Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2341

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ: اسْتَعْمَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا مِنَ الْأَزْدِ عَلَى صَدَقَاتِ بَنِي سُلَيْمٍ يُقَالُ لَهُ: ابْنُ اللُّتْبِيَّةِ، فَلَمَّا جَاءَ حَاسَبَهُ. قَالَ: هَذَا مَالُكُمْ وَهَذَا هَدِيَّةٌ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "فَهَلَّا جَلَسْتَ فِي بَيْتِ أَبِيكَ وَأُمِّكَ حَتَّى تَأْتِيَكَ هَدِيَّتُكَ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا"، ثُمَّ خَطَبَنَا فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: "أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي أَسْتَعْمِلُ الرَّجُلَ مِنْكُمْ عَلَى الْعَمَلِ مِمَّا وَلَّانِيهِ اللَّهُ، فَيَأْتِي فَيَقُولُ: هَذَا مَالُكُمْ وَهَذِهِ هَدِيَّةٌ لِي، أَفَلَا جَلَسَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ حَتَّى تَأْتِيَهُ هَدِيَّتُهُ إِنْ كَانَ صَادِقًا، وَاللَّهِ لَا يَأْخُذُ أَحَدٌ مِنْكُمْ شَيْئًا بِغَيْرِ حَقِّهِ إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ يَحْمِلُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَلَا أَعْرِفَنَّ (2) أَحَدًا مِنْكُمْ لَقِيَ اللَّهَ يَحْمِلُ بَعِيرًا لَهُ رُغَاءٌ، أَوْ بَقَرَةً لَهَا خُوَارٌ، أَوْ شَاةً تَيْعَرُ"، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رُئِيَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ، ثُمَّ يَقُولُ: "اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ". بَصَرَ عَيْنِي، وَسَمْعَ أُذُنَيَّ.

حضرت ابو حمید الساعدی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے بنو سلیم کی زکوٰۃ وصول کرنے کےلیے ازد قبیلے کے ایک شخص کو عامل بنایا جسے ابن لتبیہ کہا جاتا ہے ۔ پھر جب وہ مال لے کر حاضر ہوا تو آپ نے اس کا محاسبہ کیا تو اس نے کہا: یہ آپ کا حصہ ہے اور یہ ( میرا ) ہدیہ ہے ۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا: "تم اپنے ماں باپ کے گھر کیوں نہ بیٹھ گئے حتیٰ کہ تیرا ہدیہ تیرے پاس آجاتا اگر تم سچے ہو۔" پھر ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا تو اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی ، پھر فرمایا: اما بعد ! میں تم میں سے کسی شخص کو کسی کام کا عامل بناتا ہوں ، ان کاموں میں سے کسی کام کا جن کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے مجھے دی ہے تو وہ واپس آتا ہے تو کہتا ہے : یہ تمہارا مال ہے اور یہ مجھے ہدیہ دیا گیا ہے ۔ وہ شخص اپنے ماں باپ کے گھر میں کیوں نہ بیٹھ گیا حتیٰ کہ اس کا ہدیہ اس کے پاس آجاتا ، اگر وہ سچا ہے ۔ اللہ کی قسم! تم میں سے جو شخص بھی بغیر حق کے کوئی چیز اٹھائے ہوئے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کر ے گا تو میں تم میں سے کسی شخص کو نہ پہچانوں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے کہ اس نے اونٹ کو اٹھایا ہو اور وہ بلبلا رہا ہو ، یا اس نے گائے اٹھا رکھی ہو جو چلاّ رہی ہو یا اس کی گردن پر بکری سوار ہو جو ممیا رہی ہو ۔ "پھر آپ نے اپنے ہاتھ بلند کیے حتیٰ کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آگئی پھر آپ نے فرمایا: "اے اللہ!کیا میں نے تیرا حکم پہنچا دیا ۔" میری آنکھوں نے یہ منظر دیکھا او ر میرے کانوں نے یہ الفاظ سنے۔

أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← أَبِيهِ ← هِشَامٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2341

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2342

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ؛ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ أَيْضًا، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ دَاوُدَ؛ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ؛ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ دَاوُدَ؛ ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، وَأَبُو مُوسَى، وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ؛ ح وَثَنَا الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ؛ ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا بِشْرٌ -وَهُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ- قَالَ يَحْيَى: عَنْ دَاوُدَ، وَقَالَ الصَّنْعَانِيُّ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ؛ ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ؛ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "إِذَا أَتَاكُمُ الْمُصَدِّقُ؛ فَلْيَصْدُرْ مِنْ عِنْدِكُمْ وَهُوَ عَنْكُمْ رَاضٍ". هَذَا حَدِيثُ الثَّقَفِيِّ. وَقَالَ الصَّنْعَانِيُّ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.

حضرت جرید بن عبداللہ الجبلیؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: " جب تمہارے پاس زکوٰۃ کا وصول کنندہ آئے تو وہ تمہارے پاس سے راضی خوشی واپس لوٹے ۔"یہ جناب ثقفی کی روایت ہے ۔ اور جناب صنعانی کی روایت میں ہے : " ہمیں رسول اللہﷺ نے فرمایا۔"

لَنَا رَسُولُ اللَّهِ ← الصَّنْعَانِيُّ، ← "إِذَا أَتَاكُمُ الْمُصَدِّقُ؛ فَلْيَصْدُرْ مِنْ عِنْدِكُمْ وَهُوَ عَنْكُمْ رَاضٍ". هَذَا حَدِيثُ الثَّقَفِيِّ. ← جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ؛ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ ← عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← أَبُو يَحْيَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ، ← یَحْیَی بْنُ حَکِیمٍ ← دَاوُدُ، ← الصَّنْعَانِيُّ، ← دَاوُدُ، ← يَحْيَى ← بِشْرٍ وَهُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ ← يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، ← دَاوُدُ، ← إِسْمَاعِيلُ ← أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← الدَّوْرَقِيُّ، ← دَاوُدُ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← بُنْدَارٌ، وَأَبُو مُوسَى، وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، ← دَاوُدُ، ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، وَعَبْد الْأَعْلَى، ← أَبُو مُوسَى، ← دَاوُدُ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← أَبُو مُوسَى، ← دَاوُدُ، ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ أَيْضًا، ← دَاوُدُ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2342

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2343

حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ الْهَاشِمِيِّ؛ أَنَّ عَبْدَ الْمُطَّلِبِ بْنَ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَخْبَرَهُ: أَنَّ أَبَاهُ رَبِيعَةُ بْنُ الْحَارِثِ وَالْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَا لِعَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ

جناب عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد گرامی حضرت ربیعہ بن حارث اور عباس بن عبدالمطلب ؓ نے ( اپنے اپنے بیٹوں ) عبدالمطلب بن ربیعہ اور فضل بن عباسؓ سے کہا: تم دونوں رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرو: اے اللہ کے رسولﷺ! ہم جوان ہو چکے ہیں ، جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں اور اب ہم شادی کرنا چاہتے ہیں اور آپ اے اللہ کے رسولﷺ! سب سے بڑھ کرا حسان کرنے والے اور سب سے بڑھ کر صلہ رحمی کرنے والے ہیں اور ہمارے والدین کے پاس اتنا مال نہیں ہے کہ وہ ہمارا حق مہر ادا کر سکیں ،لہٰذا اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں بھی زکوٰۃ کی وصولی پر مقرر فرما دیں ، ہم آپ کو دیگر عاملوں کی طرح زکوٰۃ کا مال ادا کریں گے اور اس میں سے اپنا حصہ وصول کریں گے ۔ کہتے ہیں : ہم ابھی یہی گفتگو کر رہے تھے کہ حضرت علی بن ابی طالب ؓ تشریف لے آئے اور فرمانے لگے : نہیں ، اللہ کی قسم! بے شک رسول اللہﷺتم میں سے کسی کو زکوٰۃ کی وصولی پر مقرر نہیں فرمائیں گے تو حضرت ربیعہ نے حضرت علی ؓ سے کہا: تم یہ باتیں حسد کی وجہ سے کر رہے ہو حالانکہ تمہیں رسول اللہﷺ سے جو خیر و برکت حاصلہ ہوئی ہے ہم نے اس پر کبھی حسد نہیں کیا۔ چنانچہ حضرت علیؓ نے اپنی چادر بچھائی اور اس پر لیٹ گئے ، پھر فرمایا: میں قوم کا عقلمند اور صاحب رائے شخص ہوں ، اللہ کی قسم! میں اپنی اس جگہ سے اس وقت تک نہیں اٹھوں گا جب تک تمہارے بیٹے رسول اللہﷺ سے تمہارے مطالبے کا جواب لے کر نہیں آجاتے ۔ جناب عبدالمطلب ؓ کہتے ہیں : میں اور فضل ؓ گئے تو ہم نے دیکھا کہ نماز ظہر کی اقامت ہوچکی ہے ۔ لہٰذا ہم نے بھی لوگوں کے ساتھ نماز ادا کی ۔ پھر میں اور فضل ﷺ تیزی سے رسول اللہﷺ کے حجرے کے دورازے کی طر ف گئے اور آپ اس دن حضرت زینب بنت جحش ؓ کے گھر میں تھے ۔ لہٰذا ہم دروازے پر کھڑے ہوگئے ۔ پھر رسول اللہﷺ تشریف لائے تو آپ نے میرا اور فضل کا کان (از راہ پیار ومشقت ) پکڑا ، پھر فرمایا: جو بات تم دل میں چھپائے ہوئے ہو وہ نکالو ۔ پھر آپ اندر تشریف لے گئے اور ہمیں بھی اجازت دی تو ہم بھی اندر داخل ہوگئے پھر تھوڑی دیر ہم ایک دوسرے پر بھروسہ کرتے رہے کہ وہ کلام کرے گا ۔ پھر میں نے بات شروع کی یا فضل نے با ت کی ۔ اس میں عبداللہ بن حارث کو شک ہے ۔ پھر جب ہم نے آپ سے وہ بات کی جو ہمارے والدین نے ہمیں کہی تھی تو رسول اللہﷺ کچھ دیر خاموش ہوگئے اور آپ نے اپنی نظر چھت کی طرف اٹھا کر دیکھنا شروع کر دیا ۔ جب کافی دیر ہوگئی تو ہم نے محسوس کیا کہ آپ ہمیں جواب نہیں دیں گے ۔ حتیٰ کہ ہم نے دیکھا کہ حضرت زینب ؓ پردے کے پیچھے سے ہمیں اشارہ کر رہی تھیں کہ جلدی نہ کرو کیونکہ رسول اللہﷺ ہمارے ہی معاملے میں غور وفکر کر رہے ہیں۔ پھر رسول اللہﷺ نے اپنا سر مبارک جھکایا تو ہمیں فرمایا: "یہ زکوٰۃ کا مال تو لوگوں کی میل کچیل ہے اور یہ محمد اور آپ کی آل کےلیے حلال نہیں ہے ۔ تم نوافل بن حارث کو میرے پاس بلا کر لاؤ۔"حضرت نوفل حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا: "اے نوفل! عبدالمطلب کی شادی اپنی بیٹی سے کردو ۔"تو انہوں نے مجھے رشتہ دار دیا۔ پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا: " محمیہ بن جزء کو بلا لاؤ۔"وہ بنوز بید کا ایک شخص تھا جسے رسول اللہﷺ نے خمس کے مال کا عامل مقرر کیا تھا تو رسول اللہﷺ نے محمیہ سے کہا : "فضل کا نکاح اپنی بیٹی سے کر دو ۔"تو محمیہ بن جزء نے حضرت فضل کی شادی اپنی بیٹی سے کردی ۔ پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا: "جاؤ، خمس میں سے ان دونوں کا اتنا اتنا حق مہر ادا کر دو ۔"جناب عبداللہ بن حارث نے اس کی مقدار بیان نہیں کی ۔ امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں :جناب احمد بن عبدالرحمان نے ہمیں بتایا کہ الحور کا معنی جوا ب ہے ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ الْهَاشِمِيِّ؛ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2343

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2344

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، مَوْلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَقَالَ لِي: اصْحَبْنِي. فَقُلْتُ: لَا، حَتَّى آتِيَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَسْأَلُهُ. قَالَ: فَأَتَاهُ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: "إِنَّا لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ، وَإِنَّ مَوَالِيَ الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ".

جناب عبداللہ بن حارث سے روایت ہے کہ ۔ مذکورہ بالا کی مثل روایت بیان کی اور اس میں یہ الفاظ ہیں: اور ہمارے والدین کے پاس مہر دینے کےلیے رقم نہیں ہے اور یہ الفاظ مزید بیان کیے کہ ہم واپس آئے تو حضرت علی ؓ وہیں بیٹھے تھے ۔ کہتےہیں ہمیں بتاؤ کہ تم کیا جواب لے کر آئے ہو۔ ان دونوں نے کہا: ہم نے رسول اللہﷺ کو سب لوگوں سے بڑھ کر احسان کر نے والا اور صلہ رحمی کرنے والا پایا ہے ۔ حضرت علی نے پوچھا : کیا آپ نے تمہیں زکوٰۃ وصول کرنے کےلیے عامل بنایا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں بلکہ آپ نے اس سے بڑھ کر ہمارے ساتھ حسن سلوک کیا ہے ، آپ نے ہمارے نکاح کر دیے ہیں اور حق مہر بھی خود ادا کیا ہے تو حضرت علی ؓ فرماتے ہیں : میں قوم کا عقلمند ودانا آدمی ہوں ۔ کیا میں نے تمہیں بتایا نہیں تھا کہ آپ ﷺ تمہیں زکوٰۃ کی وصولی کا عامل ہرگز مقرر نہیں فرمائیں گے ۔ امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں: "اس حدیث کے الفاظ "أَنْکَحَنَا(آپ نے ہمارا نکاح کر دیا ) یہ مسئلہ اسی قسم سے تعلق رکھتا ہے جس کے بارے میں میں کہتا ہوں کہ عرب لوگ جس طرح کسی اچھے کام کی نسبت اس کے کرنے والے کی طرف کرتے ہیں ۔ اسی طرح کسی خیرو بھلائی کی نسبت اس کام کے کرنے کا حکم دینے والے کی طر ف بھی کرتے ہیں نبی کریمﷺ نے عبدالمطلب اور فضل ؓ کے نکاح کرنے کا حکم دیا تھا جو پورا کر دیا گیا تو آپ کے حکم دینے کی وجہ سے اس حدیث میں نکاح کی نسبت آپ کی طرف کی گئی ہے حالانکہ آپ نے بذات خود ان نکاحوں میں سر پرستی کے فرائض انجام نہیں دیے بلکہ صرف حکم دیا تھا ۔ جناب احمد بن عبدالرحمٰن کی سند سے روایت ہے : اس میں یہ الفاظ ہیں :(حضرت علی ؓ نے فرمایا) میں تو قوم کا صاحب رائے عقلمند شخص ہوں ۔ جناب احمد نے ہمیں بتایا : القوم سے مراد قوم کا سردار اور صاحب رائے مراد ہے اور الحور سے مراد جواب ہے ۔ یعنی جس مقصد کےلیے تم نے اپنے بیٹوں کو نبی اکرمﷺ کی خدمت میں بھیجا ہے ۔ میں اس کا جواب آنے تک ادھر ہی بیٹھوں گا۔"

فَأَتَاهُ، فَسَأَلَهُ، ← لِي: اصْحَبْنِي. فَقُلْتُ: لَا، حَتَّى آتِيَ رَسُولَ اللَّهِ فَأَسْأَلُهُ. ← بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ رَجُلًا مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ عَلَى الصَّدَقَةِ، ← أَبِيهِ، مَوْلَى النَّبِيِّ ← ابْنِ اَبِیْ رَافِعٍ ← الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، ← شُعْبَةُ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2344

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2345

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، مَوْلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَقَالَ لِي: اصْحَبْنِي. فَقُلْتُ: لَا، حَتَّى آتِيَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَسْأَلُهُ. قَالَ: فَأَتَاهُ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: "إِنَّا لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ، وَإِنَّ مَوَالِيَ الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ".

نبی کریمﷺ کے آزاد کردہ غلام حضرت ابو رافع ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے بنی مخزوم کے ایک شخص کو زکوٰۃ کی وصولی کےلیے روانہ فرمایا تو اس نے مجھے کہا: میرے ساتھ چلو۔ میں نے کہا: نہیں ، حتیٰ کہ میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ سے اجازت لے لوں۔ کہتے ہیں: میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اس بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: " بے شک ہمارے لیے زکوٰۃ کا مال حلال نہیں ہے اور کسی قوم کے آزاد کردہ غلام اسی قوم میں شمار ہوتے ہیں ۔"

فَأَتَاهُ، فَسَأَلَهُ، ← لِي: اصْحَبْنِي. فَقُلْتُ: لَا، حَتَّى آتِيَ رَسُولَ اللَّهِ فَأَسْأَلُهُ. ← بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ رَجُلًا مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ عَلَى الصَّدَقَةِ، ← أَبِيهِ، مَوْلَى النَّبِيِّ ← ابْنِ اَبِیْ رَافِعٍ ← الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، ← شُعْبَةُ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2345

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2346

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَنْبَأَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوَفِي يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا تَصَدَّقَ إِلَيْهِ أَهْلُ البَيْتٍ بِصَدَقَةٍ صَلَّى عَلَيْهِمْ، فَتَصَدَّقَ أَبِي بِصَدَقَةٍ إِلَيْهِ، فَقَالَ: "اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى". جُمَّاعُ أَبْوَابِ قَسْمِ الْصَّدَقَاتِ، وَذِكْرِ أَهْلِ سُهْمَانِهَا

حضرت عبداللہ بن ابی اونی ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب کوئی گھر والا اپنی زکوٰۃ رسول اللہﷺ کی خدمت میں پیش کرتا تو آپ ان کےلیے دعائے خیر فرماتے ۔ میرے والد گرامی نے آپ کو زکوٰۃ ادا کی تو آپ نے دعا فرمائی : " اے اللہ! ابی اوفی کے گھر والوں پر رحمت فرما۔"

عَبْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ اَوْفٰی ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2346

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2347

أَخْبَرَنَا الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّابُونِيُّ [239 - ب]-قِرَاءَةً عَلَيْهِ، أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ الْمَكِّيُّ -وَكَانَ ثِقَةً؛ ح وَحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ إِسْحَاقَ الْمَكِّيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ وَالِيًا [قَالَ]: "إِنَّكَ تَأْتِي قَوْمًا [مِنْ] أَهْلِ كِتَابٍ فَادْعُهُمْ إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لَا لَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، فَإِذَا هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ، فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ، فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً فِي أَمْوَالِهِمْ تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ فَتُرَدُّ فِي فُقَرَائِهِمْ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ، وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ، فَإِنَّهَا لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ". هَذَا حَدِيثُ جَعْفَرٍ. وَقَالَ الْمُخَرِّمِيُّ: إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ: "ادْعُهُمْ إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، فَإِنْ هُمْ أَجَابُوا لِذَلِكَ، فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ، وَقَالَ فِي كُلِّهَا: فَإِنْ هُمْ أَجَابُوا لِذَلِكَ فَأَخْبِرْهُمْ.

حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے جب حضرت معاذ ؓ کو یمن کا گورنر بنا کر بھیجا تو فرمایا: "بے شک تم ایک اہل کتاب قوم کے پاس جار ہے ہو لہٰذا انہیں ( سب سے پہلے) لَا اِلٰہ اِلَّا اللہُکی گواہی دینے اور اس بات کی گواہی دینے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ، کی دعوت دینا ۔ پھر جب وہ اس بات میں تمہاری اطاعت کرلیں تو پھر انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں ۔ پھر اگر وہ تمہاری یہ بات بھی مان لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ان کے مالوں میں زکوٰۃ فرض کی ہے جو ان کے مالداروں سے وصول کر کے انہی کے فقرا ء میں تقسیم کی جائے گی ۔ اگر وہ اس بات میں بھی تمہاری فرمانبرداری کر لیں تو پھر تم ان کے عمدہ مال لینے سے بچنا اور مظلوم کی بد دعا سے بچنا کیونکہ مظوم کی بد دعا اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہے ۔ یہ حدیث جناب جعفر کی روایت ہے اور جناب مخرمی بیان کرتے ہیں : نبی کریمﷺ نے حضرت معاذ بن جبل ؓ کو یمن بھیجا تو فرمایا: " انہیں اس بات کی دعوت دو کہ وہ گواہی دیں : ایک اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں ۔ پھر اگر وہ تمہاری یہ دعوت قبول کر لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر فرض کیا ہے ۔ پوری روایت میں اسی طرح ہے : " پھر اگر وہ تمہاری دعوت قبول کر لیں تو انہیں ( اگلی با ت) بتانا ۔ "

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي مَعْبَدٍ، ← يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، ← زَكَرِيَّا بْنِ إِسْحَاقَ الْمَكِّيِّ، ← وَكِيعٌ، ← وَحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ الْمَكِّيُّ -وَكَانَ ثِقَةً؛ ← وَكِيعٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّابُونِيُّ ب]-قِرَاءَةً عَلَيْهِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2347

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2348

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ قَالَ: سَأَلْتُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ مَا تَذْكُرُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: أَذْكُرُ أَنِّي أَخَذْتُ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَجَعَلْتُهَا فِي فِيَّ فَنَزَعَهَا مِنْ فِيَّ، وَقَالَ: "إِنَّا آلَ مُحَمَّدٍ لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ".

جناب ابوالحور اء بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن بن علی ؓ سے پوچھا :آپ کو رسول اللہﷺکی کون سی بات یاد ہے ؟ وہ فرماتے ہیں: مجھے یاد ہے کہ میں نے زکوٰۃ کی کھجوروں میں سے ایک کھجور پکڑ کر منہ میں ڈال لی تو آپ نے میرے منہ سے وہ کھجور کھینچ لی اور فرمایا: "بے شک ہم آل محمد کےلیے زکوٰۃ کا مال حلال نہیں ہے ۔"

سَأَلْتُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ مَا تَذْكُرُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي الْحَوْرَاءِ ← يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ← شُعْبَةُ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2348

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2349

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ وَأَبُو مُوسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مَرْيَمَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ قَالَ: قُلْتُ لِلْحَسَنِ: مَا تَذْكُرُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: أَذْكُرُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنِّي أَخَذْتُ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَجَعَلْتُهَا فِي فِيَّ فَانْتَزَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِلُعَابِهَا فَأَلْقَاهَا فِي التَّمْرِ. فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا عَلَيْكَ مِنْ هَذِهِ التَّمْرَةِ لِهَذَا الصَّبِيِّ. قَالَ: "إِنَّا آلَ مُحَمَّدٍ لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ". وَكَانَ يَقُولُ: "دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكُ، فَإِنَّ الْخَيْرَ طُمَأْنِينَةٌ، وَإِنَّ الْكَذِبَ رِيبَةٌ"، ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ.

جناب ابو الحوراء بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن ؓ سے کہا: آپ کو رسول اللہﷺ کی کون سی بات یاد ہے ؟ انہوں نے فرمایا:مجھے رسول اللہﷺ کی یہ بات یاد ہے کہ میں نے زکوٰۃ کی کھجوروں میں سے ایک کھجور لے کر منہ میں ڈال لی تو رسول اللہﷺ نے وہ کھجور لعاب سمیت کھینچ کر زکوٰۃ کی کھجوروں میں پھینک دی ۔ اس پر رسول اللہﷺ سے عرض کی گئی : اس بچے میں جو کھجور لے لی تھی اس پر آپ پر تو کوئی حرج نہیں ہے ۔ آپ نے فرمایا : بے شک ہم آل محمد کے لیے زکوٰۃ کا مال حلال نہیں ہے اور آپ فرمایا کرتے تھے ۔ جو چیز تمہیں شک وشبہ میں ڈالے اسے چھوڑ کر وہ چیز اختیار کر و جو تمہیں شک میں نہ ڈالے کیونکہ خیروبرکت اطمینان قلب میں ہے اور جھوٹ شک وشبہ والا ہوتا ہے ۔ "پھر مکمل حدیث بیان کی ۔

قُلْتُ لِلْحَسَنِ: مَا تَذْكُرُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي الْحَوْرَاءِ ← ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← بُنْدَارٌ وَأَبُو مُوسَى،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2349

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2350

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ثَابِتُ بْنُ عُمَارَةَ، حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ شَيْبَانَ، قَالَ: قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ: مَا تَذْكُرُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: أَذْكُرُ أَنَّهُ أَدْخَلَنِي مَعَهُ غُرْفَةَ الصَّدَقَةِ فَأَخَذْتُ تَمْرَةً فَأَلْقَيْتُهَا فِي فِيَّ، فَقَالَ: "أَلْقِهَا، فَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِرَسُولِ اللَّهِ وَلَا أَحَدٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ".

جناب ابن شیبان بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن بن علی ؓ سے پوچھا : آپ کو رسول اللہﷺ کی کون سی بات یاد ہے ؟ انہوں نے فرمایا: مجھے یاد ہے کہ آپ مجھے اس کمرے میں لے کر داخل ہوئے جسے میں زکوٰۃ کا مال رکھا ہوا تھا تو میں نے ایک کھجور لے کر منہ میں ڈال لی تو آپ نے فرمایا: "اسے نکال دو کیونکہ یہ مال زکوٰۃ رسول اللہﷺ اور آپ کے گھر کے کسی شخص کےلیے حلال نہیں ہے ۔"

أَذْكُرُ أَنَّهُ أَدْخَلَنِي مَعَهُ غُرْفَةَ الصَّدَقَةِ فَأَخَذْتُ تَمْرَةً فَأَلْقَيْتُهَا فِي فِيَّ، ← قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ: مَا تَذْكُرُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← ربيعة بن شيبان ← ثَابِتُ بْنُ عُمَارَةَ ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2350

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2351

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَرِ أَبِي رَافِعٍ: بَعَثَ النَّبِيُّ [240 - أ]- صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا مِنْ بني مَخْزُومٍ عَلَى الصَّدَقَةِ. قَالَ: اصْحَبْنِي. قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّمَا بَعَثْتُ الْمَخْزُومِيَّ عَلَى أَخْذِ الصَّدَقَةِ الْفَرِيضَةِ"، فَقَوْلُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَبِي رَافِعٍ: "إِنَّا لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ"، كَانَ جَوَابًا عَلَى الصَّدَقَةِ الَّتِي كَانَ الْجَوَابُ مِنْ أَجْلِهَا.

امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : حضرت ابو رافع کی حدیث میں ہے کہ نبی کریمﷺ نے بنی مخزوم کے ایک شخص کو زکوٰۃ کی وصولی کےلیے بھیجا تو اس نے ( مجھے ) کہا: میرے ساتھ چلو ( تاکہ تم بھی مال حاصل کر سکو) تو نبی کریمﷺ نے فرمایا: "میں نے مخزومی شخص کو فرض زکوٰۃ وصول کرنے کےلیے بھیجا ہے ۔"لہٰذا نبی کریمﷺ کا حضرت ابو رافع ؓ سے یہ کہنا: "بے شک ہمارے لیے زکوٰۃ کا مال حلال نہیں ہے ۔"یہ آپ کا جواب اس صدقے کے بارے میں تھا جس فرضی صدقے کے بارے میں حضرت ابو رافع نے ( وصول کنندہ کی ) معاونت کرنے کے بارے میں سوال کیا تھا۔

اصْحَبْنِي.

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2351

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2352

وَفِي خَبَرِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ: أَخَذْتُ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ، إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ التَّمْرُ مِنَ الْعُشْرِ أَوْ مِنْ نِصْفِ الْعُشْرِ، الصَّدَقَةُ الَّتِي يَجِبُ فِي التَّمْرِ.

حضرت حسن بن علی ؓ کی روایت میں ہے: میں نے زکوٰۃ کی کھجوروں میں سے ایک کھجور اٹھالی اور یہ کھجور ، کھجوروں کی فرض زکوٰۃ دسویں یا بیسیویں حصے میں سے تھی۔

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2352

chevron_left Previous
1…222223224…258
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden22. The groups of the gates of obligatory travel23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness24. The congregation of the gates of prayer on the rows25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr37. The gates of the prayer of fear38. Collections of the gates of an eclipse prayer39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals