Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2935

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَبَرُ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ قَدْ أَمْلَيْتُهُ فِي أَوَّلِ الْكِتَابِ: بَابِ الطِّيبِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ.

امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : اس مسئلے کی دلیل منصور بن زاذان کی عبدالرحمٰن بن قاسم سے مروی روایت میں کتاب کے شروع میں باب الطیب عند الاحرام کے تحت بیان کر چکا ہوں۔

أَبُو بَكْرٍ: خَبَرُ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2935

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَدَقَۃَ التَّطَوُّعِ · حديث 2481

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ؛ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ذَكَرَ: أَنَّ رَجُلًا جَاءَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ -فِي هَيْئَةٍ بَذَّةٍ- فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - النَّاسَ أَنْ يَتَصَدَّقُوا وَأَلْقَوْا ثِيَابًا، فَأَمَرَ لَهُ بِثَوْبَيْنِ وَأَمَرَهُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ، ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ. خَرَّجْتُهُ فِي "كِتَابِ الْجُمُعَةِ".

حضرت ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ جمعے والے دن ایک شخص بڑی خستہ حالت میں آیا جبکہ رسول اللہﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ۔ تو رسول اللہﷺنے لوگوں کو اس پر صدقہ کرنے کا حکم دیا تو لوگوں نے اپنے کچھ کپڑے صدقے کےلیے رکھ دیے آپ نے اسے دو کپڑے دینے کا حکم دیا اور آ پ نے اسے حکم دیا تو اس نے دو رکعت اد اکیں جبکہ رسول اللہﷺخطبہ ارشاد فرما رہے تھے ۔ پھر بقیہ حدیث بیان کی۔ میں نے یہ حدیث کتاب الجمعہ میں بیان کر دی ہے۔

ابْنِ عَجْلَانَ، ← سُفْيَانَ، ← سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The gates of the doors gave charity for volunteering · Hadith 2481

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَدَقَۃَ التَّطَوُّعِ · حديث 2482

حدثنا عتبة بن عبد الله أخبرنا عبد الله بن المبارك أخبرنا حيوة بن شريح حدثني الوليد بن أبي الوليد أبو عثمان أن عقبة بن مسلم حدثه : أن شفيا حدثه أنه دخل المدينة فإذا هو برجل قد اجتمع عليه الناس فقال : من هذا ؟ فقالوا : أبو هريرة فدنوت منه حتى قعدت بين يديه و هو يحدث الناس فلما سكت و خلا قلت : أنشدك بحق و حق لما حدثتني حديثا سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم عقلته و علمته فقال أبو هريرة : افعل لأحدثنك حديثا حدثنيه رسول الله صلى الله عليه وسلم و علمته ثم نشغ أبو هريرة نشغة فمكث قليلا ثم أفاق فقال : لأحدثنك حديثا حدثنيه رسول الله صلى الله عليه وسلم في هذا البيت ما معنا أحد غيري و غيره ثم نشغ أبو هريرة نشغة أخرى فمكث بذلك ثم أفاق و مسح وجهه قال : افعل لأحدثنك بحديث حدثنيه رسول الله صلى الله عليه وسلم و أنا و هو في هذا البيت ما معنا أحد غيري و غيره ثم نشغ أبو هريرة نشغة شديدة ثم مال خارا على وجهه أسندته طويلا ثم أفاق فقال : حدثني رسول الله صلى الله عليه وسلم إن الله تبارك و تعالى إذا كان يوم القيامة نزل إلى العباد ليقضي بينهم و كل أمة جاثية فأول من يدعوا به رجل جمع القرآن و رجل يقتل في سبيل الله و رجل كثير مال فيقول للقارىء : ألم أعلمك ما أنزلت على رسولي ؟ قال : بلى يا رب قال : فماذا عملت فيما علمت ؟ قال : كنت أقوم به أثناء الليل و آناء النهار فيقول الله له : كذبت و تقول الملائكة : كذبت و يقول الله : بل أردت أن يقال : فلان قارىء فقد قيل و يؤتى بصاحب المال فيقول الله : ألم أوسع عليك حتى لم أدعك تحتاج إلى أحد ؟ قال : بلى قال : فماذا عملت فيما آتيتك ؟ قال : كنت أصل الرحم و أتصدق فيقول الله : كذبت و تقول الملائكة : كذبت فيقول الله : بل أردت أن يقال فلان جواد فقد قيل ذاك و يؤتى بالذي قتل في سبيل الله فيقال له فيم قتلت ؟ فيقول : أمرت بالجهاد في سبيلك فقاتلت حتى قتلت فيقول الله : كذبت و تقول الملائكة : كذبت و يقول الله عز و جل له : بل أردت أن يقال فلان جريء فقد قيل ذلك ثم ضرب رسول الله صلى الله عليه وسلم على ركبتي فقال : يا أبا هريرة أولئك الثلاثة أول خلق الله تسعر بهم النار يوم القيامة قال الوليد فأخبرني عقبة أن شفيا هو الذي دخل على معاوية فأخبره بهذا قال أبو عثمان : و حدثني العلاء بن أبي حكيم أنه كان سيافا لمعاوية و أن رجلا دخل على معاوية فحدثه بهذا قال : صدق الله و رسوله { من كان يريد الحياة الدنيا و زينتها } إلى قوله { و باطل ما كانوا يعملون }

"جناب شفی اصحبی بیان کرتے ہیں کہ وہ مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ ایک شخص کے پاس کافی لوگ جمع ہیں ۔ تو انھوں نےپوچھا: یہ کون صاحب ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ حضرت ابوہریرہؓ ہیں ۔ لہٰذا میں ان کے قریب جاکر ان کے سامنے بیٹھ گیا ، جبکہ وہ لوگوں کو حدیث بیان کر رہے تھے ۔ پھر جب وہ خاموش ہوئے اور کیلے رہ گئے تو میں نے عرض کی : میں آپ کو اللہ تعالیٰ کی قسم اور اس کے حق کا واسطہ دے کر گزارش کرتا ہوں کہ آپ مجھے وہ حدیث بیان کریں جو آپ نے رسول اللہﷺ سےسن کر یاد رکھی ہو اور آپ اسے بخوبی جانتے ہوں۔ تو حضرت ابوہریرہؓ نے فرمایا: میں تمھیں ایسی ہی حدیث سناؤں گا جو میں رسول اللہﷺ سے سنی اور یاد رکھی ہے ۔ پھر ابوہریرہؓ سسکیاں لے کر رونے لگ گئے اور بےہوش ہوگئے پھر تھوڑی دیر کے بعد ہوش آیا تو فرمانے لگے : میں تمھیں ضرور ایسی حدیث سناؤں گا جو مجھے رسول اللہﷺ نے بیان کی تھی جبکہ میں اور آپ اس گھر میں اکیلے موجو د تھے ۔ پھر دوسری بار حضرت ابوہریرہؓ نے سسکیاں لے کر رونا شروع کر دیا اور بے ہوش ہوگئے ۔ پھر ہوش میں آئے اور اپنے چہرے کو صاف کیا ۔ پھر فرمایا: میں تمھیں حدیث سناتا ہوں ، میں ضرور تمھیں ایسی حدیث سناؤں گا جو رسول اللہﷺ نے مجھے اس وقت سنائی تھی جب میں اور آپ اس گھر میں اکیلے تھے ہمارے علاوہ کوئی اور موجود نہ تھا پھر حضرت ابوہریر ہ شدید سسکیاں لے کر رونے لگ گئے پھر بے ہوش ہو کر منہ کے بل گر گئے اور میں دیر تک آپ کو سہارا دے کر بیٹھا رہا ۔ پھر جب ہوش میں آئے تو فرمایا رسول اللہﷺنے مجھے بیان کیا:"جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ تعالیٰ مخلوق کے درمیان فیصلے کےلیے تشریف لائیں گے جبکہ ہر امت گھٹنوں کے بل بیٹھی ہوگی ۔ سب سے پہلے قاری قرآن کو بلایا جائے گا اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے مجاہد کو جو شہید ہوا تھا اور دولت مند شخص کو بلایا جائے گا اللہ قاری سے فرمائیں گے : کیا میں نے تمھیں وہ کتاب نہیں سکھائی تھی جو میں اپنے رسول پر نازل کی تھی؟ وہ کہے گا : کیوں نہیں اے میرے رب! تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : تو تم نے علم حاصل کرنے کے بعد کیا عمل کیا؟ وہ جواب دے گا: میں دن رات نماز میں اس کی تلاوت کرتا تھا تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : تم نے جھوٹ بولا ہے ۔ اور فرشتے بھی کہیں گے : تم نے جھوٹ کہا ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : بلکہ تم تو یہ چاہتے تھے کہ کہا جائے : فلاں بہت بڑا قاری ہے ۔ تو یہ بات تو ( دنیا میں ) کہہ دی گئی تھی ۔ اور مالدار شخص کو لایا جائے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : کیا میں نے تمھیں اتنا مال ودولت عطا نہیں کیا تھا کہ تم کسی شخص کے محتاج نہیں رہے تھے ؟ وہ جواب دے گا : ضرور ایسے ہوا تھا ۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : تو تم نے میرے عطا کیے ہوئے مال میں کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا : میں اس مال سے صلہ رحمی کرتا تھا ، او رصدقہ وخیرات کرتا تھا ۔ تو اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے کہیں گے : تم نے جھوٹ بولا ہے اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : بلکہ تمھارا ارادہ تو یہ تھا کہ لوگ کہیں : فلاں بڑا سخی ہے تو وہ کہہ دیا گیا تھا ۔ پھر اللہ کی راہ میں قتل ہونے والے مجاہد کو لایا جائے گا تو اس سے پوچھا جائے گا: تم نے کس مقصد کےلیے جان دی؟ تو وہ کہے گا : اللہ تم نے اپنے راستے میں جہاد کرنے کا حکم دیا تھا تو میں نے جنگ لڑی حتی کہ میں قتل ہوگیا تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : تم نے جھوٹ بولا ہے ۔ اور فرشتے بھی کہیں گے : تم جھوٹے ہو اور اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : بلکہ تمھارا ارادہ تو یہ تھا کہ کہا جائے : فلاں شخص بڑا بہادر ہے تو دنیا میں یہ کہہ دیا گیا تھا پھر رسول اللہﷺنے میرے گھٹنے پر ہاتھ مار کا فرمایا: اے ابوہریرہ! یہ تین افراد وہ پہلی اللہ کی مخلوق ہوں گے جن سے قیامت کے دن جہنم کی آگ بھڑکائی جاگے گی۔"جناب عقبہ کہتے ہیں : جناب شَفی نے ہی یہ حدیث حضرت معاویہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہو کر بیان کی تھی ۔ جناب العلاء بن ابی حکیم بیان کرتے ہیں کہ شفی حضرت معاویہ کے جلاد تھے اور ایک شخص نے حضرت معاویہ ؓ کے پاس حاضر ہو کر یہ حدیث بیان کی تو انھوں نے فرمایا: اللہ اور اس رسول نے سچ فرمایا ہے ۔ پھر یہ آیت پڑھی : جو شخص دنیا کہ زندگی اور اس کی زینت چاہتا ہے تو ہم ان کے اعمال کا بدلہ اسی دنیا میں دےدیتے ہیں ۔ اور اس میں ان کی حق تلفی نہیں کی جاتی ۔ یہی لوگ ہیں جب کےلیے آخرت میں آگ کے سوا کچھ نہیں ، اور وہ برباد ہوگیا جو کچھ انھوں نے دنیا میں کمایا تھا اور جو وہ عمل کرتے رہے ، ضائع ہوگئے۔( سور ہ ھود:۱۶،۱۵)

الوليد بن أبي الوليد أبو عثمان ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← عتبة بن عبد الله

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The gates of the doors gave charity for volunteering · Hadith 2482

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الصَّدَقَاتِ وَالمُجبَسَاتِ · حديث 2483

حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ عُمَرَ أَصَابَ أَرْضًا بِخَيْبَرٍ فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِيَسْتَأْمِرَ فِيهَا، قَالَ: إِنِّي أَصَبْتُ أَرْضًا بِخَيْبَرٍ لَمْ أُصِبْ مَالًا قَطُّ أَنْفَسَ عِنْدِي مِنْهُ، فَمَا تَأْمُرُ بِهِ؟ قَالَ: "إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ [251 - ب] بِهَا" قَالَ: فَتَصَدَّقَ بِهَا عُمَرُ: أَنْ لَا تُبَاعَ، أُصُولُهَا لَا تُبَاعُ، وَلَا تُوهَبُ، وَلَا تُوَرَّثُ، فَتَصَدَّقَ بِهَا عَلَى الْفُقَرَاءِ، وَالْقُرْبَى، وَالرِّقَابِ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَابْنِ السَّبِيلِ، وَالضَّعِيفِ. لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا بِالْمَعْرُوفِ، أَوْ يُطْعِمُ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهَا. قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: فَحَدَّثْتُ بِهِ مُحَمَّدًا، فَقَالَ: غَيْرُ مُتَأَمِّلٍ مَالًا. قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: وَحَدَّثَنِي مَنْ قَرَأَ الْكِتَابَ: غَيْرُ مُتَأَثِّلٍ مَالًا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَرَوَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُمْ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ: أَوَّلُ صَدَقَةٍ تُصُدِّقَ بِهَا فِي الْإِسْلَامِ صَدَقَةُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَأَنَّ عُمَرَ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: إِنَّ لِي مَالًا وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "احْبِسْ أَصْلَهُ وَسَبِّلْ تَمْرَهُ" قَالَ: فَكَتَبَ. حَدَّثَنَا يُونُسُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ.

حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ کو خبیر میں کچھ میں کچھ زمین وباغات ملے تو وہ نبی کریمﷺ کی خدمت میں اس کے بارے میں مشورہ کرنے کےلیے حاضر ہوئے کہتے ہیں : میں نے خیبر میں جو زمین حاصل کی ہے اس جیسا قیمتی مال کبھی مجھے نہیں ملا تو آپ اس کی متعلق مجھےکیا حکم دیتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا: "اگر تم چاہو تو اس زمین کی اصل ملکیت اپنے پاس رکھ کر اس کے فوائد وثمرات کا صدقہ کر دو ۔"ابن عمر فرماتے ہیں : تو حضرت عمر ؓ نے اس زمین کو اس شرط پر صدقہ کر دیا کہ اس کی اصل فروخت نہیں کی جائے گی نہ ہبہ کی جائے گی، نہ میراث بنائی جائے گی انہوں نے اس کے فوائد وثمرات کو فقراء رشتہ داروں ، گردنیں آزاد کرانے ، مجاہدین فی سبیل اللہ ، مسافروں اور کمزور لوگوں کےلیے صدقہ کر دیا ، جو شخص اس کی نگرانی کرے گا وہ اس میں سے معروف طریقے سے کھا سکتا ہے اور اپنے دوست واحباب کو بھی کھلا سکتا ہے مگر دولت اکٹھی کرنے والا نہ ہو ( اپنی ملکیت نہ بنائے ) جناب ابن عون کہتے ہیں:میں نے یہ روایت محمد کو بیان کی تو انھوں نے کہا: غیر متاء مل مالا وہ مال کا خواہش مند اور امید وار نہ ہو۔ جناب ابن عون کہتےہیں: مجھے کتاب پڑھنے والے شخص نے "غیر متأثل مالاً"وہ"مال جوڑنے والا نہ ہو "کے الفاظ بیان کیے ہیں ۔ امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں: عبداللہ بن عمر العمری نے امام نافع کے واسطے سے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کی ہے وہ فرماتے ہیں : اسلام میں سب سے پہلا وقف ہونے والا صدقہ حضرت عمر بن خطاب ؓ کا صدقہ ہے ۔ حضرت عمر ؓ نے رسول اللہﷺ سے عرض کیا: بے شک میرے پاس کچھ مال ہے اور میں اسے صدقہ کرنا چاہتا ہوں ۔ تو رسول اللہﷺنے فرمایا: اس کا اصل اپنی ملکیت میں کر لو اور اس کا پھل و ثمرات صدقہ کر دو۔"لہٰذا حضرت عمر ؓ نے ( یہ وقف نامہ) لکھ دیا۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← ابْنِ عَوْنٍ ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← أَبُو مُوسَی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The collections of alms gates and dentists · Hadith 2483

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الصَّدَقَاتِ وَالمُجبَسَاتِ · حديث 2484

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ -يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ- حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ؛ وَحَدَّثَنَا الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، وَقَالَ الزَّعْفَرَانِيُّ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا الزَّعْفَرَانِيُّ أَيْضًا، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ. فَذَكَرُوا الْحَدِيثَ بِتَمَامِهِ. لَمْ يَذْكُرِ الصَّنْعَانِيُّ: ابْنَ السَّبِيلِ. وَقَالَ: غَيْرُ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ. وَقَالَ: فَقَالَ مُحَمَّدٌ: غَيْرُ مُتَأَثِّلٍ. لَمْ يَذْكُرْ قِرَاءَةَ ابْنِ عَوْنٍ الْكِتَابَ.

امام صاحب نے گزشتہ باب کی روایت متعدد راویوں سے بیان کی ہے ۔ جناب الصنعانی نے اس میں مسافر کا لفظ بیان نہیں کیا اور " غیر متمول فیہ "( وہ مال جمع نہ کرے ) کے الفاظ روایت کیے ہیں جناب محمد بن عبدالاعلی نے غیر متاثل( مال اکٹھا نہ کرے ، اسے اپنی ملکیت کی طرح نہ بنائے ) کے الفاظ روایت کیے ہیں اور ابن عون کے کتاب پڑھنے کا ذکر نہیں کیا۔

غَيْرُ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ. ← ابْنُ عَوْنٍ. فَذَكَرُوا الْحَدِيثَ بِتَمَامِهِ. لَمْ يَذْكُرِ الصَّنْعَانِيُّ: ابْنَ السَّبِيلِ. ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← الزَّعْفَرَانِيُّ أَيْضًا، ← ابْنِ عَوْنٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، ← الزَّعْفَرَانِيُّ، ← ابْنِ عَوْنٍ ← مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، ← الزَّعْفَرَانِيُّ، ← ابْنِ عَوْنٍ ← بِشْرٌ -يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ- ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The collections of alms gates and dentists · Hadith 2484

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الصَّدَقَاتِ وَالمُجبَسَاتِ · حديث 2485

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: أَصَابَ عُمَرُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ، فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِتَمَامِهِ، وَقَالَ: فَتَصَدَّقَ بِهَا عُمَرُ أَنْ لَا يُبَاعَ أَصْلُهَا، لَا يبَاعُ، وَلَا يوهَبُ، وَلَا يُوَرَّثُ، لِلْفُقَرَاءِ وَالْأَقْوِيَاءِ، وَالرِّقَابِ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَالضَّيْفِ، وَابْنِ السَّبِيلِ، لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا بِالْمَعْرُوفِ أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ.

حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ کو خیبر میں ایک زمین ملی تو وہ نبی کریمﷺکی خدمت میں مشورے کےلیے حاضر ہوئے ، پھر مکمل حدیث بیان کی اور ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ نے اس زمین کو اس شرط پر صدقہ کر دیا کہ اس کی اصل فروخت نہیں کی جائے گی ، نہ بیچی جائے گی نہ ہبہ ہوگی اور نہ میراث بنائی جائے گی۔ یہ فقراء ، رشتہ داروں ، مجاہدین فی سبیل اللہ ،مہمانوں اور مسافروں کےلیے وقف کر دی ہے ، اس کے نگران پر کوئی گناہ نہیں کہ اس میں سے معروف طریقے سے کھا لے یا اپنے دوست کو کھلا دے مگر دولت جمع کرنے والا نہ ہو۔ ( اپنی ملکیت نہ بنائے )۔

الْحَدِيثَ بِتَمَامِهِ، ← أَصَابَ عُمَرُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ، فَأَتَى النَّبِيَّ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← ابْنِ عَوْنٍ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The collections of alms gates and dentists · Hadith 2485

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الصَّدَقَاتِ وَالمُجبَسَاتِ · حديث 2486

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْكِنَانِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ عُمَرَ اسْتَأْمَرَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي صَدَقَتِهِ، فَقَالَ: "احْبِسْ أَصْلَهَا وَسَبِّلْ [252 - أ] ثَمَرَتَهَا". فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَحَبَسَهَا عُمَرُ عَلَى السَّائِلِ، وَالْمَحْرُومِ، وَابْنِ السَّبِيلِ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَفِي الرِّقَابِ، وَالْمَسَاكِينِ، وَجَعَلَ فيْهَا: يَأْكُلُ، وَيُؤَكِّلُ، غَيْرَ مُتأثِلِ مَالًا.

حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نےنبی کریمﷺسے اپنے صدقے کے بارے میں مشورہ کیا تو آپ نے فرمایا: "اس کا اصل ( اپنی ملکیت میں رکھ کر ) وقف کر دو اور اس کا پھل صدقہ کر دو۔"تو حضرت عبداللہ فرماتے ہیں : حضرت عمر ؓ نے اس زمین کو مانگنے والے محتاج ، محروم ، مسافر ، مجاہدین ، گردنیں آزاد کرانے اور مساکین کے لیے وقف کر دیا۔ اور ( نگران کی حیثیت سے ) اس میں سے کھاتے رہے اور دوست واحباب کو کھلاتے رہے مگر اسے اپنی ذاتی ملکیت نہیں بنایا ۔

"احْبِسْ أَصْلَهَا وَسَبِّلْ أ] ثَمَرَتَهَا". ← ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ عُمَرَ اسْتَأْمَرَ النَّبِيَّ فِي صَدَقَتِهِ، ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِیُّ ← أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْكِنَانِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The collections of alms gates and dentists · Hadith 2486

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الصَّدَقَاتِ وَالمُجبَسَاتِ · حديث 2487

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ: سَمِعْتُ حُصَيْنًا يَذْكُرُ عَنْ عُمَرَ بْنِ جَاوَانَ، عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا فِي قَتْلِ عُثْمَانَ، وَقَالَ: فَإِذَا عَلِيٌّ، وَالزُّبَيْرُ، وَطَلْحَةُ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، وَأَنَا كَذَلِكَ، إِذْ جَاءَ عُثْمَانُ، فَقَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "مَنْ يَبْتَاعُ بِئْرَ رُومَةَ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ"، فَابْتَعْتُهَا بِكَذَا وَكَذَا، وَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: قَدِ ابْتَعْتُهَا بِكَذَا. قَالَ: "اجْعَلْهَا سِقَايَةً لِلْمُسْلِمِينَ وَأَجرْهَا لَكَ". قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ.

حضرت احنف بن قیس ؒ نے ؓحضرت عثمان ؓ کی شہادت کے بارے میں ایک طویل حدیؓ بیان کی ۔ اور فرمایا: تو اچانک حضر علی ، زبیر ، طلحہ اور سعد بن ابی وقاص ؓ آگئے جبکہ میں اسی حالت میں کھڑا تھا ۔ پھر حضرت عثمان ؓ تشریف لائے تو انھوں نے فرمایا: میں تمھیں اس اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس اللہ کے سوا کوئی معبو د حقیقی معبود نہیں ہے ، کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہﷺ نےفرمایا تھا : "کون ہے جو رومہ کا کنواں خریدے ( اور مسلمانوں کےلیے وقف کر دے) اللہ اس کی بخشش فرمائے ۔"تو میں نے وہ کنواں اتنا اتنا مال دے کر خرید لیا ۔ پھر میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے عرض کی: میں نے وہ کنواں اتنی قیمت دے کر خرید لیا ہے آپ نے فرمایا: " تم اس کنویں کو مسلمانوں کےلیے سبیل بنا دو ( لوگ اس سے پانی پئیں اور پلائیں) اور اس کا اجر تمھیں ملےگا ۔ سب سامعین نے کہا: ہاں یقیناً ایسے ہی ہے ۔

أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ أَتَعْلَمُونَ ← كَذَلِكَ، إِذْ جَاءَ عُثْمَانُ، ← فَإِذَا عَلِيٌّ، وَالزُّبَيْرُ، وَطَلْحَةُ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، ← حَدِيثًا طَوِيلًا فِي قَتْلِ عُثْمَانَ، ← الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، ← عُمَرَ بْنِ جَاوَانٍ ← حُصَيْنًا يَذْكُرُ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The collections of alms gates and dentists · Hadith 2487

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الصَّدَقَاتِ وَالمُجبَسَاتِ · حديث 2488

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُزَيْزٍ الْأَيْلِيُّ، أَنَّ سَلَامَةَ حَدَّثَهُمْ، عَنْ عُقَيْلٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هُرْمُزَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تُقَسِّمُ وَرَثَتِي شَيْئًا مِمَّا تَرَكْتُ، مَا تَرَكْنَاهُ (1) صَدَقَةٌ". وَكَانَتْ هَذِهِ الصَّدَقَةُ بِيَدِ عَلِيٍّ، غَلَبَ عَلَيْهَا عَبَّاسًا، وَطَالَتْ فِيهَا خُصُومَتُهَا، فَأَبَى عُمَرُ أَنْ يَقْسِمَهَا بَيْنَهُمَا، حَتَّى أَعْرَضَ عَنْهَا عَبَّاسٌ، وغَلَبَهُ عَلَيْهَا عَلِيٌّ، ثُمَّ كَانَتْ عَلَى يَدِ حَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، ثُمَّ بِيَدِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، ثُمَّ بِيَدِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، وَحَسَنِ بْنِ حَسَنِ فَكَانَا يَتَدَاوِلَانِهَا، ثُمَّ بِيَدِ زَيْدِ بْنِ حَسَنٍ، وَهِيَ صَدَقَةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَقًّا.

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتےہیں کہ میں نے رسول اللہﷺکو فرماتے ہوئے سنا : " اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جا ن ہے ، میں جو چیز چھوڑ جاؤں میرے وارث اسے تقسیم نہیں کریں گے ہم ( انبیاء کرام ) جو مال چھوڑ جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے ۔ یہ صدقہ پہلے حضرت علی ؓ کے قبضے میں تھا ۔ پھر حضرت عباسؓ نے اس پر غلبہ پا لیا ۔ اس بارے میں ان دونوں حضرات کا طویل جھگڑا چلا ۔ ( پھر دونوں نے اسے تقسیم کر نا چاہا) تو حضرت عمر ؓ نے اس مال کو دونوں میں تقسیم کر نے سے انکار کر دیا ۔ حتی کہ حضرت عباسؓ نے اس مال سے اعراض کر لیا اور حضرت علی ؓ نے اس پر غلبہ پالیا ۔ پھر یہ حضرت علی کے بیٹے حضرت حسن کے تصرف میں رہا ۔ پھر حضرت حسین بن علی ؓ کی نگرانی میں چلا گیا ۔ پھر ان کے بعد ان کے بیٹوں علی بن حسین اور حسن بن حسین کی نگرانی میں چلا گیا ۔ جو باری باری اس کا انتظام کرتے رہے ۔ پھر حضرت زید بن حسن کی نگرانی میں چلا گیا ۔ جبکہ وہ رسول الہﷺکا حقیقی صدقہ ہے ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← عبد الرحمن بن هرمز أنه ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَقِیلٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُزَيْزٍ الْأَيْلِيُّ، أَنَّ سَلَامَةَ

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The collections of alms gates and dentists · Hadith 2488

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2936

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ثَنَا سُفْيَانُ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ يُخْبِرُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، قَالَتْ: فَحِضْتُ فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ: "مَا لَكِ، أَنَفَسْتِ؟ " قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: "إِنَّ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، فَاقْضِي مَا يَقْضِي الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ".

حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (سفر حج پر ) نکلے۔ تو مجھے حیض آگیا رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے تو میں رورہی تھی ۔ آپ نے فرمایا: "تمھیں کیا ہوا ہے کیا تمھیں حیض آگیا ہے؟" میں نے جواب دیا: جی ہاں ۔ آپ نے فرمایا: " یہ چیز تو اللہ تعالیٰ نے آدم ؑ کی تمام بیٹیوں پر لکھ دی ہے (اس لیے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ) تم بیت اللہ شریف کا طواف چھوڑ کر باقی تمام اعمال اسی طرح کرو جیسے حاجی کرتے ہیں۔

"مَا لَكِ، أَنَفَسْتِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ. ← أَبْكِي، ← فَحِضْتُ فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ ← خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ يُخْبِرُ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2936

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2937

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِذَا رَمَيْتُمْ وَحَلَقْتُمْ فَقَدْ حَلَّ لَكُمُ الطِّيبُ وَالثِّيَابُ إِلَّا النِّكَاحَ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَوْلُهُ: "إِلَّا النِّكَاحَ" يُرِيدُ النِّكَاحَ الَّذِي هُوَ الْوَطْءُ، وَقَدْ كُنْتُ أَعْلَمْتُ فِي كِتَابِ "مَعَانِي الْقُرْآنِ" أَنَّ اسْمَ النِّكَاحِ عِنْدَ الْعَرَبِ يَقَعُ عَلَى الْعَقْدِ وَعَلَى الْوَطْءِ جَمِيعًا.

حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: " جب تم رمی کر لو اور سر منڈوالو تو تمھارے لیے خوشبو لگانا ، کپڑے پہننا حلال ہے سوائے عورتوں سے جماع کرنے کے۔" امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں: حدیث کے الفاظ :"سوائے نکاح کے " اس سےآپ کی مراد بیوی سے جماع کرناہے، میں نے کتاب معانی القرآن میں بیان کیا ہے کہ عرب کے ہاں نکاح کا لفٖظ عقد نکاح اور بیوی سے ہم بستری دونوں معنوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2937

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2938

ثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمًا يَقُولُ: قَالَتْ عَائِشَةُ: أَنَا طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسُنَّةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَحَقُّ أَنْ تُتَّبَعَ.

حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو خوشبو لگائی تھی ۔ اور رسول اللہ ﷺ کی سنت ہی اتباع کازیادہ حق رکھتی ہے

طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ وَسُنَّةُ رَسُولِ اللَّهِ أَحَقُّ أَنْ تُتَّبَعَ. ← عَائِشَةَ ← سَالِمًا ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2938

chevron_left Previous
1…243244245…258
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden22. The groups of the gates of obligatory travel23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness24. The congregation of the gates of prayer on the rows25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr37. The gates of the prayer of fear38. Collections of the gates of an eclipse prayer39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals