صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 356
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحْرِزٍ -أَصْلُهُ بَغْدَادِيٌّ- بِالْفُسْطَاطِ، نَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، نَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "الْفَجْرُ فَجْرَانِ: فَجْرٌ يَحْرُمُ فِيهِ الطَّعَامُ، وَيَحِلُّ فِيهِ الصَّلَاةُ، وَفَجَرٌ يَحْرُمُ فِيهِ الصَّلَاةُ، وَيَحِلُّ فِيهِ الطَّعَامُ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي هَذَا الْخَبَرِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ صَلَاةَ الْفَرْضِ لَا يَجُوزُ أَدَاؤُهَا قَبْلَ دُخُولِ وَقْتِهَا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَوْلُهُ: "فَجْرٌ يَحْرُمُ فِيهِ الطَّعَامُ"، يُرِيدُ عَلَى الصَّائِمِ؛ "وَيَحِلُّ فِيهِ الصَّلَاةُ"، يُرِيدُ: صَلَاةَ الصُّبْحِ. وَ"فَجْرٌ يَحْرُمُ فِيهِ الصَّلَاةُ"، يُرِيدُ صَلَاةَ الصُّبْحِ، إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ الْأَوَّلُ لَمْ يَحِلَّ أَنْ يُصَلَّيَ فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ صَلَاةَ الصُّبْحِ. لِأَنَّ الْفَجْرَ الْأَوَّلَ يَكُونُ بِاللَّيْلِ، وَلَمْ يَرِدْ أَنَّهُ لَا يَجُوزُ أَنْ يُتَطَوَّعَ بِالصَّلَاةِ بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ الْأَوَّلِ. وَقَوْلُهُ: وَ"يَحِلُّ فِيهِ الطَّعَامُ"، يُرِيدُ لِمَنْ يُرِيدُ الصِّيَامَ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: [لَمْ] (1) يَرْفَعْهُ فِي الدُّنْيَا غَيْرُ أَبِي أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيِّ.
"حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: فجر دو قسم کی ہے ، ایک فجر وہ ہے کہ ( روزے دار کےلیے ) اس میں کھانا کھانا حرام ہو جاتا ہے اور نماز ادا کرنا حلال ہوتا ہے ۔ ایک وہ فجر ہے کہ اس میں نماز فجر ادا کرنا حرام ہوتا ہے جبکہ کھانا کھانا حلال ہوتا ہے ۔ امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ فرض نماز اس کے وقت ہونے سے قبل ادا کرنا جائز نہیں ہے ۔ امام ابوبکر فرماتے ہیں : آپ کا فرمان :"ایک فجر وہ ہے کہ اس میں کھانا کھانا حرام ہوتا ہے " آپ کی مراد روزہ دار ہے ۔"اور اس میں نماز کا ادا کرنا حلال ہوتا ہے ۔" آپ کی مراد نماز فجر ہے اور ایک فجر وہ ہے جس میں نماز پڑھنا حرام ہوتا ہے ۔ آپ کی مراد نماز فجر ہے ۔ کیونکہ جب فجر اول طلوع ہوتی ہے تو اس وقت نماز فجر ادا کرنا چائز نہیں کیونکہ فجر اول رات کے وقت طلوع ہوتی ہے ۔ آپ کا مقصد یہ نہیں کہ اس وقت نفلی حلال ہوتا ہے ۔ "آپ کی مراد وہ شخص ہے جو روزہ رکھنا چاہتا ہو تو وہ کھانا کھا سکتا ہے ۔ امام ابوبکر کہتے ہیں : اس روایت کو دنیا میں ابو احمد زبیری کے سوا کسی نے مرفوع بیان نہیں کیا۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحْرِزٍ -أَصْلُهُ بَغْدَادِيٌّ- بِالْفُسْطَاطِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 356
