صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَفعَالِ المَکرُوھَۃِ فِی الصَّلاَۃِ الَّتِی قَد نُھِیَ عَنھَا المُصَلَّی · حديث 926
أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، نَا سَعِيدٌ -يَعْنِي ابْنَ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيَّ- عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَاسْتَبْرَأَهَا بِعُودٍ مَعَهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الْقَوْمِ، يَعْرِفُونَ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ: "أَيُّكُمْ صَاحِبُ هَذِهِ النُّخَامَةِ؟ " فَسَكَتُوا. فَقَالَ: "يُحِبُّ أَحَدُكُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّي أَنْ يَسْتَقْبِلَهُ رَجُلٌ فَيَتَنَخَّعُ فِي وَجْهِهِ؟ " فَقَالُوا: لَا. قَالَ: "فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ فِي صَلَاتِكُمْ، فَلَا تُوَجِّهُوا شَيْئًا مِنَ الْأَذَى بَيْنَ أَيْدِيكُمْ، وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِ أَحَدِكُمْ، أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ".
" حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مسجد کے قبلہ میں بلغم دیکھی تو آپ نے اپنی چھڑی کے ساتھ اسے صاف کر دیا پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے ، وہ آپکے چہرہ مبارک میں سخت غصہ دیکھ رہے تھے ، تو آپ نے پوچھا ؟ بلغم کس کی ہے؟ وہ سب خٓموش رہے ۔ آپ نے فرمایا : " کیا تم میں کوئی شخص یہ پسند کرتا ہے کہ جب وہ نماز پڑھ رہا ہو تو ایک شخص اس کے سامنے سے آکر اس کے چہرے پر تھوک دے؟ صحابہ نے جواب دیا : نہیں ، ( ایسا کوئی بھی پسند نہیں کرے گا )۔ آپ نے فرمایا : " بے شک اللہ تعالیٰ تمہاری نمازوں میں تمہارے سامنے ہوتا ہے ، لہٰذ اتم کوئی بھی گندگی اپنے سامنے مت پھینکا کرو لیکن ( بوقت ضرورت ) اپنی بائیں جانب یا اپنے قدم کے نیچے ڈال لیا کرو ۔"
أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيَّ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden · Hadith 926
