Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2377

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَمُرَةَ الْأَحْمَسِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عِيسَى بْنِ مَعْقِلِ بْنِ أَبِي مَعْقِلٍ الْأَسَدِيِّ -أَسَدِ خُزَيْمَةَ- عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ مَعْقِلٍ قَالَتْ: تَجَهَّزَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلْحَجِّ وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَتَجَهَّزُوا مَعَهُ، قَالَتْ: وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَخَرَجَ النَّاسُ مَعَهُ، فَلَمَّا قَدِمَ جِئْتُهُ. فَقَالَ: "مَا مَنَعَكِ أَنْ تَخْرُجِي مَعَنَا فِي وَجْهِنَا هَذَا يَا أُمِّ مَعْقِلٍ؟ " قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! لَقَدْ تَجَهَّزْتُ فَأَصَابَتْنَا هَذِهِ الْقُرْحَةُ، فَهَلَكَ أَبُو مَعْقِلٍ، وَأَصَابَنِي مِنْهَا سَقَمٌ، وَكَانَ لَنَا جمْلٌ نُرِيدُ أَنْ نَخْرُجَ عَلَيْهِ فَأَوْصَى بِهِ أَبُو مَعْقِلٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ. قَالَ: "فَهَلَّا خَرَجْتِ عَلَيْهِ؛ فَإِنَّ الْحَجَّ مِنْ سَبِيلِ اللَّهِ".

حضرت ام معقل ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے حج کی تیاری کی اور لوگوں کو بھی اپنے ساتھ حج کی تیاری کر نے کا حکم دیا ۔ حضرت ام معقل ؓ فرماتی ہیں : رسول اللہﷺ حج کےلیے روانہ ہوگئے اور صحابہ کرام بھی آپ کے ساتھ حج کےلیے چلے گئے ۔ پھر جب آپ واپس تشریف لائے تو میں آپ کے پاس حاضر ہوئی تو آپ نے فرمایا: "اے ام معقل! تم ہمارے ساتھ ہمارے اس حج میں کیوں نہیں گئی ؟ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ﷺ!میں نے تیاری کر لی تھی پھر ہمیں بیماری نے دبوچ لیا جس میں ابو معقل ؓ فوت ہو گئے اور میں بھی بیمار ہوگئی ۔ ہمارے پاس ایک اونٹ تھا ہم اس پر حج کرنے کےلیے جانا چاہتے تھے مگر ابومعقل ؓ نے اسے اللہ کی راہ میں وقف کرنے کی وصیت کر دی ۔ آپ نے فرمایا:"توتم اس اونٹ پر سوا ر ہو کر کیوں نہیں گئی ، کیونکہ حج بھی تو فی سبیل اللہ میں شامل ہے ۔"

وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ وَخَرَجَ النَّاسُ مَعَهُ، فَلَمَّا قَدِمَ جِئْتُهُ. ← تَجَهَّزَ رَسُولُ اللَّهِ لِلْحَجِّ وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَتَجَهَّزُوا مَعَهُ، ← جَدَّتِهِ أُمِّ مَعْقَلٍ ← يُوسُفَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلامٍ ← عِيسَى بْنِ مَعْقِلِ بْنِ أَبِي مَعْقَلٍ الْأَسَدِيِّ أَسَدُ خُزَيْمَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← الْمُحَارِبِيُّ2 ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَمُرَةَ الْأَحْمَسِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2377

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2378

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِي لَاسٍ الْخُزَاعِيِّ قَالَ: حَمَلَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى إِبِلٍ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ ضِعَافٍ لِلْحَجِّ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا نَرَى أَنْ تَحْمِلَنَا هَذِهِ. فَقَالَ: "مَا مِنْ بَعِيرِ إِلَّا عَلَى ذُرْوَتِهِ شَيْطَانٌ. فَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِذَا رَكَبْتُموهَا كَمَا أَمَرَكُمْ، ثُمَّ امْتَهِنُوهَا لِأَنْفُسِكُمْ، فَإِنَّمَا يَحْمِلُ اللَّهُ".

حضرت ابولاس خزائی ؓ بیان کرتے ہیں : رسول اللہﷺ نے ہمیں حج کےلیے زکوٰۃ کے اونٹوں میں سے چند کمزور اونٹ سواری کےلیے دیئے تو ہم نے عرضی کی : اے اللہ کے رسول! ہمارے خیال میں یہ اونٹ سواری کے قابل نہیں ہیں۔ آپ نے فرمایا: "ہر اونٹ کو کوہان پر ایک شیطان ہوتا ہے لہٰذا جب تم سوار ہونے لگو تو بسم اللہ پڑھ لو جیسا کہ اس نے تمہیں حکم دیا ہے ۔ پھر تم ان سے اپنی خوب خدمت لو ۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰؒ ہی سواری عطا کرتا ہے ( اور ان جانوروں کو تمہارا مطیع کرتا ہے ۔)"

حَمَلَنَا رَسُولُ اللَّهِ عَلَى إِبِلٍ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ ضِعَافٍ لِلْحَجِّ، فَقُلْنَا: ← أَبِي لَاسٍ الْخُزَاعِيِّ ← عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2378

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2379

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ [243 - أ] وَالْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: كُنْتُ امْرَأً قَدْ أُوتِيتُ مِنْ جِمَاعِ النِّسَاءِ مَا لَمْ يُؤْتَ غَيْرِي، فَلَمَّا دَخَلَ رَمَضَانُ تَظَاهَرْتُ مِنَ امْرَأَتِي مَخَافَةَ أَنْ أُصِيبَ مِنْهَا شَيْئًا فِي بَعْضِ اللَّيْلِ؛ فَأَتَتَابَعُ فِي ذَلِكَ، فَلَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَنْزِعَ حَتَّى يُدْرِكَنِي الصُّبْحُ، فَبَيْنَا هِيَ ذَاتُ لَيْلَةٍ تَخْدُمُنِي إِذْ تَكَشَّفَ لِي مِنْهَا شَيْءٌ، فَوَثَبْتُ عَلَيْهَا، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ عَلَى قَوْمِي، فَأَخْبَرْتُهُمْ خَبَرِي، فَقُلْتُ: انْطَلِقُوا مَعِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَأُخْبِرُهُ. قَالُوا: لَا وَاللَّهِ! لَا نَذْهَبُ مَعَكَ، نَخَافُ أَنْ يَنْزِلَ فِينَا قُرْآنٌ أَوْ يَقُولُ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَقَالَةً يَبْقَى عَلَيْنَا عَارُهَا، فَاذْهَبْ أَنْتَ وَاصْنَعْ مَا بَدَا لَكَ. فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ خَبَرِي، قَالَ: "أَنْتَ بِذَاكَ؟ " قَالَ: أَنَا بِذَاكَ. وَهَا أَنا ذي، فَامْضِ فِيَّ حُكْمَ اللَّهِ فَإِنِّي صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ. قَالَ: "اعْتِقْ رَقَبَةً". فَضَرَبْتُ صَفْحَةَ رَقَبَتِي بِيَدِي، فَقُلْتُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَصْبَحْتُ أَمْلِكُ غَيْرَهَا. قَالَ: "صُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ" قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَهَلْ أَصَابَنِي مَا أَصَابَنِي إِلَّا فِي الصِّيَامِ. قَالَ: "أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَقَدْ بِتْنَا لَيْلَتَنَا هَذِهِ وَحْشًا (1) مَا نَجِدُ عَشَاءً. قَالَ: "فَانْطَلِقْ إِلَى صَاحِبِ الصَّدَقَةِ صَدَقَةِ بَنِي زُرَيْقٍ فَمُرْهُ فَلْيَدْفَعْهَا إِلَيْكَ، فَأَطْعِمْ مِنْهَا وَسْقًا سِتِّينَ مِسْكِينًا، وَاسْتَعِنْ بِسَائِرِهَا عَلَى عِيَالِكَ". فَأَتَيْتُ قَوْمِي، فَقُلْتُ: وَجَدْتُ عِنْدَكُمُ الضِّيقَ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَمْ أَفْهَمْ عَنِ الدَّوْرَقِيِّ مَا بَعْدَهَا، وَقَالَ الْآخَرُونَ: وَجَدْتُ عِنْدَكُمُ الضِّيقَ وَسُوءَ الرَّأْيِ، وَوَجَدْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - السَّعَةَ وَالْبَرَكَةَ، قَدْ أَمَرَ لِي بِصَدَقَتِكُمْ، فَادْفَعُوهَا إِلَيَّ. قَالَ: فَدَفَعُوهَا إِلَيَّ. وَقَالَ بَعْضُهُمْ: حَسَاءً.

حضرت سلمہ بن صخر انصاری ؓ بیان کرتے ہیں کہ مجھے عورتوں سے جماع کرنے کی جتنی قوت ملی تھی ۔ کسی اور کو حاصل نہ تھی ۔ جب رمضان کا مہینہ آیا تو میں نے اپنی بیوی سے ظہار کر لیا ۔ اس ڈر سے کہیں رمضان المبارک کی کسی رات اس سے ہمبستری نہ کرنے لگ جاؤں، پھر اس کام میں مسلسل لگا رہوں حتیٰ کہ صبح ہو جائے اور میں فارغ ہی نہ ہو سکوں ۔ پھر اس دوران کہ ایک رات وہ میری خدمت کر رہی تھی جب اس کے جسم کا کوئی حصہ میرے سامنے کھل گیا ( تو میں خود پر قابو نہ پاسکا ، اس لیے) کو د کر اس پر سوار ہوگیا ۔ پھر جب صبح ہوئی تو میں اپنی قوم کے پاس گیا اور اپنی کار گزار ی انہیں بتائی ۔ میں نے ان سے گزارش کی کہ تم میرے ہمراہ رسول اللہﷺ کے پاس چلو تا کہ میں آپ کو اپنی خبر بتا سکوں ۔ انہوں نے جواب دیا : نہیں ، اللہ کی قسم! ہم تمہارے ساتھ نہیں جائیں گے ہم تو اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ کہیں ہمارے بارے میں قرآن نہ نازل ہو جائے یا رسول اللہﷺ ہمارے بارے میں کوئی ایسی بات نہ کہہ دیں جس کی عار وشرمندگی ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے ۔ اس لیے تم خود ہی جاؤ اور جو تمہارے جی میں آئے کر گزرو ۔ چنانچہ میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی کار گزاری بتا دی ۔ آپ نے فرمایا: " کیا واقعی تم نے ایسا ہی کیا ہے ؟"میں نے عرض کی : جی ہاں ! ایسے ہی کیا ہے اور میں اب آپ کی خدمت میں حاضر ہوں آپ مجھ پر اللہ کا حکم نافذ کر یں، میں بڑے صبر کے ساتھ ثواب کی نیت سے سزا برداشت کروں گا ۔ آپ نے فرمایا: "ایک غلام آذاد کرو۔"میں نے اپنی گردن پر ہاتھ مار کر کہا: جس ذات نے آپ کو حق دے کر مبعوث فرمایا ہے ، میں اس گردن کے سوا کسی کا مالک نہیں ہوں ۔ آپ نے فرمایا: "دو ماہ کے مسلسل روزے رکھو۔"میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسولﷺ! میں نے اس غلطی کا ارتکاب رمضان ہی میں تو کیا ہے ۔( مزید روزے کیسے رکھ سکوں گا ) ۔ آپ نے فرمایا: "ساٹھ مساکین کو کھانا کھلا دو ۔" میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے ! ہم نے آپ رات بھوکے گزاری ہے ہمارے پاس رات کا کھانا بھی نہیں تھا ۔ آپ نے فرمایا: "جاؤ بنی زریق کی زکوٰۃ کے تحصیل دار کے پاس جاؤ اور اسے کہو کہ وہ بنی زریق کی زکوٰۃ تمہیں دے دے ۔ اس میں سے ایک وسق ساٹھ مساکین کو کھلا دو اور باقی سارا مال اپنے گھر والوں پر خرچ کر لو۔ "پھر میں اپنی قوم کے پاس آیا تو میں نے کہا: میں نے تمہارے اندر تنگ دلی اور تنگ نظری پائی ہے ۔ امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : اس کے بعد دور قی کی روایت کو میں سمجھ نہیں سکا ۔ دیگر راویوں نے یہ الفاظ بیان کیے ہیں : میں نے تمہارے پاس تنگ دلی اور بری رائے کو پایا ہے جبکہ میں نے رسول اللہﷺ کے پاس فراخی اور برکت پائی ہے ۔ آپ نے مجھے تمہاری زکوٰۃ وصول کرنے کا حکم دیا ہے لہٰذا تم وہ میرے حوالے کر دو ۔ فرماتے ہیں : تو انہوں نے اپنی زکوٰۃ میرے حوالے کر دی۔ بعض راویوں نے عشاء ( رات کا کھا نا) کی بجائے حساء ( شوربہ) کا لفظ روایت کیا ہے ۔"

سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ الأَنْصَارِيِّ ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ ← أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2379

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2822

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الْمَكِّيُّ، ثنا [عبد الله بن رجاء، ثَنَا] سُفْيَانُ الثَّوْرِيِّ؛ ح وَثَنَا بُنْدَارٌ ثَنَا يَحْيَى؛ ح وَثَنَا أَبُو مُوسَى، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَا: ثَنَا سُفْيَانُ؛ ح وَثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ -وَهَذَا حَدِيثُ بُنْدَارٍ- عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمُرَ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِعَرَفَةَ وَأَتَاهُ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ وَهُمْ بِعَرَفَةَ فَسَأَلُوهُ، فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى: "الْحَجُّ عَرَفَةُ، مَنْ جَاءَ لَيْلَةَ جَمْعٍ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ، فَقَدْ أَدْرَكَ الْحَجَّ، أَيَّامُ مِنًى ثَلَاثا، فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ، وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ"، وَأَرْدَفَ رَجُلًا فَنَادَى. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذِهِ اللَّفْظَةُ: "الْحَجُّ عَرَفَةُ"، مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي أَعْلَمْتُ فِي كِتَابِ الْإِيمَانِ أَنَّ الِاسْمَ بِاسْمِ الْمَعْرِفَةِ قَدْ يَقَعُ عَلَى بَعْضِ أَجْزَاءِ الشَّيْءِ ذِي الشُّعَبِ وَالْأَجْزَاءِ، قَدْ أَوْقَعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْمَ الْحَجَّ بِاسْمِ الْمَعْرِفَةِ عَلَى عَرَفَةَ، أَرَادَ الْوُقُوفَ بِهَا، وَلَيْسَ الْوُقُوفُ بِعَرَفَةَ جَمِيعَ الْحَجِّ، إِنَّمَا هُوَ بَعْضُ أَجْزَائِهِ لَا كُلُّهُ، وَقَدْ بَيَّنْتُ مِنْ هَذَا الْجِنْسِ فِي كِتَابِ الْإِيمَانِ مَا فِيهِ الْغُنيَة وَالْكِفَايَةِ لِمَنْ وَفَّقَهُ اللَّهُ لِلرَّشَادِ وَالصَّوَابِ.

حضرت عبدالرحمٰن بن یعمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریمﷺ کے پاس عرفات میں حاضر ہوا ، اور آپ کے پاس نجد کے کچھ لوگ بھی حاضر ہوئے جبکہ وہ بھی عرفات ہی میں تھے۔ انھوں نے آپ سے سوال کیا تو آپ نے منادی کرنے والے کو حکم دیا تو اس نے یہ اعلان کیا: "حج عرفہ ہے۔ " جو شخص مزدلفہ کی رات فجر سے پہلے عرفات پہنچ گیا تو اس نے حج پالیا منیٰ میں ٹھہرنے کے تین دن ہیں ۔ پھر جو شخص دو دن میں جلدی کرے تو اس پر گناہ نہیں اور جو تا خیر کرئے (تیسرا دن بھی منیٰ میں گزارے ) تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھا لیا جو یہ اعلان کر رہا تھا ۔ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : یہ الفاظ "حج عرفہ ہے۔" یہ مسئلہ اسی قسم سے ہے جسے میں کتاب الایمان میں بیان کر چکا ہوں کہ کبھی الف لام کے ساتھ معرفہ بننے والے اسم کا اطلاق پوری چیز کی بجائے اس کے کسی جز اور حصے پر بھی ہو جاتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ "الحج" کہہ کر مراد عرفات کا وقوف لیا ہےحلانکہ وقوف عرفات مکمل حج نہیں ہے بلکہ یہ تو حج کا ایک حصہ ہے ۔ میں نے کتاب الایمان میں یہ قسم بیان کر دی ہے، جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے دینی سمجھ بوجھ اور درست راستےکی ہدایت دی ہو اس کے لیے یہ کافی ہے۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمَرَ ← بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ ← سُفْيَانَ وَهَذَا حَدِيثُ بُنْدَارٍ ← وَكِيعٌ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← أَبُو مُوسَى، ← يَحْيَى ← بُنْدَارٌ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الْمَكِّيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2822

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2823

ثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثَنَا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَمِّهِ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: كَانَتْ قُرَيْشٌ إِنَّمَا تَدْفَعُ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ، وَيَقُولُونَ: نَحْنُ الْحُمْسُ فَلَا نَخْرُجُ مِنَ الْحَرَمِ، وَقَدْ تَرَكُوا الْمَوْقِفَ عَلَى عَرَفَةَ. قَالَ: فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْجَاهِلِيَّةِ يَقِفُ مَعَ النَّاسِ بِعَرَفَةَ عَلَى جَمَلٍ لَهُ، ثُمَّ يُصْبِحُ مَعَ قَوْمِهِ بِالْمُزْدَلِفَةِ فَيَقِفُ مَعَهُمْ يَدْفَعُ إِذَا دَفَعُوا.

حضرت جبیر بن مطعم ؓ بیان کرتے ہیں کہ قریش کے لوگ مزدلفہ ہی واپس آجاتے تھے اور کہتے تھے :" ہم حمس (دین میں پختہ اور بہتر لوگ) ہیں اس لیے ہم حدود حرم سے باہر نہیں جائیں گے ان لوگوں نے وقوف عرفات ترک کیا ہوا تھا ۔ فرماتے ہیں :میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ لوگوں کے ساتھ میدان عرفات میں اپنے اونٹ پر سوار تھے۔ پھر آپ صبح کے وقت اپنی قوم کے ساتھ مزدلفہ میں آملتے ، آپ ان کے ساتھ ٹھہرے رہتے حتی کہ جب وہ منیٰ کی طرف لوٹتےتو آپ ان کے ساتھ روانہ ہوتے۔

أَبِيه جُبَير بن مطعم، ← عَمِّهِ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، ← عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2823

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2824

ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، ثَنَا هُشَيْمٌ، أَنَا عَبْدُ الْمَلَكِ، أَخْبَرَنَا عَطَاءٌ قَالَ: قَالَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ: كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِعَرَفَاتٍ فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَمَالَتْ بِهِ نَاقَتُهُ فَسَقَطَ خِطَامُهَا فَتَنَاوَلَ الْخِطَامُ بِإِحْدَى يَدَيْهِ وَهُوَ رَافِع يَدَهُ الْأُخْرَى [279 - ب].

حضرت اسامہ بن زید ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں عرفات میں رسولاللہ ﷺ کے پیچھے اونٹنی پر سوار تھا ۔ آپ نے دعا کے لیے دونوں ہاتھ بلند کیے تو آپ کی اونٹنی نے آپ کو ایک جانب جھکا دیا جس سے اس کی نکیل گر گئی ، آپ نے نکیل ایک ہاتھ میں پکڑ لی اور دوسرا ہاتھ دعا کے لیے اٹھا لیا۔

عَطَاءٍ، ← عَبْد الْمَلِكِ؛ ← هُشَيْمٌ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2824

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2825

ثَنَاهُ يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلَكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ عَرَفَاتٍ، وَرِدْفُهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ. قَالَ: فَمَالَتْ بِهِ النَّاقَةُ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ مَا تُجَاوِزَانِ (1) رَأْسَهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَى جَمْعٍ، وَأَفَاضَ مِنْ جَمْعٍ وَرِدْفُهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَ الْفَضْلُ: مَا زَالَ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الجَمْرَة.

حضرت ابن عباس بیان کرتےہیں کہ رسول اللہ ﷺ عرفات سے واپس لوٹے اور حضرت اسامہ ؓ کو اپنے پیچھے سوار کر لیا۔ آپ کی اونٹنی نے آپ کو ایک طرف جھکا دیا جبکہ آپ نے دونوں ہاتھ دعا کے لیے اٹھائےہوئے تھے مگر وہ سر سے اونچے نہیں تھے، حتی کہ آپ مزدلفہ پہنچ گئے۔ آپ مزدلفہ سے واپس روانہ ہوئےل تو حضرت فضل بن عباس ؓآپ کے پیچھے سوار تھے ۔ حضرت فضل ؓ فرماتے ہیں جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے تک آپ مسلسل تلبیہ پڑھتے رہے۔

أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ مِنْ عَرَفَاتٍ، وَرِدْفُهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ. ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، ← جَرِيرٌ ← ثَنَاهُ يُوسُفُ بْنُ مُوسَى

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2825

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2826

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ثَنَا حَاتِمٌ، ثَنَا جَعْفَرٌ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى جَابِرٍ، فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي عَنْ حَجَّةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَذَكَرَ بَعْضَ الْحَدِيثِ، وَقَالَ: رَكِبَ الْقَصْوَاءَ حَتَّى أَتَى الْمَوْقِفَ، فَجَعَلَ بَطْنَ نَاقَتِهِ إِلَى الصَّخَرَاتِ، وَجَعَلَ حَبلَ الْمُشَاةِ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، فَلَمْ يَزَلْ وَاقِفًا، حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ، وَذَهَبَتِ الصُّفْرَةُ قَلِيلًا حِينَ غَابَ الْقُرْصُ.

جناب جعفر اپنے سالد سے بیان کرتےہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ ؓ کے پاس آئے اور میں نے کہا آپ ہمیں رسول اللہ ﷺ کے حج کے بارے میں بتائیے ؟ انہوں نے حدیث بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ آپﷺ قصواء اونٹنی پر سوار ہو کر عرفات تشریف لائے اور اپنی اونٹنی کا پیٹ (رخ ) پہاڑی (جبل رحمت) کی چٹانوں کی طرف کر دیا اور لوگوں کے چلنے کے ریتلے راستے کو اپنے سامنے رہنے دیا اور آپ ﷺ قبلہ رخ ہو گئے اور آپ ﷺ شام تک ٹھہرے رہے یہاں تک کہ آفتاب غروب ہو گیا اور زردی کم ہو گئی اور سورج کی ٹکیہ پوری طرح ڈوب گئی۔

بَعْضَ الْحَدِيثِ، ← حَجَّةِ رَسُولِ اللَّهِ ← دَخَلْنَا عَلَى جَابِرٍ، فَقُلْتُ: ← أَبِيهِ ← جَعْفَرٌ، ← حَاتِمٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2826

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2827

ثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ؛ ح وثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُنْقِد، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ يُونُسَ بْنَ يُوسُفَ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَائِشَةَ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "مَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرُ أَنْ يُعْتِقَ اللَّهُ فِيهِ عَبْدًا مِنَ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ، وَإنَّهُ لَيَدْنُو (1)، ثُمَّ يُبَاهِي الْمَلَائِكَةَ، وَيَقُولُ: مَا أَرَادَ هَؤُلَاءِ؟ ".

حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: " عرفہ کے دن کے سوا کوئی ایسا نہیں جس میں اللہ تعالیٰ اتنی کثرت سے بندوں کو جہنم کی اآگ سے نجات عطا فرمائیں ۔ اس روز اللہ (اپنے بندوں کے ) بہت قریب ہو جاتا ہے اور پھر فرشتوں کے ساتھ (ان کا حجاج کی وجہ سے ) فخر کااظہار کرتا ہے۔ اور فرشتوں سے پوچھتا ہے : یہ لوگ کیا چاہتے ہیں۔"

عَائِشَةَ ← ابْنِ الْمُسَيِّبِ، ← يُونُسَ بْنَ يُوسُفَ، ← أَبِيهِ ← مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← وثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُنْقِد، ← مَخْرَمَةَ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2827

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2828

ثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ: أَنَّ نَاسًا تَمَارَوْا عِنْدَ أُمِّ الْفَضْلِ يَوْمَ عَرَفَةَ فِي رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: هُوَ صَائِمٌ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَيْسَ بِصَائِمٍ. فَأَرْسَلَتْ أُمُّ الْفَضْلِ بِقَدَحِ لَبَنٍ وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى بَعِيرِهِ فَشَرِبَ، هُوَ يَوْمَئِذٍ بِعَرَفَةَ. ثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ عُمَيْرٍ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِذَلِكَ.

حضرتس امّ فضل بنت حارث سے روایت ہے کہ عرفہ والے دن ان کے پاس کچھ صحابہ کرام کا اختلاف ہو گیا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے روزہ رکھا ہو اہے یا نہیں ؟ کچھ کہنے لگے کہ رسول اللہ ﷺ کا روزہ ہے اور کچھ کہنے لگے کہ آپ نے روزہ نہیں رکھا پس حضرت ام فضل ؓ نے آپ کی خدمت میں دودھ کا ایک پیالہ بھیجا جبکہ آپ اپنی اونٹنی پر تشریف فرما تھے ، آپ نےدودھ پی لیا، آپ اس دن میدان عرفات میں تھے۔"

أم الفضل بنت الحارث ← عُمَيْرٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي النَّضْرِ ← مالک بن أنس ← ابْنُ وَهْبٍ، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2828

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2829

وَثَنَا الرَّبِيعُ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ كُرَيْبٍ -مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ- عَنْ مَيْمُونَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ بِذَلِكَ.

حضرت میمونہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے یہی روایت بیان کرتی ہیں

رَسُولِ اللَّهِ بِذَلِكَ. ← مَيْمُونَةَ، ← کُرَیْبٍ مَوْلٰی ابْنِ عَبَّاسٍ ← بُكَيْرٍ، ← عَمْرٍو، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← وَثَنَا الرَّبِيعُ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2829

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2380

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَطَاءِ بْنِ مَقْدَمٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا سَاعِيًا عَلَى الصَّدَقَةِ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنَ الْأَغْنِيَاءِ فَيَقْسِمُهُ عَلَى الْفُقَرَاءِ، فَأَمَرَ لِي بِقَلُوصٍ.

حضرت ابو جحیفہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ایک شخص کو زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا اور اسے حکم دیا کہ وہ دولت مندوں سے زکوٰۃ لے کر ( اس علاقے کے) فقرا ء میں تقسیم کر دے ، تو اس نے مجھے بھی ایک جوان اونٹنی دینے کا حکم دیا ( کیونکہ یہ بھی مستحقین میں شامل تھے)۔ "

أَبِيهِ ← عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، ← أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، ← عُمَرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَطَاءِ بْنِ مَقْدَمٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2380

chevron_left Previous
1…225226227…258
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden22. The groups of the gates of obligatory travel23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness24. The congregation of the gates of prayer on the rows25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr37. The gates of the prayer of fear38. Collections of the gates of an eclipse prayer39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals