صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1887
ثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، ثَنَا يُوسُفُ بْنُ زِيَادٍ، ثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ سَلْمَانَ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنْ شَعْبَانَ، فَقَالَ: "أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ أَظَلَّكُمْ شَهْرٌ عَظِيمٌ، شَهْرٌ مُبَارَكٌ، شَهْرٌ فِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ، جَعَلَ اللَّهُ صِيَامَهُ فَرِيضَةً، وَقِيَامَ لَيْلِهِ تَطَوُّعًا، مَنْ تَقَرَّبَ فِيهِ بِخَصْلَةٍ مِنَ الْخَيْرِ، كَانَ كَمَنْ أَدَّى فَرِيضَةً فِيمَا سِوَاهُ، وَمَنْ أَدَّى فِيهِ فَرِيضَةً، كَانَ كَمَنْ أَدَّى سَبْعِينَ فَرِيضَةً فِيمَا سِوَاهُ، وَهُوَ شَهْرُ الصَّبْرِ، وَالصَّبْرُ ثَوَابُهُ الْجَنَّةُ، وَشَهْرُ الْمُوَاسَاةِ، وَشَهْرٌ يَزْدَادُ فِيهِ رِزْقُ الْمُؤْمِنِ، مَنْ فَطَّرَ فِيهِ صَائِمًا كَانَ مَغْفِرَةً لِذُنُوبِهِ، وَعِتْقَ رَقَبَتِهِ مِنَ النَّارِ، وَكَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْتَقِصَ مِنْ أَجْرِهِ شَيْءٌ". قَالُوا: لَيْسَ كُلُّنَا نَجِدُ مَا يُفَطِّرُ الصَّائِمَ. فَقَالَ: "يُعْطِي اللَّهُ هَذَا الثَّوَابَ مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا عَلَى تَمْرَةٍ، أَوْ شَرْبَةِ مَاءٍ، أَوْ مَذْقَةِ لَبَنٍ، وَهُوَ شَهْرٌ أَوَّلُهُ رَحْمَةٌ، وَأَوْسَطُهُ مَغْفِرَةٌ، وَآخِرُهُ عِتْقٌ مِنَ النَّارِ، مَنْ خَفَّفَ عَنْ مَمْلُوكِهِ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ، وَأَعْتَقَهُ مِنَ النَّارِ، وَاسْتَكْثِرُوا [197 - ب] فِيهِ مِنْ أَرْبَعِ خِصَالٍ: خَصْلَتَيْنِ تُرْضُونَ بِهِمَا رَبَّكُمْ، وَخَصْلَتَيْنِ لَا غِنًى بِكُمْ عَنْهُمَا، فَأَمَّا الْخَصْلَتَانِ اللَّتَانِ تُرْضُونَ بِهِمَا رَبَّكُمْ، فَشَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَتَسْتَغْفِرُونَهُ، وَأَمَّا اللَّتَانِ لَا غِنًى بِكُمْ عَنْهُمَا، فَتَسْأَلُونَ اللَّهَ الْجَنَّةَ، وَتَعُوذُونَ بِهِ مِنَ النَّارِ، وَمَنْ أَشْبَعَ فِيهِ صَائِمًا، سَقَاهُ اللَّهُ مِنْ حَوْضِي شَرْبَةً لَا يَظْمَأُ حَتَّى يَدْخُلَ الْجَنَّةَ".
"حضرت سلمان ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ہمیں شعبان کے آخری روزہ خطبہ ارشاد فرمایا تو کہا: "لوگو! تمہارے پاس بڑا عظیم مہینہ آگیا ہے ۔ یہ مہینہ بڑا مبارک ہے ۔ اس میں ایک ایسی رات ہے جو ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس مہینے کے روزے فرض اور اس کی راتوں کا قیام نفل قرار دیا ہے ۔ جو شخص اس میں کوئی نیک کام کر کے اللہ کا تقرب حاصل کرتا ہے تو گویا اس نے دیگر مہینوں میں ادا کیے گئے فرض جیسا کام ہے ۔ اور جس شخص نے اس میں فر ض ادا کیا تو گویا وہ اس شخص جیسا ثواب حاصل کرے گا جس نے ستر فرائض دیگر مہینوں میں ادا کیے ہوں ۔ یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے ۔ یہ ہمدردی اور غمخواری کا مہینہ ہے ۔ اس مہینے کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے ۔ جس نے اس مہینے میں روزے دار کا روزہ افطار کروایا تو وہ اس کے گناہوں کی بخشش کا باعث ہوگا اور جہنم سے اس کی گردن کی آزادی کا ذریعہ بنے گا اور اسے روزے دار کے برابر ثواب ملے گا جبکہ روزے دار کے ثواب میں بھی کچھ کمی نہیں ہوگی ۔ صحابہ نے عرض کیا: ہم میں سے ہر شخص کو افطاری کرانے کا سامان میسر نہیں ہے ۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: " اللہ تعالیٰ یہ ثواب اس شخص کو بھی عطا کرتے ہیں جو روزے دار کو ایک کھجور یا پانی کے گھونٹ یا کچی لسی کے ایک گھونٹ سے روزہ افطار کراتا ہے ۔ ا س مہینے کا ابتدائی حصہ باعث رحمت ہے ، درمیانہ حصہ مغفرت و بخشش کا ہے اور آخری حصہ جہنم سے آزادی حاصل کرنے کا ہے ۔ جس شخص نے اپنے غلام کو تخفیف وآسانی حاصل کرنے کا ہے ۔ جس شخص نے اپنے غلام کو تخفیف وآسانی دی تو اللہ تعالیٰ اسے معاف کر دیتے ہیں اور اسے جہنم سے آزاد کر دیتے ہیں ۔ اس مہینے میں چار کام بکثرت کرو ۔ دو کاموں سے تم اپنے رب کی رضا وخوشنودی حاصل کر لو گے اور دو کاموں سے تم بے پروا نہیں ہوسکتے ۔ رہے وہ دو کام جن سے تم اپنے رب کی رضا حاصل کر لو گے تو وہ اس بات کی گواہی دینا کہ ایک اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور اس سے گناہوں کی بخشش مانگتا ہے ۔ اور وہ دو چیزیں جن سے تم بے پروا نہیں ہوسکتے تو وہ یہ ہیں کہ تم اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرو اور جہنم سے اس کی پناہ میں آجاؤ۔ اور جس شخص نے اس مہینے میں روزے دار کو پیٹ بھر کر کھانا کھلایا تو اللہ تعالیٰ اسے میرے حوض سے پانی پلانے گا جس سے وہ جنت میں داخل ہونے تک پیاسا نہیں ہوگا۔"
سَلْمَانَ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← يُوسُفُ بْنُ زِيَادٍ، ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ
Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1887
