Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2939

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ قَالَ: إِذَا رَمَى الرَّجُلُ الْجَمْرَةَ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، وَذَبَحَ، وَحَلَقَ، فَقَدْ حَلَّ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا النِّسَاءَ وَالطِّيبَ. قَالَ سَالِمٌ: وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَقُولُ: قَدْ حَلَّ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا النِّسَاءَ، وَقَالَتْ: طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي أخْبَارِ عَائِشَةَ: (طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ) دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهُ إِذَا رَمَى الْجَمْرَةَ وَذَبَحَ وَحَلَقَ كَانَ حَلَالًا قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ [289 - أ] خَلَا مَا زُجِرَ عَنْهُ مِنْ وَطْءِ النِّسَاءِ الَّذِي لَمْ يَخْتَلِفِ الْعُلَمَاءُ فِيهِ أَنَّهُ مَمْنُوعٌ مِنْ وَطْءِ النِّسَاءِ حَتَّى يَطُوفَ طَوَافَ الزِّيَارَةِ.

حضرت عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ جب حاجی جمرہ عقبہ پر رمی کر لے ، سر منڈوالے اور قربانی ذبح کر لے تو اس کے لیے خوشبو اور بیوی سے ہمبستری کے سوا ہر چیز حلال ہو جاتی ہے۔ جناب سالم کہتے ہیں: اور حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں : تو اس کے لیے بیوی سے جماع کے علاوہ ہر چیز حلال ہو جاتی ہے ۔ اور فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو (طواف زیارہ سے پہلے )خوشبو لگائی تھی ۔ امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : حضرت عائشہ ؓ کی روایت میں ہے: میں نے رسول اللہﷺ کے احرام کھولنے کے وقت طواف زیارہ سے پہلے آپ کو خوشبو لگائی تھی۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جب آپ نے جمرہ عقبہ پر رمی کر لی ، قربانی ذبح کر لی اور سر کے بال منڈوالیے تو آپ طواف زیارت کرنے وے پہلے احرام اتار چکے تھے۔ صرف بیوی سے ہمبستری کرنا منع تھا کیونکہ اس میں علمائے کرام کا اتفاق ہے کہ طواف زیارہ سے پہلے بیوی سے ہم بستری کرنا منع ہے۔

عُمَرَ، ← ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2939

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2940

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، ثَنَا شُعَيْبٌ -يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ- عَنْ هِشَامٍ -وَهُوَ ابْنُ عُرْوَةَ- عَنْ أُمِّ الزُّبَيْرِ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أُخْتِهَا: أَنَّ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَلَهُمَا جَارِيَةٌ تُمَشِّطُهَا يَوْمَ النَّحْرِ كَانَتْ حَاضَتْ يَوْمَ قَدِمُوا مَكَّةَ، وَلَمْ تَطُفْ بِالْبَيْتِ قَبْلَ عَرَفَةَ، وَقَدْ كَانَتْ أَهَلَّتْ بِالْحَجِّ، وَدَفَعَتْ مِنْ عَرَفَاتٍ، وَرَمَتِ الْجَمْرَةَ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا عَبَّادٌ وَهِيَ تُمَشِّطُهَا وَتَمَسُّ الطِّيبَ، فَقَالَ عَبَّادٌ: أَتَمَسّ الطِّيبَ وَلَمْ تَطُفْ (1) بِالْبَيْتِ. قَالَتْ عَائِشَةُ: قَدْ رَمَتِ الْجَمْرَةَ وَقَصَّرَتْ. قَالَ: وَإِنْ، فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ لَهَا، فَأَنْكَرَتْ ذَلِكَ عَائِشَةُ، فَأَرْسَلَتْ إِلَى عُرْوَةَ، فَسَأَلَتْهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: إِنَّهُ لَا يَحِلُّ الطِّيبُ لِأَحَدٍ لَمْ يَطُفْ قَبْلَ عَرَفَاتٍ، وَإِنْ قَصَّرَ وَرَمَى. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ إِنَّمَا يَتَأَوَّلُ بِهَذَا الْفُتْيَا أَنَّ الطِّيبَ إِنَّمَا يَحِلُّ قَبْلَ زِيَارَةِ الْبَيْتِ لِمَنْ قَدْ طَافَ بِالْبَيْتِ قَبْلَ الْوُقُوفِ بِعَرَفَةَ، وَلَوْ ثَبَتَ خَبَرُ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ مَرْفُوعًا: "إِذَا رَمَيْتُمْ وَحَلَقْتُمْ فَقَدْ حَلَّ لَكُمُ الطِّيبُ وَالثِّيَابُ؛ إِلَّا النِّكَاحَ"، لَكَانَتْ هَذِهِ اللَّفْظَةُ تُبِيحُ الطِّيبَ وَالثِّيَابَ لِجَمِيعِ الْحُجَّاجِ بَعْدَ الرَّمْيِ وَالْحَلْقِ لِمَنْ قَدْ طَافَ مِنْهُمْ يَوْمَ عَرَفَةَ، وَمَنْ لَمْ يَطُفْ، إِلَّا أَنَّ رِوَايَةَ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَلَسْتُ أَقِفُ عَلَى سَمَاعِ الْحَجَّاجِ هَذَا الْخَبَرَ مِنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ إِلَّا أَنَّ فِي خَبَرِ أُمِّ سَلَمَةَ وَعُكَّاشَةَ بْنِ مِحْصَنٍ: "إِنَّ هَذَا يَوْمٌ رُخِّصَ لَكُمْ إِذَا أَنْتُمْ رَمَيْتُمُ الْجِمَارَ أَنْ تَحِلُّوا مِنْ كُلِّ مَا حُرِمْتُمْ منه إِلَّا النِّسَاءَ، فَإِذَا أَمْسَيْتُمْ قَبْلَ أَنْ تَطُوفُوا بِالْبَيْتِ صِرْتُمْ كَهَيْئَتِكُمْ قَبْلَ أَنْ تَرْمُوا الْجَمْرَةَ". وَهَذَا لَفْظُ خَبَرِ أُمِّ سَلَمَةَ، وَخَبَرُ عُكَّاشَةَ مِثْلُهُ فِي الْمَعْنَى، فَإِذَا حُكِمَ لِهَذَا الْخَبَرِ عَلَى ظَاهِرِهِ دَلَّ عَلَى خِلَافِ قَوْلِ عُرْوَةَ الَّذِي ذَكَرْتُهُ.

عائشہ بنت عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ عباد بن عبداللہ ، عائشہ بنت عبدالرحمٰن کے پاس آئے اور ان کی ایک بیٹی تھی جسے وہ یوم النحر کو کنگھی کر رہی تھی جس دن وہ مکہ مکرمہ پہنچے تھے اسے حیض آگیا تھا اس لیے وہ عرفا ت سے پہلے طواف نہیں کر سکی تھی ، اس نے حج کا احرام باندھا تھا، وہ عرفات سے واپس آئی اور جمرہ عقبہ پر رمی کر چکی تھی ۔ حضرت عباد اس کے پاس گئے تو وہ اپنی بیٹی کو کنگھی کر رہی تھیں اور خوشبو لگا رہی تھیں ۔ حضرت عباد نے اسے کہا: کیا تم بیت اللہ شریف کے طواف سے پہلے ہی خوشبو لگا رہی ہو؟ عائشہ فراماتی ہیں: اس نے جمرہ عقبہ پر رمی کر لی ہے اور بال بھی کٹوا چکی ہے ۔ انھوں نے فرمایا: اگر چہ وہ یہ کام کر چکی ہے لیکن اس کے لیے خوشبو لگانا جائز نہیں ہے حضرت عائشہ نے اس کو تسلیم نہ کیا لہٰذا حضرت عروہ ؒ کے پاس کسی کو بھیجا اور یہ مسئلہ پوچھا ۔ انھوں نے فرمایا: جس شخص نے عرفات سے پہلے طواف نہ کیا ہو اس کے لیے خوشبو لگانا درست نہیں اگرچہ اس نے رمی کر لی ہو اور سر منڈوا چکا ہو۔ ( جب تک طوافِ زیارت نہ کرلے )۔ امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : حضرت عروہ بن زبیر ؒ نے اس فتوے سے یہ تاویل کی ہے کہ جو شخص وقوف عرفہ سے پہلے طواف کر چکا ہو وہ طواف زیارت سے پہلے خوشبو لگا سکتا ہے۔ اگرچہ حضرت عمرہ کی عائشہ سے یہ مرفوع روایت ثابت ہو جائے:" جب تم رمی کر لو اور سر کے بال منڈوالو تو تمھارے لیے خوشبو لگانا اور کپڑے پہننا حلال ہے سوائے بیوی سے جماع کے ۔ " تو یہ الفاظ اس بات کی دلیل ہوں گے کہ رمی کرنے اور سر منڈوانے کے بعدتمام حجاج کے لیے خوشبو لگانا اور کپڑے پہننا جائز ہو گا اس نے یوم عرفہ سے پہلے طواف کیا ہو یا نہ کیا ہو لیکن یہ روایت حجا ج بن ارطاۃ ابوبکر بن محمد سے روایت کرتا ہے اور مجھے حجاج کے ابوبکر سے سماع کا علم نہیں ہے لیکن حضرت ام سلمہ ؓ اور عکا شہ بن محصن ؓ کی روایت میں ہے : " اس دن تمھیں رخصت دی گئی ہے کہ جب تم جمرات پر رمی کر لو تو تمھارے لیے احرام کی وجہ سے منع ہونے والی تمام چیزیں حلال ہو جائیں گی سوائے بیوی سے ہمبستری کے ۔ پھر اگر طوافِ زیارت سے پہلے تمھیں شام ہو گئی تو تم جمرات کی رمی سے پہلے والی حالت میں ہو جاؤ گے ۔ (یعنی احرام کی پابندیاں دوبارہ لاگو ہو گائیں گی)" یہ حضرت ام سلمہ کی روایت کے الفاظ ہیں اور عکاشہ کی روایت اس کے ہم معنی ہے اگر اس حدیث کے ظاہری معنی کو لیا جائے تو یہ حضرت عروہ ؓ کے اس فتوے کے خلاف ہے جسے میں نے اوپر کی سطور میں ذکر کیا ہے۔

أُمِّ الزُّبَيْرِ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، ← هِشَامٌ وَهُوَ ابْنُ عُرْوَةَ ← شُعَيْبٍ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2940

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2941

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَفَاضَ يَوْمَ النَّحْرِ، ثُمَّ رَجَعَ فَصَلَّى الظُّهْرَ بِمِنًى، قَالَ نَافِعٌ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُفِيضُ يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ يَرْجِعُ فَيُصَلِّي الظُّهْرَ -يَعْنِي بِمِنًى- وَيَذْكُرُ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَلَهُ.

حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یوم النحر کو طواف افاضہ کیا پھر واپس آکر ظہر کی نماز منیٰ میں ادا کی ۔ امام نافع فرماتے ہیں : پھر واپس آکر منیٰ میں ظہر کی نماز پڑھتے تھے، اور آپ بتاتے تھے کہ نبی اکرم ﷺ نے بھی اسی طرح کیا تھا۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2941

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2942

قَرَأْتُ عَلَى أَحْمَدَ بْنِ أَبِي سُرَيْجٍ الرَّازِيِّ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ مُجَمِّعٍ الْكِنْدِيَّ أَخْبَرَهُمْ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَزُورُ الْبَيْتَ فَيَطُوفُ بِهِ أُسْبُوعًا، وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَتَحِلُّ لَهُ النِّسَاءُ.

حضرت عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بیت اللہ شریف کی زیارت کرتے ، طواف کے سات چکر لگاتے اور دورکعات ادا کرتے اور پھر آپ کے لیے آپ کی ازواج مطہرات حلال ہو جاتیں ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← عَلَى أَحْمَدَ بْنِ أَبِي سُرَيْجٍ الرَّازِيِّ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ مُجَمِّعٍ الْكِنْدِيَّ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2942

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2943

ثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَرْمُلْ فِي السَّبْعِ الَّذِي أَفَاضَ فِيهِ. وَقَالَ عَطَاءٌ: لَا رَمَلَ فِيهِ.

حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے طواف افاضہ کے سات چکروں میں رمل نہیں کیا تھا، امام عطا کہتے ہیں : اس طواف میں رمل نہیں ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2943

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2944

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثَنَا جَعْفَرٌ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ فَذَكَرَ [289 - ب] الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَقَالَ: ثُمَّ أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْبَيْتِ -يَعْنِي يَوْمَ النَّحْرِ- فَأَتَى بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ -وَهُمْ يَسْقُونَ عَلَى زَمْزَمَ- فَقَالَ: "انْزِعُوا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَلَوْلَا أَنْ يَغْلِبَكُمُ النَّاسُ عَلَى سِقَايَتِكُمْ لَنَزَعْتُ مَعَكُمْ"، فَنَاوَلُوهُ دَلْوًا فَشَرِبَ مِنْهُ.

جناب جعفر بن محمد اپنے والد گرمی محمد سے روایت کرتے ہیں ، وہ فرماتے ہیں: ہم حضرت جابر ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، پھر طویل حدیث بیان کی اور فرمایا: پھر قربانی والے دن رسول اللہ ﷺ نے طواف افاضہ کیا ۔ پھر آپ بنی عبدالمطلب کے پاس تشریف لائے جبکہ وہ زمزم کے کنویں سے پانی پلا رہے تھے۔ آپ نے فرمایا: "اے بنی عبدالمطلب !پانی نکالو، اگر مجھے یہ خدشہ نہ ہوتا کہ لوگ تمھارے پانی پلانے پر تم پر غالب آجائیں گے تو میں بھی تمھارے ساتھ کنویں سے پانی نکالتا۔" چنانچہ انھوں نے پانی کا ایک ڈول آپ کو پیش کیا تو آپ نے اس میں سے پیا۔

الحديث بطوله ← دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← أَبِيهِ ← جَعْفَرٌ، ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2944

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الصَّدَقَاتِ وَالمُجبَسَاتِ · حديث 2489

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْأَشْقَرُ. حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ (1)، عَنْ جُوَيْرِيَةَ قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ عِنْدَ مَوْتِهِ دِينَارًا، وَلَا دِرْهَمًا، وَلَا عَبْدًا، وَلَا أَمَةً، إِلَّا بَغْلَتَهُ وَسِلَاحَهُ، وَأَرْضًا تَرَكَهَا صَدَقَةً.

حضرت جویریہ ؓ بیان کرتےہیں کہ اللہ کی قسم رسول اللہﷺ نے اپنی موت کے وقت کوئی دینار ، درھم ،غلام یا لونڈی نہیں چھوڑ ی تھی ، سوائے اپنی خچر اور ہتھیاروں کے اور ایک زمین چھوڑی تھی جسے آپ نے صدقہ کر دیا تھا ۔

جُوَيْرِيَةُ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← زُهَيْرٍ ← حُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْأَشْقَرُ ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The collections of alms gates and dentists · Hadith 2489

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الصَّدَقَاتِ وَالمُجبَسَاتِ · حديث 2490

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ عَطِيَّةَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا مَرْزُوقُ بْنُ أبي الْهُذَيْلِ (2)، أَخْبَرَنَا الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّ مِمَّا يَلْحَقُ الْمُؤْمِنُ مِنْ عَمَلِهِ وَحَسَنَاتِهِ بَعْدَ مَوْتِهِ عِلْمًا عَلِمَهُ وَنَشَرَهُ، أَوْ وَلَدًا صَالِحًا تَرَكَهُ، أَوْ مَسْجِدًا بَنَاهُ، أَوْ بَيْتًا لِابْنِ السَّبِيلِ بَنَاهُ، أَوْ نَهَرًا كَرَاهُ، أَوْ صَدَقَةً أَخْرَجَهَا مِنْ مَالِهِ فِي صِحَّتِهِ وَحَيَاتِهِ، تَلْحَقُهُ مِنْ بَعْدِ مَوْتِهِ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: كَرَاهُ يَعْنِي: حَفَرَهُ.

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: بےشک مومن کو اس کی موت کے بعد بھی جن اعمال اور نیکیوں کا اجر ملتا رہتا ہے وہ یہ ہیں : وہ علم جو اس نےدوسروں کو سکھایا اور اس کی نشر واشاعت میں حصہ ڈالا ۔ یا اپنے پیچھے نیک اولاد چھوڑی یا مسجد بنا گیا یا مسافروں کےلیے سرائے بنا گیا یا نہر کھدوا گیا یا اپنی صحت اور زندگی میں کوئی مالی صدقہ کر گیا تو ان کا اجر اسے اس کی موت کے بعد بھی ملتا رہے گا ۔"امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : "اْونَھْراً کَرَاہُ"کا معنی ہے : یا اس نے نہر کھدوادی۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرُّ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَرْزُوقُ بْنُ أبي الْهُذَيْلِ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ عَطِيَّةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The collections of alms gates and dentists · Hadith 2490

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الصَّدَقَاتِ وَالمُجبَسَاتِ · حديث 2491

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ اللُّؤْلُؤِيُّ بِالرَّمْلَةِ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ -وَهُوَ ابْنُ عَمْرٍو-، عَنْ زَيْدٍ -وَهُوَ ابْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ-، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ قَالَ: لَمَّا حُصِرَ عُثْمَانُ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ مِنْ فَوْقِ دَارِهِ، ثُمَّ قَالَ: أُذَكِّرُكُمْ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رُومَةَ لَمْ يَكُنْ يَشْرَبُ مِنْهَا أَحَدٌ إِلَّا بِثَمَنٍ، فَابْتَعْتُهَا مِنْ مَالِي فَجَعَلْتُهَا لِلْغَنِيِّ، وَالْفَقِيرِ، وَابْنِ السَّبِيلِ؟ قَالُوا: نَعَمْ.

جناب ابوعبدالرحمٰن سُلمی بیان کرتےہیں کہ جب حضرت عثمان ؓ کا محاصرہ کیا گیا تو انھوں نے اپنے گھر کے اوپر سےلوگوں کو جھانک کر مخاطب کیا اور فرمایا: میں تمھیں اللہ کے نام کے ساتھ یاد دلاتا ہوں ۔ کیا تم جانتے ہو کہ رومہ کے کنویں سے کوئی شخص بغیر قیمت ادا کیے پانی نہیں پی سکتا تھا ۔ پھر میں نے اسے خرید کر ہر امیر غریب اور مسافر کےلیے وقف کر دیا؟ انھوں نے جواب دیا : جی ہاں ( ایسے ہی ہوا تھا)۔

أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← زَيْدٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي أَنِيسَةَ ← عُبَيْدُ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ عَمْرٍو ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ اللُّؤْلُؤِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The collections of alms gates and dentists · Hadith 2491

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الصَّدَقَاتِ وَالمُجبَسَاتِ · حديث 2492

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَلَبِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي الْحَجَّاجِ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ بِتَمَامِهِ، حَدَّثَنِي الْقُشَيْرِيُّ قَالَ: شَهِدْتُ الدَّارَ يَوْمَ أُصِيبَ عُثْمَانُ، وَأَشْرَفَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ! أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ وَالْإِسْلَامَ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَلَيْسَ بِهَا بِئْرٌ مُسْتَعْذَبٌ إِلَّا رُومَةُ؟ فَقَالَ: "مَنْ يَشْتَرِي رُومَةَ فَيَجْعَلُ دَلْوَهُ فِيهَا كَدِلَاءِ الْمُسْلِمِينَ بِخَيْرٍ لَهُ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ؟ " قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ. قَالَ: فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ خَالِصِ مَالِي، وَأَنْتُمْ تَمْنَعُونِي أَنْ أُفْطِرَ عَلَيْهَا حَتَّى أُفْطِرَ عَلَى مَاءِ الْبَحْرِ.

جناب قثیری بیان کرتے ہیں کہ جس روز حضرت عثما ن ؓ کو شہید کیا گیا ا س روز میں بھی اس گھر میں موجود تھا ۔ حضرت عثمان نے ہمیں جھانک کر دیکھا اور فرمایا: اے لوگوں میں تمھیں اللہ کی قسم اور اسلام کاحق یاد کر ا کے پوچھتا ہوں ، کیا تمھیں معلوم ہے کہ رسول اللہﷺ مدینہ منورہ تشریفل لائے تو مدینے میں سوائے رومہ کےکنویں کے میٹھے پانی کا کوئی کنواں موجود نہیں تھا ۔ تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: "کون ہے جو رومہ کا کنواں خرید کر اپنے ڈول کو مسلمانوں کے ڈول کی طرح کر دے ( یعنی اے وقف کردے) تو اسے اس کے بدلے میں اس سے بہتر کنواں جنت میں ملے گا ۔"لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں ہمیں اچھی طرح یاد ہے ۔ تو حضرت عثمان ؓ نے فرمایا: تو میں نے وہ کنواں اپنے خالص مال سے خریدا تھا ( اور مسلمانوں کےلیے وقف کر دیا تھا ) اور ( آج ) تم مجھے اس کنویں کے پانی سے روزہ افطار کرنےسے منع ہوحتی کہ میں سمندری پانی سے افطار کرنے پر مجبور ہوں۔

يَا أَيُّهَا النَّاسُ! أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ وَالْإِسْلَامَ، هَلْ تَعْلَمُونَ ← شَهِدْتُ الدَّارَ يَوْمَ أُصِيبَ عُثْمَانُ، وَأَشْرَفَ عَلَيْنَا، ← القشيري ← الْجُرَيْرِيُّ بِتَمَامِهِ، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي الْحَجَّاجِ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَلَبِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The collections of alms gates and dentists · Hadith 2492

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الصَّدَقَاتِ وَالمُجبَسَاتِ · حديث 2493

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ [252 - ب] مَوْلَى أَبِي أَسِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: أَشْرَفَ عَلَيْهم -يَعْنِي عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ- فَقَالَ: "أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ! هَلْ عَلِمْتُمْ أَنِّي اشْتَرَيْتُ رُومَةَ مِنْ مَالِي يُسْتَعْذَبُ مِنْهَا، وَجَعَلْتُ رِشَايَ فِيهَا كَرِشَايِ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ؟ فَقَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: فَعَلَامَ تَمْنَعُونِي أَشْرَبُ مِنْهَا حَتَّى أُفْطِرَ عَلَى مَاءِ الْبَحْرِ.

حضرت ابو اسید انصاری کے آزاد کردہ غلام ابو سعید بیان کرتے ہیں کہ ( محاصرہ کے دوران) حضرت عثمان ؓ نے جھانک کر دیکھا تو فرمایا: میں تمھیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ میں نے رومہ کا میٹھے پانی کا کنواں اپنے مال سے خریدا تھا ۔ اور میں نے اپنا ڈول ایک عام مسلمان کی طرح بنایا تھا ( سب کےلیے وقف کر دیا تھا ) لوگوں نے کہا: جی ہاں ۔ تو حضر ت عثمان نے پوچھا : تو پھر تم مجھے اس کنویں سے میٹھا پانی پینے سے کیوں روکتے ہو حتی کہ میں سمندری کھارے پانی سے روزہ کرنے پر مجبور ہوں۔

أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى أَبِي أُسَيْدٍ الأنصاري ← أَبُو نَضْرَةَ، ← أَبِي ← الْمُعْتَمِرُ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The collections of alms gates and dentists · Hadith 2493

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الصَّدَقَاتِ وَالمُجبَسَاتِ · حديث 2494

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ- حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ: صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عَمَلٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ".

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: "جب انسان فوت ہو جاتا ہے تو اس کا عمل ختم ہو جاتا ہے مگر تین چیزوں کا اجر اسے ملتا رہتا ہے : صدقہ جاریہ ، وہ علم جس سے لوگ فائدہ اٹھا رہے ہوں یا نیک اولاد جو اس کے لیے دعائیں کرے۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ- ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The collections of alms gates and dentists · Hadith 2494

chevron_left Previous
1…244245246…258
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden22. The groups of the gates of obligatory travel23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness24. The congregation of the gates of prayer on the rows25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr37. The gates of the prayer of fear38. Collections of the gates of an eclipse prayer39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals