Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 536

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا موسى بن عبد الرحمن المسروقي و عبد الرحمن بن الفضل بن الموفق قالا حدثنا أبو أسامة و زيد بن أبي الزرقاء كلاهما عن سفيان عن معاوية بن صالح عن عبد الرحمن بن جبير بن نفير الحضرمي عن أبيه عن عقبة بن عامر : أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يقرأ في صلاة الغداة قل أعوذ برب الفلق وقل أعوذ برب الناس هذا لفظ حديث يزيد بن أبي الزرقاء وفي حديث أبي أسامة قال : سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن المعوذتين أمن القرآن هما ؟ فأمنا بهما رسول الله صلى الله عليه وسلم في صلاة الفجر قال أبو بكر : أصحابنا يقولون : الثوري أخطأ في هذا الحديث وأنا أقول : غير مستنكر لسفيان أن يروي هذا عن معاوية وعن غيره

"حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ صبح کی نماز میں ( قُلْ أَعُوْذُبَرِبِّ الْفَلَقِ) اور (قُلْ أَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ) پڑھا کرتے تھے۔ یہ یزید بن ابی الزرقاء کی حدیث کے الفاظ ہیں۔ حضرت ابو اسامہ کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: کہتے ہیں : میں نے رسول اللہﷺ سے معوذ تین کے بارے میں پوچھا کہ کیا وہ قرآن مجید میں سے ہیں ؟ تو رسول اللہﷺ نے ان دو سورتوں کے ساتھ ہمیں نماز فجر کی امامت کرائی ۔ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : ہمارے اصحاب ( محدثین) فرماتے ہیں کہ اس حدیث کو روایت کرنے میں امام سفیان ثوری ؒ سے غلطی ہوئی ہے جبکہ میں کہتا ہوں کہ امام سفیان ثوری کا معاویہ اور دیگر رواۃ سے یہ حدیث بیان کرنا باعث عیب نہیں ہے ۔"

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيُّ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← سُفْيَانَ، ← أبو أسامة و زيد بن أبي الزرقاء كلاهما ← موسى بن عبد الرحمن المسروقي و عبد الرحمن بن الفضل بن الموفق ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 536

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 537

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بِخَبَرٍ غَرِيبٍ غَرِيبٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ -يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ-، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ [70 - ب] يَؤُمُّهُمْ فِي مَسْجِدِ قُبَاءَ، قَالَ: وَكَانَ كُلَّمَا افْتَتَحَ سُورَةً يَقْرَأُ لَهُمْ بِهَا فِي الصَّلَاةِ مِمَّا يَقْرَأُ بِهِ، افْتَتَحَ بِـ (قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ) حَتَّى يَفْرُغَ مِنْهَا، ثُمَّ يَقْرَأُ بِسُورَةٍ أُخْرَى مَعَهَا، وَكَانَ يَصْنَعُ ذَلِكَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، فَلَمَّا أَتَاهُمُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخْبَرُوهُ بِالْخَبَرِ. فَقَالَ: "يَا فُلَانُ! مَا يَحْمِلُكَ عَلَى لُزُومِ هَذِهِ السُّورَةِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ؟ ". قَالَ: إِنِّي أُحِبُّهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "حُبَّهَا أَدْخَلَكَ الْجَنَّةَ".

"حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری صحابی انہیں مسجد میں نماز پڑھاتے تھے، حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں: وہ جب بھی نماز میں کسی سورت کی تلاوت کرتے تو قراءت کی ابتداء (قُلْ ھُوَ اللہُ اَحَدٌ) سے کرتے ، حتی کہ اس سے فارغ ہو جاتے تو پھر اس کے ساتھ ایک اور سورت تلاوت کرتے ۔ وہ ہر رکعت میں اسی طرح کرتے ۔ پھر جب نبی اکرمﷺ ان کے ہاں تشریف لائے تو انہوں نے آپ کو اس بات کی خبر دی ۔ آپ نے اس سے پوچھا : اے فلان ! ہر رکعت میں اسی سورت کی تلاوت کرنے پر کس چیز نے ابھارا ہے ؟ اس نے عرض کی: مجھے اس سے بڑی محبت ہے تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اس سورت کی محبت تجھے جنت میں داخل کر دے گی۔"

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← عَبْد الْعَزِيزِ -يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ- ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بِخَبَرٍ غَرِيبٍ غَرِيبٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 537

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 538

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ الْهَمْدَانِيُّ، نَا أَبُو خَالِدٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ قَالَ: جَاءَ نَهِيكُ بْنُ سِنَانٍ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: كَيْفَ تَجِدُ هَذَا الْحَرْفَ: (مِنْ مَاءٍ غَيْرِ آسِنٍ) [محمد: 15] أَوْ يَاسِنٍ؟ فَقَالَ: "أَكُلَّ الْقُرْآنِ أَحْصَيْتَ إِلَّا هَذَا؟ قَالَ: إِنِّي لَأَقْرَأُ الْمُفَصَّلَ فِي رَكْعَةٍ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ. إِنَّ أَقْوَامًا يَقْرَؤُونَ الْقُرْآنَ بِأَلْسِنَتِهِمْ لَا يَعْدُو تَرَاقِيَهُمْ، وَلَكِنَّهُ إِذَا دَخَلَ فِي قَلْبٍ فَرَسَخَ فِيهِ نَفَعَ. وَإِنَّ أَخْيَرَ الصَّلَاةِ الرُّكُوعُ وَالسُّجُودُ. وَإِنِّي أَعْلَمُ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ بِهِنَّ سُورَتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ، ثُمَّ أَخَذَ بَيْدِ عَلْقَمَةَ فَدَخَلَ، ثُمَّ خَرَجَ فَعَدَّهُنَّ عَلَيْنَا. قَالَ الْأَعْمَشُ: وَهِيَ عِشْرُونَ سُورَةً عَلَى تَأْلِيفِ عَبْدِ اللَّهِ. أَوَّلُهُنَّ الرَّحْمَنُ وَآخِرَتُهُنَّ الدُّخَانُ، الرَّحْمَنُ، وَالنَّجْمُ، وَالذَّارِيَاتُ، وَالطُّورُ، هَذِهِ النَّظَائِرُ. وَاقْتَرَبَتِ، وَالْحَاقَّةُ، وَالْوَاقِعَةُ، وَ (ن) وَالنَّازِعَاتِ، وَسَأَلَ سَائِلٌ، وَالْمُدَّثِّرُ، وَالْمُزَّمِّلُ، وَوَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ، وَعَبَسَ، وَلَا أُقْسِمُ، وَهَلْ أَتَى، وَالْمُرْسَلَاتِ، وَعَمَّ يَتَسَاءَلُونَ، وَإِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ، وَالدُّخَانُ. أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو مُوسَى، نَا الْأَعْمَشُ؛ ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، وَسَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، نَا الْأَعْمَشُ: فَذَكَرُوا الْحَدِيثَ بِطُولِهِ إِلَى قَوْلِهِ: فَدَخَلَ عَلْقَمَةُ فَسَأَلَهُ. ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْنَا فَقَالَ: عِشْرُونَ سُورَةً مِنْ أَوَّلِ الْمُفَصَّلِ فِي تَأْلِيفِ عَبْدِ اللَّهِ، لَمْ يَزِيدُوا عَلَى هَذَا.

"جناب شقیق روایت بیان کرتے ہیں کہ نہیک بن سنان حضرت عبداللہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دریافت کیا: آپ یہ حرف ( قراءت کیس کر تمہیں( ما ء خیر اٰسن) یا(یاسن) تو انہوں نے فرمایا: کیا تم نے اس کے علاوہ سارا قرآن محفوظ ( یاد ) کر لیا ہے ؟ تو وہ کہنے لگے : بے شک میں ایک ہی رکعت میں ساری مفصل سورتیں پڑھ لیتا ہوں۔ تو حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا: ( پھر تو تم ) نہایت تیر رفتاری سے پڑھتے ہوگے جیسے شعر تیزی سے پڑھے جاتے ہیں ۔ بلاشبہ کچھ لوگ قرآن مجید اپنی زبانوں سے پڑھتے ہیں لیکن وہ ان کے حلقوں سے نیچے نہیں اترتا ، لیکن قرآن مجید جب دل میں داخل ہو کر اس میں راسخ ہوجائے تو نفع دیتا ہے ۔ اور بے شک بہترین نماز رکوع وسجود (زیادہ ) کرنا ہے ۔ اور بے شک میں ان ملتی جلتی سورتوں کو جانتا ہوں جنہیں رسول اللہﷺ ایک رکعت میں دو دو سورتیں پڑھتے تھے۔ پھر جناب علقمہ کا ہاتھ پکڑا اور اند تشریف لے گئے ، پھر باہر تشریف لائے تو ہمیں وہ سورتیں شما رکر کے بتائیں ، پھر باہر تشریف لائے تو ہمیں وہ سورتیں شما ر کر کے بتائیں ۔ جناب اعمش فرماتے ہیں : حضرت عبداللہ ؓ کی تالیف کے مطابق وہ بیس سورتیں ہیں۔ ان میں سے پہلی سورت الرحمٰن اور آخری سورت الدخان ہے ۔ سورۃ الرحمٰن اور سورہ النجم ، سورہ الذاریات اور سورہ الطّور ملتی جلتی سورتیں ہیں۔ ( دیگر ملتی جلتی سورتیں یہ ہیں) سورہ اقتربت (القمر ) اورسورۃ الحاقۃ سورۃ الواقعۃ اور سورہ ن(القلم)۔ سورہ النازعات اور سورہ سأل سائل (المعارج) سورہ المدثر اور سورہ المزمل ۔ سورہ ویل للمطففین اور سورہ عبس۔ سورہ لااقسم(القیامۃ) اور ھل اتی(الدھر) اور سورہ المرسلات اور سورہ عم یتساءلون۔ اور سورہ اذا الشمس کورت اور سورہ الدخان ۔ امام صاحب اپنے اساتذہ کرام جناب ابو موسیٰ ، یوسف بن موسیٰ اور سلم بن جنادہ کی سند سے اعمش سے روایت بیان کرتے ہیں۔ تمام اساتذہ کرام نے ان الفاظ تک مکمل حدیث بیان کی ہے ۔: پھر جب علقمہ اندر گئے اور حضرت عبداللہ سے دریافت کیا ۔ پھر ہمارے پاس باہر تشریف لائے تو فرمایا:( وہ ملتی جلتی سورتیں ) حضرت عبداللہ کی تالیف کے مطابق مفصل سورتوں کی ابتداء سے بیس سورتیں ہیں۔ اس سے زیادہ روایت انہوں نے بیان نہیں کی۔"

جَاءَ نَهِيكُ بْنُ سِنَانٍ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ، ← شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو خَالِدٍ؛ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ الْهَمْدَانِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 538

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 539

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، نَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، نَا كَهْمَسٌ؛ وَحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، نَا وَكِيعٌ، عَنْ كَهْمَسِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَفِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَجْمَعُ بَيْنَ السُّوَرِ فِي الرَّكْعَةِ؟ قَالَتِ: الْمُفَصَّلُ. هَذَا حَدِيثُ وَكِيعٍ. وَقَالَ الدَّوْرَقِيُّ فِي حَدِيثِهِ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي الضُّحَى؟ قَالَتْ: إِذَا جَاءَ مِنْ مَغِيبِةٍ. قُلْتُ: أَكَانَ يَقْرِنُ السُّوَرَ؟ قَالَتِ: الْمُفَصَّلَ. قُلْتُ: أَكَانَ يُصَلِّي جَالِسًا؟ قَالَتْ: بَعْدَمَا حَطَمَهُ النَّاسُ.

"جناب عبداللہ بن شقیق العقیلی ؒ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں میں نے حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا : کیا رسول اللہﷺ ایک رکعت میں کئی سورتیں جمع کر ک پڑھ لیتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا: ( ہاں آپ) مفصل سورتیں ( پڑھ لیا کرتے تھے) یہ وکیع کی حدیث ہے۔ جناب دورقی کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: میں ( عبداللہ بن شقیق العقیلی) نے کہا: حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا : کیا رسول اللہﷺ چاشت کی نماز پڑھا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا: ( ہاں) جب آپ کسی سفر سے واپس آتے ( تو پڑھتے تھے) میں نے عرض کی: کیا آپ سورتوں کو ملا کر پڑھ لیتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا: ( ہاں ) آپ مفصل سورتیں ( ملا کر پرھ لیتے تھے) میں نے دریافت کیا: کیا آپ بیٹھ کر نماز پڑھ لیا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا: ( ہاں) جب لوگوں نے آپ کو بوڑھا اور کمزور کر دیا ( تو آ پ بیٹھ کر نماز پڑھ لیتے تھے)۔

"بَعْدَمَا حَطَمَهُ النَّاسُ". ← الْمُفَصَّلَ. قُلْتُ: أَكَانَ يُصَلِّي جَالِسًا؟ ← إِذَا جَاءَ مِنْ مَغِيبِةٍ. قُلْتُ: أَكَانَ يَقْرِنُ السُّوَرَ؟ ← الدَّوْرَقِيُّ فِي حَدِيثِهِ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُصَلِّي الضُّحَى؟ ← الْمُفَصَّلُ. هَذَا حَدِيثُ وَكِيعٍ. ← قُلْتُ لِعَائِشَةَ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَجْمَعُ بَيْنَ السُّوَرِ فِي الرَّكْعَةِ؟ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَفِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ ← کهمس بن الحسن ← وَكِيعٌ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ← كَهْمَسٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 539

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 539

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، نَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، نَا كَهْمَسٌ؛ وَحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، نَا وَكِيعٌ، عَنْ كَهْمَسِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَفِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَجْمَعُ بَيْنَ السُّوَرِ فِي الرَّكْعَةِ؟ قَالَتِ: الْمُفَصَّلُ. هَذَا حَدِيثُ وَكِيعٍ. وَقَالَ الدَّوْرَقِيُّ فِي حَدِيثِهِ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي الضُّحَى؟ قَالَتْ: إِذَا جَاءَ مِنْ مَغِيبِةٍ. قُلْتُ: أَكَانَ يَقْرِنُ السُّوَرَ؟ قَالَتِ: الْمُفَصَّلَ. قُلْتُ: أَكَانَ يُصَلِّي جَالِسًا؟ قَالَتْ: بَعْدَمَا حَطَمَهُ النَّاسُ.

حضرت جسرہ بنت وجاجہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے حضرت ابوذر ؓ کو فرماتے ہوئے سنا: نبی اکرمﷺ نماز میں ایک ہی آیت مبارکہ ( ساری رات) بار بار پڑھتے رہے حتیٰ کہ صبح ہوگئی ۔ وہ آیت مبارکہ یہ ہے : ( اِنْ تُعَذِّبْھُمْ فَاِنَّھُمْ عِبَادُکَ وَاِنْ تَغْفِرْ لَھُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَذِیْزُ الْحَکِیْمْ) (المائدۃ:۱۱۸) "( اے اللہ!) اگر تو انہیں عذاب دے گا تو وہ تیرے ہی بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے گا تو بے شک تو ہی غالب نہایت حکمت والا ہے ۔"

"بَعْدَمَا حَطَمَهُ النَّاسُ". ← الْمُفَصَّلَ. قُلْتُ: أَكَانَ يُصَلِّي جَالِسًا؟ ← إِذَا جَاءَ مِنْ مَغِيبِةٍ. قُلْتُ: أَكَانَ يَقْرِنُ السُّوَرَ؟ ← الدَّوْرَقِيُّ فِي حَدِيثِهِ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُصَلِّي الضُّحَى؟ ← الْمُفَصَّلُ. هَذَا حَدِيثُ وَكِيعٍ. ← قُلْتُ لِعَائِشَةَ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَجْمَعُ بَيْنَ السُّوَرِ فِي الرَّكْعَةِ؟ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَفِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ ← کهمس بن الحسن ← وَكِيعٌ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ← كَهْمَسٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 539

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 540

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ الْهَمْدَانِيُّ نا أبو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ -أَوْ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ-. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.

"امام صاحب نے اس سلسلے میں اپنے استاد محترم جناب محمد بن العلا ء کی سند سے حضرت زید بن ثابت ؓ کی روایت بیان کی ہے ۔"

أَبِيهِ، أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ -أَوْ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ-. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. ← هِشَامٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ الْهَمْدَانِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 540

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 541

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ، نَا عَمِّي، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُ: قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ لِمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ: يَا أَبَا عَبْدِ الْمَلِكِ، أَتَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِـ (قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ)، وَ (إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ) فَقَالَ: [نَعَمْ]. قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: فَمَحْلُوفَةٌ، لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[71 - أ] يَقْرَأُ فَيَبْدَأُ بِأَطْوَلِ الطُّولَيَيْنِ (المص). قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدْ أَمْلَيْتُ خَبَرَ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِسُورَةِ الْأَعْرَافِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ كِلْتَيْهِمَا، بِخَبَرِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فِي قَوْلِهِ: يَقْرَأُ فِيهِمَا، يُرِيدُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ جَمِيعًا.

"جناب محمد بن عبدالرحمان سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت عروہ بن زبیر کو فرماتے ہوئے سنا کہ حضرت زید بن ثابت ؓ نے مروان بن حکم سے کہا: اے ابو عبدالملک کیا تم نماز مغرب میں( قُلْ ھُوَ اللہُ اَحَدٌ) اور(اِنَّا اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرَ) پڑھتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں۔ حضرت زید بن ثابت ؓ نےفرمایا: تو قسم کھائی جاسکتی ہے ، بے شک میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا کہ آپ دو طویل ترین سورتوں میں سے ایک طویل تر سورت المص ( الاعراف ) سے قراءت کی ابتداء کرتے تھے ۔ امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : میں نے ہشام کی ان کے والد محترم حضرت عروہ کی حضرت زید بن ثابت ؓ سے روایت املا ء کراچکا ہوں کہ نبی اکرمﷺ نماز مغرب کی دونوں رکعتوں میں سورہ اعراف ہی پڑھا کرتے تھے ۔ جناب محمد بن عبدالرحمٰن کی روایت میں یہ ہے : "آپ دونوں میں ( سورۂ اعراف ) پڑھتے تھے ۔ ان کی مراد یہ ہے کہ آپ دونوں رکعتوں میں ( ایک ہی سورت ) پڑھتے تھے۔"

مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عَمِّي، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 541

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 542

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ؛ ح وَحَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، نَا الْأَعْمَشُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الْأَحْنَفِ، عَنْ صِلَةَ، عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ لَيْلَةٍ فَافْتَتَحَ الْبقرةَ، فَقَرَأَ حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْمِائَةِ، فَقُلْتُ: يَرْكَعُ. ثُمَّ مَضَى حَتَّى بَلَغَ الْمِائَتَيْنِ. فَقُلْتُ يَرْكَعُ، ثُمَّ قَرَأَ حَتَّى خَتَمَهَا، فَقُلْتُ: يَرْكَعُ. ثُمَّ افْتَتَحَ النِّسَاءَ، فَقَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ، فَكَانَ رُكُوعُهُ مِثْلَ قِيَامِهِ، وَقَالَ فِي رُكُوعِهِ: "سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ"، ثُمَّ سَجَدَ وَكَانَ سُجُودُهُ مِثْلَ رُكُوعِهِ، فَقَالَ فِي سُجُودَهُ: "سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى". وَكَانَ إِذَا مَرَّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ سَأَلَ، وَإِذَا مَرَّ بِآيَةِ عَذَابٍ تَعَوَّذَ، وَإِذَا مَرَّ بِآيَةٍ فِيهَا تَنْزِيهٌ لِلَّهِ سَبَّحَ. هَذَا لَفْظُ مُؤَمَّلٍ.

"حضرت حذیفہ ؓ بیان کرتےہیں کہ میں نے ایک رات نبی اکرمﷺ کے ساتھ نماز پڑھی ، آپ نے قراءت شروع کی تو سو آیات کی تلاوت فرمائی ، میں نے ( دل میں ) کہا: آپ رکوع کریں گے ۔ پھر آپ نے قراءت جاری رکھی اور دو سو آیات تک قراءت کی ، میں نے ( دلی میں) کہا: ( اب) آپ رکوع کریں گے ( لیکن ) آپ نے پھر قراءت کی حتی کہ سورت ختم کردی ، میں نے کہا: آپ اب رکوع کریں گے ( مگر) آپ نے پھر سورۂ نساء شروع کر دی ، آپ نے (مکمل سورت) تلاوت کرنے کے بعد رکوع کیا تو آپ کا میرے خیال میں رکوع بھی آپ کے قیام کی طرح ( طویل ) تھا۔ آپ نے اپنے رکوع میں یہ کلمات پڑھے"سبحان ربی العظیم" پھر آپ نے سجدہ کیا اور آپ کا سجدہ بھی آپ کے رکوع کی طرح طویل تھا۔ آپ نے اپنے سجدوں میں یہ تسبیح پڑھی:"سبحان ربی الاعلیٰ"آپ جب کسی آیت رحمت کی تلاوت فرماتے تو اللہ تعالیٰ سے رحمت کا سوال کرتے ، اور جب کسی عذاب والی آیت کی قراءت کرتے تو اللہ تعالیٰ سے اس کے عذاب سے پناہ مانگتے اور جب کسی ایسی آیت کی تلاوت کرتے جس میں اللہ تعالیٰ کی تنزیہ وتقدیس ہوتی تو اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ۔ یہ مومل کی روایت ہے ۔"

حُذَيْفَةَ ← صِلَةَ، ← الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الْأَحْنَفِ ← سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 542

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 543

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ، نَا يَحْيَى وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ؛ وَحَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ؛ ح وَحَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الْأَحْنَفِ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ لَيْلَةٍ، مَا مَرَّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ إِلَّا وَقَفَ عِنْدَهَا -فَسَأَلَ، وَلَا مَرَّ بِآيَةِ عَذَابٍ إِلَّا وَقَفَ عِنْدَهَا فَتَعَوَّذَ. هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي مُوسَى.

"حضرت حذیفہ ؓ بیان کرتےہیں کہ میں نے ایک رات نبی اکرمﷺ کے ساتھ نماز پڑھی ، آپ نے قراءت شروع کی تو سو آیات کی تلاوت فرمائی ، میں نے ( دل میں ) کہا: آپ رکوع کریں گے ۔ پھر آپ نے قراءت جاری رکھی اور دو سو آیات تک قراءت کی ، میں نے ( دلی میں) کہا: ( اب) آپ رکوع کریں گے ( لیکن ) آپ نے پھر قراءت کی حتی کہ سورت ختم کردی ، میں نے کہا: آپ اب رکوع کریں گے ( مگر) آپ نے پھر سورۂ نساء شروع کر دی ، آپ نے (مکمل سورت) تلاوت کرنے کے بعد رکوع کیا تو آپ کا میرے خیال میں رکوع بھی آپ کے قیام کی طرح ( طویل ) تھا۔ آپ نے اپنے رکوع میں یہ کلمات پڑھے"سبحان ربی العظیم" پھر آپ نے سجدہ کیا اور آپ کا سجدہ بھی آپ کے رکوع کی طرح طویل تھا۔ آپ نے اپنے سجدوں میں یہ تسبیح پڑھی:"سبحان ربی الاعلیٰ"آپ جب کسی آیت رحمت کی تلاوت فرماتے تو اللہ تعالیٰ سے رحمت کا سوال کرتے ، اور جب کسی عذاب والی آیت کی قراءت کرتے تو اللہ تعالیٰ سے اس کے عذاب سے پناہ مانگتے اور جب کسی ایسی آیت کی تلاوت کرتے جس میں اللہ تعالیٰ کی تنزیہ وتقدیس ہوتی تو اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ۔ یہ مومل کی روایت ہے ۔"

حُذَيْفَةَ ← صِلَۃَ بْنَ زُفَرَ، ← الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الْأَحْنَفِ ← سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ← الْاَعْمَشِ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← أَبُو مُوسَى، ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَى وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 543

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 544

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، نَا مُحَمَّدٌ -يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْوَهَّابِ السُّكَّرِيَّ-؛

"حضرت عبداللہ بن ابی اوفی ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسی چیز سکھا دیں جو مجھے قرآن مجید کی قراءت سے کافی ہو جائے کیونکہ میں قرآن مجید کی تلاوت نہیں کرسکتا ۔ آپ نے فرمایا: تم یہ پڑھ لیا کرو((سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر ولا الہ الا اللہ ولا حول ولا قوۃ الا باللہ))"اے اللہ! تو پاک ہے ، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اللہ کےسوا کوئی بندگی کے لائق نہیں ہے ، اللہ بہت بڑا ہے ، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے ، اور نیکی کرنے اور گناہوں سے بچنے کی طاقت وقدرت نہیں ہے مگر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ۔"اس شخص نے ان کلمات کے ساتھ اپنا ہاتھ بند کیا اور کہا : یہ کلمات تو میرے رب کےلیے ہیں، میرے لیے کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا: کہو:((اللھم اغفرلی وار حمنی واھدنی وارزقی وعافنی))"اے اللہ! مجھے بخش دے ، اور مجھ پر رحم فرما، اور مجھے ہدایت عطا فرما، اور مجھے رزق نصیب فرما اور مجھے عافیت سے نواز دے ۔ "فرماتے ہیں : تو اس شخص نے ان کلمات پر دوسرا ہاتھ بھی بند کیا اور اٹھ کر چلا گیا ۔ یہ مخزومی کی حدیث ہے ۔ ہارون نے اپنی حدیث میں یہ الفاظ روایت کیے ہیں: اس شخص نے کہا: مجھے کوئی ایسی چیز سکھا دیں جو مجھے قرآن مجید سے کفایت کر جائے ۔ " اور یہ الفاظ روایت نہیں کیے کہ : اس آدمی نے ان کلمات پر اپنا ہاتھ بند کیا۔" حدیث کے آخر میں انہوں نے فرمایا: مسعر کہتے ہیں: میں جناب ابراہیم کی خدمت میں حاضر تھا جبکہ آپ یہ حدیث بیان کر رہے تھے اور آپ نے اپنے پاس بیٹھے اشخاص سے اس کی تحقیق کی۔"

مُحَمَّدٌ -يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْوَهَّابِ السُّكَّرِيَّ-؛ ← هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 544

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 545

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا علي بن حجر السعدي نا إسماعيل - يعني ابن جعفر - نا يحيى بن علي بن يحيى بن خلاد ابن رافع الزرقي عن أبيه عن جده عن رفاعة بن رافع : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم بينما هو جالس في المسجد يوما - قال رفاعة : ونحن معه - إذ جاء رجل كالبدوي فصلى فأخف صلاته ثم انصرف فسلم على النبي صلى الله عليه وسلم فقال النبي صلى الله عليه وسلم : وعليك فارجع فصل فإنك لم تصل فرجع فصلى ثم جاء فسلم على النبي صلى الله عليه وسلم فرد عليه وقال : ارجع فصل فإنك لم تصل ففعل ذلك مرتين أو ثلاثا كل ذلك يأتي النبي صلى الله عليه وسلم يسلم عليه ويقول : وعليك فارجع فصل فإنك لم تصل فخاف الناس وكبر عليهم أن يكون من أخف صلاته لم يصل فقال الرجل في آخر ذلك : فأرني أو علمني فإنما أنا بشر أصيب وأخطئ فقال النبي صلى الله عليه وسلم : أجل إذا قمت إلى الصلاة فتوضأ كما أمرك الله ثم تشهد فأقم ثم كبر فإن كان معك قرآن فاقرأ به وإلا فاحمد الله وكبره وهلله ثم اركع فاطمئن راكعا ثم اعتدل قائما ثم اسجد فاعتدل ساجدا ثم اجلس فاطمئن جالسا ثم قم فإذا فعلت ذلك فقد تمت صلاتك وإن انتقصت منها شيئا انتقصت من صلاتك قال : وكانت هذه أهون عليهم من الأولى ان من انتقص من ذلك شيئا انتقص من صلاته ولم يذهب كلها

"حضرت رفاعہ بن رافع ؓ سے روایت ہے کہ اس اثنا میں کہ رسول اللہﷺ ایک دن مسجد میں تشریف فرما تھے ، رفاعہ کہتے ہیں اور ہم بھی آپ کی خدمت میں بیٹھے تھے کہ ایک شخص آیا جو بدوی لگتا تھا ، اس نے نماز پڑھی تو مختصر سی نماز پڑھی ، اس نے پھر نماز سے فارغ ہو کر نبی اکرمﷺ کو سلام کیا تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم پر بھی سلام ہو ، واپس جاؤ اور نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ، وہ آدمی واپس گیا ، اس نے نماز پرھی پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کو سلام عرض کیا : آپ نے اس کے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: واپس جا کر نماز ادا کرو کیونکہ تم نے نماز ادا نہیں کی ۔ اس شخص نے دو یا تین بار اس طرح ( ہلکی اور مختصر ) نماز پڑھی۔ ہر بار وہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر سلام عرض کرتا اور آپ فرماتے : تجھے بھی سلام ہو ، واپس جاؤ اور نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ۔ صحابہ کرام ڈر گئے اور ان پر یہ بات بڑی گراں گزری کہ جو شخص مختصر نماز پڑھے اس کی نماز ہی نہ ہو بالآ خر اس شخص نے عرض کی: آپ مجھے ( نماز پڑھ کر ) دکھا دیں یا مجھے ( نماز پڑھنا ) سکھا دیں ، بلاشبہ میں ایک انسان ہوں ، مجھ سے غلطی بھی ہو جاتی ہے اور میں صحیح کا م بھی انجام دیتا ہوں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ضرور ( سکھا دیتا ہوں): جب تم نماز کےلیے کھڑے ہوتو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق وضو کرو ، پھر شہادتین کا اقرار کر پھر اقامت کہہ کر اللہ اکبر کہو پھر اگر تجھے قرآن مجید یاد ہو تو اس کی تلاوت کرو ، وگر نہ اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء(اَلْحَمْدُ لِلہِ) اس کی تکبیر (اَللہُ اَکْبَر) اور تہلیل(لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ) بیان کرو ۔ پھر رکوع کرو تو خوب اطمینان سے رکوع کرو ، پھر سیدھے کھڑے ہو جاؤ ۔ پھر سجدہ کرو تو پوری طرح کرو ، پھر پورے اطمینان کے ساتھ بیٹھ جاؤ، پھر ( اگلی رکعت کے لیے ) کھڑے ہو جاؤ ، جب تم اس طرح سے ( نماز ادا ) کرو گے تو تمہاری نماز پوری ہوجائے گی اور اگر تم نے ان چیزوں میں سے کسی چیز کی کمی کی تو تمہاری ناقص رہ جائے گی۔"فرماتے ہیں : تو یہ چیز صحابہ کرام کےلیے آ کے پہلے فرمان سے آسان تھی کہ جس شخص نے کوئی کمی کی اس کی نماز میں کمی ہوجائے گی اور مکمل نماز ضائع نہیں ہوگی۔"

رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← يحيى بن علي بن يحيى بن خلاد ابن رافع الزرقي ← إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ- ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 545

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 546

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، نَا حَجَّاجٌ -يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ سُفْيَانَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُسَيِّبِ الْعَابِدِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَكَّةَ الصُّبْحَ وَاسْتَفْتَحَ سُورَةَ الْمُؤْمِنِينَ، حَتَّى إِذَا جَاءَ ذِكْرُ مُوسَى وَهَارُونَ أَوْ ذِكْرُ عِيسَى -مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ شَكَّ أَوِ اخْتَلَفُوا عَلَيْهِ- أَخَذَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَعْلَةٌ، قَالَ: فَرَكَعَ. قَالَ: وَابْنُ السَّائِبِ حَاضِرٌ ذَلِكَ. أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجِ: بِمِثْلِهِ سَوَاءً لَفْظًا وَاحِدًا، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. وَقَالَ: فَحَذَفَ وَرَكَعَ، وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَيْسَ هُوَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ السَّهْمِيَّ.

"حضرت عبداللہ بن سائب ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے مکہ مکرمہ میں صبح کی نماز پڑھی اور سورہ مومنون شروع کی ۔ حتی کہ جب حضرت موسی اور ہارون یا عیسیٰ ؑ کا ذکر آیا ( محمد بن عباد کو شک ہے یا ان کے اساتذہ کرام نے اختلاف کیا ہے ) تو نبی اکرمﷺ کو کھانسی آگئی ۔ تو آپ نے رکوع کر دیا ۔ حدیث کے راوی بیان کرتے ہیں ابن سائب ؓ اس موقع پر موجود تھے ۔ امام صاحب اپنے استاد جناب عبالرحمٰن کی سند سے ابن جریج سے مذکورہ بالا روایت ہی کی طرح بیان کیا ہے ، مگر یہ الفاظ بیان کیے ہیں: " رسول اللہﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی ۔ " اور کہا: آپ نے قراءت مختصر کر دی اور رکوع میں چلے گئے ، اس کے بعد والے الفاظ بیان نہیں کیے ۔ امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں: ( یہ عبداللہ) عبداللہ بن عمرو بن عاص سہمی نہیں۔"

عَبْدِ اللهِ بْنِ السَّائِبِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُسَيَّبِ الْعَابِدِيُّ ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أبو سلمة بن سفيان ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حَجَّاجٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 546

chevron_left Previous
1…168169170…258
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals