ تو جس نے خواب دیکھا ہوتا تو اللہ کی مشیت سے آپکو بیان کر دیتا ( اور آپ اس کی تعبیر بتاتے ) ، ایک صبح آپ نے ہمیں بتایا آج رات میرے دوآنے والے ( خواب میں ) آئے اور ان دونوں نے مجھے جگایا اور کہنے لگے: چلیں چلیں ، تو ہم ایک لیٹے ہوئے شخص کے پاس آئے جبکہ ایک اور شخص ایک بہت بڑا پتھر لیے اس کے سر پر کھڑا تھا ، اچانک وہ اس پتھر کو لے کر اس کی طرف بڑھا اور اس کے سر پر دے مارا ، پتھر ٹکڑے ٹکرے ہو کر ادھر ادھر لڑھک گیا ۔وہ اس کے پیچھے گیا ، اسے دوبارہ پکڑا اور اس کے واپس آنے تک اس کا سر پہلے کی طرح صحیح سالم ہو چکا تھا ۔ پھر وہ دوبارہ اس کے پاس آکر پہلے کی طرح مارتا ہے ۔" پھر مکمل حدیث بیان کی ۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا : " ان دونوں فرشتوں نے کہا : ہم آپ کو عنقریب حقیقت حال بتائیں گے۔ رہا وہ شخص جس کے پاس آپ آئے تھے اس کا سر کھلا جارہا تھا تو وہ شخص تھا جس نے قرآن سیکھ کر بھلا دیا تھا اور غافل ہو کر فرض نماز سے سویا رہتا تھا ۔" پھر بقیہ مکمل حدیث بیان کی۔"

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ← سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← أبو رجاء العطاردي ← عَوْفٌ، ← يَحْيَى، وَقَرَأَهُ عَلَيْنَا مِنْ كِتَابِنَا، ← بُنْدَارٌ نَحْوَهُ فِي كِتَابِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، ← سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← أَبِي رَجَاءٍ، ← عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ ← مُحَمَّدٌ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ-، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْمَجِيدِ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden · Hadith 942

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الفَرِیضَۃِ فِی السَّفَرِ · حديث 943

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، نَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: فَرَضَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا، وَفِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ، وَفِي الْخَوْفِ رَكْعَةً.

" حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی مکرم ﷺ کی زبان مبارک سے حضر میں چار رکعتیں نماز ، سفر میں دو رکعت اور خوف کی حالت میں ایک رکعت نماز فرض کی ہے۔"

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← بُکَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of obligatory travel · Hadith 943

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الفَرِیضَۃِ فِی السَّفَرِ · حديث 944

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْعَطَّارُ، قَالَ أَحْمَدُ: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ الْحَسَنِ، ثَنَا دَاوُدُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: فُرِضَ صَلَاةُ السَّفَرِ وَالْحَضَرِ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، فَلَمَّا أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ زِيدَ فِي صَلَاةِ الْحَضَرِ رَكْعَتَانِ رَكْعَتَانِ، وَتُرِكَتْ صَلَاةُ الْفَجْرِ بِطُولِ الْقِرَاءَةِ، وَصَلَاةُ الْمَغْرِبِ لِأَنَّهَا وِتْرُ النَّهَارِ.

" حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ ( ابتدائے اسلام میں ) سفر اور حضر میں دودو رکعتیں نماز فرض ہوئی تھی، پھر جب رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ میں اقامت اختیار کی تو حضر کی نماز میں دو رکعتوں کا اضافہ کر دیا گیا جبکہ نماز فجر کو لمبی قرا ءت کی وجہ سے دو رکعتیں ہی رہنے دیا گیا اور نماز مغرب کو (تین رکعتیں رکھا گیا ) کیونکہ وہ دن کے وتر ہیں۔"

عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← دَاوُدُ، ← محبوب بن الحسن ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَحْمَدُ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْعَطَّارُ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of obligatory travel · Hadith 944

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الفَرِیضَۃِ فِی السَّفَرِ · حديث 945

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَا: ثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ؛ ح وَثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ -يَعْنِي ابْنَ إِدْرِيسَ- أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ؛ ح وَثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ؛ ح وَقَرَأْتُهُ عَلَى بُنْدَارٍ أَنَّ يَحْيَى حَدَّثَهُمْ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بِابَيْهِ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ: قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِي اللَّهُ عَنْهُ: عَجِبْتُ لِلنَّاسِ وَقَصْرِهِمْ لِلصَّلَاةِ، وَقَدْ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: (فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ (1) أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا) [النساء: 101] وَقَدْ ذَهَبَ هَذَا، فَقَالَ عُمَرُ: عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "هُوَ صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ، فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ". هَذَا حَدِيثُ بُنْدَارٍ.

حضرت یعلیٰ بن امیہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب ؓ سے کہا : مجھے لوگوں کے نماز قصر کرنے پر تعجب ہوتا ہے حالنکہ اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا ہے " فَلَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَا ح اَنْ تَقْصُرُوْ مِنَ الصَلاَ ۃِ اِنْ خِفْتُمْ اَن یَفْتِنَکُمُ الَذِیْنَ کَفَرُوْا)(النساء:101) "اور اگر تمہیں یہ ڈر ہو کہ کافر تمہیں فتنہ میں ڈال دیں گے تو تم پر نماقز قصر کرنے میں کوئی حرج و گناہ نہیں ہے " اور اب تو یہ خوف ختم ہوچکا ہے ۔ تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا : مجھے بھی اس بات پر تعجب ہوا تھا جس پر تمہیں ہوا ہے ، اس لیے میں نے اس بات کا تذکرہ رسو ل اللہ ﷺ کے سامنے کیا تھا تو آپ نے فرمایا : " یہ ایک صدقہ ہے جسے اللہ تعالیی نے تم پر بطور رحمت کیا ہے تو تم اس کا صدقہ قبول کرو ( اورچ اس رخصت سے فائدہ اٹھاو)۔ "

قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَجِبْتُ لِلنَّاسِ وَقَصْرِهِمْ لِلصَّلَاةِ، وَقَدْ ← يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← وَقَرَأْتُهُ عَلَى بُنْدَارٍ أَنَّ يَحْيَى ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← ابْنِ أَبِی عَمَّارٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عبد الله يعني ابن إدريس ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ← ابْنُ إِدْرِيسَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of obligatory travel · Hadith 945

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الفَرِیضَۃِ فِی السَّفَرِ · حديث 946

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ -يَعْنِي ابْنَ اللَّيْثِ- عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ -يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ- عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدٍ؛ أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: إِنَّا نَجِدُ صَلَاةَ الْحَضَرِ وَصَلَاةَ الْخَوْفِ فِي الْقُرْآنِ، وَلَا نَجِدُ صَلَاةَ السَّفَرِ فِي الْقُرْآنِ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: يَا ابْنَ أَخِي! إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَ إِلَيْنَا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَعْلَمُ شَيْئًا، فَإِنَّمَا نَفْعَلُ كَمَا رَأَيْنَا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ.

" جناب امیہ بن عبد اللہ بن خالد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے کہا : ہم حضر اور خوف کی نماز کا تذکرہ تو قرآن مجید میں پاتے ہیں مگر سفر کی نماز کا ذکر قرآن مجید میں نہیں پاتے ۔ تو حضرت عبد اللہ ؓ نے فرمایا : اے بھتیجے ! بے شک اللہ تعالیی نے ہماری طرف مھمد ﷺ کو مبعوث فرمایا اور ہم کچھ نہیں جانتے تھے، لہٰذا ہم (اب) اسی طرح کرتے ہیں جس طرح ہم نے محمد ﷺ کو کر تے ہوئے دیکھا ہے۔"

لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: ← أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدٍ، أَنَّهُ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← أَبِيهِ ← شُعَيْبٌ، يَعْنِي ابْنَ اللَّيْثِ، ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of obligatory travel · Hadith 946

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الفَرِیضَۃِ فِی السَّفَرِ · حديث 947

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ الْوَرَّاقُ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَافَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ فَكَانُوا يُصَلُّونَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، لَا يُصَلُّونَ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا. وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: لَوْ كُنْتُ مُصَلِّيًا قَبْلَهَا أَوْ بَعْدَهَا لَأَتْمَمْتُهَا.

" جناب امیہ بن عبد اللہ بن خالد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے کہا : ہم حضر اور خوف کی نماز کا تذکرہ تو قرآن مجید میں پاتے ہیں مگر سفر کی نماز کا ذکر قرآن مجید میں نہیں پاتے ۔ تو حضرت عبد اللہ ؓ نے فرمایا : اے بھتیجے ! بے شک اللہ تعالیی نے ہماری طرف مھمد ﷺ کو مبعوث فرمایا اور ہم کچھ نہیں جانتے تھے، لہٰذا ہم (اب) اسی طرح کرتے ہیں جس طرح ہم نے محمد ﷺ کو کر تے ہوئے دیکھا ہے۔"

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْحَکَمِ الْوَرَّاقُ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of obligatory travel · Hadith 947

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الفَرِیضَۃِ فِی السَّفَرِ · حديث 948

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَفِي خَبَرِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا، وَالْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ -دَالٌّ عَلَى أَنَّ لِلْآمِنِ غَيْرِ الْخَائِفِ مِنْ أَنْ يَفْتِنَهُ الْكُفَّارُ أَنْ يَقْصُرَ الصَّلَاةَ.

" امام ابو بکر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : " حضرت انس بن مالک ؓ کی یہ حدیث کہ " نبی کریم ﷺ نے مدینہ منورہ میں ظہر کی نماز چار رکعتیں پڑھی اور ذوالخلیفہ کے مقام پر عصر کی نماز دو رکعت پڑھی۔" یہ اس بات کی دلیل ہے کہ امن و امان کی حالت میں کفار کے فتنے کے ڈر کے بگیر بھی نمازی ( سفر میں ) نماز قصر کر سکتا ہے ۔"

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of obligatory travel · Hadith 948

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الفَرِیضَۃِ فِی السَّفَرِ · حديث 949

وَكَذَلِكَ خَبَرُ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ: صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ أَكْثَرَ مَا كُنَّا وَآمَنَهُ. وَخَبَرُ أَبِي حَنْظَلَةَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قُلْتُ: إِنَّا آمِنُونَ. قَالَ: كَذَلِكَ سَنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. يَدُلُّ عَلَى أَنَّ لِغَيْرِ الْخَائِفِ قَصْرَ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ.

" اور اسی طرح حضرت حارثہ بن وہب کی یہ حدیث بھی اس مسئلہ کی دلیل ہے کہ ہمیں نبی کریم ﷺ نے دو رکعتیں ( سفر میں ) پڑھائیں حالانکہ ہم کثیر تعداد میں اور نہایت امن و امان میں تھے ۔" اور ابو حنظلہ کی حضرت ابن عمر سے روایت میں ہے کہ میں نے کہا : " بے شک ہم امن و امان کی حالت میں ہیں ۔" تو انہوں نے فرمایا: " نبی کریم ﷺ نے اسی طرح طریقہ سکھایا ہے۔" یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سفر میں کسی خوف کے بغیر بھی نمازی نماز قصر کر سکتا ہے ۔"

كَذَلِكَ سَنَّ النَّبِيُّ يَدُلُّ عَلَى أَنَّ لِغَيْرِ الْخَائِفِ قَصْرَ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ. ← آمِنُونَ؟ ← ابْنِ عُمَرَ، قُلْتُ ← آمَنَهُ. وَخَبَرُ أَبِي حَنْظَلَةَ ← وَكَذَلِكَ خَبَرُ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ: صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ رَكْعَتَيْنِ أَكْثَرَ مَا كُنَّا

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of obligatory travel · Hadith 949

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الفَرِیضَۃِ فِی السَّفَرِ · حديث 950

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ، ثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمُ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ، عَنْ حَرْبِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ أَنْ يُوتَى رُخْصُهُ، كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُوتَى مَعْصِيَتُهُ".

" حضرت عبد اللہ بن عمر ، رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : " بے شک اللہ تعالیی رخصت پر عمل کیے جانے کو پسند کرتے ہیں جس طرح گناہ و نا فرمانی کرنے کو نا پسند کرتے ہیں ۔"

رَسُولِ اللَّهِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← حَرْبِ بْنِ قَيْسٍ، ← عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ← يحيى بن زياد ← ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of obligatory travel · Hadith 950

chevron_left Previous
1…596061…258
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden22. The groups of the gates of obligatory travel23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness24. The congregation of the gates of prayer on the rows25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr37. The gates of the prayer of fear38. Collections of the gates of an eclipse prayer39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals