Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 344

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا يوسف بن موسى نا جرير عن منصور عن الحكم عن نافع عن ابن عمر قال : كنا ذات ليلة ننتظر رسول الله صلى الله عليه وسلم لصلاة العشاء الآخرة فخرج إلينا حتى ذهب ثلث الليل ولا ندري أي شيء شغله في أهله أو غير ذلك فقال حين خرج : إنكم لتنتظرون صلاة ما ينتظرها أهل دين غيركم ولولا أن يثقل على أمتي لصليت بهم هذه الساعة ثم أمر المؤذن فأقام الصلاة فصلى

"حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک رات نماز عشاء کےلیے رسول اللہﷺ کا انتظار کر رہے تھے تو آپ ہمار ےپاس تہائی رات گزر جانے کے بعد تشریف لائے ۔ اور ہمیں معلوم نہیں کہ کس چیز نے آپ کو آپ کے گھر والوں میں یا کسی اور کام میں مشغول کر دیا تھا ۔ جب آپ تشریف لائے تو آپ نے فرمایا: ب شک تم اس نماز کا انتظار کر رہے ہو کہ تمہارے سو ا کوئی مذہب والے اس کا انتظار نہیں کر رہے ۔ اور اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ میری امت پر گراں ہو گا تو میں انہیں ( یہ نماز ) اسی وقت پڑھاتا ۔ پھر آپ نے مؤذن کو حکم دیا تو اس نے نماز کی اقامت کہی تو آپ نے نماز پڑھائی ۔"

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← الْحَكَمِ ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 344

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 345

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ، نَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ دَاؤُدَ؛ ح وَحَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الْقَزَّازُ، نَا عَبْدُ الْوَارِثِ، نَا دَاؤُدُ؛ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، نَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ دَاؤُدَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: انْتَظَرْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ حَتَّى ذَهَبَ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ، ثُمَّ جَاءَ فَصَلَّى بِنَا، ثُمَّ قَالَ: "خُذُوا مَقَاعِدَكُمْ. فَإِنَّ النَّاسَ قَدْ أَخَذُوا مَضَاجِعَهُمْ، فَإِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مُنْذُ انْتَظَرْتُمُوهَا، وَلَوْلَا ضَعْفُ الضَّعِيفِ، وَسَقَمُ السَّقِيمِ، وَحَاجَةُ ذِي الْحَاجَةِ لَأَخَّرْتُ هَذِهِ الصَّلَاةَ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ". هَذَا حَدِيثُ بُنْدَارٍ.

"حضرت ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہﷺ کا نماز عشاء کے لیے تقریبا آدھی رات تک انتظار کیا ۔ پھر آپ تشریف لائے اور ہمیں نماز پڑھائی ، پھر فرمایا : اپنی نشستوں کو سنبھالو۔ بے شک لوگ تو سوچکے ہیں ۔ بے شک تم جب سے نماز کا انتظار کر رہے ہو ، اس وقت سے مسلسل نماز ہی میں ہو ۔ اور اگر مجھے کمزور شخص کی کمزوری ، بیمار شخص کی بیماری اور حاجب مند کی حاجب مندی حاجت و ضرورت کا خیال نہ ہوتا تو میں اس نماز کو آ دھی رات تک موخر کر دیتا ۔" یہ بندار کی حدیث ہے ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← دَاوُدُ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، ← دَاوُدُ، ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الْقَزَّازُ، ← دَاوُدُ، ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 345

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 346

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، نَا عَوْفٌ، ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ عَوْفٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، وَعَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، وَابْنُ عُلَيَّةَ قَالُوا: حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلَامَةَ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَ الْعِشَاءِ، وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا. هَذَا حَدِيثُ أَحْمَدَ بْنِ مَنِيعٍ. وَفِي حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سَيَّارُ بْنُ سَلَامَةَ أَبُو الْمِنْهَالِ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَى أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ (1) فَسَأَلَهُ أَبِي: كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ؟ قَالَ: كَانَ يَسْتَحِبُّ أَنْ يُؤَخِّرَ الْعِشَاءَ الَّتِي تَدْعُونَهَا الْعَتَمَةَ. وَكَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا، وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا. وَفِي حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، وَعَبْدِ الْوَهَّابِ: عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، وَمَتْنُ حَدِيثِهِمَا مِثْلُ مَتْنِ حَدِيثِ يَحْيَى.

"حضرت ابوبرزہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ عشاء سے پہلے سونے اور اس کے بعد باتیں کرنے کو ناپسند کرتے تھے۔"یہ احمد بن منیع کی حدیث ہے ۔ یحییٰ بن سعید کی روایت میں ہے ، وہ کہتے ہیں کہ : ہمیں ابومنہال سیا ربن سلامہ نے بیان کیا کہ میں اپنے والد کے ساتھ حضرت ابوبرزہ اسلمیؓ کے پاس حاضر ہوا تو میرے والد نے ان سے پوچھا : رسول اللہﷺ فرض نماز کیسے ادا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: آپ عشاء کی نماز جسے تم عتمہ کہتے ہو کر موخر کرناپسند کرتے تھے۔ اور آپ عشاء سے پہلے سونا اور اس کے بعد گفتگو کرنا نا پسند کرتے تھے ۔" محمد بن جعفر اور عبدالوھاب کی روایت میں عَنْ أَبِی الْمِنْھَالِہے جبکہ متن یحییٰ کی روایت ہی کی طرح ہے ۔

أَبِي بَرْزَةَ: ← سَيَّارِ بْنِ سَلاَمَةَ ← عَوْفٌ، ← هُشَيْمٌ، وَعَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، وَابْنُ عُلَيَّةَ ← أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ← عَوْفٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ، ← بُنْدَارٌ ← عَوْفٌ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 346

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 347

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ. ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ تَسْنِيمٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ -يَعْنِي الْبُرْسَانِيَّ-، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شُغِلَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، عَنْ صَلَاةِ الْعَتَمَةِ، حَتَّى رَقَدْنَا، ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا، ثُمَّ رَقَدْنَا، ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا، ثُمَّ خَرَجَ، فَقَالَ: "لَيْسَ يَنْتَظِرُ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ هَذِهِ الصَّلَاةَ غَيْرُكُمْ". هَذَا حَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ. وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ: حَتَّى رَقَدْنَا فِي الْمَسْجِدِ. وَفِي خَبَرِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَخَرَجَ عُمَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! الصَّلَاةُ رَقَدَ النِّسَاءُ وَالْوِلْدَانُ.

"حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ ایک رات نبی اکرم ﷺ نماز عشا ء سے مشغول ہوگئے حتی کہ ہم سو گئے پھر ہم بیدار ہوئے ، پھر ہم سو گئے ، پھر ہم بیدار ہوئے ، پھر آپ تشریف لائے تو فرمایا : تمہارے سوا اہل زمین میں سے کوئی بھی نماز کا منتظر نہیں ہے ۔" یہ محمد بن بکرکی حدیث ہے ۔ ابن رافع کی روایت میں ہے : " حتی کہ ہم مسجد میں سوگئے ۔"حضرت ابن عباس ؓ کی حدیث میں ہے: "تو حضرت عمر باہر نکلے تو انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! نماز ( پڑھا دیجیے ) عورتیں اور بچے سوگئے ہیں۔"

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ -يَعْنِي الْبُرْسَانِيَّ-، ← وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ تَسْنِيمٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 347

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 348

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْقَيْسِيُّ، نَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ تَسْنِيمٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، نَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ. وَقَالَ حَجَّاجٌ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ حَكِيمٍ؛ أَنَّ أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ أَخْبَرَتْهُ عَنْ عَائِشَةَ، -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا-: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْتَمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، حَتَّى ذَهَبَ عَامَّةُ اللَّيْلِ، وَحَتَّى نَامَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ، فَخَرَجَ فَصَلَّى، وَقَالَ: "إِنَّهُ وَقْتُهَا لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي". وَفِي خَبَرِ أَبِي عَاصِمٍ وَمُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ حَكِيمٍ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا أَخَّرَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ حَتَّى نَامَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ، لَمْ يَزْجُرْهُمْ عَنِ النَّوْمِ لَمَّا خَرَجَ عَلَيْهِمْ. وَلَوْ كَانَ نَوْمُهُمْ قَبْلَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ لَمَّا أَخَّرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الصَّلَاةَ مَكْرُوهًا، لَأَشْبَهَ أَنْ يَزْجُرَهُمُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[52 - أ] عَنْ فِعْلِهِمْ، وَيُوَبِّخَهُمْ عَلَى فِعْلِ مَا لَمْ يَكُنْ لَهُمْ (1) فِعْلُهُ. وَفِي خَبَرِ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَوَاقِيتِ (2) قَالَ فِي وَقْتِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ فِي اللَّيْلَةِ الثَّانِيَةِ: فَنِمْنَا، ثُمَّ قُمْنَا، ثُمَّ نِمْنَا ثُمَّ قُمْنَا، ثُمَّ نِمْنَا مِرَارًا.

"حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک رات رسول اللہﷺ نے ( نماز عشاء ) موخر کردی حتی کہ رات کا اکثر حصہ گزر گیا اور مسجد والے سوگئے ۔ پھر آپ تشریف لائے اور نماز پڑھائی اور فرمایا: بے شک اس کا یہی وقت ہے اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت میں ڈال دوں گا۔" ابو عاصم اور محمد بن بکر کی روایت میں ہے ۔"حدثنی المغیرۃ بن حکیم"یعنی اخبرنی کی بجائے حدثنی کہا ہے ) امام ابوبکر کہتےہیں : نبی اکرمﷺ نے جب نماز عشاء کو موخر کیا حتی کہ اہل مسجد سو گئے تو جب نبی ﷺ ان کے پاس تشریف لائے تو آپ نے انہیں ( عشاء سے قبل سونے پر ) ڈانٹا نہیں ہے ، اور اگر نماز عشاء سے پہلے ان کا سونا مکروہ ہوتا جبکہ نبی ﷺ نے نماز کو موخر کر دیا تھا تو نبی اکرمﷺ انہیں ان کے اس فعل پر ڈانٹ ڈپٹ کرتے اور انہیں اس کام پر سرزنش کرتے جو ان کےلیے جائز نہ تھا ۔ حضرت جابر بن عبداللہ ؓ کی نبی اکرم ﷺ سے اوقات نماز کے متعلق روایت میں ہے ، وہ دوسری رات نماز عشاء کے وقت کے بارے میں فرماتے ہیں : ہم سوگئے پھر بیدار ہوگئے ، پھر ہم سو گئے ، پھر ہم بیدار ہوگئے ، پھر ہم کوئی بار سوئے۔"

عَائِشَةَ ← الْمُغِيرَةُ بْنُ حَكِيمٍ؛ أَنَّ أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ أَخْبَرَتْهُ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← ابْنِ جُرَيْجٍ. وَقَالَ حَجَّاجٌ، ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ جَمِيعًا ← وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ← وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ تَسْنِيمٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْقَيْسِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 348

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 349

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "لَا يَغْلِبَنَّكُمُ الْأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلَاتِكُمْ، إِنَّهُمْ يُعْتِمُونَ عَلَى الْإِبِلِ، إِنَّهَا صَلَاةُ الْعِشَاءِ".

"حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا :"اعرابی تمہاری نماز کے نام کے بارے میں تم پر ہر گز غالب نہ آجائیں ، بے شک وہ اونٹوں پر ( دودھ دوہنے کی وجہ سے ) دیر کیا کرتے تھے( اس لیے عشاء کو عتمہ کہتے تھے) بے شک وہ نماز عشاء ہے ۔"

رَسُولِ اللَّهِ ← ابْنِ عُمَرَ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 349

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 350

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ وَالْمَخْزُومِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ. قَالَ أَحْمَدُ: أَخْبَرَنَا. وَقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كُنَّ -نِسَاءُ الْمُؤْمِنَاتِ- يُصَلِّينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةَ الصُّبْحِ، ثُمَّ يَخْرُجْنَ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ مَا يُعْرَفْنَ. زَادَ أَحْمَدُ: ثُمَّ ذَكَرَ الْغَلَسَ.

"حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ مومن عورتیں رسول اللہﷺ کے ساتھ صبح کی نماز ادا کرتی تھیں پھر وہ اپنی چادروں میں لپٹی واپس نکلتی تھیں کہ انہیں پہچانا نہیں جاتا تھا۔"احمد کی روایت میں یہ اضافہ ہے : " پھر انہوں نے اندھیرے کا ذکر کیا"( کہ اندھیرے کی وجہ سے وہ پہچانی نہیں جاتی تھیں۔)"

عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ وَالْمَخْزُومِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ. ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 350

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 351

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، أَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَزَا خَيْبَرَ، قَالَ: فَصَلَّيْنَا عِنْدَهَا صَلَاةَ الْغَدَاةِ بِغَلَسٍ.

"حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے غزوہ خیبر کیا ۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں : تو ہم نے اس کے قریب صبح کی نماز اندھیرے میں ادا کی ۔"

أَنَسٍ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 351

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 352

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ، نَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، أَخْبَرَهُ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ كَانَ قَاعِدًا عَلَى الْمِنْبَرِ، فَأَخَّرَ الصَّلَاةَ شَيْئًا. فَقَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ: أَمَا إِنَّ جِبْرِيلَ قَدْ أَخْبَرَ مُحَمَّدًا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِوَقْتِ الصَّلَاةِ. فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: اعْلَمْ مَا تَقُولُ. فَقَالَ عُرْوَةُ: سَمِعْتُ بَشِيرَ بْنَ أَبِي مَسْعُودٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "نَزَلَ جِبْرِيلُ فَأَخْبَرَنِي بِوَقْتِ الصَّلَاةِ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، فَحَسَبَ بِأَصَابِعِهِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ"، وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي الظُّهْرَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ وَرُبَّمَا أَخَّرَهَا حِينَ يَشْتَدُّ الْحَرُّ، وَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي الْعَصْرَ، وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ بَيْضَاءُ قَبْلَ [أَنْ] تَدْخُلَهَا

"حضرت ابن شہاب سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ منبر پر تشریف فرما تھے تو انہوں نے نماز کچھ موخر کردی ۔ تو حضرت عروہ بن زبیر نے فرمایا: بے شک جبرائیل ؑ نے محمد ﷺ کو نماز کے وقت کے متعلق بیان فرمایا ہے ۔ تو حضرت عمر نے کہا: خوب سمجھ لو تم کیا کہہ رہے ہو۔ تو حضرت عروہ نے کہا: میں نے بشیر بن ابی مسعود کو سنا وہ کہہ رہے تھے : میں نے ابو مسعود انصاری ؓ کو فرماتے سنا ، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جبرائیل ؑ نازل ہوئے تو انہوں نے مجھے نماز کے وقت کی خبر دی ، تو میں نے ان کے ساتھ نماز اد ا کی ، پھر میں نے اس کے ساتھ نماز ادا کی ، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز ادا کی ، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز ادا کی ، تو انہوں نے پانچ نمازیں اپنی انگلیوں پر شمار کیں ۔ اور میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا کہ آپ نے ظہر کی نماز سورج ڈھلنے پر ادا کی اور بسا اووقات اسے موخر کیا جبکہ گرم شدید ہوجاتی ۔ اور میں نے آپ کو دیکھا کہ آ پ نے نماز عصر ادا کی جبکہ سورج بلند اور سفید تھا، اس سے پہلے کہ وہ زرد ہوتا ۔ تو ایک شخص نماز سے فارغ ہو کر غروب آفتاب سے پہلے ذوالحلیفہ آجاتا ۔ اور آپ نماز مغرب ، غروب آفتاب کے وقت ادا کرتے ، اور عشاء کی نماز اس وقت پڑھتے جب افق سیاہ ہو جاتا ہے ، اور بعض اوقات لوگوں کے جمع ہونے تک اسے موخر کردیتے ۔ ایک مرتبہ صبح کی نماز کو اندھیرے میں لوگوں کے جمع ہونے تک اسے موخر کر دیتے ۔ ایک مرتبہ صبح کی نماز اندھیرے میں ادا کی ، پھر دوسری مرتبہ اسے روشنی میں پڑھا ، پھر اس کے بعد آ پ کی نماز اندھیرے ہی میں ہوتی تھی حتی کہ آپﷺ وفات پاگئے ۔ پھر آپ نے کبھی روشنی میں نماز ادا نہیں کی۔" امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : روایت میں یہ اضافہ صرف اسامہ بن زید راوی بیان کیا ہے ۔ اس پوری حدیث میں دلیل ہے کہ شفق سے مراد سفیدی ہے سرخی نہیں ۔ کیونکہ حدیث میں ہے : " اور آپ عشاء کی نماز اس وقت ادا کرتے جب افق سیاہ ہوجاتا ۔" اور افق سیاہ اس وقت ہوتا ہے جب سرخی کے ختم ہونے کے بعد ظاہر ہونے والی سفیدی غائب ہوجائے ۔ کیونکہ سرخی جب ختم ہوتی ہے تو سفیدی اس کے بعد باقی رہتی ہے پھر سفیدی غائب ہوتی ہے تو افق سیاہ ہوتا ہے ۔ اور حضرت جابر بن عبداللہ بن ؓ کی روایت میں ہے : " پھر بلال ؓ نے دن کی سفیدی ختم ہونے پر عشاء کی اذان کہی ، تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے نما زکی اقامت کہی ، پھر آپ نے نماز پڑھائی ۔"

«نَزَلَ جِبْرِيلُ، ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبَا مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيَّ ← بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ ← عُرْوَةَ ← لَهُ عُمَرُ: اعْلَمْ مَا تَقُولُ، ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ: أَمَا إِنَّ جِبْرِيلَ قَدْ أَخْبَرَ مُحَمَّدًا بِوَقْتِ الصَّلَاةِ، ← أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ كَانَ قَاعِدًا عَلَى الْمِنْبَرِ، فَأَخَّرَ الصَّلَاةَ شَيْئًا، ← أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← الرَّبِیْعُ بْنُ سلیمان المرادی ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 352

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 353

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا محمد بن يحيى و أحمد بن عبد الله بن عبد الرحيم البرقي : قالا حدثنا عمرو بن أبي سلمة نا صدقة بن عبد الله الدمشقي عن أبي وهب - وهو عبيد الله بن عبيد الكلاعي - عن سليمان بن موسى عن عطاء بن أبي رباح عن جابر بن عبد الله : أن رجلا أتى النبي صلى الله عليه وسلم فسأله عن وقت الصلاة فذكر الحديث بطوله في مواقيت الصلاة في اليومين والليلتين وقال في الليلة الأولى : ثم أذن بلال العشاء حين ذهب بياض النهار وأمره النبي صلى الله عليه وسلم فأقام الصلاة فصلى وقال في الليلة الثانية : ثم أذن بلال العشاء حين ذهب بياض النهار فأخرها النبي صلى الله عليه وسلم فنمنا ثم نمنا مرارا ثم خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال : إن الناس قد صلوا ورقدوا وإنكم لم تزالوا في صلاة منذ انتظرتم الصلاة ثم ذكر الحديث بطوله

"حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے آپ سے نماز کے وقت کے متعلق پوچھا ۔ پھر انہوں نے دو دن اور دو راتوں میں اوقات نماز کے متعلق مکمل حدیث بیان کی۔ اور پہلی رات میں فرمایا: پھر حضرت بلالؓ دن کی سفیدی ختم ہونے پر عشاء کی اذان کہی، اور نبی اکرمﷺ نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے نماز کی اقامت کہی ، تو آپ نے نماز پڑھائی اور دوسری رات کے متعلق فرمایا: پھر حضرت بلال ؓ نے دن کی سفیدی ختم ہونے پر عشاء کی اذان کہی ۔ تو نبی اکرم ﷺ نے اسے موخر کر دیا ، تو ہم سو گئے ، پھر ہم کوئی بار سوئے ۔ پھر رسول اللہﷺ باہر تشریف لائے تو فرمایا: بے شک لوگ نماز پڑھ کر سوچکے ہویں اور بے شک تم اس وقت سے مسلسل نماز ہی میں ہو جب سے تم اس کا انتظار کر رہے ہو ۔پھر پوری حدیث بیان کی۔"

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← أبي وهب وهو عبيد الله بن عبيد الكلاعي ← صدقة بن عبد الله الدمشقي ← عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، ← محمد بن يحيى و أحمد بن عبد الله بن عبد الرحيم البرقي ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 353

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 354

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا عمار بن خالد الواسطي نا محمد - وهو ابن يزيد وهو الواسطي - عن شعبة عن قتادة عن أبي أيوب عن عبد الله بن عمرو قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : وقت الظهر إلى العصر ووقت العصر إلى اصفرار الشمس ووقت المغرب إلى أن تذهب حمرة الشفق ووقت العشاء إلى نصف الليل ووقت صلاة الصبح إلى طلوع الشمس قال أبو بكر : فلو صحت هذه اللفظة في هذا الخبر لكان في هذا الخبر أن الشفق الحمرة إلا أن هذه اللفظة تفرد بها محمد بن يزيد إن كانت حفظت عنه وإنما قال أصحاب شعبة في هذا الخبر : ثور الشفق مكان ما قال محمد بن يزيد حمرة : الشفق أحبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا بندار و أبو موسى قالا : حدثنا محمد - وهو ابن جعفر - نا شعبة قال : سمعت قتادة قال : سمعت أبا أيوب الأزدي عن عبد الله بن عمر فذكر الحديث وقالا في الخبر : ووقت المغرب ما لم يسقط ثور الشفق ولم يرفعاه

"حضرت عبداللہ بن عمروؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: نماز ظہر کا وقت نماز عصر تک رہتا ہے ۔ اور نماز عصر کا وقت سورج زرد ہونے تک باقی رہتا ہے ، اور نماز مغر ب کا وقت شفق کی سرخی ختم ہونے تک رہتا ہے ۔ اور عشاء کا وقت آدھی رات تک رہتا ہے ۔ اور نماز صبح کا وقت طلوع آفتاب تک رہتا ہے ۔ "امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : اگر اس حدیث میں یہ الفاظ ( حمرۃ الشفق ) صیح ثابت ہوں تو اس حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ شفق سے مراد سرخی ہے ( سفیدی نہیں) مگر ان الفاظ کو صرف محمد بن یزید نے بیان کیا ہے کہ اگر یہ اس سے یاد رکھے گئے ہوں ۔ جبکہ امام شعبہ کے شاگردوں نے اس حدیث میں محمد بن یزید کے قول ، ( شفق کی تیزی اور اس کا پھیلاؤ کو) روایت کیا ہے ۔ دونوں نے نے اس روایت میں کہا: "اور مغرب کا وقت شفق کی تیزی ختم ہونے تک ہے " انہوں نے اسے مرفوع روایت نہیں کیا۔"

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي أَيُّوبَ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← محمد وهو ابن يزيد وهو الواسطي ← عَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 354

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 355

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا محمد بن لبيد أخبرني عقبة قال حدثنا أبو داود نا شعبة عن قتادة عن أبي أيوب عن عبد الله بن عمرو قال شعبة : رفعه مرة وقال بندار بمثل حديث الأول ورواه أيضا هشام الدستوائي عن قتادة و رفعه قد أمليته قبل وقال : إلى أن يغيب الشفق ولم يقل : ثور ولا حمرة ورواه أيضا سعيد بن أبي عروبة ولم يرفعه ولم يذكر الحمرة وكذلك رواه ابن أبي عدي عن شعبة موقوفا ولم يذكر الحمرة عن شعبة أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر قال ثنا بهما أبو موسى نا ابن أبي عدي عن شعبة ح وحدثنا أيضا أبو موسى نا ابن أبي عدي عن سعيد كليهما عن قتادة فهذا الحديث موقوفا ليس فيه ذكر الحمرة قال أبو بكر : والواجب في النظر إذا لم يثبت عن النبي صلى الله عليه وسلم أن الشفق هو الحمرة وثبت عن النبي صلى الله عليه وسلم أن أول وقت العشاء إذا غاب الشفق أن لا يصلي العشاء حتى يذهب بياض الأفق لأن ما يكون معدوما فهو معدوم حتى يعدم كونه بيقين فما لم يعلم بيقين أن وقت الصلاة قد دخل لم تجب الصلاة ولم يجز أن يؤدي الفرض قد وجب فإذا غابت الحمرة والبياض قائم لم يغب فدخول وقت صلاة العشاء شك لا يقين لأن العلماء قد اختلفوا في الشفق قال بعضهم : الحمرة وقال بعضهم : البياض ولم يثبت علميا عن النبي صلى الله عليه وسلم أن الشفق الحمرة وما يتفق المسلمون عليه فغير واجب فرض الصلاة إلا أن يوجب الله أو رسوله أو المسلمون في وقت فإذا كان البياض قائما في الأفق وقد اختلف العلماء بإيجاب فرض صلاة العشاء ولم يثبت عن النبي صلى الله عليه وسلم خبر إيجاب فرض الصلاة في ذلك الوقت فإذا ذهب بياض واسود فقد اتفق العلماء على إيجاب فرض صلاة العشاء فجائز في ذلك الوقت أداء فرض تلك الصلاة والله أعلم بصحة هذه اللفظة التي ذكرت في حديث عبد الله بن عمرو

"امام صاحب نے محمد بن لبید کی سند سے روایت بیان کی ہے ۔ شعبہ کہتے ہیں : قتادہ نے ایک بار اسے مرفوع بیان کیا ہے ۔ جبکہ بندار نے مذکورہ بالا حدیث ہی کی طرح بیان کیا ہے ۔ اس روایت کو سعید بن ابی عروبہ نے بھی بیان کیا ہے مگر انہوں نے اسے مرفوع روایت نہیں کیا اور نہ سرخی کا ذکر کیا ہے ۔ اسی طرح ابی عدی نے اسے شعبہ سے موقوف روایت کیا ہے ، انہوں نے شعبہ سے سرخی کے متعلق بیان نہیں کیا ۔ امام صاحب قتادہ کی ایک اور سند بیان کرتے ہیں ۔ اور کہتے ہیں: لہٰذا یہ حدیث موقوف ہے اس سرخی کا ذکر نہیں ہے ۔ امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : یہ دیکھا جانا چاہیے ( غوروفکر کرنا چاہئے) کہ جب نبی اکرمﷺ سے ثابت نہیں کہ شفق سرخی ہے اور نبی اکرمﷺ سے یہ ثابت ہے کہ عشاء کا اول وقت شفق غائب ہونے پر ہے ، تو عشاء کی نماز افق کی سفیدی ختم ہونے تک ادا نہ کی جائے کیونکہ جو چیز معدوم ہو وہ معدوم ہی ہے حتی کہ اس کا ہونا یقینی ہوجائے ۔ لہٰذا جب تک یقیناً معلوم نہ ہوجائے کہ نماز کا وقت ہوگیا ہے اس وقت تک نماز واجب نہیں ہوتی ۔ فرض کی ادائیگی اس کے واجب ہونے کے یقین تک جائز نہیں ہے ۔ ا س لیے کہ جب سرخی غائب ہو جائے اور سفیدی باقی ہو تو عشاء کے وقت کا ہونا یقینی نہیں بلکہ مشکوک ہے ۔ کیونکہ علماء نے شفق کے متعلق اختلاف کیا ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد سرخی ہے جبکہ بعض کے نزدیک سفیدی ہے ۔ اور نبی ﷺ کی نشاندہی سے ثابت نہیں کہ شفق سے مراد سرخی ہے ۔ اور جو وقت نبی اکرمﷺ سے ثابت نہیں اور نہ اس پر مسلمان متفق ہیں تو اس وقت میں نماز ادا کرنا واجب نہیں ہے ۔ مگر یہ کہ اسے اللہ تعالیٰ یا اس کے رسول یا مسلمان کسی وقت میں واجب کردیں۔ ( تو ادا کی جاسکتی ہے ) چنانچہ جب سفیدی افق میں موجود ہو اور علماء نے ( اس وقت ) نماز عشاء کے واجب ہونے پر اختلاف کیا ہے اور نبی اکرمﷺ سے اس وقت میں نماز کے واجب ہونے پر کوئی دلیل ثابت نہیں ہے ( تو اس وقت نماز ادا نہیں کرنی چاہیے ) اس لیے جب سفیدی ختم ہوجائے اور سیاہی چھا جائے تو علماء نے اس وقت نماز کے واجب ہونے پر اتفاق کیا ہے لہٰذا اس وقت نماز عشاء کو ادا کرنا جائز ہو گا ۔ واللہ اعلم ۔ بشرطیکہ حضرت عبداللہ بن عمر کی حدیث میں موجود الفاظ صیح ثابت ہوں۔"

إِلَيَّ- ← قتادة و رفعه قد أمليته قبل ← بندار بمثل حديث الأول ورواه أيضا هشام الدستوائي ← شعبة رفعه مرة ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي أَيُّوبَ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← عُقْبَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ لَبِيدٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 355

chevron_left Previous
1…152153154…258
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden22. The groups of the gates of obligatory travel23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness24. The congregation of the gates of prayer on the rows25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr37. The gates of the prayer of fear38. Collections of the gates of an eclipse prayer39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals