صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2920
ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، أَنَّ مُجَاهِدًا أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى أَخْبَرَهُ؛ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَهُ أَنْ يَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَقْسِمَ بُدْنَهُ كُلَّهَا، لُحُومَهَا، وَجُلُودَهَا وَجِلَالَهَا، لِلْمَسَاكِينِ، وَلَا يُعْطِي فِي (2) جِزَارَتِهَا مِنْهَا شَيْئًا. قُلْتُ لِلْحَسَنِ: هَلْ سَمَّى فِيمَنْ يُقْسَمُ ذَلِكَ؟ قَالَ: لَا.
حضرت علی بن ابی طالب ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے انھیں اپنی قربانی کے اونٹوں کی ذمہ داری سنبھالنے کا حکم دیا اور انھیں حکم دیا کہ وہ قربانی کے اونٹوں کا سارا گوشت ان کے چمڑے اور جھولیں مساکیں میں تقسیم کر دیں اور قصائی کی اجرت میں ان میں سے کوےئ چیز نہ دیں ۔جناب ابن جریج کہتے ہیں : میں نے حسن بن مسلم سے پوچھا : کیا آپ ﷺ نے ان لوگوں کے نام بتائے تھے جنھیں یہ چیز یں دینی تھیں ؟ انھوں نے کہا : نہیں۔
أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ← أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى، ← الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، أَنْ مُجَاهِدًا ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ،
Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2920
