Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1887

ثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، ثَنَا يُوسُفُ بْنُ زِيَادٍ، ثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ سَلْمَانَ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنْ شَعْبَانَ، فَقَالَ: "أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ أَظَلَّكُمْ شَهْرٌ عَظِيمٌ، شَهْرٌ مُبَارَكٌ، شَهْرٌ فِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ، جَعَلَ اللَّهُ صِيَامَهُ فَرِيضَةً، وَقِيَامَ لَيْلِهِ تَطَوُّعًا، مَنْ تَقَرَّبَ فِيهِ بِخَصْلَةٍ مِنَ الْخَيْرِ، كَانَ كَمَنْ أَدَّى فَرِيضَةً فِيمَا سِوَاهُ، وَمَنْ أَدَّى فِيهِ فَرِيضَةً، كَانَ كَمَنْ أَدَّى سَبْعِينَ فَرِيضَةً فِيمَا سِوَاهُ، وَهُوَ شَهْرُ الصَّبْرِ، وَالصَّبْرُ ثَوَابُهُ الْجَنَّةُ، وَشَهْرُ الْمُوَاسَاةِ، وَشَهْرٌ يَزْدَادُ فِيهِ رِزْقُ الْمُؤْمِنِ، مَنْ فَطَّرَ فِيهِ صَائِمًا كَانَ مَغْفِرَةً لِذُنُوبِهِ، وَعِتْقَ رَقَبَتِهِ مِنَ النَّارِ، وَكَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْتَقِصَ مِنْ أَجْرِهِ شَيْءٌ". قَالُوا: لَيْسَ كُلُّنَا نَجِدُ مَا يُفَطِّرُ الصَّائِمَ. فَقَالَ: "يُعْطِي اللَّهُ هَذَا الثَّوَابَ مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا عَلَى تَمْرَةٍ، أَوْ شَرْبَةِ مَاءٍ، أَوْ مَذْقَةِ لَبَنٍ، وَهُوَ شَهْرٌ أَوَّلُهُ رَحْمَةٌ، وَأَوْسَطُهُ مَغْفِرَةٌ، وَآخِرُهُ عِتْقٌ مِنَ النَّارِ، مَنْ خَفَّفَ عَنْ مَمْلُوكِهِ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ، وَأَعْتَقَهُ مِنَ النَّارِ، وَاسْتَكْثِرُوا [197 - ب] فِيهِ مِنْ أَرْبَعِ خِصَالٍ: خَصْلَتَيْنِ تُرْضُونَ بِهِمَا رَبَّكُمْ، وَخَصْلَتَيْنِ لَا غِنًى بِكُمْ عَنْهُمَا، فَأَمَّا الْخَصْلَتَانِ اللَّتَانِ تُرْضُونَ بِهِمَا رَبَّكُمْ، فَشَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَتَسْتَغْفِرُونَهُ، وَأَمَّا اللَّتَانِ لَا غِنًى بِكُمْ عَنْهُمَا، فَتَسْأَلُونَ اللَّهَ الْجَنَّةَ، وَتَعُوذُونَ بِهِ مِنَ النَّارِ، وَمَنْ أَشْبَعَ فِيهِ صَائِمًا، سَقَاهُ اللَّهُ مِنْ حَوْضِي شَرْبَةً لَا يَظْمَأُ حَتَّى يَدْخُلَ الْجَنَّةَ".

"حضرت سلمان ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ہمیں شعبان کے آخری روزہ خطبہ ارشاد فرمایا تو کہا: "لوگو! تمہارے پاس بڑا عظیم مہینہ آگیا ہے ۔ یہ مہینہ بڑا مبارک ہے ۔ اس میں ایک ایسی رات ہے جو ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس مہینے کے روزے فرض اور اس کی راتوں کا قیام نفل قرار دیا ہے ۔ جو شخص اس میں کوئی نیک کام کر کے اللہ کا تقرب حاصل کرتا ہے تو گویا اس نے دیگر مہینوں میں ادا کیے گئے فرض جیسا کام ہے ۔ اور جس شخص نے اس میں فر ض ادا کیا تو گویا وہ اس شخص جیسا ثواب حاصل کرے گا جس نے ستر فرائض دیگر مہینوں میں ادا کیے ہوں ۔ یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے ۔ یہ ہمدردی اور غمخواری کا مہینہ ہے ۔ اس مہینے کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے ۔ جس نے اس مہینے میں روزے دار کا روزہ افطار کروایا تو وہ اس کے گناہوں کی بخشش کا باعث ہوگا اور جہنم سے اس کی گردن کی آزادی کا ذریعہ بنے گا اور اسے روزے دار کے برابر ثواب ملے گا جبکہ روزے دار کے ثواب میں بھی کچھ کمی نہیں ہوگی ۔ صحابہ نے عرض کیا: ہم میں سے ہر شخص کو افطاری کرانے کا سامان میسر نہیں ہے ۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: " اللہ تعالیٰ یہ ثواب اس شخص کو بھی عطا کرتے ہیں جو روزے دار کو ایک کھجور یا پانی کے گھونٹ یا کچی لسی کے ایک گھونٹ سے روزہ افطار کراتا ہے ۔ ا س مہینے کا ابتدائی حصہ باعث رحمت ہے ، درمیانہ حصہ مغفرت و بخشش کا ہے اور آخری حصہ جہنم سے آزادی حاصل کرنے کا ہے ۔ جس شخص نے اپنے غلام کو تخفیف وآسانی حاصل کرنے کا ہے ۔ جس شخص نے اپنے غلام کو تخفیف وآسانی دی تو اللہ تعالیٰ اسے معاف کر دیتے ہیں اور اسے جہنم سے آزاد کر دیتے ہیں ۔ اس مہینے میں چار کام بکثرت کرو ۔ دو کاموں سے تم اپنے رب کی رضا وخوشنودی حاصل کر لو گے اور دو کاموں سے تم بے پروا نہیں ہوسکتے ۔ رہے وہ دو کام جن سے تم اپنے رب کی رضا حاصل کر لو گے تو وہ اس بات کی گواہی دینا کہ ایک اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور اس سے گناہوں کی بخشش مانگتا ہے ۔ اور وہ دو چیزیں جن سے تم بے پروا نہیں ہوسکتے تو وہ یہ ہیں کہ تم اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرو اور جہنم سے اس کی پناہ میں آجاؤ۔ اور جس شخص نے اس مہینے میں روزے دار کو پیٹ بھر کر کھانا کھلایا تو اللہ تعالیٰ اسے میرے حوض سے پانی پلانے گا جس سے وہ جنت میں داخل ہونے تک پیاسا نہیں ہوگا۔"

سَلْمَانَ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← يُوسُفُ بْنُ زِيَادٍ، ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1887

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1888

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ -وَهُوَ ابْنُ بِلَالٍ- عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَقِيَ الْمِنْبَرَ، فَقَالَ: "آمِينَ، آمِينَ، آمِينَ". فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا كُنْتَ تَصْنَعُ هَذَا؟! فَقَالَ: "قَالَ لِي جِبْرِيلُ: أَرْغَمَ اللَّهُ أَنْفَ عَبْدٍ -أَوْ بَعُدَ- دَخَلَ رَمَضَانَ فَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ، فَقُلْتُ: آمِينَ. ثُمَّ قَالَ: رَغِمَ أَنْفُ عَبْدٍ -أَوْ بَعُدَ- أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ أَوْ أَحَدَهُمَا لَمْ يُدْخِلْهُ الْجَنَّةَ، فَقُلْتُ: آمِينَ. ثُمَّ قَالَ: رَغِمَ أَنْفُ عَبْدٍ -أَوْ بَعُدَ- ذُكِرْتَ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْكَ. فَقُلْتُ: آمِينَ".

"حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ منبر پر چڑھے تو فرمایا:آمین ۔ آمین ۔ آمین ۔ آپ سے عرض کی گئی : اے اللہ کے رسول! آپ یہ کام پہلے نہیں کیا کرتے تھے ( آج کیا بات ہوئی ؟ ) تو آپ نے فرمایا:"مجھے جبرائیل ؑ نے کہا: اللہ تعالیٰ اس شخص کی ناک خاک آلود کرے یا وہ رحمت سے دور ہوا، جو رمضان کے آنے کے باوجود بخشش و مغفرت حاصل کرنے سے محروم رہا تو میں نے کہا: آمین ۔ پھر اس نے کہا: اس شخص کی ناک خاک آلود ہو یا وہ رحمت الہٰی سے دور ہوجائے جس نے اپنے والدین یا ا ن میں سے کسی ایک کو پایا ( پھر ان کی خدمت نہ کرنے سے ) وہ اسے جنت میں داخل نہ کراسکے ۔ تو میں نے کہا: آمین ۔ پھر اس نے دعا کی : اس شخص کی ناک بھی خاک آلود ہو یا وہ اللہ کی رحمت سے دو رہو جس کے پاس کا ذکر ہو اور وہ آپ پر درود نہ بھیجے تو میں نے کہا: آمین۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ، ← كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، ← سُلَيْمَانُ -وَهُوَ ابْنُ بِلَالٍ- ← ابْنُ وَهْبٍ، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1888

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2677

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، وَالثَّوْرِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِهِ وَهُوَ يُوقِدُ تَحْتَ بُرْمَةٍ أَوْ قَالَ تَحْتَ قِدْرٍ، وَالْقَمْلُ تَتَسَاقَطُ عَلَى وَجْهِهِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "أَيُؤْذِيكَ هَذِهِ؟ فَقَالَ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَنَزَلَتْ: (فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ) [البقرة: 196] فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُمْ بِالْحُدَيْبِيَةِ، وَلَمْ يُبَيِّنْ لَهُمْ أَنَّهُمْ يَحْلِقُونَ بِهَا، وَهُمْ عَلَى طَمَعٍ أَنْ يَدْخُلُوا مَكَّةَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - الْفِدْيَةَ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَحْلِقَ وَيَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ يُطْعِمَ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينٍ، أَوْ يَذْبَحَ شَاةً. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَبَرُ شِبْلٍ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ مِنْ هَذَا الْبَابِ أَيْضًا خَرَّجْتُهُ فِي الْبَابِ الَّذِي يَلِي هَذَا.

۔۔حضرت کعب بن عجرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ان کے پاس سے گزرے جبکہ وہ ہنڈیا کے نیچے آگ جلا ر ہے تھے ۔ اس وقت ان کی جوئیں ان کے چہرے پر گر رہی تھیں ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : "کیا تمہیں یہ جوئیں تکلیف دے رہی ہیں ؟ "انہوں نے عرض کیا : جی ہاں ۔اے اللہ کے رسول!تو یہ آیت نازل ہوئی :(فَفِدْیَتہٌ مِّنْ صِیَام أَوْ صَدَقَتہٍ أَوْنُسُکٍ) (البقرہ :194) "(جو شخص حالت احرام میں سر منڈوائے ) تو وہ فدیے میں روزے رکھے یا صدقہ کرےیا قربا نی کرے ۔ "لہذا نبی نے انہیں حکم دیا جبکہ ابھی صحابہ کرام حدیبیہ ہی میں تھے ۔اور آپ نے انہیں یہ نہیں بتا یا تھا کہ وہ حدیبیہ میں ہی سر منڈوائیں گے ،صحابہ کرام کی خواہش تو یہ تھی کہ وہ مکہ مکر مہ میں داخل ہوں گے ( اور عمرہ ادا کریں گے )چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فدیہ والی آیت نازل فرما دی تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت کعب کو حکم دیا کہ وہ اپنا سر منڈوا لیں اور تین روزے رکھیں یا ایک فرق ( تین صاع ) اناج چھ مسکینوں کو کھلا دیں یا ایک بکری ذبح کر دیں ( اور غرباء میں تقسیم کر دیں )۔ "

کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← مُجَاهِدٍ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← مَعْمَرٌ وَالثَّوْرِيُّ؛ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2677

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2678

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْقَيْسِيُّ، ثَنَا رَوْحٌ، ثَنَا شِبْلٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَآهُ وَقَمْلُهُ يَسْقُطُ عَلَى وَجْهِهِ، فَقَالَ: "أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ؟ " قَالَ: نَعَمْ. فَأَمَرَهُ أَنْ يَحْلِقَ وَهُوَ بِالْحُدَيْبِيَةِ، لَمْ يُبَيِّنْ لَهُمْ أَنْ يَحِلُّوا بِهَا، وَهُمْ عَلَى طَمَعٍ أَنْ يَدْخُلُوا مَكَّةَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - الْفِدْيَةَ فَأَمَرَه رَسُول اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُطْعِمَ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةٍ، أَوِ (1) الْهَدْيَ شَاةً، أَوْ يَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ. بِحَلْقِ رَأْسِهِ إِذَا لَمْ يَكُنْ بِرَأْسِهِ أَذًى، وَلَا كَانَ بِهِ مَرِضٌ، فَبَيَّنْتُ فِي ذَلِكَ الْمَوْضِعِ أَنَّ الْحُكْمَ بِالنَّظِيرِ وَالشَّبِيهِ فِي هَذَا الْمَوْضِعِ وَاجِبٌ، وَلَوْ لَمْ يَجُزِ الْحُكْمُ الْمَثَلِ وَالشَّبِيهِ وَالنَّظِيرِ لَمْ يَجِبْ عَلَى مَنْ جَزَّ شَعْرَ رَأْسِهِ بِمِقْرَاضٍ أَوْ (1) فِدْيَةٍ إِذِ اسْمُ الْحِلَقِ لَا يَقَعُ عَلَى الْجَزِّ، وَلَكِنْ إِذَا وَجَبَ الْحُكْمُ بِالنَّظِيرِ، وَالشَّبِيهِ، وَالْمَثَلِ كَانَ عَلَى جَازِّ شَعْرَ الرَّأْسِ فِي الْإِحْرَامِ مِنَ الْفِدْيَةِ مَا عَلَى الْحَالِقِ. وَهَذِهِ مَسْأَلَةٌ طَوِيلَةٌ قَدْ أَمْلَيْتُهَا فِي ذَلِكَ الْمَوْضِعِ.

۔۔حضرت کعب بن عجرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں دیکھا جب کہ ان کی جوئیں ان کے چہرے پر گر رہی تھیں ۔تو آپ نے پوچھا : "کیا تمہیں تمہاری جوئیں تکلیف دے رہی ہیں ؟ "انہوں نے عرض کیا : جی ہاں ۔پس آپ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنا سر منڈوا لیں حالانکہ وہ حدیبیہ ہی میں تھے ۔آپ نے صحابہ کرام کو ابھی یہ نہیں بتایا تھا کہ وہ حدیبیہ ہی میں سر منڈوا دیں گے جبکہ صحابہ کرام کی خواہش تھی کی وہ مکہ مکرمہ میں داخل ہو گے (اور عمرہ ادا کریں گے ) تو اللہ تعالی ٰ نے فدیہ کا حکم نازل فرمای دیا ۔پس رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ ایک فرق(تین صاع ) اناج چھ مسکینوں کو کھلا دیں یا ایک بکری ذبح کر دیں یا تین روزے رکھ لیں ۔امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : "میں نے کتاب الایمان اور کفارات میں فرق کی مقدار بیان کر دی ہے کہ وہ تین صا ع ہوتا ہے ۔ اور میں نے یہ بیان کردیا ہے کہ ایک صاع چار مد ہوتا ہے اور ایک فرق سولہ رطل ہوتا ہے ۔اور ایک صاع ایک تہائی فرق ہوتا ہے کیونکہ ایک فرق تین صاع ہو تا ہے ۔اور ایک صاع پانچ رطل اور تہا ئی رطل کے برابر ہوتا ہے ۔میں نے یہ مقدار یں نبی کر یمﷺ کی سنت کے دلائل سے بیان کی ہیں ۔اور یہ آیت کریمہ بھی اس قسم کے متعلق ہے جس کے بارے میں ہم کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایک فریضہ مجمل بیان کیا ہے اور اللہ تعالی نے اپنے نبی کی زبانی اس کی مقدار بیان کی ہے ۔کیونکہ اللہ تعالی ٰ نے سر منڈوانے پر روزہ رکھ کر فدیہ دینے کا حکم اپنی کتا ب میں دیا ہے لیکن قرآن مجید میں ان روزوں کی مقدار ، صدقے کی مقدار ،صدقے کے مستحق لوگوں کی تعداد اور قربانی کا وصف بیان نہیں فرمایا ۔لہذا نبی کریم ﷺ جنہیں اللہ تعالی ٰ نے اپنی وحی کی وضاحت کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے ،انہوں نے بیان فرمایا کہ فدیے میں تین روزے رکھنے ہوں گے ،اور صدقے میں تین صاع اناج چھ مسکینوں کو کھلانا ہوگا اورقربانی میں ایک بکری ذبح کرنی ہو گی اس حدیث میں قربانی کا ذکر اسی قسم سے ہے جس کے بارے میں ہم کہتے ہیں کہ ایک جیسی ،ملتی جلتی اور مشابہ اشیاءمیں ایک جیسا حکم لگانا واجب ہے ۔لہذا سر منڈوانے کے فدیے میں ایک بکری کی قربانی کی جگہ گائے یا اونٹ کا ساتواں حصہ فدیہ دینا جائز ہوگا ۔علمائے کرام کا اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں کہ حج تمتع ،حج قران اور عام قربانی میں گائے یا اونٹ کا ساتواں حصہ ایک بکری کے قائم مقام ہوتا ہے ۔ کچھ علماءکا یہ موقف ہے کہ حج قران میں ایک گائے یا اونٹ گھر سے لے کر آنا ضروری ہے ۔اور کچھ علماء کہتے ہیں کہ اونٹ کا دسواں حصہ ایک بکری کے قائم مقام ہوگا ۔لہذا جس عالم دین نے اونٹ کا دسواں حصہ جائز قرار دیا ہے تو وہ ساتویں حصے کو بکری کے برابر بالا ولیٰ قراردے گا کیونکہ ساتواں حصہ بڑا ہوتا ہے ۔ میں نے اپنے ساتھیوں کو اس آیت کے تحت ایک مسئلہ لکھوایا تھا کہ اللہ تعالیٰ بعض اوقات اپنی کتا ب میں ایک چیز ایک اعتبا ر سے واجب قرار دیتا ہے اور کبھی وہی چیز بغیر اس اعتبا ر کے بھی واجب قرار دے دیتا ہے ۔یا تو وہ چیز نبی کریم ﷺ کی زبانی واجب قرار پاتی ہے یا علما ئے امت کی زبان سے اس کے وجوب کا اظہار ہوتاہے ۔کیونکہ اللہ تعالی ٰ نے اس آیت کریمہ میں اس محرم پر فدیہ واجب کیا ہے جو بیماری یا سر میں تکلیف کی وجہ سے سر منڈواتا ہے ۔اور تمام علمائے کرام کے نزدیک یہ فدیہ اس محرم پر بھی واجب ہو گا جو بغیر کسی بیماری یا سر کی تکلیف کے سر منڈوا دیتا ہے ۔اس صورت میں وہ گناہ گار ہو گا ۔اس موقع پرمیں نے یہ مسئلہ واضح کیا کہ ملتے جلتے ،مشابہ مسائل میں ایک جیسا حکم لگانا واجب ہے ۔اگر اس جگہ ایک جیسے مشابہ مسائل میں ایک جیسا حکم لگاناواجب نہ ہوتا تو اس شخص پر فدیہ واجب نہیں ہونا چاہیے تھا جو اپنے بال قینچی کے ساتھ کٹوا لیتا ہے ۔کیونکہ بال کٹوانے پر سرمنڈوانے کا اطلا ق نہیں ہوتا ۔لیکن جب ایک جیسے اور ملتے جلتے افعال پرایک جیسا حکم لگانا واجب تھا تو بال کٹوانے والے پر بھی وہی فدیہ لگایا جاتا جو سر منڈوانے والے پر لگایا گیا تھا ۔یہ ایک طویل مسئلہ ہے جسے میں نے اس آیت کے تحت ذکر کیا ہے ۔ "

کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← مُجَاهِدٍ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← شِبْلٌ، ← رَوْحٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْقَيْسِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2678

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2679

ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ وَسَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، قَالَ سَلْمٌ: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، وَقَالَ الْأَشَجُّ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ وَكَتَبَهَ لِي وَأَخْرَجَهَ إِلَيَّ، قَالَ: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حُجَّاجًا، وَإَنَّ زَمَالَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَزَمَالَةَ أَبِي بَكْرٍ وَاحِدَةٌ، فَنَزَلْنَا الْعَرْجَ وَكَانَتْ زَمَالَتُنَا مَعَ غُلَامِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجَلَسَتْ عَائِشَةُ إِلَى جَنْبِهِ، وَجَلَسَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ، وَجَلَسْتُ إِلَى جَنْبِ أَبِي نَنْتَظِرُ غُلَامَهُ وَزِمَالَتَنَا مَتَى يَأْتِينَا، فَطَلَعَ الْغُلَامُ يَمْشِي مَا مَعَهُ بَعِيرُهُ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ: أَيْنَ بَعِيرُكَ؟ قَالَ: أَضَلَّنِي اللَّيْلَةَ. قَالَ: فَقَامَ إِلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ يَضْرِبُهُ، وَيَقُولُ: بَعِيرٌ وَاحِدٌ أَضْلَلْتَ وَأَنْتَ رَجُلٌ. فَمَا يَزِيدُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أَنْ تَبَسَّمَ وَيَقُولُ: "انْظُرُوا إِلَى هَذَا الْمُحْرِمِ وَمَا يَصْنَعُ! ". هَذَا حَدِيثُ الْأَشَجِّ. وقَالَ سَلِمٌ: وَكَانَتْ زَامِلَتُنَا وَزَامِلَةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، نَحْوَهُ". قَالَ الدَّوْرَقِيُّ: وَكَانَتْ زَمَالَةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَزَمَالَةُ أَبِي بَكْرٍ. وَقَالَ يُوسُفُ: وَكَانَتْ زَامِلَةُ أَبِي بَكْرٍ وَزَامِلَةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.

حضرت اسماءبنت ابی بکر ؓ بیان کرتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کےساتھ حج کےلیے نکلے ۔رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر ؓ کا زادراہ والا اونٹ ایک ہی ساتھ تھا ۔پس ہم عرج مقام پر آرام کےلیے ٹھہرے جبکہ ہمارا سامان حضرت ابوبکر ؓ کے غلام کے پاس تھا ۔حضرت اسماء فرماتی ہیں :رسول اللہ ﷺ بیٹھ گئے اور حضرت عائشہ ؓ آپ کے پہلو میں بیٹھ گئیں ۔آپ کی دوسری جانب حضرت ابو بکر ؓ بیٹھ گئے ۔اور میں بھی اپنے والدگرامی کے پہلو میں بیٹھ گئی ،ہم سب آپ کے غلام اور اپنے سامان کا انتظا ر کرنے لگے کہ غلا کب لے کر آتا ہے ۔پھر غلا م نمودار ہو اتو وہ اکیلا ہی اونٹ کے بغیر چلا آ رہاتھا ۔تو حضرت ابوبکر ؓ نے اس سے پوچھا :تمہارا اونٹ کدھر ہے؟ اس نے جواب دیا کہ وہ آج رات مجھ سے گم ہو گیا ہے ۔اس پر حضرت ابوبکر ؓ نے اٹھ کر اسے مارنا شروع کر دیا اور فرمایا :تمہارے پاس صر ف ایک ہی اونٹ تھا اور تم نے مرد ہوتے ہوئے بھی اسے گم کر دیا ۔جبکہ رسول اللہ ﷺ (یہ منظر دیکھ کر ) بس مسکر ا دیے اور فرمایا: " اس محرم کو دیکھو یہ کیا کر رہا ہے ؟" یہ جناب الا شج کی روایت ہے ۔ اور جناب سلم کی روایت میں تھا ۔" جناب الدورقی کی روایت میں ہے : " رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر ؓ کا سامان سفر ایک ہی تھا۔" جناب یوسف کی روایت کے الفاظ ہیں : " حضرت ابوبکر ؓ اور رسول اللہ ﷺکا سامان اٹھانے والا اونٹ ایک ہی تھا۔"

عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ وَسَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2679

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2680

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ [268 - أ] الضُّبَعِيُّ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَكَّةَ مُعْتَمِرًا قَبْلَ أَنْ يَفْتَحَهَا، وَابْنُ رَوَاحَةَ يَمْشِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ: خَلُّوا بَنِي الْكُفَّارِ عَنْ سَبِيلِهِ ... الْيَوْمَ نَضْرِبُكُمْ عَلَى تَنْزِيلِهِ ضَرْبًا يُزِيلُ الْهَامَ عَنْ مَقِيلِهِ ... وَيُذْهِلُ الْخَلِيلَ عَنْ خَلِيلِهِ فَقَالَ عُمَرُ: يَا ابْنَ رَوَاحَةَ! فِي حَرَمِ اللَّهِ وَبَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَقُولُ هَذَا الشِّعْرَ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "خَلِّ عَنْهُ يَا عُمَرُ! فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَكَلَامُهُ أَشَدُّ عَلَيْهِمْ مِنْ وَقْعِ النَّبْلِ".

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فتح مکہ سے پہلے عمرے کےلیے مکہ مکرمہ داخل ہوئے تو حضرت ابن تواحہ ؓ آپ کے آگے آگے چل رہے تھے اور یہ شعر پڑھ رہے تھے : " اے کفار کے بیٹو ! رسول اللہ ﷺ کے راستے سے ہٹ جاؤ ،آج ہم اللہ کے حکم پر تمہیں ایسی مار ماریں گے جس سے کھوپڑیا ں اڑ جائیں گی اور دوست دوست کو بھول جائے گا ۔" تو حضرت عمرؓ نے کہا :اے ابن رواحہ تم اللہ تعالیٰ کے حرم شریف اور رسول اللہ ﷺ کےسامنے یہ شعر پڑھ رہے ہو ؟تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا : " اے عمر اسے پڑھنے دو ،اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اس کے شعر ان کافروں پر تیروں کی ماس سے زیادہ سخت چوٹ لگا رہے ہیں ۔"

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2680

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2681

ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، وَعِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الْقَزَّازُ وَأَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عن ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَخْطُبُ، وَيَقُولُ: "السَّرَاوِيلُ لِمَنْ لَا يَجِدُ الْإِزَارَ، وَالْخُفَّانِ (1) لِمَنْ لَا يَجِدُ النَّعْلَيْنِ". قَالَ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ: عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ.

حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ،آپ فرمارہے تھے ۔" جس شخص کو (احرام کےلیے )چادر نہ ملے وہ شلوار پہن لے ۔اور جسے جوتے نہ ملیں وہ موزے پہن لے ۔"

عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ← "السَّرَاوِيلُ لِمَنْ لَا يَجِدُ الْإِزَارَ، وَالْخُفَّانِ لِمَنْ لَا يَجِدُ النَّعْلَيْنِ". ← رَسُولَ اللَّهِ وَهُوَ يَخْطُبُ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، وَعِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الْقَزَّازُ وَأَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2681

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2682

ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ، ثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ بِذَاكَ الْمَكَانِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا لَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ؟ قَالَ: "لَا يَلْبَسُ الْقُمُصَ، وَلَا السَّرَاوِيلَ، وَلَا الْعِمَامَةَ، وَلَا الْخُفَّيْنِ، إِلَّا أَنْ لَا يَجِدَ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ، وَلَا شَيْئًا مِنَ الثِّيَابِ مَسَّهُ وَرْسٌ أَوْ زَعْفَرَانٌ، وَلَا الْبُرْنُسَ".

حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا جب کہ آپ فلا ں مقام پر تھے ،اس نے عرض کی :اے اللہ کے رسول !محرم کون سے کپڑے پہن سکتا ہے ؟آپ نے فرمایا:محرم قمیص ،شلوار ،پگڑی اور موزے نہ پہنے ہاں اگر اسے جوتے نہ ملیں تو موزے ٹخنوں سے نیچے تک کاٹ کر انہیں پہن لے ۔اور جن کپڑوں کو ورس بوٹی یا زعفران سے رنگ دیا گیا ہو ،اور ٹوپی والا کوٹ نہ پہنے۔"

نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادٌ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2682

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2683

ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، ثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ؛ ح وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ، ثَنَا هُشَيْمٌ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ أَنَّ النبي - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "إِذَا لَمْ يَجِدِ الْمُحْرِمُ النَّعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسِ الْخُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ".

۔۔حضرت ابن عمر ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جب محرم کو جوتے نہ ملیں تو وہ موزے پہن لے اور انہیں کاٹ کر ٹخنوں سے نیچے کر لے ۔"

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← ابْنِ عَوْنٍ ← هُشَيْمٌ ← وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ، ← ابْنِ عَوْنٍ ← هُشَيْمٌ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2683

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2684

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، ثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ: أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَاذَا نَلْبَسُ مِنَ الثِّيَابِ إِذَا أَحْرَمْنَا؟ فَقَالَ: "لَا تَلْبَسُوا الْقُمُصَ، وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ، وَلَا الْبَرَانِسَ، وَلَا الْعَمَائِمَ، وَلَا الْقَلَانِسَ. وَلَا الْخِفَافَ، إِلَّا أَحَدٌ لَيْسَتْ لَهُ نَعْلَانِ فَلْيَلْبَسْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ". وَفِي خَبَرِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ الَّذِي أَمْلَيْتُهُ قَبْلُ: "فَلْيَلْبَسْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ". وَهَكَذَا قَالَ ابْنُ عُلَيَّةَ: عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "فَمَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْهُمَا -يَعْنِي الْخُفَّيْنِ- أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ". ثَنَاهُ أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَا: ثَنَا إِسْمَاعِيلُ، أَنَا أَيُّوبُ. وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِي هَذَا الْخَبَرِ: "فَلْيَقْطَعْهُمَا حتى يَجْعَلُهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ". ثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ. وَقَدْ خَرَّجْتَ طُرُقَ هَذَا اللَّفْظِ فِي "كِتَابِ الْكَبِيرِ".

حضرت عبداللہ ؓسے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا :اے اللہ کے رسول ﷺجب ہم احرام باندھیں تو کون سے کپڑے پہنیں ؟آپ نے فرمایا: "تم قمیص،شلوار،ٹوپی والے کوٹ،پگڑیاں ،ٹوپیاں اور موزے نہ پہنو،البتہ اگر کسی شخص کو جوتے نہ ملیں تو وہ موزے پہن لے اور انہیں ٹخنو ں سے نیچے کر لے ۔"جناب ایوب سے حماد کی روایت میں بھی یہی الفاظ ہیں کہ انہیں ٹخنو ں سے نیچے کر کے پہن لے ۔اسی طرح ابن علیہ ؒ نے ایوب کی سند ہی سے حضرت ابن عمر ؓ کی روایت میں بیان کیا ہے کہ آ پ نے فرمایا : "جس شخص کو جوتے نہ ملیں تو وہ موزوں کو ٹخنوں سے نیچے کر کے انہیں پہن لے ۔"امام صاحب نے ابن جریح کی روایت میں یہ الفاظ بیان کیے ہیں : "تو وہ شخص موزوں کو ٹخنوں سے کاٹ کر پہن لے ۔"میں نے ا س حدیث کے طرق کتاب الکبیر میں بیان کر دیے ہیں۔

عَبْدِ اللَّهِ: أَنَّ رَجُلًا ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2684

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1889

ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِمْرَانَ الْعَابِدِيُّ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَجْوَدَ النَّاسِ بِالْخَيْرِ، وَكَانَ أَجْوَدَ مَا يَكُونُ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ حَتَّى يَنْسَلِخَ، يَأْتِيهِ جِبْرِيلُ فَيَعْرِضُ عَلَيْهِ الْقُرْآنَ، فَإِذَا لَقِيَهُ جِبْرِيلُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَجْوَدَ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ.

"حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ سب لوگوں سے بڑھ کر خیر بھلائی کی سخاوت کرنے والے تھے ۔ اور آپ رمضان میں سب سے زیادہ سخاوت کرتے تھے حتی کہ رمضان ختم ہوجاتا ۔ جبرائیل ؑ آپ کے پاس آتے اور آپ سے قرآن مجید کا دو ر کرتے لہٰذا جب جبرائیل ؑ آپ سے ملتے تو رسول اللہﷺ تیز ہوا سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ خیر کی سخاوت کرتے ۔"

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِمْرَانَ الْعَابِدِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1889

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1890

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الزَّيَّاتِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "الصَّوْمُ جُنَّةٌ".

"حضرت ابوہریرہؓ نبی کریمﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا:" روزہ ڈھال ہے ۔"

"الصَّوْمُ جُنَّةٌ". ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي صَالِحٍ الزَّيَّاتِ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1890

chevron_left Previous
1…115116117…258
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden22. The groups of the gates of obligatory travel23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness24. The congregation of the gates of prayer on the rows25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr37. The gates of the prayer of fear38. Collections of the gates of an eclipse prayer39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals