Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الصَّدَقَاتِ وَالمُجبَسَاتِ · حديث 2498

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: إِنَّ أَبِي مَاتَ، وَتَرَكَ مَالًا، وَلَمْ يُوصِ، فَهَلْ يُكَفَّرُ عَنْهُ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهُ؟ قَالَ: "نَعَمْ".

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریمﷺ سے عرض کی: میرے والد صاحب فوت ہوگئے ہیں اور کچھ مال بھی چھوڑ گئے ہیں ۔ جبکہ وصیت کر کے نہیں گئے ۔ تو کیا ان کی طرف سے میں صدقہ کر وں تو ا ن کے گناہوں کا کفارہ بنے گا ؟ آپ نے فرمایا: "ہاں!"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The collections of alms gates and dentists · Hadith 2498

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الصَّدَقَاتِ وَالمُجبَسَاتِ · حديث 2499

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ؛ ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، جَمِيعًا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ [عَائِشَةَ] قَالَتْ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أُمِّي افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا، وَإِنِّي أَظُنُّهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ أَوْصَتْ بِصَدَقَةٍ. فَهَلْ لَهَا أَجْرٌ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا؟ قَالَ: "نَعَمْ". قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ: وَلَمْ تُوصِ وَإِنِّي لَأَظُنُّهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ لَتَصَدَّقَتْ.

حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ!میری والدہ اچانک فوت ہوگئی ہیں اور مجھے یقین ہے اگر ( مرنے سے پہلے ) وہ بات چیت کرتی تو صدقہ کرنے کی وصیت ضرور کرتیں اگر میں ان کی طر ف سے صدقہ کر دوں تو کیا نھیں اجروثواب ملےگا ؟ آپ نے فرمایا: "ہاں انھیں ثواب ملے گا ۔"جناب ابوکریب کی روایت میں ہے : انھوں نے وصیت نہیں کی ، میرا یقین ہےکہ اگر وہ بات کر سکتیں تو ضرور صدقہ کرتیں ۔

رَجُلٌ: ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← جرير جميعا ← وحدثنا يوسف بن موسى ← أَبُو أُسَامَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The collections of alms gates and dentists · Hadith 2499

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الصَّدَقَاتِ وَالمُجبَسَاتِ · حديث 2500

حدثنا يعقوب بن إبراهيم الدورقي حدثنا روح بن عبادة حدثنا مالك بن أنس عن سعيد بن عمرو بن شرحبيل بن سعد بن سعد بن عبادة عن أبيه عن جده أنه قال : خرج سعد بن عبادة مع النبي صلى الله عليه وسلم في بعض مغازية فحضرت أم سعد الوفاة فقيل لها : أوصي فقالت : فيما أوصي ؟ أنما المال مال سعد فتوفيت قبل أن يقدم سعد فلما قدم سعد ذكر له ذلك فقال : يا رسول الله هل ينفعها إن أتصدق عنها ؟ قال : نعم قال سعد : حائط كذا و كذا صدقة عنها لحائط قد سماه

جناب سعید بیان کرتے ہیں کہ حضرت سعد بن عبادہ ؓ نبی کریمﷺ کے ساتھ کسی غزوہ میں شرکت کےلیے چلے گئے اس دوران میں ام سعد ؓ کی وفات کا وقت آپہنچا ۔ ان سے کہا گیا : وصیت کر جائیں ۔ وہ فرمانے لگیں : میں کیسی وصیت کروں؟ بلاشبہ سار ا مال سعد ہی کا ہے ۔ پھر وہ حضر ت سعدؓ کے واپس آنے سے پہلے ہی فوت ہوگئیں ۔ جب حضرت سعد ؓ واپس آئے تو انھیں ساری بات بتائی گئی۔ تو انھوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ!اگر میں اپنی والدہ کی طرف سے صدقہ کر وں تو کیا وہ انھیں فائدہ دے گا ؟ آپ نے فرمایا: "ہاں انھیں فائدہ دے گا ۔"حضرت سعد ؓ نے کہا : میرا فلاں فلاں باغ اس کا نام لے کر کہا وہ میری والدہ کی طرف سے صدقہ ہے ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← سعيد بن عمرو بن شرحبيل بن سعد بن سعد بن عبادة ← مالک بن أنس ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The collections of alms gates and dentists · Hadith 2500

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الصَّدَقَاتِ وَالمُجبَسَاتِ · حديث 2501

حدثنا عبد الله بن إسحق الجوهري حدثنا أبو عاصم أخبرنا ابن جريح أخبرني يعلى ـ و هو ابن حكيم ـ أن عكرمة مولى ابن عباس أخبره قال : أنبأنا ابن عباس أن سعد بن عبادة ـ أخا بني ساعدة ـ قال : يا رسول الله إن أمي توفيت و أنا غائب فهل ينفعها إن تصدقت بشيء ؟ قال : نعم قال : فإني أشهدك أن حائطي الذي بالمخراف صدقة عنها

حضرت ابن عباسؓ بیان کرتےہیں کہ بنی ساعدہ کے سردار حضرت سعد بن عبادہ ؓ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسولﷺ! میری والدہ اس وقت فوت ہوگئی ہیں جبکہ میں ان کے پاس موجود نہیں تھا اگر میں ان کی طرف سے کوئی چیز صدقہ کر وں تو کیا وہ صدقہ انھیں فائدہ دے گا آپ نے فرمایا: "ہاں "حضرت سعدؓ نے کہا: میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میرا مخراف ( کھجوروں ) والا باغ ان کی طرف سے صدقہ ہے ۔

ابن عباس أن سعد بن عبادة أخا بني ساعدة ← يعلى و هو ابن حكيم أن عكرمة مولى ابن عباس ← ابْنُ جَرِیحٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← عبد الله بن إسحق الجوهري

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The collections of alms gates and dentists · Hadith 2501

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الصَّدَقَاتِ وَالمُجبَسَاتِ · حديث 2502

حدثنا محمد بن سنان القزاز حدثنا أبو عاصم عن ابن جريح عن يعلى عن عكرمة عن ابن عباس : أن رجلا : قال لرسول الله صلى الله عليه وسلم : إن أمه توفيت أفينفعها إن تصدقت به عنها ؟ و قال أحمد بن منيع قال يا رسول الله : إن أمي توفيت و قال : فإن لي مخرفا يعني بستانا

حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہﷺ سے عرض کیا میری والدہ فوت ہوگئی ہیں ، اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا نھیں فائدہ ہوگا؟ جناب احمد بن منیع کی روایت کے الفاظ یہ ہیں : اے اللہ کے رسولﷺ! میری والدہ وفات پاگئی ہیں اور میرا ایک کھجوروں کا باغ ہے ۔

أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ← لرسول الله إن أمه توفيت أفينفعها إن تصدقت به عنها و ← ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً ← عِكْرِمَةَ، ← يعلى ← ابْنُ جَرِیحٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← محمد بن سنان القزاز

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The collections of alms gates and dentists · Hadith 2502

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الصَّدَقَاتِ وَالمُجبَسَاتِ · حديث 2503

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ كُدَيْرٍ الضَّبِّيِّ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ؟ قَالَ: "تَقُولُ الْعَدْلَ، وَتُعْطِي الْفَضْلَ" (2). قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ؟ قَالَ: "فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟ " قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: "فَاعْهَدْ إِلَى بَعِيرٍ مِنْ إِبِلِكَ وَسِقَاءٍ، فَانْظُرْ إِلَى أَهْلِ بَيْتٍ لَا يَشْرَبُونَ الْمَاءَ إِلَّا غِبًّا، فَإِنَّهُ لَا يَعْطَبُ بَعِيرُكَ، وَلَا يَنْخَرِقُ سِقَاؤُكَ حَتَّى تَجِبُ لَكَ (3) الْجَنَّةُ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَسْتُ أَقِفُ عَلَى سَمَاعِ أَبِي إِسْحَاقَ هَذَا الْخَبَرَ مِنْ كُدَيْرٍ (4). (آخِرُ كِتَابِ الزَّكَاةِ)

جناب کدیر الضبی بیان کرتےہیں کہ ایک شخص نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے رسولﷺ! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنت میں داخل کر دے ؟ آپ نے فرمایا: "عدل وانصاف کی بات کرو اور زائد مال صدقہ خیرات کر دیا کرو ۔ "اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسولﷺ! اگر میں کام نہ کر سکوں؟ آپ نے فرمایا: "کیا تمھارے پاس اونٹ ہیں؟"اس نے جواب دیا : جی ہاں آپ نے فرمایا: "ان میں سے ایک اونٹ لے کر اس پر مشکیزہ رکھو اور ایسے لوگوں کو پانی پلاؤ جنھیں ایک دن چھوڑ کر پانی ملتا ہے بے شک تمھارے اونٹ کے تھک ہار کر مرنے اور تمھارے مشکیزے کے پھٹنے سے پہلے تمہارے لیے جنت واجب ہو جائے گی۔" امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : مجھے ابواسحاق کے کدیر سے سماع کا علم نہیں ہے ۔

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ فَقَالَ ← كُدَيْرٍ الضَّبِّيِّ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The collections of alms gates and dentists · Hadith 2503

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2504

أَخْبَرَنَا الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّابُونِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ (1)، حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثَنَا حُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَاجَّيْنِ أَوْ مُعْتَمِرَيْنِ، فَقُلْنَا: لَوْ أَتَيْنَا رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَلَقِينَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ ذَاتُ يَوْمٍ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ شَدِيدُ بَيَاضِ الثِّيَابِ، شَدِيدُ سَوَادِ الشَّعَرِ، وَلَا نَعْرِفُهُ، فَدَنَا حَتَّى وَضَعَ رُكْبَتَيْهِ، وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى فَخِذَيْهِ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ! أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِسْلَامِ، مَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ: "أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ، وَتَحُجَّ الْبَيْتِ إِنِ اسْتَطَعْتَ إِلَيْهِ سَبِيلًا. قَالَ: صَدَقْتَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ. حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ نَحْوِهِ.

جناب یحییٰ بن یعمر بیان کرتے ہیں کہ میں اور حمید بن عبدالرحمان حج اور عمرے کی ادائیگی کے لیے چلے تو ہم نے کہا :اگر ہم رسول اللہ کے کسی صحابہ کی ملاقات کریں تو کتنا اچھا ہو گا۔ لہذا ہم نے حضرت عبداللہ بن عمر سےملاقات کی تو انھوں نے فرمایا: مجھے حضرت عمر نے حدیث بیان کی وہ فرماتے ہیں : اس دوران میں کہ ایک دن ہم رسول اللہ کی خدمت میں حاضر تھے جب ایک شخص اچانک نمودار ہوا اس کے کپڑے نہایت سفید اور صاف تھے جبکہ بال بالکل سیاہ اور صاف تھے جبکہ ہم اسے جانتے نہیں یعنی اجنبی تھا مگر سفر کے آثار اس پر موجود تھے وہ قریب ہو کر دوزانوں بیٹھ گیااور اپنے دونوں ہاتھ اپنی رانوں پر رکھ کر بولا: اے محمد مجھے اسلام کے بارے میں بتائیں کہ اسلام کیا ہے؟ آپ نے فرمایا:"اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور بے شک محمد اللہ کے رسول ہیں اور تم نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو، اور رمضان المبارک کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو اگر تم اس تک سفر کی استطاعت رکھتے ہو ۔ "اس نے کہا: آپ نے سچ فرمایا ہے۔ پھر مکمل حدیث بیان کی۔

یَّحْیَی بْنِ یَعْمُرَ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← کهمس بن الحسن ← حُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ ← أَبُو مُوسَی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْد الرَّحْمَن الصَّابُونِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2504

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2505

حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْعَثَ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ -وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ- قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّ الْإِسْلَامَ بُنِيَ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ (1)، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَحَجِّ الْبَيْتِ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ".

حضرت ابن عمر ؓبیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: "بے شک اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ ایک اللہ کے سوا کوئ معبود برحق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں ،نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان المبارک کے روزے رکھنا۔"

ابْنِ عُمَرَ ← أَبِي ← عَاصِمٌ -وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ-، ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← أبو الأشعث أحمد بن المقدام العجلي

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2505

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2954

ثَنَا الرَّبِيعُ، ثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ قَالَتْ: أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ أَرَادَ مِنْ صَفِيَّةَ مَا يُرِيدُ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِهِ، فَقِيلَ: إِنَّهَا حَائِضٌ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "أَحَابِسَتُنَا هِيَ؟ " فَقَالُوا: إِنَّهَا قَدْ أَفَاضَتْ، فَنَفَرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.

حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے طواف افاضہ کیا پھر حضرت صفیہ ؓ سے اپنی مردانہ خواہش پوری کرنے کا ارادہ کیا تو آپ سے عرض کی گئی : وہ تو حائضہ ہو چکی ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: " کیا وہ ہمیں روانگی سے روک دے گی ؟ "آپ کو بتایا گیا کہ وہ طواف افاضہ کر چکی ہیں چنانچہ رسول اللہ ﷺ انھیں ساتھ لے کر مدینہ منورہ) روانہ ہو گئے۔

أبو سلمة حدثتني عائشة ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ ← الرَّبِيعِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2954

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2955

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، ثَنَا أَبُو الْعَوَّامِ -وَهُوَ عِمْرَانُ بْنُ داور الْقَطَّانُ- حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ [290 - ب] بْنِ شَرِيكٍ قَالَ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ -وَهُوَ يَخْطُبُ، جَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّهُ نَسِيَ أَنْ يَرْمِيَ، قَالَ: "ارْمِ، وَلَا حَرَجَ". ثُمَّ أَتَاهُ آخَرُ، فَقَالَ: إِنَّهُ نَسِيَ أَنْ يَطُوفَ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "طُفْ، وَلَا حَرَجَ". ثُمَّ أَتَاهُ آخَرُ، فَقَالَ: نَسِيتُ أَنْ أَذْبَحَ. قَالَ: "اذْبَحْ، وَلَا حَرَجَ" فَمَا سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ يَوْمَئِذٍ إِلَّا قَالَ: لَا حَرَجَ. وَقَالَ: "لَقَدْ أَذْهَبَ اللَّهُ الْحَرَجَ إِلَّا امْرَأ اقْتَرَضَ مِنْ مُسْلِمٍ فَذَاكَ حَرَجٌ".

حضرت اسامہ بن شریک ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں حجتہ الوداع میں نبی اکرم ﷺ کے پاس حاضر تھا جبکہ آپ خطبہ ارشاد فرمارہے تھے، آپ کے پاس ایک شخص آیا تو اس نے عرض کیا: وہ کنکریاں مارنا بھول گیا ہے ۔ آپ نے فرمایا: " کوئی حرج نہیں اب مار لو۔" پھر ایک اور شخص آپ کے پاس حاضر ہوا اس نے عرض کی : وہ طواف کرنا بھول گیا ہے ۔ نبی اکرم نے فرمایا: " اب طواف کر لو ، کوئی حرج نہیں ۔" پھر ایک اور شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا : میں قربانی کرنا بھول گیا ہوں ۔ آپ نے فرمایا: "اب قربانی کرلو اور کوئی گناہ نہیں ہے ۔" آپ سے اس دن جس چیز کے بارے میں بھی پوچھا گیا، آپ نے فرمایا : کوئی گناہ نہیں اور آپ نے فرمایا: " یقیناً اللہ تعالیٰ نے (ان کاموں کی ترتیب میں غلطی کے ) گناہ کو معاف کر دیا ہے ، سوائے اس شخص کے جو مسلمان شخص کی غیبت کرتا ہے تو یہ گناہ ہے۔"

لَا حَرَجَ ← شَيْءٍ يَوْمَئِذٍ إِلَّا ← "اذْبَحْ، وَلَا حَرَجَ" فَمَا سُئِلَ ← نَسِيتُ أَنْ أَذْبَحَ. ← النَّبِيُّ "طُفْ، وَلَا حَرَجَ". ثُمَّ أَتَاهُ آخَرُ، ← إِنَّهُ نَسِيَ أَنْ يَطُوفَ. ← "ارْمِ، وَلَا حَرَجَ". ثُمَّ أَتَاهُ آخَرُ، ← إِنَّهُ نَسِيَ أَنْ يَرْمِيَ، ← شَهِدْتُ النَّبِيَّ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ -وَهُوَ يَخْطُبُ، جَاءَهُ رَجُلٌ، ← أُسَامَةَ ب] بْنِ شَرِيكٍ ← زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ← أَبُو الْعَوَّامِ -وَهُوَ عِمْرَانُ بْنُ داور الْقَطَّانُ- ← عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2955

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2956

ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ثَنَا أَبُو خَالِدٍ -يَعْنِي سُلَيْمَانَ بْنَ حَسَّانَ- عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ رَجَعَ فَمَكَثَ بِمِنًى لَيَالِيَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ يَرْمِي الْجَمْرَةَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ، كُلَّ جَمْرَةٍ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ، وَيَقِفُ عِنْدَ الْأُولَى وَعِنْدَ الثَّانِيَةِ فَيُطِيلُ الْقِيَامَ وَيَتَضَرَّعُ، ثُمَّ يَرْمِي الثَّالِثَةَ وَلَا يَقِفُ عِنْدَهَا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذِهِ اللَّفْظَةُ: حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ، ظَاهِرُهَا خِلَافُ خَبَرِ ابْنِ عُمَرَ الَّذِي ذَكَرْنَاهُ قَبْلُ، أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أفَاضَ يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ رَجَعَ فَصَلَّى الظُّهْرَ بِمِنًى، وَأَحْسَبُ أَنَّ مَعْنَى هَذِهِ اللَّفْظَةِ لَا تُضَادُّ خَبَرَ ابْنِ عُمَرَ، لَعَلَّ عَائِشَةَ أَرَادَتْ أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ بَعْدَ رُجُوعِهِ إِلَى مِنًى، فَإِذَا حُمِلَ خَبَرُ عَائِشَةَ عَلَى هَذَا الْمَعْنَى لَمْ يَكُنْ مُخَالِفًا لِخَبَرِ ابْنِ عُمَرَ، وَخَبَرُ ابْنِ عُمَرَ أَثْبَتُ إِسْنَادًا مِنْ هَذَا الْخَبَرِ. وَخَبَرُ عَائِشَةَ مَا تَأَوَّلْتُ مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي نَقُولُ: إِنَّ الْكَلَامَ مُقَدَّمٌ وَمُؤَخَّرٌ، كَقَوْلِهِ: (الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَى عَبْدِهِ الْكِتَابَ وَلَمْ يَجْعَلْ لَهُ عِوَجَا) [الكهف: 1] وَمَثَلُ هَذَا فِي الْقُرْآنِ كَثِيرٌ، قَدْ بَيَّنْتُ بَعْضَهُ فِي كِتَابِ "مَعَانِي الْقُرْآنِ"، وَسَأُبَيِّنُ بَاقِيَهُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ وَهَذَا كَقَوْلِهِ: (وَلَقَدْ خَلَقْنَاكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنَاكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ) [الأعراف: 11] فَمَعْنَى قَوْلِ عَائِشَةَ عَلَى هَذَا التَّأْوِيلِ: أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ ثُمَّ رَجَعَ حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ فَقَدَّمَ: حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ قَبْلَ قَوْلِهِ ثُمَّ رَجَعَ، كَمَا قَدَّمَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: "خَلَقْنَاكُمْ" قَبْلَ قَوْلِهِ: "ثُمَّ صَوَّرْنَاكُمْ"، وَالْمَعْنَى صَوَّرْنَاكُمْ ثُمَّ خَلَقْنَاكُمْ.

حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قربانی والے دن دوسرے پہر میں طواف افاضہ کیا جب آپ نے ظہر کی نماز پڑھی ۔ پھر آپ واپس منیٰ آگئے اور ایام تشریق کی راتیں منیٰ میں گزاریں ۔ آپ جمرات پر رمی کرتے جبکہ سورج ڈھل جاتا ہر جمرے پر سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر پڑھتے ۔ آپ پہلے اور دوسرے جمرے پاس بڑا طویل قیام کرتے اور گڑ گڑا کر دعائیں مانگتے ،پھر تیسرے جمرے کو کنکریاں مارنے کے بعد اس کے پاس نہ ٹھہرتے ۔ اما ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : یہ الفاظ : " جب آپ نے ٖظہر کی نماز پڑھی "ان کا ظاہری مفہوم حضرت ابن عمرؓ کی حدیث کے خلاف ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے قربانی والے دن طواف افاضہ کیا پھر آپ نے منیٰ واپس آکر ظہر کی نماز پڑھی ۔ میرے خیال میں یہ الفاظ حضرت ابن عمر کی روایت کے متضاد نہیں ہیں شاید کہ حضرت عائشہ ؓکا مطلب یہ ہو کہ رسول اللہ ﷺ نے قربانی کے دن دوسرے پہر طواف کیا جب ظہر کی نماز پڑھی منیٰ لوٹنے کے بعد۔جب حضرت عائشہ ؓ کی روایت کا یہ معنی کیا جائے تو پھر یہ حضرت ابن عمر ؓ کی روایت کے مخالف نہیں رہتی۔ لیکن حضرت ابن عمر ؓ کی روایت سند کے اعتبار سے زیادہ مضبوط ہے۔حضرت عائشہ ؓ کی روایت کے بارے میں میرا خیال یہ ہے کہ اس میں تقدیم وتاخیر ہوتی ہے ۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے :(أَلْحَمْدُ لِلہِ الَّذِیْ أَنْزَلَ عَیٰ( عَدِنمہِ الْکِتٰبَ وَلَمْ یَجْعَلْ لَّہُ عِوَجًا)(الکھف:۱)"سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے اپنے بندے پر کتاب نازل کی اور اس میں قسم کی کجی نہیں رکھی۔"اس قسم کی بے شمار مثالیں موجود ہیں ، میں نے کچھ مثالیں کتاب معافی القرآن میں بیان کی ہیں اور عنقریب اس طرح مثالیں بھی بیان کر وں گا۔ ان شاءاللہ۔ اور یہ اس فرمان جیسا ہے: "اور ہم نے ہی تمھیں پیدا کیا پھر تمھاری شکلیں بنائیں پھر فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو۔" اس تاویل کے مطابق حضرت عائشہ ؓ کی روایت کا معنی یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قربانی دن آخری پہر طواف افاضۃ کیا آپ واپس آئے جب ظہر کی نماز پڑھی اس طرح یہ الفاظ پہلے آگئے : جب ظہر کی نماز پڑھی اور یہ مؤخر ہو گئے ، پھر واپس آئے ۔ جب کہ اللہ تعالی نے یہ الفاظ مقدم کیے ہیں ہم نے تمہیں پیدا کیا اور یہ مؤخر کیے ہیں :پھر ہم نے تمھاری شکلیں بنائیں حالانکہ اصل ترتیب یہ ہے: ہم نے تمھاری شکلیں بنائیں پھر ہم نے تمھیں پیدا کیا۔

عَائِشَةَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو خَالِدٍ -يَعْنِي سُلَيْمَانَ بْنَ حَسَّانَ- ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2956

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2957

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَذِنَ لِلْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، اسْتَأْذَنَ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَبِيتَ بِمَكَّةَ لَيَالِيَ مِنًى مِنْ أَجْلِ سِقَايَتِهِ، فَأَذِنَ لَهُ.

حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے حضرت عباس بن عبدالمطلب کو اجازت دے تھی جب انھوں نے نبی ﷺ سے منیٰ کی راتیں مکہ مکرمہ میں گزارنے کی اجازت مانگی تھی ، کیونکہ وہ حاجیوں کو زمزم کا پانی پلاتے تھے ، تو آپ نے انھیں اجازت دے دی۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2957

chevron_left Previous
1…246247248…258
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals