Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 356

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحْرِزٍ -أَصْلُهُ بَغْدَادِيٌّ- بِالْفُسْطَاطِ، نَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، نَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "الْفَجْرُ فَجْرَانِ: فَجْرٌ يَحْرُمُ فِيهِ الطَّعَامُ، وَيَحِلُّ فِيهِ الصَّلَاةُ، وَفَجَرٌ يَحْرُمُ فِيهِ الصَّلَاةُ، وَيَحِلُّ فِيهِ الطَّعَامُ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي هَذَا الْخَبَرِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ صَلَاةَ الْفَرْضِ لَا يَجُوزُ أَدَاؤُهَا قَبْلَ دُخُولِ وَقْتِهَا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَوْلُهُ: "فَجْرٌ يَحْرُمُ فِيهِ الطَّعَامُ"، يُرِيدُ عَلَى الصَّائِمِ؛ "وَيَحِلُّ فِيهِ الصَّلَاةُ"، يُرِيدُ: صَلَاةَ الصُّبْحِ. وَ"فَجْرٌ يَحْرُمُ فِيهِ الصَّلَاةُ"، يُرِيدُ صَلَاةَ الصُّبْحِ، إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ الْأَوَّلُ لَمْ يَحِلَّ أَنْ يُصَلَّيَ فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ صَلَاةَ الصُّبْحِ. لِأَنَّ الْفَجْرَ الْأَوَّلَ يَكُونُ بِاللَّيْلِ، وَلَمْ يَرِدْ أَنَّهُ لَا يَجُوزُ أَنْ يُتَطَوَّعَ بِالصَّلَاةِ بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ الْأَوَّلِ. وَقَوْلُهُ: وَ"يَحِلُّ فِيهِ الطَّعَامُ"، يُرِيدُ لِمَنْ يُرِيدُ الصِّيَامَ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: [لَمْ] (1) يَرْفَعْهُ فِي الدُّنْيَا غَيْرُ أَبِي أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيِّ.

"حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: فجر دو قسم کی ہے ، ایک فجر وہ ہے کہ ( روزے دار کےلیے ) اس میں کھانا کھانا حرام ہو جاتا ہے اور نماز ادا کرنا حلال ہوتا ہے ۔ ایک وہ فجر ہے کہ اس میں نماز فجر ادا کرنا حرام ہوتا ہے جبکہ کھانا کھانا حلال ہوتا ہے ۔ امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ فرض نماز اس کے وقت ہونے سے قبل ادا کرنا جائز نہیں ہے ۔ امام ابوبکر فرماتے ہیں : آپ کا فرمان :"ایک فجر وہ ہے کہ اس میں کھانا کھانا حرام ہوتا ہے " آپ کی مراد روزہ دار ہے ۔"اور اس میں نماز کا ادا کرنا حلال ہوتا ہے ۔" آپ کی مراد نماز فجر ہے اور ایک فجر وہ ہے جس میں نماز پڑھنا حرام ہوتا ہے ۔ آپ کی مراد نماز فجر ہے ۔ کیونکہ جب فجر اول طلوع ہوتی ہے تو اس وقت نماز فجر ادا کرنا چائز نہیں کیونکہ فجر اول رات کے وقت طلوع ہوتی ہے ۔ آپ کا مقصد یہ نہیں کہ اس وقت نفلی حلال ہوتا ہے ۔ "آپ کی مراد وہ شخص ہے جو روزہ رکھنا چاہتا ہو تو وہ کھانا کھا سکتا ہے ۔ امام ابوبکر کہتے ہیں : اس روایت کو دنیا میں ابو احمد زبیری کے سوا کسی نے مرفوع بیان نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحْرِزٍ -أَصْلُهُ بَغْدَادِيٌّ- بِالْفُسْطَاطِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 356

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 357

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بك ر نا أبو موسى محمد بن المثنى حدثني الضحاك بن مخلد أخبرنا سفيان حدثني عبد الله بن أبي بكر عن سعيد بن المسيب عن أبي سعيد الخدري قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ألا أدلكم على ما يكفر الله به الخطايا ويزيد في الحسنات ؟ قالوا : بلى يا رسول الله قال : إسباغ الوضوء في المكاره وانتظار الصلاة بعد الصلاة ما منكم من رجل يخرج من بيته فيصلي مع الإمام ثم يجلس ينتظر الصلاة الأخرى إلا والملائكة تقول : اللهم اغفر له اللهم ارحمه ثم ذكر الحديث قال أبو بكر : لم يرو هذا الحديث إلا أبو عاصم

"حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا میں تمہیں ایسا عمل نہ بتاؤں جس سے اللہ تعالیٰ گناہوں کو معاف فرماتے ہیں اور نیکیوں میں اضافہ کرتے ہیں ؟ صحابہ نے عرض کی: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول ! ( ضرور بتائیے) آپ نے فرمایا : مشقت اور مشکل کے باوجود مکمل وضو کرنا ، اورنماز کے بعد ( دوسری ) نماز کا انتظار کرنا ، تم میں سے جو شخص بھی گھر سے نکلتا ہے تو امام کے ساتھ نماز ادا کرتا ہے پھر بیٹھ کر دوسری نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے فرشتے اس کےلیے دعا کرتے رہتے ہیں: اے اللہ! اسے بخش دے ، اے اللہ اس پر رحم فرما ۔"پھر باقی حدیث بیان کی ۔ امام ابوبکر فرماتے ہیں : اسے صرف ابو عاصم نے بیان کیا ہے ۔"

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← سُفْيَانَ، ← الضحاك بن مخلد ← أَبُو مُوسَی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی ← أبو بك ر ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 357

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 358

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا بندار نا يحيى أخبرنا عبيد الله بن عمر حدثني خبيب بن عبد الرحمن عن حفص بن عاصم عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : سبعة يظلهم الله في ظله يوم لا ظل إلا ظله الإمام العادل وشاب نشأ في عبادة الله ورجل قلبه معلق في المساجد ورجلان تحابا في الله اجتمعا عليه وتفرقا عليه ورجل طلبته امرأة ذات منصب وجمال فقال إني أخاف الله ورجل تصدق بصدقة أخفاها لا تعلم يمينه ما تنفق شماله ورجل ذكر الله خاليا ففاضت عيناه قال لنا بندار مرة : امرأة ذات حسب وجمال فقال إني قال أبو بكر : هذه اللفظة لا تعلم يمينه ما تنفق شماله قد خولف فيها يحيى بن سعيد فقال من روى هذا الخبر غير يحيى : لا يعلم شماله ما ينفق يمينه

"حضرت ابوہریرہ ؓ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: سات قسم کے افراد کو اللہ تعالیٰ اپنے سائے تلے جگہ عطا فرمائے گا جس روز اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں ہوگا۔ عدل و انصاف کرنے والا حکمران ، اللہ تعالیٰ کی عبادت میں نشوونما پانے والا نوجوان ، وہ شخص جس کا دل مساجد میں اٹکا رہتا ہے ۔ وہ دو آدمی جو اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کےلیے باہم محبت کرتے ہیں، اسی پر اکٹھے ہوتے ہیں اور اس پر جدا ہوتے ہیں ۔ اور وہ آدمی جسے بلند مرتبہ خوبصورت عورت ( برائی کےلیے ) بلاتی ہے تو وہ کہتا ہے : میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں ۔ اور وہ شخص جو صدقہ کرتا ہے تو اسے پوشیدہ رکھتا ہے حتی کہ اس کے دائیں ہاتھ کو بھی پتہ نہیں چلتا کہ بائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے ۔ اور وہ شخص جو تنہائی میں اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے تو اس کے آنسو نکل جاتے ہیں۔" ہمیں بندار نے ایک مرتبہ اس طرح روایت بیان کی کہ : حسب والی اور خوبصورت عورت اسے بلاتی ہے تو وہ کہتا ہے : میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں ۔ امام ابوبکر فرماتے ہیں : یہ بیان کہ اس کا دایاں ہاتھ نہیں جانتا کہ اس کے بائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے ۔ اس میں یحییٰ بن سعید کی مخالفت کی گئی ہے ۔ یحییٰ کے علاوہ اس روایت کو بیان کرنے والے راوی نے یوں کہا ہے : "اس کا بایاں ہاتھ نہیں جانتا کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے ۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ← خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← يَحْيَى ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 358

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 359

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، نَا ابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "مَا مِنْ رَجُلٍ كَانَ يُوَطِّنُ الْمَسَاجِدَ فَشَغَلَهُ أَمْرٌ أَوْ عِلَّةٌ، ثُمَّ عَادَ إِلَى مَا كَانَ، إِلَّا تَبَشْبَشَ اللَّهُ إِلَيْهِ كَمَا يَتَبَشْبَشُ أَهْلُ [53 - ب] الْغَائِبِ بِغَائِبِهِمْ إِذَا قَدِمَ".

"حضرت ابو ہریرہ ؓ نبی اکرمﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جو شخص بھی مساجد کو اپنا ٹھکانا بنا لیتا ہے پھر اس کو کوئی کام یا بیماری مشغول کر دیتی ہے ۔ پھر وہ اپنی سابقہ حالت پر واپس آجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ ا س کی طرف اس طرح خوشی کا اظہار فرماتے ہیں جس طرح غائب ہونے والے کے گھر والے غائب ہونے والے کی آمد پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں ۔"

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 359

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 360

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، نَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "لَا يَزَالُ الْعَبْدُ فِي صَلَاةٍ مَا دَامَ فِي مُصَلَّاهُ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ، تَقُولُ الْمَلَائِكَةُ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ [لَهُ] اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ، مَا لَمْ يَنْصَرِفْ أَوْ يُحْدِثْ". قَالُوا: مَا يُحْدِثُ؟ قَالَ: "يَفْسُو أَوْ يَضْرِطُ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَهَذِهِ اللَّفْظَةُ: يَفْسُو أَوْ يَضْرِطُ، مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي نَقُولُ إِنَّ ذِكْرَهُمَا لِعِلَّةٍ، لِأَنَّهُمَا، وَكُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى الِانْفِرَادِ يَنْقُضُ طُهْرَ الْمُتَوَضِّئِ. وَكُلَّ مَا نَقَضَ طُهْرَ الْمُتَوَضِّئِ مِنَ الْأَحْدَاثِ كُلِّهَا فَحُكْمُهُ حُكْمُ هَذَيْنِ الْحَدَثَيْنِ. وَهَذَا مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي أَجَبْتُ بَعْضَ أَصْحَابِنَا أَنَّهُ مِنَ الْخَبَرِ الْمُعَلَّلِ الَّذِي يَجُوزُ أَنْ يُشَبَّهَ بِهِ مَا هُوَ مِثْلُهُ فِي الْحُكْمِ. وَلَوْ كَانَ التَّشْبِيهُ وَالتَّمْثِيلُ لَا يَجُوزُ عَلَى أَخْبَارِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، عَلَى مَا تَوَهَّمَ بَعْضُ مَنْ خَالَفَنَا، لَكَانَ الْبَائِلُ فِي كُوزٍ أَوْ قَارُورَةٍ، وَالْمُتَغَوِّطُ فِي طَشْتٍ أَوْ أُجَانَةٍ إِذَا جَلَسَ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ، كَانَ لَهُ أَجْرُ الْمُصَلِّي. وَالْمُحْدِثُ إِذَا خَرَجَتْ مِنْهُ رِيحٌ لَمْ يَكُنْ لَهُ أَجْرُ الْمُصَلِّي، وَإِنْ جَلَسَ فِي الْمَسْجِدِ بَعْدَ خُرُوجِ الرِّيحِ مِنْهُ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ. وَمَنْ فَهِمَ الْعِلْمَ وَعَقَلَهُ، وَلَمْ يُعَانِدْ وَلَمْ يُكَابِرْ عَقْلَهُ، عَلِمَ أَنَّ قَوْلَهُ: "يَفْسُو أَوْ يَضْرِطُ، إِنَّمَا أَرَادَ أَنَّ الْفِسَا وَالضِّرَاطَ يَنْقُضَانِ طُهْرَ الْمُتَوَضِّئِ، وَأَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَجْعَلْ لِمُنْتَظِرِ الصَّلَاةِ بَعْدَ هَذَيْنِ الْحَدَثَيْنِ فَضِيلَةَ الْمُصَلِّي، لِأَنَّهُ غَيْرُ مُتَوَضِّئِ. فَكُلُّ مُنْتَظِرٍ الصَّلَاةَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ غَيْرُ طَاهِرٍ طَهَارَةً تُجْزِيهِ الصَّلَاةُ مَعَهَا، فَحُكْمُهُ حُكْمُ مَنْ خَرَجَتْ مِنْهُ رِيحٌ نَقَضَتْ عَلَيْهِ الطَّهَارَةَ. جُمَّاعُ أَبْوَابِ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ

"حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: بندہ مسلسل نماز ہی میں رہتا ہے جب تک وہ اپنی جائے نماز پر (بیٹھا ) نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے فرشتے اس کےلیے دعا کرتے ہیں: اے اللہ ! اسے معاف فرما دے ، اے اللہ! اس پر رحم فرما، جب تک وہ ( اسی جگہ سے) لوٹ نہیں جاتا یا حدث نہیں کرتا ۔"شاگردوں نے عرض کی: حدث کیا ہے ؟ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا: بے آواز یا باآواز ہوا خارج کرنا۔"امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : اور یہ الفاظ بے آواز یا باآواز ہوا خارج کر دے ، اس جنس سے ہیں جو کہتی ہے کہ ان دونوں کا ذکر کسی سبب سے کیا گیا ہے ۔ کیونکہ یہ دونوں اور ان میں سے ہر ایک منفرد طور پر باوضو شخص کی طہارت کو توڑ دیتا ہے ۔ اور باوضو شخص کے وضو کو توڑنے والے تمام احداث کا حکم ان دو حدثوں کے حکم جیسا ہے اور یہ اسی جنس سے ہے جس کا میں نے اپنے بعض اصحابہ کو جواب دیا ہے کہ بعض معلل روایات ایسی ہوتی ہیں کہ ان کے ساتھ دوسری اس جیسی روایات کو تشبیہ دی جاسکے ۔ اور اگر نبی اکرم ﷺ کی احادیث میں تشبیہ دی جاسکے ۔ اور اگر نبی اکرم ﷺ کی احادیث میں تشبیہ وتمثیل جائز نہ ہوتی جیسا کہ ہمارے بعض مخالفین کا وہم ہے تو پیالے یا بوتل میں پیشاب کرنے والے شخص اور تھال یا ٹب میں پاخانہ کرنے والے کےلیے نمازی کا اجر ہونا چاہیے جب وہ مسجد میں بیٹھا نماز کا انتظار کر رہا ہو۔ حالانکہ بے وضو شخص جب اس کی ہوا خارج ہو جائے تو اس کےلیے نمازی کا اجر نہیں ہے ۔ اگرچہ وہ ہوا خارج ہونے کے بعد مسجد میں بیٹھا نماز کا انتظار کرتا رہے ۔ اور جو شخص علمی سمجھ اور فراست رکھتا ہو اور وہ معاند اور غافل متکبر بھی نہ ہو وہ جان لے گا کہ آپ کا فرمان : بے آواز یا باآواز ہوا خارج کردے"سے آپ کی مراد یہ ہے کہ ان سے یہ دونوں حدث وضو توڑ دیتے ہیں۔ اور نبی اکرم ﷺ نے نماز کا انتظار کرنے والے شخص کےلیے ان دو حدثوں کے واقع ہوجانے کے بعد نماز کا اجر نہیں رکھا ۔ کیونکہ وہ بے وضو ہے ۔لہٰذا نماز کے انتظار میں مسجد میں ، بغیر ایسی طہارت کے جس کے ساتھ نماز اد ا کرنا کافی ہو جائے ، بیٹھے شخص کا حکم اس شخص کی طرح ہے جس کی ہوا نکل گئی ہو اور اس کی طہارت ٹوٹ گئی ہو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي رَافِعٍ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← أَبِي ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ الْعَنْبَرِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 360

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 361

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ. ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْجَوْهَرِيُّ، نَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ تَسْنِيمٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَجْتَمِعُونَ فَيَتَحَيَّنُونَ الصَّلَاةَ، وَلَيْسَ يُنَادِي بِهَا أَحَدٌ، فَتَكَلَّمُوا يَوْمًا فِي ذَلِكَ، فَقَالَ بَعْضُهُمُ: اتَّخِذُوا نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَى. وَقَالَ بَعْضُهُمْ: بَلْ قَرْنَا مِثْلَ قَرْنِ الْيَهُودِ. فَقَالَ عُمَرُ: أَفَلَا تَبْعَثُونَ رَجُلًا فَيُنَادِي بِالصَّلَاةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "قُمْ يَا بِلَالُ! فَنَادِ بِالصَّلَاةِ".

" حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ مسلمان جب مدینہ منورہ آئے تو وہ یونہی جمع ہو جاتے تو نماز کےلیے ایک وقت مقرر کر لیتے ، انہیں کوئی بلاتا نہیں تھا، پھر ایک دن انہوں نے اس سلسلے میں بات چیت کی تو ان کے بعض افراد نے کہا کہ عیسائیوں کے گھنٹے جیسا گھنٹہ بنا لو ، جبکہ بعض نے کہا کہ یہودیوں کے نرسنگے جیسا نرسنگا بنا لو، حضرت عمرؓ نے کہاک کہ تم ایک آدمی کو کیوں نہیں بھیجتے جو نماز کا اعلان کرے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"اے بلال: اٹھو نماز کےلیے اعلان کرو۔"

حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 361

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 362

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، [بِخَبَرٍ غَرِيبٍ غَرِيبٍ] (1)، نَا أَبُو بَكْرٍ -يَعْنِي الْحَنَفِيَّ-، نَا [54 - أ] عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ بِلَالًا كَانَ يَقُولُ أَوَّلَ مَا أَذَّنَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ. حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ. فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: قُلْ فِي أَثَرِهَا: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "قُلْ كَمَا أَمَرَكَ عُمَرُ".

"حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ بلالؓ شروع میں اذان ان کلمات کے ساتھ کہتے تھے:"أَشْھَدُأَن لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ"( میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ہے ) "حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ(نماز کےلیے آؤ) تو حضرت عمر ؓ نے انہیں کہا: أَشْھَدُأَن لَّا إِلٰہَ إِلَّااللہُ کے بعد أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللہِ(میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں ) کہا کرو ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسی طرح کہا کرو جیسے تمہیں عمر حکم دے رہے ہیں۔"

رَسُولُ اللَّهِ "قُلْ كَمَا أَمَرَكَ عُمَرُ". ← لَهُ عُمَرُ: قُلْ فِي أَثَرِهَا: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ← أَوَّلَ مَا أَذَّنَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ. حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ. ← ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ بِلَالًا كَانَ ← أَبِيهِ ← أ] عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، ← أَبُو بَكْرٍ -يَعْنِي الْحَنَفِيَّ- ← بُنْدَارٌ، [بِخَبَرٍ غَرِيبٍ غَرِيبٍ]

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 362

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 363

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، نَا أَبِي، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَمَّا أَصْبَحْنَا أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ بِالرُّؤْيَا فَقَالَ: "إِنَّ هَذِهِ الرُّؤْيَا حَقٌّ. فَقُمْ مَعَ بِلَالٍ. فَإِنَّهُ أَنْدَى أَوْ أَمَدُّ صَوْتًا مِنْكَ، فَأَلْقِ عَلَيْهِ مَا قِيلَ لَكَ، فَيُنَادِي بِذَلِكَ". قَالَ: فَفَعَلْتُ. فَلَمَّا سَمِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ نِدَاءَ بِلَالٍ بِالصَّلَاةِ خَرَجَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَجُرُّ رِدَاءَهُ، وَهُوَ يَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، لَقَدْ رَأَيْتُ مِثْلَ الَّذِي قَالَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "فَلِلَّهِ الْحَمْدُ".

" حضرت عبداللہ بن زید ؓ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں کہ: جب ہم نے صبح کی تو ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، میں نے آپ کو (اذان کے متعلق ) خواب بیان کیا ۔ آپ نے فرمایا: بے شک یہ سچا خواب ہے ۔ بلال کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ کیونکہ وہ تم سے بلند آواز ہیں، اسے وہ کلمات بتاؤ جو تمہیں (خواب میں) بتائے گئے ہیں اور وہ ان کے ساتھ اذان کہیں۔ کہتے ہیں: تو میں نے آپ کے حکم کی تعمیل کی ، پھر جب حضرت بن خطاب ؓ نے حضرت بلال ؓ کی نماز کےلیے اذان سنی تو وہ اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے رسول اللہﷺ کی طرف نکلے اور کہنے لگے : اے اللہ کے رسول ! اس ذات اقدس کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ معبوث فرمایا ہے ، یقیناً میں نے اسی طرح دیکھا ہے جیسے نہوں نے پکارا ہے ۔ تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: پس سب تعریفیں اللہ ہی کےلیے ہیں ( جس نے یہ خواب سچ کر دکھایا ہے ۔)"

أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبِي ← سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 363

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 364

قَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي خَبَرِ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "قُمْ يَا بِلَالُ! فَنَادِ بِالصَّلَاةِ".

" امام ابو بکر ؒ کہتے ہیں : حضرت ابن عمر ؓ کی روایت میں ہے : تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: اے بلال کھڑے ہو جاؤ اور نماز کےلیے اذان کہو۔"

ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ "قُمْ يَا بِلَالُ! فَنَادِ بِالصَّلَاةِ". ← أَبُو بَكْرٍ فِي خَبَرِ نَافِعٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 364

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 365

قَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي خَبَرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ إِنَّمَا يَجْتَمِعُ النَّاسُ إِلَيْهِ لِلصَّلَاةِ بِحِينِ مَوَاقِيتِهَا بِغَيْرِ دَعْوَةٍ.

" امام ابوبکر کہتے ہیں : حضرت عبداللہ بن زید ؓ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگ آپ کے پاس نما زکےلیے ان کے اوقات میں بغیر اذان کے جمع ہوجاتے تھے۔"

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 365

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 366

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ، نَا عَبْدُ الْوَارِثِ -يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ- عَنْ أَيُّوبَ؛ ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، نَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، نَا أَيُّوبَ؛ ح [ثَنَا] بُنْدَارٌ، ثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، نَا خَالِدٌ؛ ح عَنْ مُحَمَّدٍ، غَيْرُ مُفَسَّرٍ؛ وَحَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ، نَا بِشْرٌ -يَعْنِي ابْنَ الْمُفضَّلِ- نَا خَالِدٌ؛ ح وَحَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، نَا هَشِيمٌ، عَنْ خَالِدٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، نَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، كِلَيْهِمَا، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَيُوتِرَ الْإِقَامَةِ.

" حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت بلال ؓ کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ اذان کےکلمات دو دو بار اور اقامت کے ایک ایک بار کہیں۔"

أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَيُوتِرَ الْإِقَامَةِ. ← أَنَسٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، كِلَيْهِمَا، ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← وَحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ← خَالِدٌ، ← هُشَيْمٌ ← وَحَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ← خَالِدٌ، ← بِشْرٌ -يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ- ← مُحَمَّدٍ، غَيْرُ مُفَسَّرٍ؛ وَحَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ، ← خَالِدٌ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← بُنْدَارٌ ← أَيُّوبَ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، ← أَيُّوبَ، ← عَبْدُ الْوَارِثِ -يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ-، ← بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 366

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 367

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، نَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ خَالِدًا يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّهُ حَدَّثَ: أَنَّهُمُ الْتَمَسُوا شَيْئًا يُؤَذِّنُونَ بِهِ عِلْمًا لِلصَّلَاةِ. قَالَ: فَأُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ، وَيُوتِرَ الْإِقَامَةَ.

" حضرت انس ؓ کا بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام نے کسی ایسی چیز کی تلاش کی جس کے ذریعے وہ نماز کے وقت کی خبر دینے کےلیے اذان کہہ سکیں ، کہتے ہیں کہ: بلال ؓ کو حکم دیا گیا کہ اذان کے کلمات دو دو مرتبہ اور اقامت کے ایک ایک بار کہیں۔"

فَأُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ، وَيُوتِرَ الْإِقَامَةَ. ← أَنَسٍ، أَنَّهُ حَدَّثَ: أَنَّهُمُ الْتَمَسُوا شَيْئًا يُؤَذِّنُونَ بِهِ عِلْمًا لِلصَّلَاةِ. ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدًا ← الْمُعْتَمِرُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 367

chevron_left Previous
1…153154155…258
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals