Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 547

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ الْعَطَّارُ أَبُو بَكْرٍ، نَا سُفْيَانُ، عَنِ [ابْنِ] جُرَيْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: فِي كُلِّ صَلَاةٍ يُقْرَأُ (1). فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَسْمَعْنَاكُمْ، وَمَا أَخْفَى عَنَّا أَخْفَيْنَاهُ عَنْكُمْ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدْ بَيَّنْتُ فِي كِتَابِ الْإِمَامَةِ جَمِيعَ مَا يَنْبَغِي لِلْمُصَلِّي أَنْ يُعْلِنَ بِالْقِرَاءَةِ فِيهَا مِنَ الصَّلَوَاتِ، وَمَا عَلَيْهِ أَنْ يُخَافِتَ بِهَا عَلَى مَا كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعْلِنُ وَيُخَافِتُ.

"حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ ہر نماز میں قراءت کی جائے گی ۔ رسول اللہﷺ نے ہمیں جو قراءت سنائی ، وہ ہم تمہیں سنا دیتے ہیں ۔ اور ( جن نمازوں میں) ہم سے پوشیدہ قراءت کی ، ہم نے بھی وہ قراءت تم سے پوشیدہ رکھی ہے ۔امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ کی بلند آواز سے اور آہستہ آواز سے قراءت کرنے کی بنیاد پر نمازی کے لیے کن نمازوں میں بآواز بلند قراءت کرنی چاہئے اور کن میں آہستہ آواز سے قراءت کرنی چاہئے اور کن میں آہستہ سے قراءت کرنی چاہیے ، میں یہ تمام بحث کتاب الامامتہ میں بیان کردی ہے ۔"

أَبَا هُرَيْرَةَ ← عَطَاءٍ، ← جُرَيْجٍ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ الْعَطَّارُ أَبُو بَكْرٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 547

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 548

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، نَا إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ- وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ؛ وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ سُحَيْمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ -وَهُوَ ابْنُ عَبَّاسٍ- عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَشَفَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - السِّتَارَةَ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ: "أَيُّهَا النَّاسُ! إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلَّا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ، يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ، أَلَا إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا. فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا فِيهِ الرَّبَّ، وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ". هَذَا حَدِيثُ عَبْدِ الْجَبَّارِ.

"حضرت ابن عباس ؓبیان کرتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے ( اپنے حجرہ مبارک کا) پردہ ہٹایا جبکہ صحابہ کرام حضرت ابوبکر ؓکے پیچھے صفیں بنائے ہوئے ( نماز پڑھ رہے ) تھے تو آپ نے فرمایا: اے لوگو! نبوت کی خوش خبریوں میں صرف نیک خواب باقی رہ گئے ہیں جنہیں مسلمان دیکھے گا یا اسے دکھائے جائیں گے ، خبردار! بے شک مجھے رکوع اور سجدے کی حالت میں قراءت کرنے سے منع کیا گیا ہے ، لہٰذا رکوع میں رب تعالیٰ کی عظمت بیان کیا کرو اور سجدوں میں گڑ گڑا کر خوب محنت سے دعائیں مانگو کیونکہ یہ بہت لائق ہے کہ تمہاری دعائیں قبول کی جائیں ۔ یہ عبدالجبار کی حدیث ہے ۔"

كَشَفَ النَّبِيُّ السِّتَارَةَ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ -وَهُوَ ابْنُ عَبَّاسٍ- ← سُلَيْمَانَ بْنِ سُحَيْمٍ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ- وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ؛ ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 548

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 549

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، نَا جَرِيرٌ؛ ح وَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ جَمِيعًا عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِذَا قَرَأَ ابْنُ آدَمَ السَّجْدَةَ فَسَجَدَ، اعْتَزَلَ الشَّيْطَانُ يَبْكِي وَيَقُولُ: يَا وَيْلَهُ أُمِرَ ابْنُ آدَمَ بِالسُّجُودِ فَسَجَدَ فَلَهُ الْجَنَّةُ، وَأُمِرْتُ بِالسُّجُودِ فَأَبَيْتُ فَلِيَ النَّارُ". فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ، قَالَ: "فَعَصَيْتُهُ".

"حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جب آدم کا بیٹا سجدہ والی آیت تلاوت کر کے سجدہ کرتا ہے تو شیطان روتے ہوئے اس سے الگ ہو جاتا ہے اور کہتا ہے : ہائے میری بربادی ! ابن آدم کو سجدے کا حکم دیا گیا تو اس نے سجدہ کیا لہٰذا اس کےلیے جنت ہے ۔ اور مجھے سجدے کا حکم دیا گیا تو میں نے ( سجدہ کرنے سے) انکار کرد یا چنانچہ میرے لیے ( جہنم کی) آگ ہے ۔ جریر کی حدیث میں ہے ۔ "میں نے اس کی نافرمانی کی۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ جَمِيعًا ← وَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 549

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الفَرِیضَۃِ فِی السَّفَرِ · حديث 976

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنُ مَيْمُونٍ بِالْإِسْكَنْدَرِيَّةَ، نَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ الدِّمَشْقِيُّ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ثَوْبَانَ، حَدَّثَنِي جَابِرٌ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ، فَكَانَ يُصَلِّي التَّطَوُّعَ عَلَى رَاحِلَتِهِ مُسْتَقْبِلَ الشَّرْقِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ الْمَكْتُوبَةَ نَزَلَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ نَسَبُهُ إِلَى جَدِّهِ. جماع أبواب صلاة الفريضة عند العلة تحدث

" حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک جنگ میں شریک تھے، آپ نفل نماز اپنی سواری پر مشرق کی جانب منہ کر کے پڑھتے تھے، پھر جب فرض نماز پڑھنا چاہتے تو نیچے اتر قبلہ رخ ہو کر پڑھتے۔ امام ابو بکر رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : محمد بن ثوبان سے مراد محمد بن عبد الرحمان بن ثوبان ہے اس کی نسبت ( بام کی بجائے) اس کے دادا ثوبان کی طرف کی گئی۔"

جَابِرٍ ← محمد بن ثوبان ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ الدِّمَشْقِيُّ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَيْمُونٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of obligatory travel · Hadith 976

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ الهمزة مع الغين · حديث 977

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، نَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، نَا الزُّهْرِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ؛ ح وَثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، قَالَ عَلِيٌّ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ. وَقَالَ الْآخَرُونَ: ثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ -وَهَذَا حَدِيثُ عَبْدِ الْجَبَّارِ- قَالَ: سَقَطَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فَرَسٍ فَجُحِشَ شِقُّهُ الْأَيْمَنُ، فَدَخَلْنَا نَعُودُهُ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَصَلَّى بِنَا قَاعِدًا.

" حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ گھوڑے سے گڑ پڑے تو آپ کا دایان پہلو زخمی ہو گیا ہم آپ کی تیمار داری کے لیے حاضر ہوئےتو نماز کا وقت ہو گیا، چنانچہ آپ نے بیٹھ کر ہمیں نماز پڑھائی۔"

أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ -وَهَذَا حَدِيثُ عَبْدِ الْجَبَّارِ- ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْآخَرُونَ ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَلِيٍّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ← سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness · Hadith 977

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ الهمزة مع الغين · حديث 978

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ (1) وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: ثَنَا أَبُو دَاؤُدَ -قَالَ الْمُخَرِّمِيُّ: الْحَفَرِيُّ، وَقَالَ يُوسُفُ: عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ-، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مُتَرَبِّعًا.

" حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں : میں نے رسول اللہ ﷺ کو چار زانوں بیٹھ کر نماز پڑھتے دیکھا ہے ۔"

رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ يُصَلِّي مُتَرَبِّعًا. ← عَائِشَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← حُمَيْدٍ ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← الْمُخَرِّمِيُّ: الْحَفَرِيُّ، وَقَالَ يُوسُفُ: عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ-، ← أَبُو دَاوُدَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness · Hadith 978

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ الهمزة مع الغين · حديث 979

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ثَنَا وَكِيعٌ؛ ح وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكٍ، كِلَاهُمَا عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: كَانَ بِي الْبَاصُورُ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ. فَقَالَ: "صَلِّ قَائِمًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَجَالِسًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَى جَنْبٍ". وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: كَانَتْ لِي بَوَاسِيرُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

" حضرت عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں کہ مجھے بواسیر تھی تو میں نے نبی اکرم ﷺ سے نماز کت متعلق پوچھا ( کہ کس طرح ادا کروں ؟ ) آپ نے فرمایا : " کھڑے ہو کر پڑھو، اگر کھڑے ہونے کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر پڑھ لو ، اور اگر بیٹھ کر پڑھنے کی قدرت بھی نہ ہو تو پہلو لے بل لیٹ کر پڑھ لو۔" جناب محمد بن عیسی کی روایت میں " ناسور " کی بجائے " بواسیر " کے لفظ ہیں ۔ ( معنی ایک ہی ہیں )

كَانَتْ لِي بَوَاسِيرُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، ← "صَلِّ قَائِمًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَجَالِسًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَى جَنْبٍ". ← الصَّلَاةِ ← كَانَ بِي الْبَاصُورُ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ ← عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← ابن المبارك كلاهما ← مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، ← وَكِيعٌ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness · Hadith 979

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ الهمزة مع الغين · حديث 980

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَنَّ مَالِكًا حَدَّثَهُ؛ وَثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ، عَنْ مَالِكٍ؛ وَثَنَا الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ [108 - ب] عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ كَانَ إِذَا سُئِلَ عَنْ صَلَاةِ الْخَوْفِ، قَالَ: يَقُومُ الْإِمَامُ وَطَائِفَةٌ مِنَ النَّاسِ فَيُصَلِّي بِهِمْ رَكْعَةً، وَتَكُونُ طَائِفَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْعَدُوِّ لَمْ يُصَلُّوا، فَإِذَا صَلَّى الَّذِينَ مَعَهُ رَكْعَةً، اسْتَأْخَرُوا مَكَانَ الَّذِينَ لَمْ يُصَلُّوا وَلَا يُسَلِّمُونَ (1)، وَيَتَقَدَّمُ الَّذِينَ لَمْ يُصَلُّوا، فَيُصَلُّونَ مَعَهُ رَكْعَةً، ثُمَّ يَنْصَرِفُ الْإِمَامُ وَقَدْ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَيَقُومُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ، فَيُصَلُّونَ لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً، فَإِنْ كَانَ خَوْفًا أَشَدَّ مِنْ ذَلِكَ، صَلَّوْا رِجَالًا قِيَامًا عَلَى أَقْدَامِهِمْ، وَرُكْبَانًا مُسْتَقْبِلِي الْقِبْلَةِ، وَغَيْرَ مُسْتَقْبِلِيهَا. قَالَ نَافِعٌ: لَا أَرَى ابْنَ عُمَرَ ذَكَرَهُ إِلَّا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

" حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ جب ان سے نماز خوف کے بارے سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : امام اور لوگوں کی ایک جماعت کھڑی ہو گی تو امام انہیں ایک رکعت پڑھائے گا ، جبکہ دوسری جماعت جس نے نماز نہیں پڑھی وہ امام اور دشمن کے درمیان صف آراء رہے گی۔ پھر جب امام کے ساتھ والی جماعت ایک رکعت اس کے ساتھ پڑھ لے گی ، تو وہ سلام پھیرے بغیر ہی ان لوگون کی جگہ لے لے گی جنہون نے نماز نہیں پڑھی تھی اور یہ لوگ آگے آئیں گے جنہوں نے نماز نہیں پڑھی اور امام کے ساتھ ایک رکعت ادا کریں گے ، پھر امام سلام پھیر دے گا اور اس کی دو رکعتیں ہو چھی ہوں گی، پھر دونوں جماعتیں اپنی اپنی ایک رکعت پڑھ لیں گی( اور سلام پھر دیں گیں)۔ اگر خوف اس سے بھی شدید ہو تو وہ چلتے ہوئے کھڑے کھڑے اور سوار ہو کر قبلہ رخ ہو کر یا بغیر قبلہ رخ ہوئے نماز پڑھ لیں گے۔ نافع کہتے ہیں : میرا خیال ہے کہ حضرت ابن عمر نے ( نماز کی یہ کیفیت وصورت ) رسول اللہ ﷺ سے ہی بیان کی ہے۔"

ابْنُ وَهْبٍ، ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness · Hadith 980

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ الهمزة مع الغين · حديث 981

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى الطَّبَّاعُ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ سَوَاءً، وَقَالَ، قَالَ نَافِعٌ: إِنَّ ابْنَ عُمَرَ رَوَى ذَلِكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

" اما م صاحب اپنے استاد جناب محمد بن یحیی کی سند سے بیان کرتے ہیں کہ جناب نافع نے کہا: بے شک حضرت ابن عمر ؓ یہ کیفیت و صورت رسول اللہ ﷺ سے ہی بیان کرتے ہیں ۔"

رَسُولِ اللَّهِ ← نَافِعٌ: إِنَّ ابْنَ عُمَرَ رَوَى ذَلِكَ ← مَالِكٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ سَوَاءً، وَقَالَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى الطَّبَّاعُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness · Hadith 981

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ الهمزة مع الغين · حديث 982

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا أَبُو مَعْمَرٍ، نَا عَبْدُ الْوَارِثِ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ، [عَنْ أَبِيهِ] قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَالِدِ بْنِ سُفْيَانَ بْنِ نُبَيْحٍ الْهُذَلِيِّ، وَبَلَغَهُ أَنَّهُ يَجْمَعُ لَهُ وَكَانَ بَيْنَ عُرَنَةَ (1) وَعَرَفَاتٍ، قَالَ لِيَ: "اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ"، قَالَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! صِفْهُ لِي. قَالَ: "إِذَا رَأَيْتَهُ أَخَذَتْكَ قُشَعْرِيرَةٌ. لَا عَلَيْكَ أَنْ لَا أَصِفَ لَكَ مِنْهُ غَيْرَ هَذَا". قَالَ: وَكَانَ رَجُلًا، أَرِبَ وَأَشْعَرَ، قَالَ: انْطَلَقْتُ حَتَّى إِذَا دَنَوْتُ مِنْهُ حَضَرَتِ الصَّلَاةُ صَلَاةُ الْعَصْرِ، قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي لَأَخَافُ أَنْ يَكُونَ بَيْنِي مَا أَنْ أُؤَخِّرَ الصَّلَاةَ، فَصَلَّيْتُ وَأَنَا أَمْشِي أُومِئُ إِيمَاءً نَحْوَهُ، ثُمَّ انْتَهَيْتُ إِلَيْهِ، فَوَاللَّهِ مَا عَدَا أَنْ رَأَيْتُهُ اقْشَعْرَرْتُ، وَإِذَا هُوَ فِي ظُعُنٍ لَهُ -أَيْ فِي نِسَائِهِ-، فَمَشَيْتُ مَعَهُ. فَقَالَ: مَنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ: رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَجْمَعُ لِهَذَا الرَّجُلِ، فَجِئْتُكَ فِي ذَاكَ. فَقَالَ: إِنِّي لَفِي ذَاكَ. قَالَ: قُلْتُ فِي نَفْسِي: سَتَعْلَمُ. قَالَ: فَمَشَيْتُ مَعَهُ سَاعَةً، حَتَّى إِذَا أَمْكَنَنِي عَلَوْتُهُ بِسَيْفِي حَتَّى بَرَدَ. ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ فَأَعْطَانِي مِخْصَرًا -يَقُولُ عَصًا- فَخَرَجْتُ بِهِ مِنْ عِنْدِهِ، فَقَالَ لِي أَصْحَابِي: مَا هَذَا الَّذِي أَعْطَاكَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: قُلْتُ: مِخْصَرًا. قَالُوا: وَمَا تَصْنَعُ بِهِ؟ ماذا (2) أَلَا سَأَلْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَ أَعْطَاكَ هَذَا، وَمَا تَصْنَعُ بِهِ؟ عُدْ إِلَيْهِ، فَسلْهُ. قَالَ: فَعُدْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! الْمِخْصَرُ أَعْطَيْتَنِيهِ لِمَاذَا؟ قَالَ: "إِنَّهُ بَيْنِي وَبَيْنَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ. وَأَقَلُّ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ الْمُخْتَصِرُونَ". قَالَ: فَعَلَّقَهَا فِي سَيْفِهِ لَا يُفَارِقُهُ، فَلَمْ يُفَارِقْهُ مَا كَانَ حَيًّا، فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ أَمَرَنَا أَنْ تُدْفَنَ مَعَهُ. قَالَ: فَجُعِلَتْ وَاللَّهِ فِي كَفَنِهِ.

" حضرت عبد اللہ بن انیس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے خالد بن سفیان بن نبیح الھذلی کی طرف بھیجا، آپ کو یہ اطلاع ملی تھی کہ وہ آپ کے کلاف لشکر جمع کر رہا ہے، اور وہ وادی عرنہ اور عرفات کے درمیان موجود تھا۔ آپ نے مجھے حکم دیا جاو اور اسے قتل کر دو۔" کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ﷺ مجھے اس کی کوئی نشانی بتادیں ؟ آپ نے فرمایا : جب تم اس کو دیکھو گے تو تم پر کپکپی طاری ہو جائے گی ، ےمہارے لیے اس کی کوئی اور نشانی اگر نہ بھی بیان کروں تو تمہیں کو ئی نقصان نہیں ( یعنی اتنی ہی نشانی کافی ہے ) کہتے ہیں : وہ لمبے قد اور لمبے بالوں والا آدمی تھا ۔ کہتے ہیں : میں چل پڑا حتی کہ جب میں اس کے قریب پہنچ گیا تو نماز عصر کا وقت ہو گیا ۔ کہتے ہیں : میں نے سوچا مجھے خدشہ ہے کہ میرے اور اس کے درمیان کوئی ایسی چیز ہو جائے کہ میں اپنی نماز موخر کر بیٹھوں ۔ لہٰذا میں نے چلتے چلتے اشارے سے نماز ادا کر لی۔ پھر میں اس تک پہنچ گیا ، اللہ کی قسم ! اسے دیکھتے ہی مجھ پر کپکپی طاری ہو گئی ، اور وہ اپنی عورتون کے ساتھ چل رہا تھا تو میں بھی اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگا ، اس نے پوچھا : تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں ایک عربی شخص ہوں ، مجھے اطلاع ملی تھی کہ تم اس شخص (محمد ﷺ ) کے خلاف لشکر جمع کر رہے ہو، تو اس سلسلے میں تمہارے پاس آیا ہوں ۔ تو اس نے کہا ؛ بے شک میں اسی کام میں مشغول ہوں۔ کہتے ہیں : میں نے دل میں کہا : عنقریب تمہیں پتہ چل جائے گا ۔ کہتے ہیں : میں کچھ دیر اس کے ساتھ ساتھ چلتا رہا ، حتی کہ جب مجھے موقع مل گیا تو اس پر تلوار کا وار کر کے اس کا کام تمام کر دیا ، اور وہ ٹھنڈا ہو گیا ، پھر میں مدینہ منورہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو سارے واقعہ کی روداد سنائی ، تو آپ نے مجھے ایک عصا ءعطا کیا ۔ میں وہ عصاء لے کر آپ کے پاس سے نکلا تو میرے دوست احباب نے مجھے کہا : اللہ کے رسول ﷺ نے تمہیں یہ کیا چیز عطا کی ہے ؟ کہتے ہیں میں نے جواب دیا : عصاء ( لاٹھی ۹ ہے۔ انہون نے کہا تم اس کا کیا کرو گے ؟ تم نے رسول اللہ ﷺ سے کیوں نہیں پوچھا کہ تم اس کا کیا کرو گے؟ جاو ، آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر پو چھ لو۔ کہتے ہیں : میں رسول اللہ کے پاس دوبارہ گیا اور عرض کی : اللہ کے رسول ! آپ نے یہ عصاء مجھے کس لیے عطا کیا ہے؟ آپ نے فرمایا : یہ قیامت کے دن تمہارے اور میرے درمیان نشانی ہو گی، اور اس روز بہت کم لوگون کے پاس عصا ہوں گے۔ کہتے ہیں : انہون نے اس عصا کو اپنی تلوار کے ساتھ لٹکا لیا ، کبھی وہ اس سے جدا نہیں ہوتے تھے، پھر انہوں نے ساری زندگی اسے اپنے سے جدا نہ کیا، پھر جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے ہمیں حکم دیا کہ اسے میرے ساتھ ہی دفن کر دینا ۔ ان کے بیٹے نے کہا: میں نے ہی اسے ان کے ساتھ کفن میں رکھا تھا ۔"

بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ إِلَى خَالِدِ بْنِ سُفْيَانَ بْنِ نُبَيْحٍ الْهُذَلِيِّ، وَبَلَغَهُ ← ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← أَبُو مَعْمَرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness · Hadith 982

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ الهمزة مع الغين · حديث 983

أَخبرنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ -وَكَتَبْتُهُ مِنْ أَصْلِهِ- قَالَ: ثَنَا يَعْقُوبُ، نَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ، عَنْ أَبِيهِ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدْ خَرَّجْتُ أَبْوَابَ صِفَاتِ الْخَوْفِ فِي آخِرِ كِتَابِ الصَّلَاةِ.

" امام صاحب نے اپنے استاد احمد بن الازھر کے اصل نسخے سے یہ حدیث لکھ کر اپنی سند سے مفصل بیان کی ہے۔ امام ابو بکر فرماتے ہیں : میں نے کتاب الصلاۃ کے آخر میں خوف کی صفات کے ابواب بیان کیے ہیں ۔"

أَبُو بَكْرٍ: قَدْ خَرَّجْتُ أَبْوَابَ صِفَاتِ الْخَوْفِ فِي آخِرِ كِتَابِ الصَّلَاةِ. ← أَبِيهِ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ. ← ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ -وَكَتَبْتُهُ مِنْ أَصْلِهِ- ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness · Hadith 983

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ الهمزة مع الغين · حديث 984

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ (1)، وَأَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ، قَالَا: ثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ أَحْمَدُ، قَالَ: سَمِعْتُ مَعْمَرًا. وَقَالَ مُحَمَّدٌ: عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُوسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: "مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَتَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ، أَوْ رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ فَقَدْ أَدْرَكَ" [109 - أ].

" حضرت ابو ہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جس نے دورج غروب ہونے سے قبل عصر کی دو رکعت پالیں یا سورج طلوع ہونے سے پہلے ایک رکعت پالی تو اس نے نماز پا لی۔ ( لہٰذا وہ باقی نماز مکمل کرلے )

النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← ابْنِ طَاوُوسٍ ← مَعْمَرٌ، ← مُحَمَّدٍ ← مَعْمَرًا، ← أَحْمَدُ، ← مُعْتَمِرٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness · Hadith 984

chevron_left Previous
1…169170171…258
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals