Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2968

ثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ؛ ح وَثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، ثَنَا أَبُو خَالِدٍ؛ ح وَثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنِي ابْنُ إِدْرِيسَ؛ ح وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، ثَنَا مُحَمَّدٌ -يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ- جَمِيعًا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ؛ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ عَلَيْهِ السَّلَامُ يَرْمِي يَوْمَ النَّحْرِ ضُحًى، وَأَمَّا بَعْدَ ذَلِكَ فَبَعْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ. وَقَالَ أَبُو كُرَيْبٍ، والْأَشَجُّ: عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ.

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ قربانی والے دن چاشت کے وقت کنکریان مارتے تھے ،اور باقی دنوں میں سورج ڈھلنے کے بعد رمی کرتے تھے۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← أَبُو كُرَيْبٍ، والْأَشَجُّ: ← كَانَ النَّبِيُّ يَرْمِي يَوْمَ النَّحْرِ ضُحًى، وَأَمَّا بَعْدَ ذَلِكَ فَبَعْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ. ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مُحَمَّدٌ -يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ- جَمِيعًا ← مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، ← ابْنُ إِدْرِيسَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ← أَبُو خَالِدٍ؛ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عِيسَى؛ ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2968

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2969

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، ثَنَا ابْنُ خُوَارٍ -يَعْنِي حُمَيْدًا الْكُوفِيَّ- عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، [عَنْ عَطَاءٍ] قَالَ: لَا أَرْمِي حَتَّى تُرْفَعَ الشَّمْسُ، أنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَرْمِي يَوْمَ النَّحْرِ قَبْلَ الزَّوَالِ، فَأَمَّا بَعْدَ ذَلِكَ فَعِنْدَ الزَّوَالِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ إِنْ كَانَ ابْنُ خُوَارٍ حَفِظَ عَطَاءً في هَذَا الْإِسْنَادِ (1).

جناب ابن جریج فرماتے ہیں : میں تو سورج بلند ہونے سے پہلے رمی نہیں کرتا بے شک حضرت جابر بن عبداللہ ؓبیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ قربانی والے دن زوال سے پہلے رمی کرتے تھے اور بعد والے دنوں میں زوال شمس کے بعد کنکریاں مارتے تھے۔ امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : یہ حدیث غریب ہے ، اگر ابن خوار نے اس سند میں امام عطاء کا واسطہ یاد رکھا ہو (لیکن سند میں امام عطاء کا ذکر نہیں ہے ۔ ممکن ہے کا تب سے یہ کلمہ رہ گیا ہو)۔"

لَا أَرْمِي حَتَّى تُرْفَعَ الشَّمْسُ، أنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← ابْنُ خُوَارٍ -يَعْنِي حُمَيْدًا الْكُوفِيَّ- ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2969

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2970

ثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ -وَهُوَ ابْنُ أَبِي زِيَادٍ- ثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّمَا جُعِلَ الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَرَمْيُ الْجِمَارِ لِإِقَامَةِ ذِكْرِ اللَّهِ".

حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :"بلاشبہ بیت اللہ کا طواف ، صفا مروہ کی سعی اور جمرات کی رمی اللہ تعالیٰ کے ذکر کو قائم کرنے کےلیے مقرر کی گئی ہے ۔"

عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهُ -وَهُوَ ابْنُ أَبِي زِيَادٍ- ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2970

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2971

ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ثَنَا أَبُو خَالِدٍ -وَهُوَ سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ- عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ حِينَ صَلَّى صَلَاةَ الظُّهْرِ، ثُمَّ رَجَعَ فَمَكَثَ بِمِنًى لَيَالِيَ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ، يَرْمِي الْجَمْرَةَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ، كُلُّ جَمْرَةٍ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ، وَيَقِفُ عِنْدَ الْأُولَى وَعِنْدَ الثَّانِيَةِ، فَيُطِيلُ الْقِيَامَ وَيَتَضَرَّعُ، ثُمَّ يَرْمِي الثَّالِثَةَ وَلَا يَقِفُ عِنْدَهَا.

حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قربانی والے دن دوپہر کو طواف افاضہ کیا جب ظہر کی نماز پڑھی ، پھر آپ واپس منیٰ آگئے اورایام تشریق کی راتیں منیٰ میں بسر کیں ۔ جب سورج ڈھل جاتا توآپ جمرات پر رمی کرتے ۔ ہر جمرے پرسات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر پڑھتے ،آپ پہلے اور دوسرے جمرے کے پاس دیر تک ٹھہرتے اور خوب گڑگڑاکر دعائیں مانگتے پھر آپ تیسرے جمرے کو کنکریاں مارتے اور اس کے پاس نہیں ٹھہرنے تھے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو خَالِدٍ وَهُوَ سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2971

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2972

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَالْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْبِسْطَامِيُّ، قَالَا: ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا رَمَى الْجَمْرَةَ الَّتِي تَلِي مَسْجِدَ مِنًى يَرْمِيهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، فَيُكَبِّرُ كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ، ثُمَّ تَقَدَّمَ أَمَامَهَا فَوَقَفَ مُسْتَقْبِلُ الْبَيْتَ، رَافِعًا يَدَيْهِ يَدْعُو، وَكَانَ يُطِيلُ الْوُقُوفَ. ثُمَّ يَأْتِي الْجَمْرَةَ الثَّانِيَةَ، فَيَرْمِيهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ، ثُمَّ يَنْحَدِرُ ذَاتَ الْيَسَارِ مِمَّا يَلِي الْوَادِيَ، فَيَقِفُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ، رَافِعًا يَدَيْهِ يَدْعُو، ثُمَّ يَأْتِي الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَ الْعَقَبَةِ فَيَرْمِيهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، يُكَبِّرُ عند كُلِّ حَصَاةٍ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ، وَلَا يَقِفُ عِنْدَهَا. قَالَ الزُّهْرِيُّ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ بِمِثْلِ هَذَا عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ. قَالَ الْبِسْطَامِيُّ؛ قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ. وَقَالَ فِي جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ: يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ وَلَا يَقِفُ عِنْدَهَا. وَقَالَ: يُحَدِّثُ بِمِثْلِ هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ أَبِيهِ، وَالْبَاقِي مِثْلُ لَفْظِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى سَوَاءً.

امام زہری ؒ فرماتےہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب مسجد منیٰ کے قریب والے جمرے کو رمی کرتے تو اسے سات کنکریاں مارتے ہر کنکری مارتے وقت اللہ اکبر پڑھتے ، پھر آپ اس سے آگے بڑھ کر اس کے آگے قبلہ رخ ہو کر کھڑے ہو جاتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے ، آپ بڑی دیر تک کھڑے رہتے ۔ پھر آپ دوسرے جمرے کے پاس آتے اور اللہ اکبر کہتے ہوئے سات کنکریاں مارتے ۔ پھر آپ وادی کے قریب بائیں جانب نیچے اتر کر قبلہ رخ کھڑے ہو جاتے ، آپ اپنے دونوں ہاتھ اٹھاکر دعا ئیں مانگتے۔ پھر آپ عقبہ والے جمرہ پر آتے اور اسے سات کنکریاں مارتے ، ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر پڑھتے ۔ پھر آپ واپس تشریف لے جاتے اور اس کے پاس نہیں ٹھہرتے تھے۔ اما م زہری ؒ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سالم بن عبداللہ کو سنا کہ وہ اپنے والد گرامی کے واسطے سے اسی طرح بیان کرتے تھے اور یہ کہتے تھے کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ بھی اسی طرح عمل کرتے تھے ۔ جناب ہونس کی روایت میں ہے: جب آپ جمرہ عقبہ کو رمی کرتے ہو ہر کنکری کے ساتھ "اللہ اکبر" کہتے پھر آپ واپس تشریف لے جاتے اوراس کے پاس ٹھہرتے نہیں تھے۔ اور فرمایا: حضرت سالم اپنے والد بزرگوار سے اسی طرحکی روایت بیان کرتے ہیں ۔ باقی روایت محمد بن یحٰیی کی روایت کی طرح ہے۔"

الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَالْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْبِسْطَامِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2972

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2973

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ زِيَادِ بْنِ يَزِيدَ الْعَطَّارُ -وَهَذَا حَدِيثُ بُنْدَارٍ- ثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، ثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حِصْنٍ، حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي سَرَّاءُ بِنْتُ نَبْهَانَ -وَكَانَتْ رَبَّةَ بَيْتٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ- قَالَتْ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الرُّؤُوسِ فَقَالَ: "أَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟ " قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "أَلَيْسَ الْمَشْعَر الْحَرَام؟ " قُلْنَا: بَلَى. قَالَ: "فَأَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟ " قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "أَلَيْسَ أَوْسَط أَيَّامِ التَّشْرِيقِ؟ " قُلْنَا: بَلَى. قَالَ: "فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ -زَادَ إِسْحَاقُ:- وَأَعْرَاضَكُمْ، -وَقَالَا:- وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا". زَادَ إِسْحَاقُ: "فَلْيُبَلِّغْ أَدْنَاكُمْ أَقْصَاكُمْ، اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ، اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ، اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ".

حضرت سراء بنت نبہان بیان کرتی ہیں ، یہ زمانہ جاہلیت میں ایک بت کدے کی نگران تھیں وہ فرماتی ہیں : رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ہوم الرؤوس (سری کھانے کے دن ۱۲ذوالحجہ) کو خطبہ ارشاد فرمایا تو کہا:"یہ کونسا شہر ہے؟ "ہم نے عرض کیا : اللہ اور اس کا رسول ہی بخوبی جانتے ہیں ۔آپ نے فرمایا : "کیا یہ مشعر حرام نہیں ہے؟ "ہم نے جواب دیا: کیوں نہیں ۔آپ نے پوچھا :"آج کونسا دن ہے؟ "ہم نے کہا :اللہ اور اس کا رسول ہی خوب جانتا ہے۔ آپ نے فرمایا:"کیا یہ ایام تشریق کا درمیانی دن نہیں ہے؟" ہم نے جواب دیا: کیوں نہیں، آ پ نے فرمایا: "پس بے شک تمھارے خون ،اسحاق کی روایت میں اضافہ ہے: اور تمھاری عزتیں اور تمھارے مال ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں جس طرح تمھارآ ج کا دن ، تمھارے اس مہینے اور تمھارے اس شہر میں حرمت والا ہے۔" جناب اسحاق نے یہ اضافہ بیان کیا ہے:لہٰذا چاہیے کہ تم میں سے نزدیک والا شخص دور والے کو یہ احکام پہنچا دے ۔ے اللہ!کای میں نے تیرے احکام پہنچا دیے ، اے اللہ کیا میں نے تیرا دین پہنچا دیا۔ اے اللہ کیا میں نے تیری شریعت اور سالت ان تک پہنچا دی۔"

أَبُو عَاصِمٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ زِيَادِ بْنِ يَزِيدَ الْعَطَّارُ -وَهَذَا حَدِيثُ بُنْدَارٍ- ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2973

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2974

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بِحَدِيثٍ غَرِيبٍ غَرِيبٍ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى أَبِي قُرَّةَ مُوسَى بْنِ طَارِقٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ رَجَعَ مِنْ عُمْرَةِ الْجِعْرَانَةِ بَعَثَ أَبَا بَكْرٍ عَلَى الْحَجِّ فَأَقْبَلْنَا مَعَهُ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْعَرْجِ ثَوَّبَ بِالصُّبْحِ، فَلَمَّا اسْتَوَى لِيُكَبِّرَ، سَمِعَ الرَّغْوَةَ خَلْفَ ظَهْرِهِ، فَوَقَفَ عَنِ التَّكْبِيرِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ. وَقَالَ: فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّفْرِ الْأَوَّلِ قَامَ أَبُو بَكْرٍ، فَخَطَبَ النَّاسَ، فَحَدَّثَهُمْ كَيْفَ يَنْفِرُونَ، وَكَيْفَ يَرْمُونَ، فَعَلَّمَهُمْ مَنَاسِكَهُمْ، فَلَمَّا فَرَغَ قَامَ عَلِيٌّ فَقَرَأَ بَرَاءَةَ عَلَى النَّاسِ حَتَّى خَتَمَهَا.

حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب جعرانہ مقام سے احرام باندھ کر عمرہ کر کے واپس تشریف لائے تو حضرت ابوبکر ؓ کو امیر حج بنا کر روانہ کیا، لہٰذا ہم ان کی قیادت میں روانہ ہوئے حتی کہ جب ہم عرج مقام ہپر پہنچے تو صبح کی اذان ہوئی ، پھر جب وہ تکبیر کہنے کےلیے سیدھے کھڑےہوئے تو انھوں نے اپنے پیچھے اونٹ کی بلبلا ہٹ سنی ، لہٰذا وہ تکبیر کہنے سے رک گئے۔ پھر مکمل حدیث بیان کی اور فرمایا: پھر جب روانگی کا پہلا دن آیا توحضرت ابوبکرؓ نے کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ دیا اور انھیں روانگی اورمی کے مسائل بتائے اور انھیں ان کے مناسک حج سکھائے، جب وہ خطبہ دے کر فارغ ہوئے تو حضرت علی ؓ نے کھڑے ہو کر لوگوں کو پوری سورۂ براءت سنائی (جس میں مشرکین سے اعلان لا تعلقی اور ان کے حج کرنے پر پابندی وغیرہ کے احکامات تھے)۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَلَى أَبِي قُرَّةَ مُوسَى بْنِ طَارِقٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بِحَدِيثٍ غَرِيبٍ غَرِيبٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2974

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2975

ثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي بَدَّاحٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَخَّصَ لِلرِّعَاءِ أَنْ يَرْمُوا بِاللَّيْلِ، وَأَنْ يَجْمَعُوا الرَّمْيَ.

جناب ابوالبداح بن عاصم بن عدی اپنے واد گرامی حضرت عاصإ بن عدی ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے چواہوں کو رات کو وقت رمی اور (دو دنوں کی ) اکٹھی رمی کرنے کی اجازت دی ہے۔"

أَبِيهِ ← أَبِي بَدَّاحٍ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← مالک بن أنس ← وَكِيعٌ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2975

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2976

ثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا سفيان، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَخَّصَ لِلرُّعَاةِ أَنْ يَرْمُوا يَوْمًا وَيَدَعُوا يَوْمًا.

حضرت عاصم بن عدی ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے چواہوں کو رخصت دی ہے کہ وہ ایک دن رمی کر لیں اور ایک دن نہ کریں۔

أَبِيهِ ← أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَدِيِّ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2976

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2977

ثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ، عَنْ أَبِيهِ: بِمِثْلِ هَذَا الْحَدِيثِ.

حضرت ابوالبداح اپنے والد گرامی حضرت عاصم ؓ سے مذکو رہ بالا کی مثل روایت کرتے ہیں

أَبِيهِ: بِمِثْلِ هَذَا الْحَدِيثِ. ← أَبِي الْبَدَّاحِ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2977

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2978

ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، ثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَخَّصَ لِلرُّعَاةِ أَنْ يَرْمُوا الْجِمَارَ يَوْمًا وَيَدعوا يَوْمًا.

حضرت عاصم بن عدی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چرواہوں کو اجازت دی کہ وہ (دو دن کی اکٹھی ) کنکریاں ایک دن مارلیں اور ایک دن ترک کردیں اور اپنے اونٹ چرائیں ۔

أَبِيهِ ← أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَدِيِّ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2978

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2979

ثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَنَّ مَالِكًا أَخْبَرَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ ابْنَ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَخَّصَ لِرُعَاةِ الْإِبِلِ فِي الْبَيْتُوتَةِ يَرْمُونَ يَوْمَ النَّحْرِ، ثُمَّ يَرْمُونَ الْغَدَ أَوْ مِنْ بَعْدِ الْغَدِ لِيَوْمَيْنِ، ثُمَّ يَرْمُونَ يَوْمَ النَّفَرَةِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَبُو الْبَدَّاحِ هُوَ ابْنُ عَاصِمِ بْنُ عَدِيٍّ. وَمَنْ قَالَ: عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَدِيٍّ نَسَبَهُ إِلَى جَدِّهِ، وَعَاصِمُ بْنُ عَدِيٍّ هَذَا هُوَ الْعَجْلَانِيُّ صَاحِبُ قِصَّةِ اللِّعَانِ الْمَذْكُورُ فِي خَبَرِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ.

حضرت عاصم بن عدی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اونٹوں کے چرواہوں کی منیٰ سے باہر راتیں گزارنےکی اجاازت دی تھی ، وہ قربانی والے دن کنکریاں ماریں گے ، پھر وہ عید کے دوسرے یا تیسرے دن (دو دن کی اکٹھی ) کنکریاں مار لیں گے ، پھر روانگی کے دن جمرات پرکنکریاں ماریں گے۔ امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : ابوالبداح عاصم بن عدی ؓ کے بیٹے ہیں اور جس راوی نے ابو البداح بن عدی سے بیان کیا ہے تو اس نے ان کی نسبت ان کے دادا کی طرف کردی ہے۔ حضرت عاصم بن عدی عجلانی ؓ ہیں جن کا لعان کا قصہ حضرت سہل بن سعد کی روایت میں مذکور ہے۔

أَبِيهِ ← أَبِيهِ، أَنَّ ابْنَ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ أَنَّ مَالِكًا ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2979

chevron_left Previous
1…248249250…258
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden22. The groups of the gates of obligatory travel23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness24. The congregation of the gates of prayer on the rows25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr37. The gates of the prayer of fear38. Collections of the gates of an eclipse prayer39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals