Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2381

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ وَاقِدٍ الْجُرَيْرِيُّ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى صَدَقَاتٍ -يُرِيدُ- جُهَيْنَةَ، فَكَانَ آخِرُ مَنْ أَتَيْتُ رَجُلًا مِنْهُمْ مِنْ أَدْنَاهُمْ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَجَمَعَ لِي مَالَهُ -فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ إِلَى قَوْلِهِ: وَدَعَا لَهُ بِالْبَرَكَةِ. وَقَالَ: قَالَ عُمَارَةُ: فَبَعَثَنِي ابْنُ عُقْبَةَ، قَالَ يَحْيَى: يَعْنِي ابْنَ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ فِي زَمَنِ مُعَاوِيَةَ مُصَدِّقًا فَصَدَّقَه مَالَهُ ثَلَاثِينَ حِقَّةً مَعَهَا فَحْلُهَا فَبَلَغَ مَالُهُ أَلْفًا وَخَمْسَمِائَةٍ.

حضرت ابی بن کعب ؓ سے روایت ہے ، وہ فرماتے ہیں : رسول اللہﷺنے مجھے قبیلے کی زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا ۔ میں سب سے آخر میں جس شخص کے پاس آیا وہ مدینہ منورہ کے بہت قریب رہتا تھا ۔ اس نے اپنے جانور کی حدیث کی طرح بیان کی ۔ ان الفاظ تک : اور نبی کریمﷺنے اس شخص کےلیے برکت کی دعا کی ۔ جناب عمارہ کہتے ہیں : مجھے ابن عقبہ نے بھیجا ۔ جناب یحییٰ کہتے ہیں : یعنی ابن الولید بن عقبہ نے حضرت معاویہ ؓ کے دو ر حکومت میں ( اسی قبیلے کی ) زکوٰۃ وصول کرنے کےلیے بھیجا تو اس شخص کے مال کی زکوٰۃ تیس حقے بنی جن کے ساتھ نر اونٹ بھی شامل تھا۔ اس کے مجموعی جانور پندرہ سو اونٹ ہوئے ۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← عُمَارَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ← عبد الله بن أبي نجيح ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ وَاقِدٍ الْجُرَيْرِيُّ الْحَرَّانِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2381

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2382

حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ -يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ-[243 - ب] عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ عَلَى زَكَاتِهَا فَجَاءَ بِسَوَادٍ كَثِيرٍ فَإِذَا أَرْسَلْتُ إِلَيْهِ مَنْ يَتَوَفَّاهُ مِنْهُ (1). قَالَ: "هَذَا لِي وَهَذَا لَكُمْ. فَإِنْ سُئِلَ: مِنْ أَيْنَ لَكَ هَذَا؟ قَالَ: أُهْدِيَ لِي. فَهَلَّا إِنْ كَانَ صَادِقًا أُهْدِيَ لَهُ وَهُوَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ أَوْ أُمِّهِ". ثُمَّ قَالَ: "لَا أَبْعَثُ رَجُلًا عَلَى عَمَلٍ فَيَغْتَلُّ مِنْهُ شَيْئًا إِلَّا جَاءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَةِ بَعِيرٍ لَهُ رُغَاءٌ، أَوْ بَقَرَةٍ تَخُورُ، أَوْ شَاةٍ تَيْعَرُ"، ثُمَّ قَالَ: "اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ! ". فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ لِأَبِي حُمَيْدٍ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: نَعَمْ.

حضرت ابوحمید الساعدی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ایک یمنی شخص کو اہل یمن کی زکوٰۃ جمع کرنے کے لیے روانہ کیا تو وہ بہت سارا مال لے کرا ٓیا ۔ پھر جب آپ نے اس سے حساب لینے کےلیے ایک آدمی بھیجا تو وہ کہنے لگا : یہ میرا مال ہے اور یہ تمہارا ہے ۔ پھر اگر اس سے پوچھا جائے ۔ تمہیں یہ مال کہاں سے ملا ہے تو وہ کہتا ہے : مجھےہدیہ دیا گیا ہے ۔ اگر وہ سچا ہے تو وہ اسے اس وقت ہدیہ کیوں نہیں دے دیا جاتا جبکہ وہ اپنے والد یا والدہ کے گھر بیٹھا ہو ۔ پھر نبی کریمﷺ نے فرمایا: " میں نے جس شخص کو بھی کسی کام کے لیے بھیجا ، پھر وہ اس میں خیانت کر ے تو وہ اس خیانت شدہ مال کو اپنی گردن پر اٹھائے قیامت کے دن حاضر ہو گا، اگر وہ اونٹ ہوا تو وہ بلبلا رہا ہوگا یا گائے ہوئی تو وہ ڈکار رہی ہو گی ، یا بکری ہوئی تو وہ ممیا رہی ہو گی ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ میں نے یہ پیغام پہنچا دیا ہے ۔"یہ سن کر حضرت ابن زبیر نے حضرت ابوحمید سے کہا: کیا آپ نے یہ فرمان خود رسول اللہﷺ سے سنا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں۔

أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ذَکْوَانَ ← الشَّيْبَانِيِّ ← خَالِدٌ -يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ-، ← أَبُو بِشْرٍ الْوَاسِطِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2382

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2383

- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى بْنِ عِيسَى الْمَرْوَزِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ غَزَوَانَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَأَبُو جَعْفَرٍ مُوسَى بْنُ السَّائِبِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَاءَ [رَجُلٌ] (1) إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا غُلَامَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ. قَالَ: "وَعَلَيْكَ". قَالَ: إِنِّي رَجُلٌ مِنْ (2) الَّذِي مِنْ بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ وَأَنَا رَسُولُ قَوْمِي إِلَيْكَ وَوَافِدُهُمْ، وَإِنِّي سَائِلُكَ فَمُشَدِّدٌ مَسْأَلَتِي إِيَّاكَ، وَمُنَاشِدُكَ فَمُشَدِّدٌ مُنَاشَدَتِي إِيَّاكَ. قَالَ: "خُذْ عَنْكَ يَا أَخَا ابْنِ سَعْدٍ". قَالَ: مَنْ خَلَقَكَ، وَمَنْ خَلَقَ مَنْ قَبْلَكَ، وَمَنْ هُوَ خَالِقُ مَنْ بَعْدَكَ؟ قَالَ: "اللَّهُ". قَالَ فَنَشَدْتُكَ بِذَلِكَ، هُوَ أَرْسَلَكَ؟ قَالَ: "نَعَمْ"، قَالَ: فَإِنَّا قَدْ وَجَدْنَا فِي كِتَابِكَ وَأَمَّرْتَنَا رُسُلًا أَنْ تَأْخُذَ مِنْ حَوَاشِي أَمْوَالِنَا فَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِنَا، فَنَشَدْتُكَ بِذَلِكَ أَهُوَ أَمَرَكَ بِذَلِكَ؟ قَالَ: "نَعَمْ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَوْلُ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -: (إِنْ تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا هِيَ) مِنْ هَذَا الْبَابِ أَيْضًا.

امیر وگورنر کو زکوٰۃ ادا کرنے کی بجائے آدمی بذات خود بھی مستحقین میں تقسیم کر سکتا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :(إِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا ھِیَ۔۔۔۔۔)(البقرہ:۲۷۱) "اگر تم علانیہ صدقات دو تو یہ اچھی بات ہے اور اگر تم اسے چھپا کر فقیروں کو دو تو وہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے ۔۔۔۔"

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَأَبُو جَعْفَرٍ مُوسَى بْنُ السَّائِبِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ الضَّبِّيُّ، ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى بْنِ عِيسَى الْمَرْوَزِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2383

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2384

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ -يَعْنِي ابْنَ سُعَيْرِ بْنِ الْخِمْسِ- حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ: أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِهِ يُقَالُ لَهُ ابْنُ أَبِي حَثْمَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ نَفَرًا مِنْهُمُ انْطَلَقُوا إِلَى خَيْبَرٍ فَتَفَرَّقُوا فِيهَا، فَوَجَدُوا أَحَدَهُمْ قَتِيلًا، فَقَالُوا لِلَّذِينَ وَجَدُوهُ عِنْدَهُمْ: قَتَلْتُمْ صَاحِبَنَا. قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّا انْطَلَقْنَا إِلَى خَيْبَرَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. وَقَالَ فِي آخِرِهِ: فَكَرِهَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُطَلَّ دَمُهُ، فَفَدَاهُ بِمِائَةٍ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ.

جناب بشیر بن یسار بیان کرتے ہیں کہ ان کے خاندان کے ایک فرد جسے ابن ابی حثمہ کہا جاتا ہے اس نے انھیں خبر دی کہ ان کے چند افراد خیبر گئے اور وہاں ( اپنے اپنے کام کے سلسلے میں) منتشر ہو گئے ۔ پھر انھوں نے اپنے ایک ساتھی کو مقتول پایا ۔ تو انھوں نے ان لوگوں سے کہا جن کے علاقے سے وہ ملا تھا: تم نے ہمارے ساتھی کو قتل کیا ہے ۔ ( ان کے انکار پر ) ان لوگوں نے اللہ کے رسول کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا: ہم خیبر گئے تھے ۔ پھر باقی حدیث ذکر کی اس حدیث کے آخری الفاظ یہ ہیں : تو نبی کریمﷺ نے اس کا خون رائیگاں قرار دینا پسند نہ کیا ، لہٰذا زکوٰۃ کے اونٹوں میں سے سواونٹ اس کی دیت ادا کر دی ۔

لِلَّذِينَ وَجَدُوهُ عِنْدَهُمْ: قَتَلْتُمْ صَاحِبَنَا. ← أَنَّ نَفَرًا مِنْهُمُ انْطَلَقُوا إِلَى خَيْبَرٍ فَتَفَرَّقُوا فِيهَا، فَوَجَدُوا أَحَدَهُمْ قَتِيلًا، ← بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ: أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِهِ يُقَالُ لَهُ ابْنُ أَبِي حَثْمَةَ ← سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ ← مَالِكٌ -يَعْنِي ابْنَ سُعَيْرِ بْنِ الْخِمْسِ- ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2384

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2385

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ -يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ- حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى؛ ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، كِلَاهُمَا عَنِ ابْنِ عَوْنٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَاصِمٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، كِلَاهُمَا عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ عَنْ أُمِّ الرَّايِحِ بِنْتِ صُلَيْعٍ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "إِنَّ الصَّدَقَةَ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ، وَإِنَّهَا عَلَى ذِي رَحِمٍ اثْنَتَانِ، إِنَّهَا صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ". هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ الصَّنْعَانِيِّ. وَقَالَ عَلِيٌّ: فِي خَبَرِ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَعِيسَى: عَنِ الرَّبَابِ، وَلَمْ يُكَنِّهَا، وَالرَّبَابُ هِيَ: أُمُّ الرَّايِحِ.

حضرت سلمان بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: بے شک مسکین آدمی کو صدقہ دینا صرف صدقہ ہی ہے اور رشتہ دار کو صدقہ دینا دو چیزیں ہیں : وہ صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی ۔"جناب ابن عیینہ اور عیسی کی روایت میں حدیث کی راویہ الرباب کا ذکر ہے اور اس کی کنیت کا ذکر نہیں ہے ۔ جبکہ الرباب ہی ام الرایح ہے ۔"

سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ ← اُمِّ الرَّائِحِ بِنْتِ صُلَیْعٍ ← حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، ← عَاصِمٍ، كِلَاهُمَا ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← وَحَدَّثَنَا ابْنُ خَشْرَمٍ، ← عَاصِمٍ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، ← ابْنِ عَوْنٍ ← مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، كِلَاهُمَا ← وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمِ، ← عِيسَى؛ ← وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، ← ابْنِ عَوْنٍ ← بِشْرٌ -يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ- ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2385

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2386

أَخْبَرَنَا الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَحْمَدَ الصَّابُونِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ [244 - أ] أَخْبَرَنَا أَبُو الطَّاهِرِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ كُلْثُومِ بِنْتِ عُقْبَةَ، -قَالَ سُفْيَانُ: وَكَانَتْ قَدْ صَلَّتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْقِبْلَتَيْنِ- قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ عَلَى ذِي الرَّحِمِ الْكَاشِحِ".

حضرت ام کلثوم بنت عقبہ ؓ سے روایت ہے امام سفیان فرماتے ہیں : حضرت ام کلثوم ؓ نے رسول اللہﷺ کے ساتھ دونوں قبلوں کی طر منہ کر کے نماز پڑھی ہے ۔ وہ فرماتی ہیں : رسول اللہﷺ نے فرمایا: " سب سے افضل صدقہ وہ ہے جو بغض وعداوت رکھنے والے رشتہ دار کو دیا جائے ۔"

سفيان وكانت قد صلت مع رسول الله القبلتين ← أُمِّهِ أُمِّ كُلْثُومِ بِنْتِ عُقْبَةَ ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ خُزَيْمَةَ، ← أَبُو الطَّاهِرِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بن أحمد الصَّابُونِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2386

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2387

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ: "لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ، وَلَا ذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ".

حضر ت ابوہریرہؓ نبی کریمﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: "کسی مالدار شخص اور طاقتور تندرست آدمی کےلیے زکوٰۃ کا مال حلال نہیں ہے ۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ: "لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ، وَلَا ذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ". ← أَبِي حَازِمٍ ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2387

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2388

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدْ بَيَّنْتُ هَذَا فِي عَقِبِ قَوْلِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّا آلَ مُحَمَّدٍ لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ".

امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : میں نے یہ مسئلہ نبی کریمﷺ کے اس قول کے بعد بیان کر دیا تھا کہ بے شک ہم آل محمد کے لیے زکوٰۃ کا مال حلال نہیں ہے ۔

آلَ مُحَمَّدٍ لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ". ← أَبُو بَكْرٍ: قَدْ بَيَّنْتُ هَذَا فِي عَقِبِ قَوْلِ النَّبِيِّ

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2388

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2830

ثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ، ثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ بِعَرَفَةَ، فَقَالَ لِي: يَا سَعِيدُ! مَا لِي لَا أَسْمَعُ النَّاسَ يُلَبُّونَ؟ فَقُلْتُ: يَخَافُونَ مِنْ مُعَاوِيَةَ. قَالَ: فَخَرَجَ ابْنُ عَبَّاسٍ مِنْ فُسْطَاطِهِ، فَقَالَ: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، فَإِنَّهُمْ قَدْ تَرَكُوا السُّنَّةَ مِنْ بُغْضِ عَلِيٍّ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي أَخْبَارُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ لَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ بَيَانٌ أَنَّهُ كَانَ يُلَبِّي بِعَرَفَاتٍ.

حضرت سعید بن جبیر ؒ فرماتے ہیں : ہم عرفات میں حضرت ابن عباس ؓکے ساتھ تھے ، تو انھوں نے مجھے کہا: اےسعید! کیا وجہ ہے کہ مجھے لوگوں کے تلبیہ پکارنے کی آواز نہیں آرہی ؟میں نے عرض کیا :وہ حضرت معاویہ سے ڈرتے ہیں ۔ حضرت ابن عباس ؓ اپنے خیمے سے نکلے اور کہنے لگے لَبَّیْکَ اللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ ۔" اے اللہ ! میں حاضر ہوں ، اے اللہ ! میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں ۔ " ان لوگوں نے حضرت علی ؓ کی دشمنی کی وجہ سے تلبیہ کی سنت کو چھوڑ دیا ہے۔ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : نبی کریمﷺ کی یہ احادیث کہ آپ جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے تک مسلسل تلبیہ کہتے رہے تھے ، اس بات کی دلیل ہیں کہ آپ میدان عرفات میں تلبیہ پکارتے تھے۔

سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، ← عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ← عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ*،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2830

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2831

حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَفَ بِعَرَفَاتٍ، فَلَمَّا قَالَ: "لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ"، قَالَ: "إِنَّمَا الْخَيْرُ خَيْرُ الْآخِرَةِ".

حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ عرفات میں ٹھہرے (وقوف کیا) ، تو جب تلبیہ کے یہ الفاظ کہے : لَبَّیْکَ اللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ ۔ تو یہ الفاظ بھی پڑھے :اِنَّاَ الْخَیْرَ خَرُرُ الْاَخِرَۃِ۔" یقیناً خیرو بھلائی تو آخرت کی خیرو بھلائی ہے۔"

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← دَاوُدُ، ← محبوب بن الحسن ← جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْجَهْضَمِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2831

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2832

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ؛ ح وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ آدَمَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، وقَالَ ابْنُ رَافِعٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْفَضْلُ قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ أَفَاضَ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ وَأَعْرَابِيٌّ يُسَايِرُهُ وَرِدْفُهُ ابْنَةٌ لَهُ حَسْنَاءُ، قَالَ الْفَضْلُ: فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهَا فَتَنَاوَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجْهِي يَصْرِفُنِي عَنْهَا، فَلَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ. وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ: يُسَايِرُهُ أَوْ يُسَائِلُهُ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَرَوَى سُكَيْنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْبَصْرِيُّ -وَأَنَا بَرِيء [280 - أ] مِنْ عُهْدَتِهِ وَعُهْدَةِ أَبِيهِ -قَالَ أَبِي: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ كَانَ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ عَرَفَةَ، فَجَعَلَ الْفَضْلُ يُلَاحِظُ النِّسَاءَ وَيَنْظُرُ إِلَيْهِنَّ، وَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَصْرِفُ وَجْهَهُ بِيَدِهِ مِنْ خَلْفِهِ، وَجَعَلَ الْفَتَى يُلَاحِظُ إِلَيْهِنَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "يَا ابْنَ أَخِي! إِنَّ هَذَا يَوْمٌ مَنْ مَلَكَ فِيهِ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ وَلِسَانَهُ غُفِرَ لَهُ".

حضرت ابن رافع بیان کرتے ہیں کہ مجھے حضرت فضل نے بیان کیا: جب نبی کریم ﷺ مزدلفہ سے (منیٰ کی طرف) روانہ ہوئے تو میں آپ کے پیچھے اونٹنی پر سوار تھا ۔ ایک اعرابی آپ کے ساتھ چل رہا تھا اور آپ سے مسائل پوچھ رہا تھا ۔ اسل کے پیچھے اس کی خو بصورت بیٹی سوار تھی ۔ حضرت فضل بیان کرتے ہیں کہ میں نے اس لڑکی کی طرف دیکھنا شروع کر دیا تو رسول اللہﷺ نےمجھے چہرے سے پکڑ کر دوسری طر ف گھما دیا۔ پھر آپ جمرہ عقبہ کو رمی کرنے تک مسلسل لبیک پکارتے رہے ۔ جناب ابنرافع کی روایت میں ہے :وہ اعرابی آپ کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا یا آپ سے سوال پوچھ رہا تھا ۔امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : سکینِ بن عبدالعزیز بصری سے مروی ہے جبکہ میں اس کی اور اس کے باپ کی ذمہ داری سے بری الذمہ ہوں ۔ وہ کہتا ہے : میں نے اپنے سالد کو فرماتے ہوئے سنا کہ مجھے ابن عباس ؓ نے بیان کیا کہ فضل بن عباس عرفہ ولے دن رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سوار تھے توفضل ؓ نے عورتو ں کی طرف دیکھنا شروع کر دی اور رسول اللہ ﷺ اپنے دست مبارک سے اپنے پیچھے سے فضل کا چہرہ دوسری طرف پھیرنے لگے لیکن فضل ؓ (دوسری طرف ) عورتوں کو دیکھنے الگ گئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"اے میرے بھتیجے!بے شک جو شخص آج کے دن اپنے کانوں، آنکھوں اور زبان کی حفاظت کرے اس کے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔"

الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ: ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← اِسْرَائِیْلُ ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2832

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2833

حَدَّثَنَاهُ نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثَنَا أَسَدٌ، ثَنَا سُكَيْنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْبَصْرِيُّ.

امام صاحب نے سکین بن عبدالعزیز کی حدیث کی سند بیان کی ہے۔

سُكَيْنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْبَصْرِيُّ. ← أسد ← نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2833

chevron_left Previous
1…226227228…258
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden22. The groups of the gates of obligatory travel23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness24. The congregation of the gates of prayer on the rows25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr37. The gates of the prayer of fear38. Collections of the gates of an eclipse prayer39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals