Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2958

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَنْ أُمِّهِ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ يُحَدِّثَانِهِ ذَلِكَ جَمِيعًا عَنْهَا، قَالَتْ: لَمَّا كَانَتْ لَيْلَتِي الَّتِي يَصِيرُ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيهَا مَسَاءَ يَوْمِ النَّحْرِ، فَصَارَ إِلَيَّ، قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَيَّ وَهْبٌ وَمَعَهُ رِجَالٌ مِنْ آلِ أَبِي أُمَيَّةَ، مُتَقَمِّصِينَ، فَقَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِوَهْبٍ: "هَلْ أَفَضْتَ بَعْدُ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ؟ " قَالَ: لَا وَاللَّهِ، يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: "فَانْزِعِ الْقَمِيصَ"، فَنَزَعَهُ مِنْ رَأْسِهِ. قَالَ: وَنَزَعَ صَاحِبُهُ قَمِيصَهُ مِنْ رَأْسِهِ. قَالُوا: وَلِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "إن هَذَا يَوْمٌ رُخِّصَ لَكُمْ إِذَا أَنْتُمْ رَمَيْتُمُ الْجَمْرَةَ أَنْ تَحِلُّوا مِنْ كُلِّ مَا حُرِمْتُمْ [291 - أ] مِنْهُ إِلَّا مِنَ النِّسَاءِ، فَإِذَا أَمْسَيْتُمْ قَبْلَ أَنْ تَطُوفُوا بِهَذَا الْبَيْتِ صِرْتُمْ كَهَيْئَتِكُمْ قَبْلَ أَنْ تَرْمُوا الْجَمْرَةَ".

حضرت ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ جب میری رات کی باری آئی جس میں رسول اللہ ﷺ نے میرے پاس تشریف لانا تھا تو وہ قر بانی والے دن کی شام تھی چنانچہ آپ میرے پاس وہب تشریف لائے ، آپ فرماتی ہیں : اتنے میں میرے پاس وہب اور ابو امیہ کے گھرانے کے کچھ افراد بھی قمیصیں پہنے ہوئے آگئے ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے وہب سے کہا : کیا تم نے طواف افاضہ کر لیا ہے اے ابو عبداللہ ؟ اس نے عرض کیا : نہیں اللہ کی قسم ! اے اللہ کے رسول ! نہیں کیا۔ آپ نے فرمایا: "تو پھر یہ قمیص اتار دو " تو اس نے اسے سر کی جانب سے اتار دیا اور ان کے ساتھی نے بھی اپنی قمیص سر سے اتار دی انھوں نے عرض کی اے اللہ نے رسول ! قمیص کیوں اتاردیں ؟ آپ نے فرمایا: اس دن تمھیں رخصت دی گئی ہے ک جب تم جمرہ عقبہ پر رمی کر لو تو تمھارے لیے احرام کی وجہ سے ممنوع ہونے والی پر چیز حلال ہو جاتی ہے سوائے بیوی کے ۔ پھر اگر تم نے طواف زیارت کرنے سے پہلے ہی شام کر لی تو تم پھر اسی طرح احرام والے ہو جاؤ گے جیسے جمرہ عقبہ کی رمی سے پہلے تھے۔"

أُمِّ سَلَمَةَ يُحَدِّثَانِهِ ذَلِكَ جَمِيعًا عَنْهَا ← أُمِّهِ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ← أَبِيهِ ← أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2958

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2959

ثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَا: ثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، وَقَالَ الْمَخْزُومِيُّ: مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ، قَالَ: شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ صِيَامِ هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ، أَمَّا يَوْمُ الْفِطْرِ فَفِطْرُكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ، وَأَمَّا يَوْمُ الْأَضْحَى، فَتَأْكُلُونَ فِيهِ مِنْ لحم نُسُكِكُمْ. خَرَّجْتُ هَذَا الْبَابَ بِتَمَامِهِ فِي كِتَابِ الصِّيَامِ - كِتَابِي "الْكَبِيرِ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَبُو عُبَيْدٍ هَذَا، اخْتَلَفَ الرُّوَاةُ فِي ذِكْرِ وَلَائِهِ، فَقَالَ بَعْضُ الرُّوَاةِ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَمِثْلُ هَذَا لَا يَكُونُ عِنْدِي مُتَضَادًّا، قَدْ يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ ابْنُ أَزْهَرَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ اشْتَرَكَا فِي عِتْقِهِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرِ لِأَنَّ وَلَاءَهُ لِمُعْتِقَيْهِ جَمِيعًا.

جناب ابو عبید مولیٰ ابن ازہر بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب ؓ کے ساتھ عید میں شرکت کی۔ انھوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے ان دو (عیدین کے ) دنوں کے روزے سے منع کیا ہے، رہی عید الفطر تو وہ اس لیے کہ وہ تمھارے روزے ختم کرنے کا دن ہے اور عید الاضحیٰ (کو روزہ اس لیے منع ہے ) کہ تم اس دن اپنی قربانیوں کا گوشت کھاتے ہو ۔ میں نے یہ مکمل باب کتاب الکبیر میں کتاب الصیام کے تحت بیان کر دیا ہے ۔ اما م ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : ابو عبید کی ولاء میں راویوں کا اختلاف ہے ، کچھ راوی اسے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف کا قرار دیتے ہیں (اور کچھ ابن ازہر کا ) لیکن میرے نزدیک اس میں کوئی تضاد نہیں ہے کیونکہ ممکن ہے کہ یہ عبدالرحمٰن بن عوف اور ابن ازہر کے مشترکہ غلام ہوں اور ان دونوں نے ہی انہیں آزاد کر دیا ہو لہٰذا بعض راویوں نے انہیں حضرت عبدالرحمٰن کا آزاد کردہ غلام قرار دے دیا اور بعض نے اسے ابن ازہر کا غلا م کہ دیا کیونکہ اس کی نسبت ولاء دونوں آزاد کرنے والے حضرات کی طرف ہے۔

شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: ← أَبِي عُبَيْدٍ، وَقَالَ الْمَخْزُومِيُّ: مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2959

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2960

ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرٍو؛ ح وَثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ بِشْرِ بْنِ سُحَيْمٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَهُ أَنْ يُنَادِيَ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ -وَقَالَ الْمَخْزُومِيُّ: بَعَثَهُ أَيَّامَ مِنًى أَنْ يُنَادِيَ- "لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُؤْمِنَةٌ، وَإِنَّهَا أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ". قَدْ خَرَّجْتُ هَذَا الْبَابَ بِتَمَامِهِ فِي كِتَابَ الصَّوْمِ.

حضرت بشر بن گیم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انھیں ایام تشریق میں اعلان کرنے کاحکم دیا۔ جناب مخرمی کی روایت میں ہے : آپ نے انھیں منیٰ کے دنوں میں اعلان کرنے کے لیے بھیجا: جنت میں صرف مومن داخل ہوں گے اور بے شک منیٰ کے دن کھانے پینے کے دن ہیں ۔" میں نے یہ مکمل باب کتاب الصوم میں بیان کی دیا ہے۔

بِشْرِ بْنِ سُحَيْمٍ: ← نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← وَثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← عَمْرٍو، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2960

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2961

ثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ؛ أَنَّهُ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَلَى أَبِيهِ فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ، فَإِذَا هُوَ يَتَغَذَّى، فَدَعَانَا إِلَى طَعَامِ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ لَهُ عَمْرٌو: أَمَّا عَلِمْتَ أَنَّ هَذِهِ الْأَيَّامَ الَّتِي نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ صَوْمِهِنَّ وَأَمَرَ بِفِطْرِهِنَّ، فَأَمَرَهُمْ فَأَفْطَرُوا. أَحَدُهُمَا يَزِيدُ عَلَى الْآخَرِ.

حضرت عقیل بن ابی طالب ؓ کے آزاد کردہ غلام جناب ابو مرہ بیان کرتے ہیں کہ وہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ کے ساتھ ایام تشریق میں ان کے والد گرامی حضرت عمرو بن عاص ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو وہ کھانا کھا رہے تھے ، انھوں نے ہمیں کھانے کی دعوت دی ۔ تو حضرت عبداللہ بن عمروؓ نے انھیں کہا: بے شک میں تو روزے سے ہوں ۔ تو حضرت عمرو بن عاص ؓ نے فرمایا : کیا تمھیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان دنوں کے روزے رکھنے سے منع کیا ہے اور ان دنوں میں روزہ کھولنے کا حکم دیا تو انھوں نے توزہ کھول دیا۔ ایک راوی نے دوسرے سے کچھ زیادہ الفاظ بیان کیے ہیں۔

أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، ← ابْنِ الْھَادِ ← ابن لهيعة، ومالك بن أنس، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2961

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2506

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزْعَةَ بْنِ عُبَيْدٍ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ غَرِيبٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ، ثَنَا حُمَيْدُ الطَّوِيلُ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: اسْتَمْتِعُوا مِنْ هَذَا الْبَيْتِ فَإِنَّهُ قَدْ هُدِمَ مَرَّتَيْنِ وَيُرْفَعُ فِي الثَّالِثِ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ، قَوْلُهُ: "وَيُرْفَعُ فِي الثَّالِثِ" يُرِيدُ بَعْدَ الثَّالِثَةِ، إِذْ رَفْعُ مَا قَدْ هُدِمَ مُحَالٌ، لِأَنَّ الْبَيْتَ إِذَا هُدِمَ لَا يَقَعُ عَلَيْهِ اسْمُ بَيْتٍ إِذَا لَمْ يَكُنْ هُنَاكَ بِنَاءٌ.

حضرت عمر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا:"بیت اللہ سے فائدہ اٹھا لو کیونکہ یہ دوبارہ منہدم ہو گا اور تیسری بار اٹھا لیا جائے گا۔" امام ابو بکر فرماتے ہیں آپ کا یہ فرمان کہ "تیسری بار اس کی عمارت اٹھا لی جائے گی" کا مطلب یہ ہے کہ تیسری بار منہدم ہونے کے بعد اٹھا لیا جائے گا کیونکہ منہدم شدہ کو اٹھانا محال ہے کیونکہ جب گھر گر جائے اور وہاں کوئی عمارت باقی نہ رہے تو اسے"بیت"گھر کا نام انہیں دیا جاتا۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ قَزْعَةَ بْنِ عُبَيْدٍ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ غَرِيبٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2506

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2507

حَدَّثَنَا أَبُو قُدَامَةَ وَأَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ قَتَادَةَ؛ ح وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بِسْطَامٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ -وَهُوَ الْقَطَّانُ- عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "لَيُحَجَّنَّ هَذَا الْبَيْتُ، وَلَيُعْتَمَرَنَّ بَعْدَ خُرُوجِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ". وَقَالَ أَبُو قُدَامَةَ: بَعْدَ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ، وَقَالَ أَبُو مُوسَى: لَيُحَجَّنَّ الْبَيْتُ.

حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا:"یاجوج ماجوج کے نکلنے کے بعد بھی اللہ کا حج و عمرہ ضرور کیا جائے گا۔ " ابو قدامہ کی روایت میں ہے : یا جوج ماجوج کے بعد بھی حج و عمرہ ہوتا رہے گا۔ اور جناب ابو مو سی کی روایت میں ہے:اس گھر کا حج ضرور کیا جائے گا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عُتْبَةَ، ← قَتَادَةَ ← عِمْرَانُ -وَهُوَ الْقَطَّانُ- ← أَبُو دَاوُدَ، ← وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بِسْطَامٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ← قَتَادَةَ ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← أَبُو قُدَامَةَ وَأَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2507

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2962

ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ؛ ح وَثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى؛ ح وَثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ثَنَا أبو مُعَاوِيَةُ؛ ح وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ثَنَا سُفْيَانُ؛ ح وَثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَجَرِيرٌ، كُلُّهُمْ عَنِ الْأَعْمَشِ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ عَنْ سُلَيْمَانَ -وَهُوَ الْأَعْمَشُ- عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: صَلَّى عُثْمَانُ بِمِنًى أَرْبَعًا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَكْعَتَيْنِ، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ رَكْعَتَيْنِ، وَمَعَ عُمَرَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ تَفَرَّقَتْ بِكُمُ الطُّرُقَ، فَوَدِدْتُ أَنَّ لِي مِنْ أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ رَكْعَتَيْنِ مُتَقَبَّلَتَيْنِ. هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ سَلْمِ بْنِ جُنَادَةَ.

جناب عبدالرحمٰن بن یزید بیان کرتے ہیں کہ حضرت عثمان ؓ نے منیٰ میں چار رکعات پڑھائیں تو حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کہنے لگے میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ دو رکعات پڑھی ہیں ،حضرت ابو بکر اور عمر ؓ کے ساتھ بھی دو دو رکعات ہی پڑھی تھیں ، پھر تم میں اختلاف ہو گیا میری خواہش ہے کہ کا ش!مجھے ان چار رکعات کی بجائے دو قبول کی ہوئی رکعات نصیب ہو جائیں ۔ یہ الفاظ سلم بن جادہ کی روایت کے ہیں ۔

صَلَّى عُثْمَانُ بِمِنًى أَرْبَعًا، ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← سُلَيْمَانَ -وَهُوَ الْأَعْمَشُ-، ← الْأَعْمَشِ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَجَرِيرٌ، كُلُّهُمْ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ← عِيسَى؛ ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ← ابْنِ نُمَيْرٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2962

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2963

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، ثَنَا أَبُو خَالِدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ، وَعُثْمَانُ صَدْرًا مِنْ إِمَارَتِهِ.

حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ، ابو بکر اور عمر ؓ نے منیٰ میں دو رکعات ادا کیں ۔ حضرت عثمان ؓ نے اپنی خلافت کے ابتدائی سالوں میں دو رکعات ہی ادا کیں ۔

صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ، وَعُثْمَانُ صَدْرًا مِنْ إِمَارَتِهِ. ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← أَبُو خَالِدٍ؛ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2963

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2964

وَخَبَرُ ابْنِ عَبَّاسٍ: فَرَضَ اللَّهُ الصَّلَاةَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا، وَفِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ، فَصَرَّحَ أَنَّ فَرْضَ الصَّلَاةِ بِمِنًى عَلَى الْمُقِيمِ أَرْبَعا كَهُوَ عَلَى غَيْرِ مَنْ هُوَ مِمَّا سِوَاءٌ.

حضرت ابن عباس ؓ کی حدیث میں ہے: اللہ تعالی نے تمھارے نبی ﷺ کی زبانی حضر کی نماز چار رکعات اور سفر میں دو رکعات فرض کی ہے ۔ اس طرح حضرت ابن عباس ؓ نے صراحت فرما دی کہ منیٰ میں مقیم شخص پر چار رکعات نماز فرض ہے جس طرح کہ کسی دوسری جگہ پر مقیم شخص پر فرض ہے۔

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2964

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2965

وَخَبَرُ عَائِشَةَ: فُرِضَتِ الصَّلَاةُ أَوَّلَ مَا فُرِضَتْ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ زِيدَ فِي صَلَاةِ الْحَضَرِ، مُصَرِّحٌ أَنَّ الْحَاضِرَ بِمِنًى عَلَيْهِ إِتْمَامُ الصَّلَاةِ، لَيْسَ لَهُ قَصْرُ الصَّلَاةِ إِذَا كَانَ حَاضِرًا لَا مُسَافِرًا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَقَدْ كُنْتُ بَيَّنْتُ فِي كِتَابِ الصَّلَاةِ مَعْنَى خَبَرِ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَنَسٍ. وَفِي خَبَرِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَعَائِشَةَ دَلَالَةٌ بَيِّنَةٌ عَلَى أَنَّ الْوَاجِبَ عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ وَمَنْ أَقَامَ بِهَا مِنْ غَيْرِ أَهْلِهَا إقامة يَجِبُ عَلَيْهِ إِتْمَامُ الصَّلَاةِ بِمِنًى، إِذْ هُوَ مُقِيمٌ لَا مُسَافِرٌ، لِأَنَّ فَرْضَ الْمُقِيمِ أَرْبَعا (1). فَلَا يَجُوزُ لِغَيْرِ الْمُسَافِرِ وَلِغَيْرِ الْخَائِفِ فِي الْقِتَالِ قَصْرُ الصَّلَاةِ، وَأَهْلِ مَكَّةَ، وَمَنْ قَدْ أَقَامَ بِهَا مِنْ غَيْرِ أَهْلِهَا إِقَامَةً يَجِبُ عَلَيْهِ إِتْمَامُ الصَّلَاةِ إِذَا خَرَجُوا إِلَى مِنًى نَاوِينَ الرُّجُوعَ إِلَى مَكَّةَ غَيْرَ مُسَافِرِينَ فَغَيْرُ جَائِزٍ لَهُمْ قَصْرُ الصَّلَاةِ بِمِنًى.

اسی طرح حضر ت عائشہ ؓ کی یہ حدیث کہ ابتدا میں جب نماز فرض ہوئی تو دورکعات فرض ہوئی تھی ۔پھر حضر کی نماز میں اضافہ کر دیا گیا (اور وہ چار رکعات ہو گئیں جبکہ مسافر کی نماز دو رکعات پڑھنا باقی رہیں ) یہ حدیث بھی صراحت کرتی ہے کہ مقیم شخص پر منیٰ میں مکمل نماز واجب ہے وہ قصر نماز نہیں پڑھ سکتا جبکہ وہ مقیم ہو اور مسافر نہ ہو۔ امامابوبکر ؒ فرماتے ہیں : میں نے کتاب الصلاۃ میں حضرت انس کی روایت کا معنی بیان کر دیا ہے ۔ حضرت عائشہ اور ابن عباسؓ کی روایت میں واضح دلیل ہے کہ اہل مکہ مکرمہ میں مقیم ہونے والے شخص پر واجب ہے کہ وہ منیٰ میں مکمل نماز ادا کریں کیونکہ وہ اب مقیم ہو چکے ہیں ، مسافر نہیں رہے اور مقیم شخص پر چار رکعات نماز فرض ہے ۔ اس لیے کسی غیر مسافر شخص ، عدم جنگ کی وکہ سے خوفزدہ نہ ہونے والا شخص ، اہل مکہ اور مکہ مکرمہ میں باہر سے آکر مقیم ہو جا نے والے شخص کے لیے نماز قصر کرنا جائز نہیں جبکہ وہ منیٰ کی طرف جائیں اور ان کی نیت واپس مکہ مکرمہ آنے کی ہو ، اس طرح وہ مسافر نہیں ہوں گے لہٰذا ان کے لیے منیٰ میں نماز قصر کرنا جائز نہیں ۔"

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2965

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2966

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا يَحْيَى، ثَنَا ثَوْرٌ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نجي، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرْطٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "أَعْظَمُ الْأَيَّامِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمُ النَّحْرِ، ثُمَّ يَوْمُ الْقَرِّ".

حضرت عبداللہ بن قرط ؓبیان کرتےہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : "اللہ تعالیٰ کے نزدیک عظیم ترین دن قربانی کا دن اور یوم القر (قربانی کا دوسرا دن ) ہے۔"

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرْطٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ ← رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ، ← ثَوْرٍ ← يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2966

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2967

ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارمِيُّ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثَنَا أَبُو حَمْزَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَهَبَ بِهِ لِيُرِيَهُ الْمَنَاسِكَ، فَانْفَرَجَ لَهُ ثَبِيرٌ فَدَخَلَ مِنًى فَأَرَاهُ الْجِمَارَ، ثُمَّ أَرَاهُ عَرَفَاتٍ فَتَتَبَّعَ الشَّيْطَانُ للِنبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ الْجَمْرَةِ، فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى سَاخَ، ثُمَّ تَبِعَ لَهُ فِي الْجَمْرَةِ الثَّانِيَةِ، فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى سَاخَ، ثُمَّ تَبِعَ لَهُ فِي جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ، فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى سَاخَ فَذَهَبَ.

حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ جبرائیل ؑ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے پھر آپ کو مناسک حج دکھانے کے لیے لے گئے چنانچہ آپ کے لیے ثبیر پہاڑ سے راستہ کھل گیا توآپ منیٰ میں داخل ہوئے ۔ جبرائیل ؑ نے آپ کو جمرات دکھائے۔ پھر آپ کو عرفات دکھایا۔ پس شیطان جمرات کے پاس نبی اکرم ﷺ کےپیچھے پیچھے آگیا۔ تو آپ نے اس کو سات کنکریاں ماریں حتی کہ وہ زمین میں دھنس گیا۔ پھر دوسرے جمرے کے پاس آئے وہ آپ کے پیچھے آگیا تو آپ نے اسے پھر سات کنکریاں ماریں جس سے وہ زمین میں دھنس گیا ۔ پھر وہ جمرہ عقہ کے پاس آپ کے پیچھے آیا تو آپ نے اسے سات کنکریاں ماریں حتی کہ وہ زمین میں دھنس گیا، پھر فرار ہو گیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← أَبُو حَمْزَةَ ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2967

chevron_left Previous
1…247248249…258
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals