"جناب عیاض بن عبداللہ بن سعد بن ابی سرح سے مروی ہے کہ حضرت ابو سعید خدری ؓ جمعہ والے دن مسجد میں داخل ہوئے جبکہ مروان بن حکم خطبہ دے رہا تھا۔ چنانچہ حضرت سعید نے کھڑے ہو کر نماز ( تحیۃ المسجد ) شروع کر دی ۔ تو ( مروان کے ) محافظ انہیں بٹھانے کےلیے آگئے ۔ تو انہوں نے بیٹھنے سے انکار کر دیا حتی کہ نماز اد کر لی۔ پھر جب مروان فارغ ہو کر چلا گیا تو ہم حضرت ابو سعید ؓ کے پاس آئے اور ان سے عرض کی: اللہ آپ پر رحم فرمائے ، یہ لوگ آپ کے ساتھ پر سلوک کرنے ہی والے تھے ۔ انہوں نے فرمایا: "میں رسول اللہﷺ کا فرمان دیکھنے کے بعد ان دو رکعات کو ہرگز چھوڑنے والا نہیں تھا ۔ پھر بتایا کہ ایک شخص نہایت شکستہ حالت میں جمعہ کے دن آیا جبکہ رسول اللہﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ۔ تو رسول اللہﷺ نے صحابہ کرام کو ( اس شخص پر ) صدقہ کرنے کا حکم دیا تو صحابہ کرام کو ( اسے دینے کے لیے ) کپڑے میسر نہ آئے ۔ آپ نے اسے دو کپڑے دینے کا حکم دیا اور آپ نے اسے حکم دیا تو اس نے دو رکعات ادا کیں پھر وہ دوسرے جمعے آیا جبکہ رسول اللہﷺ خطبہ دے رہے تھے تو رسول اللہﷺ نے ( اس پر ) صدقہ کرنے کا حکم دیا ۔ تو ایک شخص نے اپنی دو چادروں میں سے ایک اسے دے دی تو نبی کریمﷺ نے اسے بلند آواز سے ڈانٹا اور فرمایا: "اپنی چادر واپس لے لو۔"پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا: "یہ شخص سخت بدحالی میں مسجد میں داخل ہوا تھا تو میں نے لوگوں کو ( اس پر) صدقہ کرنے کا حکم دیا تھا تو انہیں کپڑے نہ ملے لہٰذا میں نے اسے دو کپڑے دینے کا حکم دیا تھا ۔ پھر یہ آج مسجد میں آیا ہے تو میں نے صدقہ کرنے کا حکم دیا ہے تو اس شخص نے اسے اپنی چادر دی ہے ۔ پھر آپ ﷺ نے اس شخص کو حکم دیا کہ وہ دو رکعات نماز اد اکرے ۔"
Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1799
"حضرت ابو رفاعہ عدوی ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہﷺ کے پاس پہنچا تو آپ ارشاد فرما رہے تھے ۔ تو میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! ایک اجنبی شخص اپنے دین کے بارے میں سوال کرنے آیا ہے ، اسے معلوم نہیں کہ اس کا دین کیا ہے ؟ تو آپ میری طرف متوجہ ہوئے اور آپ نے اپنا خطبہ چھوڑ دیا پھر آپ کے پاس ایک کرسی لائی گئی ، میرا خیال ہے کہ اس کے پائے لوہے کے تھے ۔ جناب حمید کہتے ہیں : میرے خیال میں انہوں نے سیاہ رنگ کی لکڑی کے پائے دیکھیے تو انہوں نے اسے لوہا سمجھ لیا۔ تو نبی کریمﷺ مجھے اللہ تعالیٰ کا سکھایا ہوا علم سکھانے لگے ۔ پھر آپ نے خطبہ دوبارہ شروع کیا اور اس کا باقی حصہ مکمل کیا۔"
Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1800
"حضرت بریدہ ؓ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے تو حضرت حسن وحسین ؓ آگئے ان دونوں نے سرخ رنگ کی قیمصیں پہنی ہوئی تھیں۔ وہ کپڑے میں پاؤں الجھنے سے کبھی گر جاتے اور پھر اٹھ جاتے تو نبی کریمﷺ منبر سے نیچے تشریف لائے اور انہیں اٹھایا ، پھر انہیں اپنے سامنے بیٹھالیا اور فرمایا: اللہ کے رسول نے سچ فرمایا ہے ، بلاشبہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد آزمائش کا باعث ہیں ۔ میں نے ان دونوں کو دیکھا تو میں صبر نہ کر سکا۔"پھر آپ نے اپنا خطبہ شروع کر دیا۔"
Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1801
"حضرت بریدہ ؓ بیا ن کرتے ہیں کہ اس دوران کہ رسول اللہﷺ منبر پر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ۔ مذکورہ بالا روایت کی طرف بیان کیا۔ اور آپ نے فرمایا:" تو میں صبر نہ کر سکا حتی کہ میں منبر سے اترا اور ان دونوں کو اٹھا لیا۔"اور یہ الفاظ روایت نہیں کیے:"پھر آپ نے دوبارہ خطبہ شروع کر دیا۔"
Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1802
"حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جب جمعہ کے دن ہو تو آدمی غسل کرے اور اپنا سر دھوئے پھر اپنی بہترین خوشبو لگائے اور پنا عمدہ لباس پہنے پھر نماز پڑھنے کےلیے جائے اور دو آدمیوں کے درمیان جدائی نہ ڈالے ، پھر امام کی بات غور سے سنے تو اس جمعہ اور گزشتہ جمعہ کے درمیانی گناہ اور مزید تین دن کے اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ۔"
Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1803
"حضرت ابوہریرہؓ نبی کریمﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا :"جب تم نے جمعہ والے دن گفتگو کی جبکہ امام خطبہ دے رہا تھا تو تم نے لغو کام کیا اور اپنا اجر ضائع کر لیا۔"
Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1804
"حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:"جب تم نے اپنے ساتھی سے کہا: خاموش ہو جاؤ جبکہ امام خطبہ دے رہا ہو تو تم نے لغو کام کیا۔"یہ الفاظ عبدالرزاق کی روایت کے ہیں ۔ باقی راویوں نے سماع کا ذکر نہیں کیا ۔ کچھ راویوں نے "قال رسول اللہﷺ"کہا ہے اور کچھ نے "عن النبی ﷺکہا ہے ۔"
Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1805
"حضرت ابوہریرہؓ نبی کریمﷺ سے روایت کرتےہیں کہ آپ نے فرمایا"جب ایک شخص نے دوسرے شخص کو کہا: "خاموش ہوجاؤ"جبکہ امام خطبہ دے رہا ہو تو اس نے بے ہودہ اور لغو کام کیا۔""لَغَیْتَ"حضرت ابوہریرہؓ کی لغت ہے ۔ جناب مخزومی نے یہ الفاظ روایت کیے ہیں:"جب تم نے اپنے ساتھی سے کہا: خاموش ہوجاؤ جمعہ والے دن جبکہ امام خطبہ دے رہا ہو تو تم نے فضول وبے کار کام کیا ۔ امام سفیان فرماتے ہیں: حضرت ابوہریرہؓ کا "لَغَیْتَ"کہنا، ان کی ذاتی لغت ہے جبکہ اصل لفظ لَغَوْتَہے ۔ ( معنی ایک ہی ہے) ۔
Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1806
"حضرت ابوذری ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں جمعہ والے دن مسجد میں داخل ہوا جبکہ نبی کریمﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ۔ تو میں حضرت ابی بن کعب ؓ کے قریب بیٹھ گیا تو نبی کریمﷺ نے سورۂ براء ت ( توبہ) کی تلاوت کی۔ میں نے حضرت ابی سے پوچھا : یہ سورت کب نازل ہوئی ؟ تو انہوں نے مجھے ترش روئی سے خاموش کرا دیا اور میرے ساتھ بات نہیں کی۔ پھر کچھ دیر رکنے کے بعد میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے سخت اندا ز میں مجھے خاموش کرا دیا اور میرے ساتھ بات نہ کی ۔ پھر میں تھوڑی دیر خاموش رہا پھر میں نے ان سے سوال کیا تو انہوں نے ترش روئی کے ساتھ مجھے خاموش کرا دیا اور میرے ساتھ گفتگو نہ کی ۔پھر جب نبی کریمﷺ نے نماز ادا کر لی تو میں نے حضرت ابی سے پوچھا : میں نے آپ سے سوال پوچھا تھا تو آپ نے مجھے ترش روئی سے خاموش کر ادیا اور مجھے کچھ جواب نہ دیا ۔ تو حضرت ابی نے فرمایا: تمہیں تمہاری نماز کا کچھ اجر نہیں ملا سوائے تمہاری لغو بات کے ( گناہ کے)۔ لہٰذا میں نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی ۔"اے اللہ کے نبی ! میں حضرت ابی کے پہلو میں بیٹھا تھا جبکہ آپ سورہ ٔ براءت کی تلاوت کر رہے تھے تو میں نے ان سے پوچھا کہ یہ سورت کب نازل ہوئی؟ تو انہوں نے مجھے ترش روئی سے خاموش کرا دیا اور کوئی جواب نہ دیا ۔ پھر کہا:
کہ تمہیں تمہاری نماز کا کچھ اجر نہیں ملا سوائے اس لغو بات کے ۔ تو نبی کریمﷺ نے فرمایا:"ابی نے سچ کہا ہے ۔"
Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1807
Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1808
"حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے جب ایک آیت تلاوت کی تو ایک شخص جو حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کےپہلو میں بیٹھا تھا۔ اس نے پوچھا : یہ آیت کب اتری ہے ؟ کیونکہ میں نے تو یہ آیت ابھی ابھی سنی ہے ۔حضرت عبداللہﷺ نے کہا: سبحان اللہ۔ تو ہر شخص خاموش ہوگیا ۔ پھر آپ نے ایک اور آیت تلاوت کی تو اس شخص نے حضرت عبداللہ سے اسی طرح سوال کیا۔ تو حضرت عبداللہ نے پھر سبحان اللہ کہہ کر اسے خاموش کر ادیا ۔ پھر جب رسول اللہﷺ نے نماز مکمل کر لی تو حضرت ابن مسعود ؓ نے اس شخص سے کہا: تم نے ہمارے ساتھ جمعہ اد ا نہیں کیا۔"تو اس شخص نے حیرت سے سبحان اللہ کہا پھر وہ نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو سارا واقعہ بتایا تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: ابن ام عبد نے درست کہا ہے ۔ ابن ام عبد نے صیح کہا ہے ۔"
Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1809
"حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ رسول اللہﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:"جس شخص نے جمعہ کے دن غسل کیا پھر اس نے اپنی بیوی کی خوشبو میں سے خوشبو لگائی اگر اس کے پاس خوشبو موجود ہو، اور اپنا بہترین لباس پہنا پھر ( مسجد میں آیا تو ) لوگوں کی گردنیں نہ پھلانگیں اور دوران خطبہ اس نے کوئی لغو کام نہ کیا تو اس کے یہ اعمال دو جمعوں کے درمیانی گناہوں کا کفارہ بن جائیں گے ۔اور جس شخص نے لغو کا م کیا یا اس نے گردنیں پھلانگیں تو اسے ظہر کی نماز کا اجر ملے گا ۔"
Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1810