"حضرت ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سورۂ ق رسول اللہﷺ کے منہ مبارک سے سن پڑھی اور یاد کی ہے ۔ آپ یہ سورت ہر جمعہ کو منبر پر لوگوں کو خطبہ دیتے وقت پڑھا کرتے تھے ۔"
أم هشام بنت حارثة بن النعمان ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1787
خطبہ جمعہ میں بارش کی دعا کرنے کی رخصت کا بیان جبکہ لوگ قحط سالی سے دو چار ہوں اور اگر اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے بار ش نہ عطا کرے تو قحط سالی ، اموال کی ہلاکت اور راستوں کے کٹ جانے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہو
Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1788
"جناب حمید بیان کرتے ہیں کہ حضرت انس ؓ سے سوال کیا گیا: کیا نبی کریمﷺ ( دعا کرتے وقت ) اپنے ہاتھ بلند کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا :"جمعہ والے دن آپ سے عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول ! بارش بند ہوچکی ہے اور زمین بنجر ہوگئی ہے اور مال مویشی ہلاک ہوگئے ہیں تو آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کر کے بارش کی دعا کی حتیٰ کہ میں نے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی اور ہم نے آسمانوں پر کوئی بدلی نہ دیکھی تھی ۔ پھر جیسے ہی ہم نے نماز مکمل کی تو مسجد سے بلکل قریب رہنے والے شخص کو بھی شدید بارش کی وجہ سے اپنے گھر والوں کے پاس لوٹنے میں فکر مندی اور تشویش کا سامنا کر نا پڑا ۔ پھر بار ش ایک ہفتہ جاری رہی۔ پھر صحابہ کرم نے عرض کی : اے للہ کے رسول ! گھر منہدم ہوگئے ہیں اور قافلے رک گئے ہیں ۔ اس پر رسول اللہﷺ مسکرا دیے ۔ پھر آپ نے اپنے ہاتھ ( اٹھا کر ) دعا کی : "اے اللہ! ہمارے اردگرد بارش برسا دے اور ہم پر بارش نہ برسا ۔"چنانچہ مدینہ منورہ سے بادل چھٹ گئے ۔"جبکہ ابو موسیٰ کی روایت میں "قحط المطر " بار ش نہیں ہورہی"کے الفا ظ ہیں ۔"
Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1789
Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1790
"حضرت انس ؓ بیان کرتےہیں کہ نبی کریمﷺ اپنی کسی دعا میں یا کسی دعا کے کرتے وقت ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے سوائے بار ش کی دعا کے ۔ آپ ( بار ش کی دعا کرتے وقت ) اس قدر ہاتھ بلند کرتے تھے یہاں تک کہ آپ ﷺ کی بغلوں کی سفیدی دکھائی دینے لگتی ۔"
Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1791
"امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : "شریک بن عبداللہ کی حضرت انس ؓ سے روایت میں ہے :"تو رسول اللہﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے ۔" میں اس سے پہلے حضرت قتادہ کی حضرت انس ؓ سے روایت املا کرا چکا ہوں کہ نبی کریمﷺ بار ش کی دعا کے علاوہ اپنی کسی دعا میں ہاتھ بلند نہیں کرتے تھے ۔" ان کی مراد یہ ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ سے بارش طلب کرتے وقت اور بارش رکنے کی دعا کرتے وقت اپنے ہاتھ بلند کرتے تھے ۔ انہوں نے دونوں معنوں کےلیے "استقاء" کا اسم استعمال کیا ہے ، جبکہ ایک مرتبہ بارش طلب کرنے کی دعا کی ہے اور دوسری مرتبہ بارش رکنے کی دعا کی ہے ۔ میری اس تاویل کے درست ہونے کی دلیل حضرت انس ؓ کی وہ حدیث ہے جسے شریک بن عبداللہ نے بیان کیا ہے کہ نبی کریمﷺ نے جمعہ کے دن منبر پر خطبہ کے دوران اپنے ہاتھ بلند کیے جبکہ آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے بارش کی دعا کی تھی ۔ اسی طرح آپ نے اس وقت بھی ہاتھ اٹھائے تھے جب آپ نے یہ دعا کی تھی:" اے اللہ! ہمارے ارد گرد بارش برسا ہم پر بارش نہ برسا ۔""
Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1792
"جناب عمارہ بن رویبہ ثقفی ؓ بیان کرتے ہیں کہ بشر بن مروان نے خطبہ دیا اور ( خطبہ کے دوران ) وہ ہاتھ اٹھا کر دعا کر رہا تھا تو حضرت عمارہ نے کہا:"اللہ ان دونوں ہاتھوں کا ستیا ناس کرے ، میں نے رسول اللہﷺ کو منبر پر دیکھا آپ ﷺ صرف اپنی شہادت کی انگلی سے اشارہ کرتے تھے ۔"یہ جناب جرید کی حدیث ہے ۔ جناب ہشیم کی روایت میں ہے :"میں حضرت عمارہ بن رویبہ ثقفی ؓ کے پاس عید والے دن حاضر ہوا جبکہ بشر بن مروان ہمیں خطبہ دے رہا تھا تو اس نے دعا کےلیے دونوں ہاتھ بلند کیے ۔"اور یہ اضافہ بیان کیا ہشیم نے شہاد کی انگلی سے اشارہ کیا ۔ امام ابوبکر فرماتے ہیں :"امام شعبہ اور ثوری نے حصین سے یہ الفاظ روایت کیے ہیں کہ انہوں نے بشر بن مروان کو جمعہ کے دن منبر پر دیکھا۔"امام ابوبکر ؒ نے امام شعبہ اور سفیان ثوری ؒ کی روایت کی سند بیان کی ہے ۔"
Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1793
Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1794
"حضرت ابو سعید ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہﷺ نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا تو سورۂ ص کی تلاوت کی ۔ پھر جب سجدے والی آیت پڑھی تو آپ منبر سے اتر ے اور سجدہ کیا تو ہم نے بھی سجدہ کیا ۔ پھر دوبارہ اس سورت کی تلاوت کی تو جب سجدہ والی آیت پر پہنچے تو ہم سجدے کے لیے تیار ہوئے ۔ جب آپ نے ہمیں ( سجدے کےلے تیار ) دیکھا تو فرمایا : یہ تو ایک نبی کی توبہ کا ذکر ہے لیکن میں تمہیں سجدے کےلےی تیار دیکھا رہا وہں ۔ لہٰذا ٓپ نیچے تشریف لائے اور سجدہ کیا اور ہم نے بھی سجدہ کیا۔" امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : " ابن وہب کے کسی شاگرد نے اس حدیث کو ابن وہب سے عمرو بن حارث کی سند سے بیان کرتے وقت سعید بن ابی ہلال اور عیاض کے درمیان اسحاق بن عبداللہ ابوفروہ کا اضافہ کر دیا ہے ۔ جبکہ ہمارے اصحاب اسحاق کی حدیث کو دلیل وحجت نہیں بناتے ۔ اور میرے خیال میں اس نے اسحاق بن عبداللہ کو اس سند میں داخل کر کے غلطی کی ہے ۔"
Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1795
"حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ "منبر پر جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرما رہے تھے تو ایک شخص نے سوال کیا: اے اللہ کے رسول ! قیامت کب آئے گی ؟ تو صحابہ کرام نے اسے ارشاد کیا کہ خاموش ہوجاؤ۔ تو اس نے تین بار آپ سے یہی سوال کیا ۔ ہر مرتبہ صحابہ کرام اسے اشارہ کرتے کہ خاموش ہوجاؤ۔ پھر رسول اللہﷺ نے تیسری مرتبہ سوال کرنے پر فرمایا: تیرا بھلا ہو تم نے قیامت کے لیے کیا تیار ی کی ہے ؟"اللہ اور اس کے رسول کی محبت ۔"آپ نے فرمایا: یقیناً تم اسی کے ساتھی ہوگے جسے سے تمہیں محبت ہے ۔"پھر رسول اللہﷺ کچھ دیر خاموش رہے ۔ پھر ایک نوجوان لڑکا گزرا ۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں میں کہتا ہوں کہ وہ میرا ہم عمر تھا۔ وہ بالغ ہوچکا تھا یا بلوغت کے قریب تھا۔ تو نبی کریمﷺ نے فرمایا:قیامت کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے ؟ اس نے کہا:"میں یہاں موجود ہوں ۔"آپ نے فرمایا:"اگر اس لڑکے نے اپنی عمر مکمل کر لی تو وہ قیامت کی علامت دیکھے بغیر ہرگز فوت نہیں ہوگا۔"
Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1796
"حضرت جریر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب میں مدینہ منورہ آیا تو نبی کریمﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ۔ آپ نے فرمایا: "تمہارے پاس اس دروازے سے یا اس راستے سے یمن والون کا بہترین شخص داخل ہوگا، آگاہ رہو اس کے چہرے پر بادشاہ کا نشان ہوگا۔"حضرت جریر فرماتے ہیں میں نے اللہ تعالیٰ کے اس احسان اور نعمت پر اس کا شکر اد اکیا۔"
Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1797
"حضرت جریر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب میں رسول اللہﷺ کے مدینہ منورہ کے قریب پہنچ گیا تو میں نے اپنی اونٹنی کو بٹھایا اور اپنا تھیلا کھول کر اپنا جوڑا پہنا ، پھر میں مسجد میں داخل ہوا تو رسول اللہﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ۔ تو رسول اللہﷺ نے مجھے سلام کیا ۔ تو لوگوں نے مجھے گھورنا شروع کر دیا۔ تو میں نے اپنے ہاتھ بیٹھے شخص سے پوچھا : اے عبداللہ! کیا رسول اللہﷺ نے میرے بارے میں کچھ فرمایا تھا( جو یہ سب لوگ مجھے غور سے دیکھ رہے ہیں؟) اس نے جواب دیا کہ ہاں آپ ﷺ نے تمہارا بڑا چھا تذکرہ فرمایا ہے ۔ اس دوران کہ آپ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ، تو آپ کو اپنے خطبے میں کوئی با ت یاد آئی تو آپ نے فرمایا: تمہارے پاس اس دروازے سے یا اس راستے سے یمن والوں کا بہترین شخص داخل ہوگا اور اس کے چہرے پر بادشاہ کا نشان ہوگا۔ حضرت جریرؓ کہتے ہیں :"تو میں نے اللہ تعالیٰ کے اس احسان پراس کا شکر اد اکیا۔"
Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1798