Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَدَقَۃَ التَّطَوُّعِ · حديث 2477

حدثنا يعقوب بن إبراهيم الدورقي، حدثنا أبو معاوية، حدثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمٍ -وَهُوَ ابْنُ صُبَيْحٍ- عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلَالٍ الْعَبْسِيِّ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَثَّ عَلَى الصَّدَقَةِ فَأَبْطَأَ (1) أُنَاسٌ حَتَّى رُؤيَ فِي وَجْهِهِ الْغَضَبُ [250 - ب] ثُمَّ إِنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ جَاءَ بِصُرَّةٍ، فَأَعْطَاهَا، فَتَتَابَعَ النَّاسُ حَتَّى رُؤيَ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - السُّرُورُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً فَإِنَّ لَهُ أَجْرَهَا وَأَجْرَ مَنْ عَمِلَ بِهَا، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ، وَمَنْ سَنَّ سُنَّةً سَيِّئَةً كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا، وَمِثْلُ وِزْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ".

حضرت جریر بن عبداللہ ؓ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہﷺ نے ہمیں خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے صدقہ کرنے کا حکم دیا تو لوگوں نے اس حکم کی تعمیل میں تاخیر کر دی حتی کہ آپ کے چہرہ مبارک پر غصے کے آثار نمودار ہوگئے ۔ پھر ایک انصاری صحابہ ایک تھیلی لایا اور وہ صدقہ میں دےدی ۔ پھر لوگ پے در پے صدقہ لانے لگے حتی کہ رسول اللہﷺ کا چہرہ مبارک خوشی سے کھل اٹھا ۔ تو رسول اللہﷺ نے فرمایا : "جس شخص نے کوئی اچھا طریقہ رائج کیا تو اسے اپنا بھی اور اس طریقے پر عمل کرنے والے تمام لوگوں کا بھی اجر ملے گا جبکہ ان کے اپنے اجر میں بھی کمی نہیں کی جائے گی ۔ اور جس شخص نے ( اسلام میں) برا طریقہ رائج کیا تو اسے ا س کا اپنا اور اس طریقے پر عمل کرنے والے تمام لوگوں کا بھی گناہ ہوگا جبکہ دیگر عمل کرنے والوں کے اپنے گناہ میں بھی کوئی کمی نہیں ہوگی۔"

جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هِلَالٍ الْعَبْسِيُّ ← مُسْلِمٍ -وَهُوَ ابْنُ صُبَيْحٍ- ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The gates of the doors gave charity for volunteering · Hadith 2477

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَدَقَۃَ التَّطَوُّعِ · حديث 2478

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَامٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْأَزْرَقِ (2)، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "غَيْرَتَانِ إِحْدَاهُمَا يُحِبُّهَا اللَّهُ، وَالْأُخْرَى يَبْغَضُهَا اللَّهُ، الْغَيْرَةُ فِي الرَّمْيَةِ يُحِبُّهَا اللَّهُ، وَالْغَيْرَةُ فِي غَيْرِ رَمْيَةٍ (3) يَبْغَضُهَا اللَّهُ، وَالْمَخِيلَةُ إِذَا تَصَدَّقَ الرَّجُلُ يُحِبُّهَا اللَّهُ، وَالْمَخِيلَةُ فِي الْكِبَرِ يَبْغَضُهَا اللَّهُ"، وَقَالَ: "ثَلَاثَ تُسْتَجَابُ دَعْوَتُهُمُ: الْوَالِدُ، وَالْمُسَافِرُ، وَالْمَظْلُومُ" وَقَالَ: "إِنَّ اللَّهَ يُدْخِلُ الْجَنَّةَ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ ثَلَاثَةً: صَانِعَهُ، وَالْمُمِدَّ بِهِ، وَالرَّامِيَ بِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ".

حضرت عقبہ بن عامر جہنی ؓ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: "غیرت دو قسم کی ہے ۔ ایک اللہ تعالیٰ کو پسند ہے اور دوسری ناپسند ہے ۔ جن کاموں میں تہمت لگنے اور بدگمانی پیدا ہونے کا خطرہ ہو ان میں غیرت کو اللہ تعالیٰ پسند کرتے ہیں ۔ اور جن امو ر میں شک وشبہ اور تہمت لگنے کا خدشہ نہ ہو ان میں میں غیرت کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتے ہیں ۔ جب آدمی صدقہ خیرات کر کے اتر ائے تو اللہ تعالیٰ ا س شوخی کو پسند کر تے ہیں ۔ اور جس فخر و غرور کا سبب تکبر ہو اسے اللہ تعالیٰ نا پسند کرتے ہیں ۔"اور آ پ نے فرمایا: "تین افرا د کی دعا بہت قبول ہوتی ہے : والد کی دعا( اولاد کے حق میں) مسافر اور مظلوم کی دعا"اور آپ نے فرمایا: "بے شک اللہ تعالیٰ ایک تیر کے سبب سے تین افراد کو جنت میں داخل کرتا ہے ۔ تیر بنانے والے کو ، تیر مجاہد کو فراہم کرنے والے کو اور اللہ کی راہ میں اس تیر کو چلانے والے مجاہد کو ۔"

عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْأَزْرَقِ ← زَیْدِ بْنِ سَلَّامٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The gates of the doors gave charity for volunteering · Hadith 2478

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَدَقَۃَ التَّطَوُّعِ · حديث 2479

حَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ [وَيَزِيدُ] بْنُ هَارُونَ (2)، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "يَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: اسْتَقْرَضْتُ عَبْدِي فَلَمْ يُقْرِضْنِي، وَشَتَمَنِي عَبْدِي وَهُوَ لَا يَدْرِي، يَقُولُ: وَادَهْرَاهُ وَادَهْرَاهُ، وَأَنَا الدَّهْرُ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَوْلُهُ وَأَنَا الدَّهْرُ أَيْ وَأَنَا آتِي بِالدَّهْرِ أُقَلِّبُ لَيْلَهُ، وَنَهَارَهُ، أَيْ بِالرَّخَاءِ وَالشِّدَّةِ كَيْفَ شِئْتُ، إِذْ بَعْضُ أَهْلِ الْكُفْرِ زَعَمَ أَنَّ الدَّهْرَ يُهْلِكُهُمْ. قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - حِكَايَةً عَنْهُمْ: (وَمَا يُهْلِكُنَا إِلَّا الدَّهْرُ) [الجاثية: 24]. فَأَعْلَمَ أَنَّهُ لَا عِلْمَ لَهُمْ بِذَلِكَ، وَأَنَّ مَقَالَتَهُمْ تِلْكَ ظَنٌّ مِنْهُمْ. قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: (وَمَا لَهُمْ بِذَلِكَ مِنْ عِلْمٍ إِنْ هُمْ إِلَّا يَظُنُّونَ) [الجاثية: 24]. وَأَخْبَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أنَّ شَاتِمَ مَنْ يُهْلِكُهُمْ هُوَ شَاتِمٌ رَبَّهُ - جَلَّ وَعَزَّ - لِأَنَّهُمْ كَانُوا يَزْعُمُونَ أَنَّ الدَّهْرَ يُهْلِكُهُمْ، فَيَشْتُمُونَ مُهْلِكَهُمْ، وَاللَّهُ يُهْلِكُهُمْ لَا الدَّهْرُ، فَكُلُّ كَافِرٍ يَشْتِمُ مُهْلِكَهُ فَإِنَّمَا تَقَعُ الشَّتِيمَةُ مِنْهُمْ عَلَى خَالِقِهِمُ الَّذِي يُهْلِكُهُمْ، لَا عَلَى الدَّهْرِ الَّذِي لَا فِعْلَ لَهُ، إِذِ اللَّهُ خَالِقُ الدَّهْرِ.

حضرت ابوہریرہؓ نبی کریمﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میں نے اپنے بندے سے قرض مانگا تو اس نے مجھے قرض نہیں دیا ۔ اور میرے بندے نے مجھے گالی دی جبکہ وہ جانتا نہیں ۔ کہتا ہے ہائے زمانے کی بربادی ۔ ہائے زمانے کی ہلاکت ۔ حالانکہ زمانہ میں ہوں ۔"امام ابوبکرؒ فرماتےہیں کہ ارشاد باری تعالیٰ:"میں زمانہ ہوں"کا مطلب ہے کہ میں ہی زمانے کے دن رات تبدیل کرتا ہوں کبھی خوشحالی تو کبھی تنگ دستی پیدا کرتا ہوں جیسا میں چاہتا ہوں ۔جبکہ بعض کافروں کا عقیدہ ہے کہ انھیں زمانہ ہلاک کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے ان کا قول بیان کرتے ہوئے فرمایا:(وہ کہتے ہیں ): "اور ہمیں تو صرف زمانہ ہی ہلاک کرتا ہے ۔"اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ انھیں اس بات کا علم ہی نہیں اور ان کایہ قول فقط ان کا خیال وگمان ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: "اور انھیں اس بات کا کچھ علم نہیں ، وہ تو بس اٹکل پچو لگانے ہیں ۔"اور نبی کریمﷺنے بتا دیا ہے کہ ان کا زمانہ کو گالیاں دیان اللہ کو گالی دینا ہے کیونکہ وہ گمان رکھتے ہیں کہ انہیں زمانہ ہلاک کرتا ہے پس وہ ہلاک کرنے والے کو گالی دیتے ہیں حالانکہ انھیں ہلاک وبرباد کرنے والی ذات اللہ کی ہے ، زمانہ نہیں لہٰذا ہر کافر جو اپنے ہلاک کرنے والے کو گالی دیتا ہے تو اس کی گالی ان کے خالق کو جاتی ہے جس نے انھیں ہلاک کیا ہے ۔ ان کی گالی زمانے کو نہیں ملتی کیونکہ انھیں ہلاک کرنے میں اس کا کوئی عمل دخل نہیں کیونکہ زمانے کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہی ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنُ هَارُونَ ← أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The gates of the doors gave charity for volunteering · Hadith 2479

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَدَقَۃَ التَّطَوُّعِ · حديث 2480

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ مِنْ مَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ دَعَتْهُ خَدَمَةُ الْجَنَّةِ، وَلِلْجَنَّةِ أَبْوَابٌ، فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلَاةِ دَعَتْهُ مِنْ بَابِ الصَّلَاةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجِهَادِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ"، فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا عَلَى أَحَدٍ مِنْ ضَرُورَةٍ مِنْ أَيِّهَا دُعِيَ، فَهَلْ يُدْعَى مِنْهَا كُلِّهَا أَحَدٌ؟ قَالَ: "نَعَمْ. إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ".

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: "جو شخص اپنے مال سے دو چیزیں ( جوڑا ) اللہ کی راہ میں خرچ کر ے تو اس کو جنت کےفرشتے ( دروازوں پر ) بلائیں گے ۔ا ور جنت کے کئی دروازے ہیں لہٰذا جو نمازی ہوگا اسے باب الصلاۃ سے بلایا جائے گا ۔ اور جو صدقہ اور زکوٰۃ ادا کرنے والا ہوگا اسے باب الصدقۃ سے بلایا جائے گا۔ اور جو جہاد کرتا رہا ہوگا اسے جہاد کے دروازے سے بلایا جائے گا ۔ اور جو روزے دار ہو اسے باب الریان سے بلایا جائے گا ۔"تو حضرت ابوبکرؓ نے آپ سے عرض کی: اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسولﷺ! اگر کوئی شخص ان دروازوں میں سے کسی ایک دروازے میں سے بھی بلایا جائے تو بھی کوئی حرج نہیں لیکن کیا کوئی ایسا بھی خوش نصیب ہوگا جو ان تمام دروازوں سے بلایا جائے گا ؟ آپ نے فرمایا: "ہاں ایسے خوش نصیب ہوں گے اور مجھے امید ہے کہ تم بھی ان میں شامل ہوگے ۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The gates of the doors gave charity for volunteering · Hadith 2480

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2927

وَقَالَ عَطَاءٌ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَسَمَ يَوْمَئِذٍ فِي أَصْحَابِهِ غَنَمًا، فَأَصَابَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ تَيْسًا فَذَبَحَهُ عَنْ نَفْسِهِ، فَلَمَّا وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِعَرَفَةَ أَمَرَ رَبِيعَةَ بْنَ أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ، فَقَامَ تَحْتَ يدي نَاقَتِهِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "اصْرُخْ، أَيُّهَا النَّاسُ! هَلْ تَدْرُونَ أَيّ شَهْرٍ هَذَا؟ " قَالُوا: الشَّهْرُ الْحَرَامُ! قَالَ: "فَهَلْ تَدْرُونَ أَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟ " قَالُوا: الْبَلَدُ الْحَرَامُ. قَالَ: "فَهَلْ تَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟ " قَالُوا: الْحَجُّ الْأَكْبَرِ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ دِمَاءَكُمْ، وَأَمْوَالَكُمْ، كَحُرْمَةِ شَهْرِكُمْ هَذَا، وَكَحُرْمَةِ بَلَدِكُمْ هَذَا، وَكَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا". فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَجَّهُ، وَقَالَ حِينَ وَقَفَ بِعَرَفَةَ: "هَذَا الْمَوْقِف، كُلُّ عَرَفَةَ مَوْقِفٌ". وَقَالَ حِينَ وَقَفَ عَلَى قُزَحٍ: "هَذَا الْمَوْقِف، وَكُلُّ مُزْدَلِفَةَ مَوْقِفٌ".

حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دس ذوالحجہ کے دن اپنے صحابہ میں بکریاں تقسیم کیں ۔ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کو ایک بکرا ملا جو انہوں نے اپنی طرف سے ذبح کر دیا۔ پھر جب رسول اللہ ﷺ میدان عرفات میں کھڑے ہوئے تو ٓآپ نے حضرت ربیعہ بن امیہ بن خلف کو حکم دیا تو ہو آپ کی اونٹنی کے پستانوں کے قریب کھڑے ہو گئے ، نبی اکرم ﷺ نے انھیں فرمایا:"لوگوں کو پکار کر کہو: اے لوگو! کیا تمھیں معلوم ہے کہ یہ کونسا مہینہ ہے؟"انھوں نے عرض کیا : حرمت والا مہینہ ہے ۔ آپ نے پھرپوچھا : کیا تم جانتے ہو یہ کون سا شہر ہے۔ صحابہ نے عرض کیا : حرمت والا(مکہ مکرمہ) شہر ہے۔ آپ نے فرمایا: "کیا تمھیں معلوم ہے کہ یہ کونسا دن ہے؟ " صحابہ نے جواب دیا کہ حج اکبر کا دن ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:" بے شک اللہ تعالیٰ نے تمھارے خون اور تمھارے مال ایک دوسرے پر اسی طرح حرام کر دیے ہیں جس طرح تمھارا یہ مہینہ حرمت والا ہے ، جیسے تمھارا یہ شہر حرمت والا ہے اور جسطرح تمھارا یہ آج کا دن حرمت والا ہے ۔ "پس رسول اللہ ﷺ نے اپنا حج ادا کیا اور جب آپ عرفات میں ٹھہرے تو فرمایا:" یہ وقوف کی جگہ ہے،پورا عرفات ہی وقف کی جگہ ہے" اور جب آپ مقام قزح پر کھڑے ہوئے تو فرمایا: "میں ادھر ٹھہرا ہوں اور سارا مزدلفہ ٹھہرنے کی جگہ ہے۔"

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← وَقَالَ عَطَاءٌ:

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2927

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2928

أَخْبَرَنَا الشَّيْخُ الْفَقِيهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْمُسْلِمِ السُّلَمِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّابُونِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ؛ أَنَّهُ قَالَ: لَمَّا رَمَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْجَمْرَةَ وَنَحَرَ هَدْيَهُ نَاوَلَ الْحَلَّاقَ شِقَّهُ الْأَيْمَنَ فَحَلَقَهُ، ثُمَّ نَاوَلَهُ أَبَا طَلْحَةَ، ثُمَّ نَاوَلَهُ الشِّقَّ الْأَيْسَرِ فَحَلَقَهُ، ثُمَّ نَاوَلَهُ أَبَا طَلْحَةَ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَقْسِمَ بَيْنَ النَّاسِ.

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے جمرہ عقبہ پر رمہ کر لی اور اپنا اونٹ نحر کر لیا تو آپ نے حجام کو اپنے سر کے دائیں جانب والے بال دیے تو اس نے وہ مونڈھ دیے ۔ پھر آپ نے وہ بال حضرت ابو طلحہ ؓ کو دے دیے ۔ پھر آپ نے حجام کو بائیں جانب کے بال دیے تو اس نے وہ بھی مونڈھ دیے۔ آپ نے یہ بال بھی حضرت ابو طلحہ ؓ کو دیے اور انھیں حکم دیا کہ وہ یہ بال لوگوں میں تقسیم کر دیں ۔

أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ ← ابْنِ سِيرِينَ، ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَی ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّابُونِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← الشَّيْخُ الْفَقِيهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْمُسْلِمِ السُّلَمِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2928

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2929

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ -يَعْنِي الثَّقَفِيَّ-، ثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ". قَالُوا: وَالْمُقَصِّرِينَ. قَالَ: "اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ". قَالُوا: وَالْمُقَصِّرِينَ. قَالَهَا ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: "وَالْمُقَصِّرِينَ".

حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:"اے اللہ ! بال منڈوانے والوں کے گناہ معاف فرما۔" صحابہ نے عرض کی : بال کتروانے والوں کے لیے بھی۔ آپ نے فرمایا:" اے اللہ ! بال منڈوانے والوں کی بخشش فرما۔"صحابہ نے عرض کیا : بال کتروانے والوں کے لیے بھی ۔ آپنے تین بار فرمایا: بال منڈوانے والوں کی معاف فرما۔ پھرفرمایا:"اور بال کتروانے والوں کو بھی معاف فرما۔"

"وَالْمُقَصِّرِينَ". ← وَالْمُقَصِّرِينَ. قَالَهَا ثَلَاثًا، ثُمَّ ← "اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ". ← "وَالْمُقَصِّرِينَ". ← "اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ". ← النَّبِيِّ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ -يَعْنِي الثَّقَفِيَّ- ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2929

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2930

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بكر (1)، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَلَقَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، وَزَعَمُوا أَنَّ الَّذِي حَلَقَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعْمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَضْلَةَ بْنِ عَوْفِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُوَيْجِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قوله إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَلَقَ، مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي نَقُولُ إِنَّ الْعَرَبَ تُضِيفُ الْفِعْلَ إِلَى الْآمِرِ كَمَا تُضِيفُهُ إِلَى الْفَاعِلِ، إِذِ الْعِلْمُ مُحِيطٌ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَتَوَلَّ حَلْقَ رَأْسِ نَفْسِهِ بِيَدِهِ بَلْ أَمَرَ غَيْرَهُ، فَحَلَقَ رَأْسَهُ، فَأُضِيفَ الْفِعْلُ إِلَيْهِ إِذْ هُوَ الْآمِرُ بِهِ.

حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حجتہ الوداع میں اپنے سر کے بال منڈوائے ۔ صحا بہ کرام کا کہناہے کہ جس شخص نے آپ کے بال مونڈے تھے وہ معمر بن عبداللہ بن نضلہ بن عوف بن عبید بن عویج بن عدی بن کعب ہے ۔ امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں :نبی اکرم ﷺ نے اپنے کال مونڈے تھے ۔ یہ اسی جنس سے ہے جس کے بارے میں ہم کہتے ہیں کہ عرب لوگ کام کی نسبت اسے سرانجام دینے کا حکم دینے والے کی طرف بھی کرتے ہیں جیسا کہ وہ کام کرنے والے کی طرف اس کی نسبت کرتے ہیں ۔ کیونکہ یہ بات یقینی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے بال خود نہیں مونڈے تھے بلکہ آپ نے ایک دوسرے شخص کو حکم دیا تھا۔ تواس نے آپ کے سر کے بال مونڈے تھے۔ لہٰذا اس کام کی نسبت آپ کی طرف کی گئی کیونکہ آپ نے اس کا حکم دیا تھا۔

ابْنِ عُمَرَ:أَنَّہُ ← نَافِعٍ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2930

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2931

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، ثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبَانَ الْعَطَّارِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ؛ وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، أَخْبَرَنَا أَبَانُ، ثَنَا يَحْيَى، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ: أَنَّ أَبَاهُ شَهِدَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ الْمَنْحَرِ هُوَ وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَحَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْسَهُ فِي ثَوْبِهِ، فَأَعْطَاهُ فَقَسَمَ مِنْهُ عَلَى رِجَالٍ. وَقَلَّمَ [288 - ب] أَظْفَارَهُ، فَأَعْطَاهُ صَاحِبَهُ، قَالَ: فَإِنَّهُ عِنْدَنَا مَخْضُوبٌ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ، أَوْ بِالْكَتَمِ وَالْحِنَّاءِ.

حضرت عبداللہ بن زید ؓ بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنے ایک انصاری ساتھی کے ہمراہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں قربان گاہ میں حاضر ہوئے ، رسول اللہ ﷺ نے اپنے سر کے بال ایک کپڑے میں منڈوائے ۔ آپ نے وہ بال انھیں دیے تو انھوں نے کچھ صحابہ کرام میں تقسیم کر دیے ۔ آپ نے اپنےناخن ترشوائے تو وہ بھی حضرت عبداللہ کے ساتھی کو دے دیے ۔ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں : آپ کے بال مبارک مہندی یا کتم بوٹی سے رنگے ہوئے ہمارے پاس محفوظ ہیں۔

أن محمد بن عبد الله بن زيد ← يَحْيَی أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ ← أَبَانُ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبَانُ الْعَطَّارُ ← بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2931

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2932

ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعيدٍ الدَّارمِيُّ، ثَنَا حَسَّانُ -يَعْنِي ابْنَ هِلَالٍ- ثَنَا أَبَانُ، ثَنَا يَحْيَى، بِهَذَا الْإِسْنَادِ: مِثْلَهُ؛ ح وَثَنَا الدَّارمِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، ثَنَا أَبَانُ، ثَنَا يَحْيَى، ثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، قَالَ الدَّارمِيُّ: فَذَكَرَ الْقِصَّةَ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَمْ يَقُلْ أَحَدٌ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ غَيْرُ عَبْدِ الصَّمَدِ.

امام صاحب نے گزشتہ روایت کی ایک اور سند بیان کی ہے

غَيْرُ عَبْدِ الصَّمَدِ. ← الدَّارمِيُّ: فَذَكَرَ الْقِصَّةَ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَمْ يَقُلْ أَحَدٌ أَنَّ أَبَاهُ ← أَنَّ أَبَاهُ ← أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ ← يَحْيَى ← أَبَانُ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ ← وَثَنَا الدَّارمِيُّ، ← يَحْيَى، بِهَذَا الْإِسْنَادِ: مِثْلَهُ؛ ← أَبَانُ، ← حَسَّانُ -يَعْنِي ابْنَ هِلَالٍ- ← أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2932

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2933

ثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ -وَبَسَطَتْ يَدَهَا-: أَنَا طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِيَّ هَاتَيْنِ، لِحُرْمِهِ حِينَ أَحْرَمَ، وَلِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ.

حضرت عائشہ ؓ نے اپنے دونوں پاتھ پھیلا کر فرمایا: میں نے اپنے ان ہاتھوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کو خوشبو لگائی تھی جب آپ نے احرام باندھا اس وقت بھی اور طواف افاضہ کرنے سے پہلے آپ کے احرام کھولنے کے وقت بھی۔

عَائِشَةَ تَقُولُ -وَبَسَطَتْ يَدَهَا-: ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2933

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2934

ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ؛ ح وَثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، ثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمِنًى قَبْلَ أَنْ يَزُورَ الْبَيْتَ.

حضرت عائشہ ؓ بیان فرماتی ہیں : میں نے رسول اللہ ﷺ کو طواف افاضہ سے پہلے منیٰ میں خوشبو لگائی تھی

طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ بِمِنًى قَبْلَ أَنْ يَزُورَ الْبَيْتَ. ← عَائِشَةَ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← حَمَّادٌ، ← وَثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2934

chevron_left Previous
1…242243244…258
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden22. The groups of the gates of obligatory travel23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness24. The congregation of the gates of prayer on the rows25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr37. The gates of the prayer of fear38. Collections of the gates of an eclipse prayer39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals