Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 368

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، نَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَمَّا كَثُرَ النَّاسُ ذَكَرُوا أَنْ يَعْلَمُوا وَقْتَ الصَّلَاةِ بِشَيْءٍ يَعْرِفُونَهُ، فَذَكَرُوا أَنْ يُنَوِّرُوا نَارًا، أَوْ يَضْرِبُوا نَاقُوسًا، فَأُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَيُوتِرَ الْإِقَامَةَ.

" حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب ( مسلمان ) لوگ زیادہ ہوگئے تو انہوں نے تذکروہ کیا کہ کوئی ایسی معروف چیز ہونی چائے جس سے وہ نماز کا وقت معلوم کرسکیں ( اور نماز کےلیے جمع ہوسکیں) تو انہوں نے تذکروہ کیا کہ وہ آگ جلا لیا کریں ، یا وہ گھنٹہ بجا لیا کریں تو حضرت بلال ؓ کو حکم دیا گیا کہ وہ اذان کے کلمات د و دو مرتبہ اور تکبیر کے کلمات ایک ایک بار کہیں۔"

أَنَسٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 368

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 369

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ، نَا رَوْحُ بْنُ عَطَاءِ [54 - ب] ابْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَتِ الصَّلَاةُ إِذَا حَضَرَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَعَى رَجُلٌ فِي الطَّرِيقِ فَنَادَى: "الصَّلَاةُ، الصَّلَاةُ، الصَّلَاةُ، فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى النَّاسِ. فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! لَوِ اتَّخَذْنَا نَاقُوسًا. قَالَ: "ذَلِكَ لِلنَّصَارَى". قَالُوا (1): فَلَوِ اتَّخَذْنَا بُوقًا. قَالَ: "ذَلِكَ لِلْيَهُودِ". قَالَ: فَأُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ، وَأَنْ يُوتِرَ الْإِقَامَةَ.

"حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کے عہد مبارک میں جب نماز کا وقت ہوجاتا تو ایک آدمی راستے میں چلتے ہوئے نماز ، نماز ، نماز پکارتا تو یہ چیز لوگوں پر گراں گزری تو انہوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اگر ہم گھنٹہ بجانا شروع کر دیں ( تو بہتر ہو گا ) آپ نے فرمایا : یہ تو عیسائیوں کا شعار ہے ۔ انہوں نے عرض کی : اگر ہم بگل بجانا شروع کر دیں ( تو یہ بھی ٹھیک ہے ) آپ نے فرمایا : یہ تو یہودیوں کا شعار ہے ۔ کہتے ہیں : حضرت بلال ؓ کو حکم دیا گیا کہ اذان کے کلمات دوہرے اور تکبیر کے کلمات اکہرے کہیں۔"

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← رَوْحُ بْنُ عَطَاءِ ب] ابْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 369

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 370

وأخبرنا الفقيه الإمام أبو الحسن علي بن المسلم نا عبد العزيز بن أحمد أنا إسماعيل بن عبد الرحمن قال أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر محمد بن عيسى نا سلمة - يعني ابن الفضل - عن محمد بن إسحاق قال : وقد كان رسول الله صلى الله عليه وسلم حين قدمها إنما يجتمع الناس إليه للصلاة بحين مواقيتها بغير دعوة فهم رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يجعل بوقا كبوق اليهود الذي يدعون به لصلواتهم ثم كرهه ثم أمر بالناقوس فنحت ليضرب به للمسلمين إلى الصلاة فبينما هم على ذلك أرى عبد الله بن زيد بن عبد ربه أخو الحارث بن الخزرج النداء فأتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال له : يا رسول الله إنه طاف بي هذه الليلة طائف مر بي رجل عليه ثوبان أخضران يحمل ناقوسا في يده فقلت : يا عبد الله أتبيع هذا الناقوس فقال : وما تصنع به ؟ قلت : ندعو به إلى الصلاة فقال : ألا أدلك على خير من ذلك ؟ قلت : وما هو ؟ قال : تقول : الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمد رسول الله أشهد أن محمد رسول الله حي على الصلاة حي على الصلاة حي على الفلاح حي على الفلاح الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله ثم استأخر غير كثير ثم قال مثل ما قال وجعلها وترا إلا قد قامت الصلاة قد قامت الصلاة قد قامت الصلاة الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله فلما خبرتها رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : إنها لرؤيا حق إن شاء الله فقم مع بلال فألقاها عليه فإنه أندى صوت منك فلما أذن بلال سمع عمر بن الخطاب وهو في بيته فخرج إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يجر رداءه وهو يقول : يا نبي الله والذي بعثك بالحق لقد رأيت مثل ما رأى فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم فلله الحمد فذاك أثبت

"جناب محمد بن اسحاق ؒ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگ بغیر اذان کے نماز کے اوقات میں آپ کے پاس جمع ہوجاتے تھے پھر رسول اللہﷺ نے یہودیوں کے بگل جس سے وہ اپنی نمازوں کے لیے بلاتے ہیں ، کی طرح کا بگل بنانے کا ارادہ کیا ۔ پھر آپ نے اسے ناپسند کیا ۔ پھر آپ نے گھنٹہ بنانے کا حکم دیا تو وہ تراش دیا گیا تاکہ مسلمانو ں کو نماز کےلیے بلانے کےلیے بجایا جائے ، آپ ( اور آپ کے صحابہ کرام ) اسی صلاح مشورے میں مصروف تھے کہ حارث بن خزرج کے بھائی عبداللہ بن زید بن عبدر بہ کو ( خواب میں ) اذان دکھائی گئی ۔ تو وہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے عرض کی : اے للہ کے رسول ! آج رات میں نے ایک شخص کو خواب میں دیکھا ، ایک آدمی میرے پاس سے گزرا ، اس پر د و سبز کپڑے تھے اور وہ ہاتھ میں گھنٹہ اٹھائے ہوئے تھا ۔ تو میں نے کہا: اے اللہ کے بندے ! کیا تم اس گھنٹے کو بیچو گے ؟ اس نے کہا: تم اس سے کیا کرو گے ؟ میں نے کہا: ہم اس سے نماز کےلیے بلائیں گے ۔ تو اس نے کہا: کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز نہ بتاؤں؟ میں نے کہا : وہ کیا ہے ؟ اس نے کہا : تم کہا کرو : اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر ( اللہ بہت بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ بہت بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے ) اشھد ان لا الہ الا اللہ ۔ اشھد ان لا الہ الا اللہ۔( میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں)( میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں)اشھد ان محمد رسول اللہ، اشھد ان محمد رسول اللہ،( میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد رسول اللہ، اللہ کے رسول ہیں)( میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد رسول اللہ ، اللہ کے رسول ہیں) حی علی الصلاۃ ، حی علی الصلاۃ، ( نماز کی طرف آؤ، نماز کی طرف آؤ) حی علی الفلاح ، حی علی الفلاح ، ( آؤ فلاح کی طرف ، آؤ کامیابی و کامرانی کی طرف) اللہ اکبر اللہ اکبر ( اللہ بہت بڑا ہے ، اللہ بہت بڑا ہے ) لا الہ الا اللہ( اللہ کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں) پھر وہ تھوڑا سا پیچھے ہٹا پھر اس نے اسی طرح کہا جیسے پہلے کہا تھا اور اس نے وہ کلمات اکہرے کہے سوائے قد قامت الصلاۃ کے ، اس نے ( دو مرتبہ) قدا قامت الصلاۃ ، قد قامت الصلاۃ ( نماز کھڑی ہوگئی ، نماز قائم ہوگئی) اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ ، ( اللہ بہت بڑا ہے ، اللہ بہت بڑا ہے ، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں) جب میں نے اس کی خبر رسول اللہﷺ کو دی تو آپ نے فرمایا : ان شاء اللہ یہ خواب سچا ہے ۔ بلال ؓ کے ساتھ کھڑے ہوجاؤ اور اسے یہ کلمات بتاؤ کیونکہ وہ تم سے بلند آواز والا ہے ۔ پھر جب حضرت بلال ؓ نے ان کلمات کے ساتھ اذان دی تو حضرت عمر خطاب ؓ نے اسے سنا جبکہ وہ اپنے گھر میں تھے ۔ تو وہ اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے رسول اللہﷺ کی طرف نکلے اور کہنے لگے : اے اللہ کے نبی ! اس ذات باری کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے ، یقیناً میں نے بھی ایسا ہی ( خواب ) دیکھا ہے جیسا اس نے دیکھا ہے ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سب تعریفیں اللہ ہی کےلیے ہیں اور اس ( گواہی نے) مسئلے کو زیادہ مضبوط اور واضح کر دیا ہے ۔"

مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← سَلَمَةُ -يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ- ← أبو بكر محمد بن عيسى ← أَبُو طَاهِرٍ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَحْمَدَ، ← الفقيه الإمام أبو الحسن علي بن المسلم

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 370

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 371

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا محمد بن يحيى نا يعقوب بن إبراهيم حدثني أبي عن أبي إسحاق حدثني محمد بن إبراهيم بن الحارث التيمي عن محمد بن عبد الله بن زيد بن عبد ربه حدثني أبي عبد الله بن زيد قال : لما أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم بالناقوس فعمل ليضرب به للناس في الجمع للصلاة فذكر الحديث بطوله مثل حديث سلمة بن الفضل

"حضرت عبداللہ بن زید ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہﷺ نے ناقوس بنانے کا حکم دیا تو وہ بنا دیا گیا تاکہ لوگوں کو نماز کےلیے جمع کرنے کےلیے بجایا جائے ، پھر سلمہ بن فضل کی حدیث کی طرح مکمل حدیث بیان کی۔"

الحديث بطوله مثل حديث سلمة بن الفضل ← لما أمر رسول الله بالناقوس فعمل ليضرب به للناس في الجمع للصلاة ← أَبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 371

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 372

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر قال سمعت محمد بن يحيى يقول : ليس في أخبار عبد الله بن زيد في قصة الأذان خبر أصح من هذا لأن محمد بن عبد الله بن زيد سمعه من أبيه و عبد الرحمن بن أبي ليلى لم يسمعه من عبد الله بن زيد

" جناب محمد بن یحییٰ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن زید کے قصہ اذان کی روایات میں اس سے زیادہ صیح روایت اور کوئی نہیں کیونکہ محمد بن عبداللہ بن زید نے اسے اپنے والد محترم ( حضرت عبداللہ بن زید) سے سنا ہے ۔ اور عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ نے حضرت عبداللہ بن زید سے اس روایت کو نہیں سنا ۔"

مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 372

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 373

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا محمد بن علي في عقب حديثه قال : حدثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد نا أبي عن ابن اسحاق قال : فذكر محمد بن مسلم بن عبد الله بن شهاب الزهري عن سعيد بن المسيب عن عبد الله بن زيد بن عبد ربه بهذا الخبر قال : فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن هذه لرؤيا حق إن شاء الله ثم أمر بالتأذين فكان بلال مولى أبي بكر يؤذن بذلك

" حضرت عبداللہ بن زید بن عبدربہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ : تو رسول اللہﷺ نے انہیں فرمایا؛ یہ خواب سچا ہے ان شاء اللہ ۔ پھر آپ نے اذان کو حکم دیا ، لہٰذا حضرت ابو بکر ؓ کے آزاد کردہ غلام حضرت بلال ؓ ان کلمات کے ساتھ اذان دیتے تھے۔"

عبد الله بن زيد بن عبد ربه بهذا الخبر ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← محمد بن علي في عقب حديثه ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 373

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 374

بَابُ التَّرْجِيعِ فِي الْأَذَانِ [55 - ب] مَعَ تَثْنِيَةِ الْإِقَامَةِ، وَهَذَا مِنْ جِنْسِ اخْتِلَافِ الْمُبَاحِ، فَمُبَاحٌ أَنْ يُؤَذِّنَ الْمُؤَذِّنُ فَيُرَجِّعَ فِي الْأَذَانِ وَيُثَنِّيَ الْإِقَامَةَ، وَمُبَاحٌ أَنْ يُثَنِّيَ الْأَذَانَ وَيُفْرِدَ الْإِقَامَةَ، إِذْ قَدْ صَحَّ كِلَا الْأَمْرَيْنِ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَأَمَّا تَثْنِيَةُ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ فَلَمْ يَثْبُتْ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْأَمْرُ بِهِمَا

"حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کے عہد مبارک میں اذان دو دو مرتبہ اور اقامت ایک مرتبہ تھی ۔ سوائے اس کے کہ وہ ( مؤذن ) قد قامت الصلاۃ ، قد قامت الصلاۃ دو مرتبہ کہتا تھا، تو جب ہم یہ کلمات سنتے تو وضو کر کے نکل پڑتے ۔ محمد کہتے ہیں : شعبہ نے کہا کہ میں نے ابو جعفر سے اس حدیث کے سوا کوئی حدیث نہیں سنی ۔ امام ابوبکر بندار کی سند سے حضرت ابن عمر ؓ سے مذکورہ بالا کی طرح روایت بیان کرتے ہیں ۔"

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 374

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 375

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ بِلَالٌ يُثَنِّي الْأَذَانَ، وَيُوتِرُ الْإِقَامَةَ، إِلَّا قَوْلَهُ: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَخَبَرُ ابْنِ الْمُثَنَّى، عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِنْ هَذَا الْبَابِ.

"حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت بلا لؓ اذان دوہری اور اقامت اکہری کہتے تھے ، سوائے قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُکے ( یہ دو بار کہتے تھے) امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : ابن مثنی کی حضرت ابن عمر ؓ سے روایت اسی باب کے متعلق ہے ۔"

أَنَسٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 375

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 376

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْقَيْسِيُّ، نَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ (1)، نَا سِمَاكُ بْنُ عَطِيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَأَنْ يُوتِرَ الْإِقَامَةَ، إِلَّا الْإِقَامَةَ -يَعْنِي: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ-.

"حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت بلال ؓ کو اذان کے کلمات دوہرے اور تکبیر کے کلمات اکہرے کہنے کا حکم دیا گیا تھا سوائے اقامت کے یعنی قد قامت الصلاۃ کے ۔"

أَنَسٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← سِمَاكِ بْنِ عَطِيَّةَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْقَيْسِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 376

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 377

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، نَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ (1)، عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ نَحْوًا مِنْ عِشْرِينَ رَجُلًا، فَأَذَّنُوا، فَأَعْجَبَهُ صَوْتُ أَبِي مَحْذُورَةَ، فَعَلَّمَهُ الْأَذَانُ: "اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَعَلَّمَهُ الْإِقَامَةَ مَثْنَى.

دوہری اقامت کے ساتھ اذان میں ترجیع کا بیان

أَبِي مَحْذُورَةَ: ← ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، ← مَكْحُولٌ ← عَامِرٌ الْأَحْوَلُ، ← هَمَّامٌ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 377

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 378

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ مُؤَذِّنُ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ الْعَزِيزِ، وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَقْعَدَهُ فَأَلْقَى عَلَيْهِ الْأَذَانَ حَرْفًا حَرْفًا، قَالَ بِشْرٌ: قَالَ لِي إِبْرَاهِيمُ: هُوَ مِثْلُ أَذَانِنَا هَذَا. فَقُلْتُ لَهُ: أَعِدْ عَلَيَّ. فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مَرَّتَيْنِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ مَرَّتَيْنِ. قَالَ: بِصَوْتٍ ذَلِكَ الصَّوْتِ يُسْمِعُ مَنْ حَوْلَهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مَرَّتَيْنِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ رَفَعَ صَوْتَهُ، فَقَالَ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ مَرَّتَيْنِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ مَرَّتَيْنِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ.

" حضرت ابومحذ ورہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے انہیں بٹھایا تو انہیں اذان کا ایک ایک کلمہ سکھایا ۔ بشر کہتے ہیں : مجھے ( میرے استاد ) ابراہیم نے کہا: وہ ہماری اس اذان ہی کی طرح ہے ۔ تو میں نے ان سے گذارش کہ کہ مجھے ( وہ اذان ) دوہرا دیجیے ، تو انہوں نے فرمایا: اللہُ أَکْبَرُ اللہُ أَکْبَرُ ، اللہُ أَکْبْرُ اللہُ أَکْبَرُ ، (ا للہ بہت بڑا ہے ، اللہ بہت بڑا ہے ، اللہ بہت بڑا ہے ، اللہ بہت بڑا ہے ) أَشْھَدُ أَن لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ ، أَشْھَدُ أَن لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں) أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّداً رَّسُوْلُ اللہِ ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہِ (میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں ، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں) أَشْھَدُ أَن لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ ، أَشْھَدُ أَن لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّداً رَّسُوْلُ اللہِ ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّداً رَسُوْلُ اللہِ ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ (نماز کی طرف آؤ ، نماز کےلیے آؤ) حَیَّ عَلَی الْفَلَا حِ، حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ، ( کامیابی وکامرانی کی طرف آؤ ۔ فلاح کی طرف آؤ) اَللہُ أَکْبَرُ اللہُ أَکْبَرُ (اللہ بہت بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے ) لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ (اللہ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں۔) امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں: عبدالعزیز بن عبدالملک نے یہ حدیث حضرت ابو محذورہ سے نہیں سنی بلکہ انہوں نے یہ حدیث عبداللہ بن محیر یز کے واسطے سے حضرت ابو محذورہ ؓ سے بیان کی ہے ۔"

أَبِي مَحْذُورَةَ: ← عَبْدُ الْمَلِكِ، جَمِيعًا ← أَبِي عَبْدُ الْعَزِيزِ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ مُؤَذِّنُ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، ← بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 378

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 379

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر ناه بندار نا أبو عاصم أخبرنا ابن جريج أخبرني عبد العزيز بن عبد الملك بن أبي محذورة عن عبد الله بن محيريز وحدثناه يعقوب بن إبراهيم الدورقي نا روح نا ابن جريج أخبرني عبد العزيز بن عبد الملك بن أبي محذورة أن عبد الله بن محيريز أخبره - وكان يتيما في حجر أبي محذورة بن معير - حين جهزه إلى الشام : فقلت لأبي محذورة : إني خارج إلى الشام وإني أسأل عن تأذينك فذكر الحديث بطوله إلا أن بندار قال في الخبر من أول الأذان وألقى علي رسول الله صلى الله عليه وسلم التأذين هو نفسه فقال قل : الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر ثم ذكر بقية الأذان مثل خبر مكحول عن ابن محيريز ولم يذكر الإقامة وزاد في الحديث زيادة كثيرة قبل ذكر الأذان وبعده وقال الدورقي قال في أول الأذان : الله أكبر الله أكبر وباقي حديثه مثل لفظ بندار وهكذا رواه روح عن ابن جريج عن عثمان بن السائب عن أم عبد الملك بن أبي محذورة عن أبي محذورة قال في أول الأذان : الله أكبر الله أكبر لم يقله أربعا قد خرجته في باب التثويب في أذان الصبح ورواه أبو عاصم و عبد الرزاق عن ابن جريج وقالا في أول الأذان : الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر قال أبو بكر : فخبر ابن أبي محذورة ثابت صحيح من جهة النقل وخبر محمد بن إسحاق عن محمد بن إبراهيم عن محمد بن عبد الله بن زيد بن عبد ربه عن أبي ثابت صحيح من جهة النقل لأن ابن محمد بن عبد الله بن زيد قد سمعه من أبيه و محمد بن إسحاق قد سمعه من محمد بن إبراهيم بن الحارث التيمي وليس هو مما دلسه محمد بن إسحاق وخبر أيوب و خالد عن أبي قلابة عن أنس صحيح لا شك ولا إرتياب في صحته وقد دللنا على أن الآمر بذلك النبي صلى الله عليه وسلم لا غيره فأما ما روى العراقيون عن عبد الله بن زيد فقد ثبت من جهة النقل وقد خلطوا في أسانيدهم التي رووها عن عبد الله بن زيد في تثنية الأذان والإقامة جميعا فرواه الأعمش عن عمرو بن مرة عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال : حدثنا أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم أن عبد الله بن زيد لما رأى الأذان أتى النبي صلى الله عليه وسلم فأخبره فقال : علمه بلالا فقام بلال فأذن مثنى مثنى وأقام مثنى مثنى وقعد قعدة

"حضرت عبداللہ بن محیریز جو کہ حضرت ابو محذورہ بن معیرؓ کی پرورش میں مقیم تھے ، جب انہیں حضرت ابومحذورہ نے شام روانہ کرنے کےلیے تیار کیا تو وہ کہتے ہیں ، میں نے عرض کی : میں شام کی طرف جا رہا ہوں اور بے شک مجھ سے آپ کی اذان کے متعلق پوچھا جائے گا ، پھر مکمل حدیث بیان کی ۔ مگر بندار نے اپنی روایت میں اذان کے شروع سے بیان کیا: اور رسول اللہﷺ نے بذات خود مجھے اذان سکھائی تو کہا : کہو : اللہ اکبر ، اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر ، پھر باقی اذان مکحول کی ابن محیر یز سے روایت کی طرح بیان کی اور اقامت کا ذکر نہیں کیا اور اذان کے ذکر سے پہلے اور بعد میں بہت سارے اضافے حدیث میں بیان کیے ہیں : دورقی کہتے ہیں: اذان کی ابتداء میں کہا: اللہ اکبر ، اللہ اکبر ( یعنی دو مرتبہ کہا) باقی حدیث بندار کی روایت جیسی ہے ۔ اسی طرح روح نے اپنی سند سے حضرت ابو محذورہ ؓ کی اذان کے شروع میں دو دفعہ اللہ اکبر اللہ اکبر روایت کیا ہے ، چار مرتبہ روایت نہیں کیا۔ میں نے اسے صبح کی اذان میں تثویب کے باب میں بیان کیا ہے ۔ اور ابو عاصم اور عبدالرزاق نے ابن جریج سے روایت کیا تو دونوں نے اذان کی ابتداء میں اللہ اکبر اللہ اکبر کہا( یعنی چار مرتبہ روایت کیا ہے ) امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : ابن ابی محذورہ کی حدیث نقل کے اعتبار سے صیح ہے ۔ کیونکہ یہ روایت ابن محمد بن عبداللہ بن زید نے اپنے باپ سے سنی ہے اور محمد بن اسحاق نے یہ روایت محمد بن ابراہیم بن حارث تیمی سے سنی ہے اور وہ ان راویوں میں سے نہیں ہیں جن سے محمد بن اسحاق نے تدلیس کی ہے اور حضرت انس کی روایت جسے ابوقلابہ سے ایوب اور خالد روایت کرتے ہیں اس کی صحت میں کوئی بھی شک وشبہ نہیں ہے ۔ اور ہم اس بات کی دلیل بیان کر چکے ہیں کہ اس ( حضرت بلال کو دوہری اذان اور اکہری اقامت کہنے ) کا حکم دینے والے خود نبی اکرم ﷺ ہیں۔ البتہ عراقیوں نے حضرت عبداللہ بن زید ؓ سے روایت کیا ہے وہ بھی نقل کے اعتبار سے صیح ہے اور انہوں نے ان سے اسانید کو خلط ملط کر دیا ہے جن کے ذریعے وہ حضرت عبداللہ بن زید ؓ سے اذان اور اقامت دونوں کو دہرانے کے بارے میں روایت کرتے ہیں ۔ لہٰذا اعمش نے عمرو بن مرہ سے اور انہوں نے عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ سے روایت کیا ہے ، وہ کہتے : ہمیں محمد ﷺ کے صحابہ نے بیان کیا کہ جب عبداللہ بن زید ؓ نے اذان دیکھی تو وہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور آپ کو اس کی خبر دی ، تو آپ نے فرمایا: اسے بلال کو سکھا دو لٰہذا حضرت بلال ؓ کھڑے ہوئے تو انہوں نے دوہری اذان کہی اور اقامت کے کلمات بھی دو دو مرتبہ کہے ۔ اور ( اذان اور اقامت کے درمیان ایک مرتبہ ) بیٹھ گئے۔"

عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← رَوْحٌ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← أَبُو بَكْرٍ، نَاهُ بُنْدَارٌ، ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 379

chevron_left Previous
1…154155156…258
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden22. The groups of the gates of obligatory travel23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness24. The congregation of the gates of prayer on the rows25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr37. The gates of the prayer of fear38. Collections of the gates of an eclipse prayer39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals