Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2920

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، أَنَّ مُجَاهِدًا أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى أَخْبَرَهُ؛ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَهُ أَنْ يَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَقْسِمَ بُدْنَهُ كُلَّهَا، لُحُومَهَا، وَجُلُودَهَا وَجِلَالَهَا، لِلْمَسَاكِينِ، وَلَا يُعْطِي فِي (2) جِزَارَتِهَا مِنْهَا شَيْئًا. قُلْتُ لِلْحَسَنِ: هَلْ سَمَّى فِيمَنْ يُقْسَمُ ذَلِكَ؟ قَالَ: لَا.

حضرت علی بن ابی طالب ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے انھیں اپنی قربانی کے اونٹوں کی ذمہ داری سنبھالنے کا حکم دیا اور انھیں حکم دیا کہ وہ قربانی کے اونٹوں کا سارا گوشت ان کے چمڑے اور جھولیں مساکیں میں تقسیم کر دیں اور قصائی کی اجرت میں ان میں سے کوےئ چیز نہ دیں ۔جناب ابن جریج کہتے ہیں : میں نے حسن بن مسلم سے پوچھا : کیا آپ ﷺ نے ان لوگوں کے نام بتائے تھے جنھیں یہ چیز یں دینی تھیں ؟ انھوں نے کہا : نہیں۔

أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ← أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى، ← الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، أَنْ مُجَاهِدًا ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2920

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2921

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَبَرُ جَابِرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: أَمَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ بِبَضْعَةٍ، الْحَدِيثَ.

امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں کہ حضرت جابر بن عبداللہ ؓ کی حدیث میں ہے نبی کریم ﷺ نے حکم دیا کہ ہر اونٹ کے گوشت سے ایک ٹکڑا ہنڈیا میں ڈال کر پکایا جائے ، پھر آپ نے وہ گوشت کھایا اور اس کا شوربہ پیا

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2921

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2922

ثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ أَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ، وَأَمَرَنِي أَنْ لَا أُعْطِيَ الْجَازِرَ مِنْهَا شَيْئًا.

حضرت علی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کی قربانی کے اونٹوں کی ذمہ داری سنبھال لوں اور اآپ نے مجھے حکم دیا کہ میں قصاب کو ان اونٹوں میں سے کوئی چیز اس کی اجرت کے طور پر نہ دوں۔"

عَلِيٍّ، ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← مُجَاهِدٍ ← عَبْدِ الْکَرِيمِ ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2922

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2923

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ثَنَا سُفْيَانُ؛ ح وَثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ: أَنَّ [287 - ب] النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَهُ أَنْ يَقُومَ عَلَى الْبُدْنِ، وَأَمَرَهُ أَنْ لَا يُعْطِيَ الْجَزَّارَ مِنْ جِزَارَتِهَا شَيْئًا. وَفِي حَدِيثِ وَكِيعٍ: عَلَى جِزَارَتِهَا شَيْئًا.

حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے انھیں اپنی قربانی کے اونٹوں کے انتظام وانصرام کی ذمہ داری سونپی اور انھیں حکم دیا کہ وہ قصاب کو اس کی مزدوری میں گوشت نہ دیں ۔ جناب وکیع کی روایت میں ہے: اس کی مزدوری میں اونٹ میں سے کچھ نہ دیا جائے۔

ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← مُجَاهِدٍ ← عَبْدِ الْکَرِيمِ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2923

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2924

ثَنَا بُنْدَارٌ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثَنَا جَعْفَرٌ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ؛ وَثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ وَالزَّعْفَرَانِيُّ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ كُلِّ جَزُورٍ بِبَضْعَةٍ فَجُعِلَتْ فِي قِدْرٍ فَطُبِخَتْ، وَأَكَلُوا مِنَ اللَّحْمِ، وَحَسَوْا مِنَ الْمَرَقِ. هَذَا لِلْحَسَنِ الزَّعْفَرَانِيِّ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: سَأَلَ سَائِلٌ عَنِ الْأَكْلِ مِنَ الْهَدْيِ الْوَاجِبِ أَيَأْكُلُ صَاحِبُهَا مِنْهَا؟ فَقُلْتُ: إِذَا نَحَرَ الْقَارِنُ أو الْمُتَمَتِّعُ بَدَنَةً أَوْ بَقَرَةً أَوْ شِرْكًا فِي بَدَنَةٍ أَوْ بَقَرَةٍ أَكْثَرُ مِنْ سُبْعِهَا فَلَهُ أَنْ يَأْكُلَ مِمَّا زَادَ عَلَى سُبْعِ الْبَدَنَةِ أَوِ الْبَقَرَةِ، لِأَنَّ الْوَاجِبَ عَلَيْهِ فِي هَدْيِ الْقِرَانِ وَالْمُتَمَتِّعِ سُبْعُ إِحْدَاهُمَا إِلَّا عِنْدَ مَنْ يُجِيزُ الْبَدَنَةَ عَنْ عَشَرَةٍ عَلَى مَا بَيَّنْتُ فِي خَبَرِ الْمِسْوَرِ وَمَرْوَانَ، وَخَبَرِ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَوْ شَاةً تَامَّةً. فَمَا زَادَ عَلَى سُبْعِ بَدَنَةٍ أَوْ بَقَرَةٍ فَهُوَ مُتَطَوِّعٌ بِهِ، وَلَهُ أَنْ يَأْكُلَ مِمَّا هُوَ مُتَطَوِّعٌ بِهِ مِنَ الزِّيَادَةِ كَمَا يُضَحِّي مُتَطَوِّعًا بِالْأُضْحِيَّةِ فَلَهُ أَنْ يَأْكُلَ مِنْ ضَحِيَّتِهِ، وَعَلَى هَذَا الْمَعْنَى -عِلْمِي- أَكْلُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ لُحُومِ بُدْنِهِ لِأَنَّهُ نَحَرَ مِائَةَ بَدَنَةٍ. وَإِنَّمَا كَانَ الْوَاجِبُ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ قَارِنًا سُبْعَ بَدَنَةٍ -إِلَّا عِنْدَ مَنْ يُجِيزُ الْبَدَنَةَ عَنْ عَشَرَةٍ- لَا أَكْثَرَ. وَهُوَ مُتَطَوِّعٌ بِالزِّيَادَةِ، فَجَعَلَ مِنْ كُلِّ بَعِيرٍ بَضْعَةٍ فِي قِدْرٍ فَحَسَا مِنَ الْمَرَقِ، وَأَكَلَ مِنَ اللَّحْمِ، وَإِنْ ذَبَحَ لِتَمَتُّعِهِ أَوْ لِقِرَانِهِ لَمْ يَكُنْ عِنْدِي أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا، وَالْعِلْمُ عِنْدِي كَالْمُحِيطِ أَنَّ كُلَّ مَنْ وَجَبَ عَلَيْهِ فِي مَالِهِ شَيْءٌ لِسَبَبٍ مِنَ الْأَسْبَابِ لَمْ يَجُزْ لَهُ أَنْ يَنْتَفِعَ بِمَا وَجَبَ عَلَيْهِ فِي مَالِهِ، وَلَا مَعْنَى لِقَوْلِ قَائِلٍ إِنْ قَالَ: يَجِبُ عَلَيْهِ هَدْيٌ، وَلَهُ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ بَعْضَهُ، لِأَنَّ الْمَرْءَ إِنَّمَا لَهُ أَنْ يَأْكُلَ مَالَ نَفْسِهِ أَوْ مَالَ غَيْرِهِ بِإِذْنِ مَالِكِهِ، فَإِنْ كَانَ الْهَدْيُ وَاجِبًا عَلَيْهِ فَمُحَالٌ أَنْ يُقَالَ وَاجِبٌ عَلَيْهِ وَهُوَ مَالٌ لَهُ يَأْكُلُهُ، وقود هَذِهِ الْمَقَالَةِ يُوجِبُ أَنَّ الْمَرْءَ إِذَا وَجَبَتْ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ فِي مَاشِيَتِهِ أَنَّ لَهُ أَنْ يَذْبَحَهَا فَيَأْكُلَهَا، وَإِنْ وَجَبَتْ عَلَيْهِ عُشْرُ حَبٍّ فَلَهُ أَنْ يَطْحَنَهُ وَيَأْكُلَهُ، وَإِنْ وَجَبَ عَلَيْهِ عُشْرُ ثِمَارٍ فَلَهُ أَنْ يَأْكُلَهُ، وَهَذَا لَا يَقُولُهُ مَنْ يُحْسِنُ الْفِقْهَ.

حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ قربانی کے ہر اونٹ کے گوشت میں سے ایک ٹکڑا لے کر ہنڈیا میں ڈالا جائے چناچہ وہ گوشت پکا دیا گیا اور آپ ﷺ نے اور آپ کے ساتھیوں نے وہ گوشت کھایا اور شوربہ پیا۔ یہ روایت حسن زعفرانی کی ہے ۔ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں: ایک سوال کرنے والے نے سول کیا کہ کیا حج میں واجب قربانی کرنے والا اس قربانی کے گوشت میں سے کھا سکتا ہے؟ میں نے جواب دیا: جب حج تمتع یا حج قران کرنے والا ایک اونٹ نحر کرے یا گائے ذبح کرے یا اونٹ اور گائے کے ساتویں حصے سے زیادہ کی قربانی کرے تو وہ ساتویں حصے سے زائد گوشت میں سے کھا سکتا ہے کیونکہ حج تمتع اور قران کرنے والے پر واجب اونٹ یا گائے کا ساتواں حصہ قربان کرنا ہے یا جن علماء کے نزدیک اونٹ دس افراد کی طرف سے نحدرد ہو سکتا ہے ان کے نزدیک حج تمتع اور قران کرنے والے حاجی پر دسواں حصہ اونٹ کا واجب ہے ۔ جیسا کہ حضرت مسور ، مروان اور ابن عباس ؓ کی روایات میں مَیں واضح کر چکا ہوٖں یا اس حاجی پر ایک مکمل بکرا ذبح کرنا واجب ہے لہٰذا اونٹ یا گائے کے ساتویں حصے سے زائد نفل قربانی کرنے والا اس نفل میں سے کھا سکتا ہے جیسا کہ عید پر نفلی قربانیاں کرنے والا اس میںسے کھا سکتا ہے جیسا کہ عید پر نفلی قربانیاں کرنے والا اس میں سے کھا سکتا ہے میرے علم کے مطابق نبی کریمﷺ نے بھی اسی لحاظ سے اپنی قربانی کا گوشت کھایا ہے کیونکہ آپ نے سو اونٹ نحر کیے تھے . یقیناً آپ پر حج قران کی وجہ سے اونٹ کا ساتوان یا دسواں حصہ قربانی کرنا واجب تھا ۔ اس سے زائدجتنے اونٹ آپ نے قربان کیے وہ سب نفلی تھے۔ لہٰذا آپ نے ان میں سے ایک ایک ٹکڑا لے کر ہنڈیا میں ڈالا اور اسے پکا کر شوربہ پیا اور گوشت کھایا لیکن اگر آپ حج قران یا تمتع کے لیے صرف واجب مقدار میں قربانی کرتے تو میرے نزدیک اس میں سے گوشت کھانا جائز نہیں تھا، میرے نزدیک یہ بات یقینی ہے کہ جس شخص کے مال میں کوئی حق واجب ہو جائے تو وہ شخص اس واجب ہونے والے مال سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا ۔ لیکن اگر کوئی شخص یہ کہے تو اس کی بات نا قابل ہو گی کہ اس پر حج کی قربانی واجب ہے لیکن وہ اس کا سارا یا کچھ گوشت کھا سکتا ہے کیونکہ انسان اپنا مال خود کھا سکتا ہے اور کسی دوسرے شخص کا مال اس کی اجازت کے ساتھ کھا سکتا ہے۔ لیکن اگر اس پر حج کی قربانی واجب ہو تو یہ کہنا محال ہے کہ یہ قربانی اس پر واجب ہےلیکن یہ اسی کا مال ہے اس لیے اکے کھا سکتا ہے اس قول کی زد میں یہ مسئلہ آئے گا کہ جس شخص کے جانوروں میں زکو ٰۃ واجب ہو تو وہ شخص زکوٰۃ کا جانور ذبح کر کے کھا سکتا ہے اور اگر اس کے اناج میں عشرواجب ہو تو وہ اسے پیس کر کھا سکتا ہے اور اگر اس کے پھلوں میں زکوٰۃ واجب ہو تو وہ اس پھل کو کھا سکتا ہے ۔ لیکن دین کی سوجھ بوجھ رکھنے والا کوئی شخص ایسی بات نہیں کر سکتا۔

أَبِي ← جَعْفَرٌ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← بُنْدَارٌ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2924

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2925

ثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّهَا سَاقَتْ بَدَنَتَيْنِ فَأَضَلَّتْهُمَا، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا ابْنُ الزُّبَيْرِ بَدَنَتَيْنِ فَنَحَرَتْهُمَا، ثُمَّ وَجَدْتُ الْبَدَنَتَيْنِ الأولتين فَنَحَرَتْهُمَا أَيْضًا، ثُمَّ قَالَتْ: هَكَذَا السُّنَّةُ فِي الْبُدْنِ. ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ (1) ... عَائِشَةُ بَدَنَتَيْنِ؛ بِمِثْلِهِ سَوَاءً.

حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ انھون نے دو اونٹ قربانی کے لیے اپنے ساتھ لیے تو وہ گم ہو گئے ، پھر حضرت ابن زبیرؓ نے آپ کو دو اونٹ بھیج دیے جو آپ نے نحڑ کر دے پھر پہلے دو اونٹ بھی مل گئے تو حضرت عائشہ ؓ نے وہ بھی نحر کر دیے ، پھرفرمایا:( گم شدہ) اونٹوں کی قربانی کا یہی مسنون طریقہ ہے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامٍ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2925

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2926

ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، ثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ وَعَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: كَثُرَتِ الْمَقَالَةُ مِنَ النَّاسِ فَخَرَجْنَا حُجَّاجًا حَتَّى (1) بَيْنَنَا وَبَيْنَ أَنْ نَحِلَّ إِلَّا لَيَالِي قَائِلًا أُمِرْنَا بِالْإِحْلَالِ فَيَرُوحُ أَحَدُنَا إِلَى عَرَفَةَ وَفَرْجُهُ يَقْطُرُ مَنِيًّا، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَامَ خَطِيبًا، فَقَالَ: "أَبِاللَّهِ تُعْلِمُونِي أَيُّهَا النَّاسُ، فَأَنَا وَاللَّهِ أَعْلَمُ بِاللَّهِ وَأَتْقَاكُمْ لَهُ، وَلَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ هَدْيًا، وَلَحَلَلْتُ كَمَا أَحَلُّوا، فَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ، وَمَنْ وَجَدَ هَدْيًا فَلْيَنْحَرْ" فَكُنَّا نَنْحَرُ الْجَزُورَ عَنْ سَبْعَةٍ [288 - أ].

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ (عمرہ کر کے احرام کھولنے کے بارے میں ) لوگوں میں بہت زیادہ باتیں ہو ئیں ۔ ہم صرف حج کی نیت سے آئے تھے حتی کہ جب احرام کھولنے میں چند دن ہی رہ گئے تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ) عمرہ کر کے ) احرام کھولنے کا حکم دے دیا ۔ ( ہم آپس میں کہنےلگے ) کیا ہم میں سے کوئی شخص (حج کے لیے ) عرفہ اس حالت میں جائے گا کہ اس کی شرمگاہ سے منی کے قطرے نکل رہے ہوں گے۔ رسول اللہ ﷺ کو یہ باتیں معلوم ہو ئیں تو آپ خطبہ ارشاد فرمانے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا:"اے لوگو!تمھیں اللہ کی قسم ! کیا تم جانتے ہو کہ میں اللہ کی قسم ! تم سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے احکا م کو جانتا ہوں اور تم سب سے بڑھ کر اس سے ڈرتا ہوں ۔ اگر مجھے اس معاملے کا پہلے علم ہوتا جو بعد میں ہوا ہے تو میں اپنے ساتھ قربانی کا جانور کا جانور نہ لاتا اور میں بھی دیگر لوگوں کی طرح (عمرہ کر کے ) احرام کھول دیتا۔ لہٰذا جس شخص کے پاس قربانی نہ ہو تو وہ تین روزے ادھر ہی رکھ لے اور سات روزے واپس اپنے گھر جا کر رکھ لے، اور جسے قربانی کا جانور مل جائے تو وہ قربانی کر ے۔" چنانچہ ہم سات افراد کی طرف سے سے ایک اونٹ نحر کرتے تھے۔"

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُجَاهِدٍ وَعَطَاءٍ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2926

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَدَقَۃَ التَّطَوُّعِ · حديث 2471

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ: عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ أَبِي السَّمْحِ، عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "إِذَا أَدَّيْتَ زَكَاةَ مَالِكَ فَقَدْ قَضَيْتَ مَا عَلَيْكَ، وَمَنْ جَمَعَ مَالًا حَرَامًا ثُمَّ تَصَدَّقَ بِهِ لَمْ يَكُنْ لَهُ فِيهِ أَجْرٌ، وَكَانَ أَجْرُهُ (1) عَلَيْهِ". حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عن عَمْرو بْن الْحَارِثِ، حَدَّثَنِي دَرَّاجٌ أَبُو السَّمْحِ، وَقَالَ: "إِذَا أَدَّيْتَ زَكَاةَ مَالِكَ ... ".

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: "جب تم نے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردی تو تم نے اپنی ذمہ داری اور فرض ادا کر دیا ۔ اور جس شخص نے حرام مال جمع کیا پھر اس کا صدقہ کر دیا تو اسے اس صدقے کا کوئی اجر نہیں ملے گا اور اس پر اس کا گناہ ہوگا۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ حُجَيْرَةَ الْخَوْلَانِيِّ، ← دَرَّاجٍ أَبِي السَّمْحِ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The gates of the doors gave charity for volunteering · Hadith 2471

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَدَقَۃَ التَّطَوُّعِ · حديث 2472

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَسِيُّ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ حَيَّانَ؛ ح وَحَدَّثَنَاهُ هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ حَيَّانَ، عَنِ ابْنِ بُجَيْدٍ، عَنْ جَدَّتِهِ قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! السَّائِلُ يَأْتِينِي وَلَيْسَ عِنْدِي مَا أُعْطِيهِ؟ قَالَ: "لَا تَرُدِّي سَائِلَكِ وَلَوْ بِظِلْفٍ". لَمْ يَقُلِ الْأَشَجُّ: مَا أُعْطِيهِ. قَالَ أَبُو بَكْرِ: ابْنُ بُجَيْدٍ (2) هَذَا هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ بُجَيْدِ بْنِ قِبْطِيٍّ.

جناب ابن بجید اپنی دادی سے روایت کرتے ہیں ۔ وہ فرماتی ہیں : میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ( بعض اوقات ) سائل میرے پا س آتا ہے جبکہ میرے پاس اسے دینے کے لیے کچھ نہیں ہوتا ( تو میں کیا کروں) ؟آپ نے فرمایا:"سائل کو ( خالی کو خالی ہاتھ ) نہ لوٹا نا ، اگر ایک کھری ہو تو وہی دے دو ۔" جناب اشج راوی نے "مَا اُعْطِیْھِ"کے الفاظ بیان نہیں کیے ۔ امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں: ابن بجید سے مراد عبدالرحمان بن بجید بن قبطی ہے ۔

قُلْتُ ← جَدَّتِہٖ ← ابْنِ بُجَيْدٍ، ← مَنْصُورِ بْنِ حَيَّانَ، ← أَبُو خَالِدٍ؛ ← وَحَدَّثَنَاهُ هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، ← مَنْصُورِ بْنِ حَيَّانَ، ← أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَسِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The gates of the doors gave charity for volunteering · Hadith 2472

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَدَقَۃَ التَّطَوُّعِ · حديث 2473

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدٍ بْنِ أبي سعيد، عن عبد الرحمن بن بجيد (1) أخي ابن حارثة؛ أن جدته حدثته -وهي أم بجيد وكانت- زعم -ممن بايع رسول الله - صلى الله عليه وسلم -- أنها قالت لرسول الله - صلى الله عليه وسلم -: والله إن المسكبن ليقوم على بابي فما أجد شيئًا أعطيه إياه. فقال لها رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: "فإن لم تجدي شيئًا تعطيه إياه إلا ظلفًا محرقًا فادفعيه إليه في يده".

جناب ابن حارثہ کے بھائی عبدالرحمٰان بن بجید سے روایت ہے کہ انھیں ان کی دادی نے بیان کیا ۔ وہ ام بجید ہیں اور وہ رسول اللہﷺ کی بیعت کرنے والوں میں سے تھیں ۔ انھوں نے رسول اللہﷺ سے عرض کیا : اللہ کی قسم! مسکین میرے دروازے پر کھڑا ہوتا ہے اور میرے پاس اسے دینے کےلیے کوئی چیز نہیں ہوتی تو رسول اللہﷺ نے انھیں حکم دیا : "اگر تمھیں اسے دینے کےلیے جلی ہوئی کھری کے سوا کچھ نہ ملے تو وہی اس کے ہاتھ میں تھما دو۔"

سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ← اللَّيْثُ ← شُعَيْبٌ، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The gates of the doors gave charity for volunteering · Hadith 2473

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَدَقَۃَ التَّطَوُّعِ · حديث 2474

حدثنا أبو موسى محمد بن المثنى، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثني الأوزاعي؛ ح وحدثنا محمد بن مسكين اليمامي، حدثنا بشر بن بكر، حدثنا الأوزاعي، حدثني أبو جعفر محمد بن علي، أنه سمع من سعيد بن المسيب بخبر أنه سمع أبو عباس يقول: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: "مثل الذي يتصدق بالصدقة، ثم يرجع في صدقه مل الكلب يقيء ثم يأكل قيئه".

نفلی صدقہ دے کر واپس لینے کی مذمت کا بیان اور اس کی مثال کتے جیسی ہے جو قے کرتا ہے پھر اپنی ہی قے کو چاٹ لیتا ہے

أبو عباس ← من سعيد بن المسيب بخبر أنه ← أبو جعفر محمد بن علي، أنه ← الْاَوْزَاعِیُّ ← بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ ← وحدثنا محمد بن مسكين اليمامي، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← أَبُو مُوسَی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The gates of the doors gave charity for volunteering · Hadith 2474

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَدَقَۃَ التَّطَوُّعِ · حديث 2475

حدثنا محمد بن العلاء بن كريب، حدثنا ابن المبارك، عن الأوزاعي قال: سمعت محمد بن علي بن الحسين يذكر عن سعيد بن المسيب، عن ابن عباس قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - .. بمثله.

حضر ت ابن عباسؓ سے رسول اللہﷺ کی مذکورہ بالا کی طرح روایت مروی ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← محمد بن علي بن الحسين يذكر ← الْاَوْزَاعِیُّ ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The gates of the doors gave charity for volunteering · Hadith 2475

chevron_left Previous
1…241242243…258
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals