صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2353
وَفِي خَبَرِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ وَمَصِيرِهِ مَعَ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَسْأَلَتِهِمَا إِيَّاهُ اسْتِعْمَالَهُمَا عَلَى الصَّدَقَةِ، وَإِعْلَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهُمَا أَنَّ هَذِهِ الصَّدَقَةَ إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ، وَلَا تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ وَلَا لِآلِ مُحَمَّدٍ. وَإِنَّمَا كَانَتْ مَسْأَلَتُهُمَا اسْتِعْمَالَهُمَا عَلَى الصَّدَقَاتِ الْمَفْرُوضَاتِ، فَقَوْلُهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي إِجَابَتِهِ إِيَّاهُمَا: إِنَّ هَذِهِ الصَّدَقَةَ أَيِ الَّتِي سَأَلْتُمَانِيَ أَسْتَعْمِلُكُمَا عَلَيْهَا، إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ، وَلَا تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ وَلَا لِآلِ مُحَمَّدٍ.
اور حضرت عبدالمطلب بن ربیعہ کی روایت میں بھی ( فرضی زکوٰۃ کی وضاحت ہے ) جب وہ حضرت فضل بن عباسؓ کے ساتھ نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے اور آپ سے زکوٰۃ کی وصولی پر عامل مقرر کرنے کا سوال کیا تھا اور نبی کریمﷺ نے ان دونوں کو بتایا تھا کہ یہ زکوٰۃ لوگوں کی میل کچیل ہے اور یہ مال محمد ﷺ اور آپ کی آل کےلیے حلال نہیں ہے اور بلاشبہ انہوں نے فرضی زکوٰۃ کی وصولی پر عامل مقرر کرنے کا سوال کیا تھا ۔ لہٰذا نبی کریمﷺ کا ان دونوں کو یہ جواب دینا کہ یہ صدقہ جس پر تم نے عامل مقرر کیے جانے کا مجھ سے سوال کیا ہے یہ تو لوگوں کی میل کچیل ہے اور یہ مال محمد اور آپ کی آل کےلے حلال نہیں ہے ۔ "
Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2353
