صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2341
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ: اسْتَعْمَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا مِنَ الْأَزْدِ عَلَى صَدَقَاتِ بَنِي سُلَيْمٍ يُقَالُ لَهُ: ابْنُ اللُّتْبِيَّةِ، فَلَمَّا جَاءَ حَاسَبَهُ. قَالَ: هَذَا مَالُكُمْ وَهَذَا هَدِيَّةٌ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "فَهَلَّا جَلَسْتَ فِي بَيْتِ أَبِيكَ وَأُمِّكَ حَتَّى تَأْتِيَكَ هَدِيَّتُكَ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا"، ثُمَّ خَطَبَنَا فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: "أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي أَسْتَعْمِلُ الرَّجُلَ مِنْكُمْ عَلَى الْعَمَلِ مِمَّا وَلَّانِيهِ اللَّهُ، فَيَأْتِي فَيَقُولُ: هَذَا مَالُكُمْ وَهَذِهِ هَدِيَّةٌ لِي، أَفَلَا جَلَسَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ حَتَّى تَأْتِيَهُ هَدِيَّتُهُ إِنْ كَانَ صَادِقًا، وَاللَّهِ لَا يَأْخُذُ أَحَدٌ مِنْكُمْ شَيْئًا بِغَيْرِ حَقِّهِ إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ يَحْمِلُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَلَا أَعْرِفَنَّ (2) أَحَدًا مِنْكُمْ لَقِيَ اللَّهَ يَحْمِلُ بَعِيرًا لَهُ رُغَاءٌ، أَوْ بَقَرَةً لَهَا خُوَارٌ، أَوْ شَاةً تَيْعَرُ"، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رُئِيَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ، ثُمَّ يَقُولُ: "اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ". بَصَرَ عَيْنِي، وَسَمْعَ أُذُنَيَّ.
حضرت ابو حمید الساعدی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے بنو سلیم کی زکوٰۃ وصول کرنے کےلیے ازد قبیلے کے ایک شخص کو عامل بنایا جسے ابن لتبیہ کہا جاتا ہے ۔ پھر جب وہ مال لے کر حاضر ہوا تو آپ نے اس کا محاسبہ کیا تو اس نے کہا: یہ آپ کا حصہ ہے اور یہ ( میرا ) ہدیہ ہے ۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا: "تم اپنے ماں باپ کے گھر کیوں نہ بیٹھ گئے حتیٰ کہ تیرا ہدیہ تیرے پاس آجاتا اگر تم سچے ہو۔" پھر ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا تو اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی ، پھر فرمایا: اما بعد ! میں تم میں سے کسی شخص کو کسی کام کا عامل بناتا ہوں ، ان کاموں میں سے کسی کام کا جن کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے مجھے دی ہے تو وہ واپس آتا ہے تو کہتا ہے : یہ تمہارا مال ہے اور یہ مجھے ہدیہ دیا گیا ہے ۔ وہ شخص اپنے ماں باپ کے گھر میں کیوں نہ بیٹھ گیا حتیٰ کہ اس کا ہدیہ اس کے پاس آجاتا ، اگر وہ سچا ہے ۔ اللہ کی قسم! تم میں سے جو شخص بھی بغیر حق کے کوئی چیز اٹھائے ہوئے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کر ے گا تو میں تم میں سے کسی شخص کو نہ پہچانوں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے کہ اس نے اونٹ کو اٹھایا ہو اور وہ بلبلا رہا ہو ، یا اس نے گائے اٹھا رکھی ہو جو چلاّ رہی ہو یا اس کی گردن پر بکری سوار ہو جو ممیا رہی ہو ۔ "پھر آپ نے اپنے ہاتھ بلند کیے حتیٰ کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آگئی پھر آپ نے فرمایا: "اے اللہ!کیا میں نے تیرا حکم پہنچا دیا ۔" میری آنکھوں نے یہ منظر دیکھا او ر میرے کانوں نے یہ الفاظ سنے۔
أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← أَبِيهِ ← هِشَامٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ
Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2341
