Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2671

ثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: وَدِدْتُ أَنِّي أَرَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ يَتَنَزَّلُ عَلَيْهِ، فَلَمَّا كُنَّا بِالْجِعْرَانَةِ أَتَاهُ رَجُلٌ عَلَيْهِ مُقَطَّعَاتٌ مُتَضَمِّخٌ بِخَلُوقٍ، فَقَالَ: إِنِّي أَهْلَلْتُ بِالْعُمْرَةِ وَعَلَيَّ هَذَا، فَكَيْفَ أَصْنَعُ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "كَيْفَ كُنْتَ تَصْنَعُ فِي حَجَّتِكَ؟ " قَالَ: أَنْزِعُ هَذِهِ الثِّيَابَ وَأَغْسِلُهُ. قَالَ: "فَاصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ كَمَا تَصْنَعُ فِي حَجَّتِكَ". قَالَ: وَأُنْزِلَ عَلَيْهِ، فَسُجِّيَ بِثَوْبٍ، فَدَعَانِي عُمَرُ: فَكَشَفَ لِي عَنِ الثَّوْبِ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَغِطُّ مُحْمَرًّا وَجْهُهُ. هَذَا حَدِيثُ عَبْدِ الْجَبَّارِ. وَقَالَ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْجِعْرَانَةِ، وَقَدْ قُلْتُ لِعُمَرَ: وَدِدْتُ أَنِّي أَرَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَقَالَ: وَاغْسِلْ عَنِّي هَذَا الْخَلُوقَ.

حضرت یعلی بن امیہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میری تمنا تھی کہ میں رسول اللہ ﷺ کو اس وقت دیکھوں جب کہ آپ پر وحی نازل ہورہی ہو ۔چنانچہ ایک مرتبہ جب ہم جعرانہ کے مقام پر تھے تو ایک شخص کرتہ پہنے ہوئے آپ کے پاس حاضر ہوا ۔اس کا کرتہ زعفرانی خوشبو سے لتھڑا ہوا تھا ۔اس نے عرض کی : میں نے عمر ے کا تلبیہ پکا را ہے اور میں نے یہ کرتا پہن رکھا ہے لہذا میں کیا کروں ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا : "تم اپنے حج میں کیسے کرتے ہو ؟ "اس نے کہا :میں یہ کپڑے اتار کر خوشبو دھو لیتا ہوں ۔تو آپ نے فرمایا : "اپنے عمرے میں بھی اسی طرح کرو جس طرض اپنے حج میں کرتے ہو ۔ "اسی دوران آ پ پر وحی نازل ہونا شروع ہو گئی تو آپ کو چادر سے ڈھانپ دیا گیا ۔پھر حضرت عمر ؓ نے مجھے بلایا تو مجھے کپڑا ہٹا کر آپ کا دیدار کرایا تو میں نے رسول اللہ ﷺ کا دیدار کیا ،آپ لمبے لمبے سانس لے رہے تھے اور آپ کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا تھا ۔یہ روایت جناب عبد الجبار کی ہے ۔جناب مخزومی ؒ کی روایت میں ہے :ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ جعرانہ مقام پر تھے اور میں نے حضرت عمر ؓ سے اس خواہش کا اظہار کیاہو اتھا کہ میں رسول اللہﷺ کو وحی کے نزول کے وقت دیکھنا چاہتا ہوں ۔ اس روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں ۔اس شخص نے کہا : "میں اپنے جسم اور کپڑوں سے یہ خوشبو دھو ٖٖڈالتا ہوں ۔ "

أَبِيهِ ← صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَی ← عَطَاءٍ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2671

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2672

ثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ، ثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورٍ وَعَبْدُ الْمَلَكِ وَابْنُ أَبِي لَيْلَى وَالْحَجَّاجُ، كُلُّهُمْ عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ (1): جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ عَلَيْهَا رَدْعٌ مِنْ زَعْفَرَانٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَحْرَمْتُ فَمَا تَرَى، وَالنَّاسُ يَسْخَرُونَ مِنِّي؟ قَالَ: فَأَطْرَقَ عَنْهُ هُنَيْهَةً، قَالَ: ثُمَّ دَعَاهُ، فَقَالَ: "اخْلَعْ عَنْكَ هَذِهِ الْجُبَّةَ، وَاغْسِلْ عَنْكَ هَذَا الزَّعْفَرَانَ، وَاصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ مَا كُنْتَ تَصْنَعُ فِي حجك" (2)، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ: قَالَ حَجَّاجٌ: ثَنَا عَطَاءٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى عَنْ أَبِيهِ؛ ح (3) وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ، ثَنَا هُشَيْمٌ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: كُنَّا نَقُولُ قَبْلَ أَنْ يَبْلُغَنَا هَذَا الْحَدِيثُ يَخْرِقُ جُبَّتَهُ فَلَمَّا بَلَغَنَا هَذَا الْحَدِيثُ أَخَذْنَا بِهِ (4).

"حضرت یعلی بن امیہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ اعرابی رسول اللہ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے جبہ پہنا ہوا تھا جو زعفران میں لتھڑا ہو تھا ۔تو اس نے عرض کی :اے اللہ کے رسول ﷺ ! میں نے اس طرح احرام باندھا (جیسے آپ دیکھ رہے ہیں ) جبکہ لوگ میرا مذاق اڑا رہے ہیں ۔اب آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں آپ نے تھوڑ دیر اپنا سر مبارک جھکا لیا اور اسے جواب نہ دیا ۔پھر اسے بلایا اور حکم دیا "یہ جبہ اتار دو اور اپنے جسم سے اس زعفران کو دھو ڈالو اور اپنے عمرے میں اسی طرح عمل کرو جس طرح تم اپنے حج میں کرتے ہو ۔ "حدیث کے آخر میں ہے ،امام عطاء فرماتے ہیں : ہمیں یہ حدیث پہنچنے سے پہلے ہم کہتے تھے کہ ایسا شخص اپنے جبے کو پھاڑ ڈالے ،پھر جب ہمیں یہ حدیث مل گئی تو ہم نے اسی کے مطابق عمل اختیار کرلیا۔

جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ عَلَيْهَا رَدْعٌ مِنْ زَعْفَرَانٍ، فَقَالَ: ← يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ← عَطَاءٍ، ← مَنْصُورٍ وَعَبْدُ الْمَلَكِ وَابْنُ أَبِي لَيْلَى وَالْحَجَّاجُ، كُلُّهُمْ ← هُشَيْمٌ ← ثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2672

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2673

ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الرِّجَالَ عَنِ التَّزَعْفُرِ. قَالَ حَمَّادٌ: يَعْنِي الْخَلُوقَ.

۔۔حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مردوں کو زعفر انی خوشبو استعمال کرنے سے منع کیا ہے ۔ جناب حماد کہتے ہیں :آپ کی مراد خلوق خوشبو ہے (جس میں زعفران ملا ہوتا ہے ۔)

حَمَّادٌ: يَعْنِي الْخَلُوقَ. ← التَّزَعْفُرِ. ← نَهَى رَسُولُ اللَّهِ الرِّجَالَ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2673

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2674

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَا: ثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ؛ عن أنس بن مالك؛ ح وحدثنا أبو عمار حدثنا إسماعيل بن إبراهيم، عن عبد العزيز بن صهيب؛ ح وَثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَتَزَعْفَرَ الرَّجُلُ.

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مردوں کو زعفرانی خوشبو اور رنگ سے منع کیا ہے ۔

نَهَى رَسُولُ اللَّهِ أَنْ يَتَزَعْفَرَ الرَّجُلُ. ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← وَثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← وحدثنا أبو عمار ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ← إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2674

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2675

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ الْوَاسِطِيُّ، ثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: شَحَيْتُ (1) يَوْمًا، فَقَالَ لِي صَاحِبٌ لِي: اذْهَبْ بِنَا إِلَى الْمَنْزِلِ، قَالَ: فَذَهَبْتُ فَاغْتَسَلْتُ وَتَخَلَّقْتُ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَمْسَحُ وُجُوهَنَا، فَلَمَّا دَنَا مِنِّي جَعَلَ يُجَافِي يَدَهُ عَنِ الْخَلُوقِ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ لِي: "يَا يَعْلَى! مَا حَمَلَكَ عَلَى الْخَلُوقِ، أَتَزَوَّجْتَ؟ " قُلْتُ: لَا. فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "فَاذْهَبْ فَاغْسِلْهُ". قَالَ: فَمَرَرْتُ عَلَى رَكِيَّةٍ فَجَعَلْتُ أَقَعُ فِيهَا، ثُمَّ جَعَلْتُ أَتَدَلَّكُ بِالتُّرَابِ حَتَّى ذَهَبَ، ثُمَّ جِئْتُ فَلَمَّا رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَ: "وَعَادَ بِخَيْرِ دِينِهِ الْعُلَا تَابَ وَاسْتَهَلَّتِ السَّمَاءُ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَقَدْ أَمَرَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْلَى بْنَ مُرَّةَ بِغَسْلِ الْخَلُوقِ، وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ كَمَا أَمَرَ الْمُحْرِمَ بِغَسْلِ الْخَلُوقِ.

حضرت یعلی بن مرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن میرا رنگ بدلا ہواتھا ( طبیعت ناساز تھی ) تو میرے ایک دوست نے مجھے کہا :ہمارے ساتھ گھر چلو ،تو میں گھر گیا ، میں نے غسل کیا اور خلو ق خوشبو لگائی ۔اور رسول اللہ ﷺ کا طریقہ مبارک یہ تھا کہ آپ (نماز کے وقت ) ہمارے چہر وں پر اپنا دست مبارک پھیرتے ( اور ہمارے لیے دعائے خیر فرماتے ) پھرجب آ پ میرے قریب ہوئے تو آ پ نے زعفرانی خوشبو سے اپنا ہاتھ ہٹا لیا ، پھر جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو مجھے کہا : "اے یعلی تم نے زعفرانی خوشبو کیو ں لگائی ہےکیا شادی کی ہے ؟ "میں نے عرض کی : نہیں تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا ۔ "جاؤ اور اس خوشبو کو دھو ڈالو ۔ " حضرت یعلی فرماتے ہیں :میں ایک کنویں پر گیا اور اس میں نہا کر پھر میں نے مٹی کے ساتھ مل مل کر وہ خوشبو صاف کر دی ۔پھر میں حاضر ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے دیکھ کر فرمایا : " یعلی توبہ کرکے اپنے بہترین دین پر واپس آگیا ہے اور آسمان والا بھی خوش ہو گیا ہے ۔ "امام ابوبکر فرماتے ہیں :اس طرح نبی کریم ﷺ نے حضرت یعلی بن مرہ ؓ کو زعفرانی خوشبو دھونے کا حکم دیا حالانکہ وہ غیر محرم تھے جیسے کہ آپ نے محرم کو زعفرانی خوشبو دھونے کا حکم دیا تھا ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عمر بن عبد الله بن يعلى بن مرة الثقفي ← عبيدة بن حميد ← مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ الْوَاسِطِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2675

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2676

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي [267 - أ] قِلَابَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ: أَتَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ وَأَنَا كَثِيرُ الشَّعْرِ، فَقَالَ: كَأَنَّ هَوَامَّ رَأْسِكَ يُؤْذِيكَ؟ " فَقُلْتُ: أَجَلْ. قَالَ: "فَاحْلِقْهُ وَاذْبَحْ شَاةً نَسِيكَةً، أَوْ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ تَصَدَّقَ بِثَلَاثَةِ آصُعٍ بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينٍ".

حضرت کعب بن عجرہ ؓ بیا ن کرتے ہیں کہ صلح حدیبیہ کے زمانے میں رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے جب کہ میرے بال کافی بڑے اور گھنے تھے ۔تو آپ نے فرمایا : "گویا تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تکلیف دے رہی ہیں ؟ "میں نے عرض کی : جی ہاں ۔آپ نے فرمایا : "اپنا سر منڈوا لو اور ایک بکری قربان کرو یا تین روزے رکھو یا تین صاع اناج چھ مسکینو ں میں صدقہ کردو ۔ "

كَأَنَّ هَوَامَّ رَأْسِكَ يُؤْذِيكَ؟ فَقُلْتُ: أَجَلْ. ← كَثِيرُ الشَّعْرِ، ← أَتَى عَلِيٌّ رَسُولَ اللَّهِ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ، ← کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← أَبِي أ] قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2676

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1881

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ، ثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثَنَا عَاصِمٌ -يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ- قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: بِمِثْلِهِ. جِمَاعُ أَبْوَابِ فَضَائِلِ شَهْرِ رَمَضَانَ وَصِيَامِهِ

"حضرت ابن عمر ؓ سے مذکورہ بالا کی طرح رسول اللہﷺ سے حدیث مروی ہے ۔"

ابْنِ عُمَرَ ← أَبِي ← عَاصِمٌ -يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ- ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1881

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1882

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ- نَا أَبُو سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "إِذَا جَاءَ شَهْرُ رَمَضَانَ، فُتِحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ، وَصُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَبُو سُهَيْلٍ عَمُّ مَالِكِ [بْنِ] أَنَسٍ.

رمضان المبارک میں جنت کے دروازوں کے کھلنے کا بیان

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← أَبُو سُهَيْلٍ، ← إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ- ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1882

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1883

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِذَا كَانَ أَوَّلُ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ صُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ مَرَدَةُ الْجِنِّ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ، فَلَمْ يُفْتَحْ مِنْهَا بَابٌ، وَفُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجِنَانِ، فَلَمْ يُغْلَقْ مِنْهَا بَابٌ، وَنَادَى مُنَادٍ: يَا بَاغِيَ الْخَيْرِ أَقْبِلْ، وَيَا بَاغِيَ الشَّرِّ أَقْصِرْ، وَلِلَّهِ عُتَقَاءُ مِنَ النَّارِ".

"حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جب رمضان المبارک کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیاطین کے سر کش جنوں کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے اور جہنم کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں پھر اس کا کوئی دروازہ کھولا نہیں جاتا اور جنت کے تمام دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور اس میں سے کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا اور ایک اعلان کرنے والا اعلان کرتا ہے اے خیر کے طالب ! آگے بڑھ ( خوب نیکیاں کر لے ) اور اے برائی کے چاہنے والے رک جا۔ اور اللہ تعالیٰ کے لیے جہنم سے آزاد ہونے والے بہت سارے لوگ ہوتے ہیں ۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1883

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1884

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، ثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ تَمِيمٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "أَظَلَّكُمْ شَهْرُكُمْ هَذَا بِمَحْلُوفِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا مَرَّ بِالْمُسْلِمِينَ شَهْرٌ خَيْرٌ لَهُمْ مِنْهُ، وَلَا مَرَّ بِالْمُنَافِقِينَ شَهْرٌ شَرٌّ لَهُمْ مِنْهُ -بِمَحْلُوفِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -- لَيُكْتَبُ أَجْرُهُ وَنَوَافِلُهُ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَهُ، وَيُكْتَبُ إِصْرُهُ وَشَقَاؤُهُ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَهُ، وَذَلِكَ أَنَّ الْمُؤْمِنَ يُعِدُّ فِيهِ الْقُوَّةَ مِنَ النَّفَقَةِ لِلْعِبَادَةِ، وَيَعُدُّ فِيهِ الْمُنَافِقُ اتِّبَاعَ غَفَلَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، وَاتِّبَاعَ عَوْرَاتِهِمْ، فَغُنْمٌ يَغْنَمُهُ الْمُؤْمِنُ". هَذَا حَدِيثُ يَحْيَى. وَقَالَ بُنْدَارٌ: "فَهُوَ غُنْمٌ لِلْمُؤْمِنِينَ، يَغْتَنِمُهُ الْفَاجِرُ". عَمْرُو بْنُ تَمِيمٍ هَذَا يُقَالُ لَهُ مَوْلَى بَنِي رُمَّانَةَ مَدَنِيٌّ.

"حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: تمہارے پاس تمہارا یہ مبارک مہینہ آگیا ہے ۔ رسول اللہﷺ کی قسم کے ساتھ مسلمانوں کے لیے اس سے بہتر کوئی مہینہ مسلمانوں کے پاس نہیں گزرتا اور نہ منافقین کے لیے اس سے بڑ ھ کر کوئی برا مہینہ گزرتا ہے ۔رسول اللہﷺ کی قسم کے ساتھ ، یہ مہینہ شروع ہونے سے پہلے ( مومن ) کا اجر اور اس کے نوافل لکھ دئیے جاتے ہیں اور ( منافق) کا گناہوں پر اصرار اور بدبختی اس مہینے کے شروع ہونے سے پہلے لکھ دی جاتی ہے ۔ اور یہ اس طرح کہ مومن اس مہینے میں عبادت کےلیے مالی قوت جمع کر لیتا ہے ۔ اور منافق مومنوں کی غفلت وبے خبری اور ان کے عیوب ونقائص تلاش کرنے کی تیاری کرتا ہے ۔ پس یہ مہینہ غنیمت ہے جس سے مومن فائدہ حاصلہ کرتا ہے ۔"یہ جناب یحییٰ کی روایت ہے اور جنا ب بندا ر کی روایت میں ہے : پس وہ مومنوں کےلیے غنیمت ہے جس سے فاجر شخص فائدہ حاصل کر لیتا ہے ۔"

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبِي أَنَّهُ ← عَمْرُو بْنُ تَمِيمٍ، ← كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، ← أَبُو عَامِرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1884

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1885

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ حَمْزَةَ الْقَيْسِيُّ (1)، ثَنَا خَلَفٌ أَبُو الرَّبِيعِ -إِمَامُ مَسْجِدِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ-، ثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "يَسْتَقْبِلُكُمْ وَتَسْتَقْبِلُونَ". ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَحْيٌ نَزَلَ؟ قَالَ: "لَا" قَالَ: عَدُوٌّ حَضَرَ؟ قَالَ: "لَا". قَالَ: فَمَاذَا؟ قَالَ: "إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَغْفِرُ فِي أَوَّلِ لَيْلَةٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ لِكُلِّ أَهْلِ هَذِهِ الْقِبْلَةِ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَيْهَا، فَجَعَلَ رَجُلٌ يَهُزُّ رَأْسَهُ، وَيَقُولُ: [197 - أ] بَخٍ بَخٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "يَا فُلَانُ! ضَاقَ بِهِ صَدْرُكَ؟ " قَالَ: لَا، وَلَكِنْ ذَكَرْتُ الْمُنَافِقَ، فَقَالَ: "إِنَّ الْمُنَافِقِينَ هُمُ الْكَافِرُونَ، وَلَيْسَ لِكَافِرٍ مِنْ ذَلِكِ شَيْءٌ".

"حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:"وہ تمہارے پاس آنے والا ہے اور تم استقبال کرنے والے ہو۔ آپ ﷺ نے تین بار فرمایا ۔ تو حضرت عمر بن خطاب ؓ نے عرض کی : "اے اللہ کے رسول ! کیا وحی نازل ہونے والی ہے ؟ آپ نے فرمایا: نہیں ۔ حضرت عمر ؓ نے پوچھا :"پھر کیا آنے والا ہے ؟ آپ نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ ، ماہ رمضان کی پہلی رات اس قبلے والے ہر شخص کو معاف فرما دیتے ہیں اور آپ نے قبلہ کی طرف اشارہ کیا تو ایک شخص اپنے سر کو ہلا ہلا کر واہ واہ کہنے لگا ۔ تو رسول اللہﷺ نے اسے کہا: اے فلاں ! کیا اس بات سے تمہارا سینہ تنگ ہوا ہے ۔( تمہیں یہ بات پسند نہیں آئی )؟ اس نے جواب دیا : نہیں ، لیکن مجھے منافق یا دآگئے ( کہ وہ بھی اہل قبلہ ہونے کی وجہ سے بخشش دئیے جائیں گے ) تو آپ نے فرمایا: "بے شک منافقین کا فر ہیں اور کافر کو اس مبارک فضیلت سے کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔"

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← خَلَفٌ أَبُو الرَّبِيعِ -إِمَامُ مَسْجِدِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ-، ← عَمْرُو بْنُ حَمْزَةَ الْقَيْسِيُّ ← زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1885

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1886

حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ، ثَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ أَبُو عَتَّابٍ؛ وَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَا: ثَنَا جَرِيرُ بْنُ أَيُّوبَ الْبَجَلِيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ نَافِعِ بْنِ بُرْدَةَ، عَنِ -ابْنِ مَسْعُودٍ- قَالَ أَبُو الْخَطَّابِ: -الْغِفَارِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي يَزِيدَ عَنْ -ابْنِ مَسْعُودٍ (1)، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -وَهَذَا حَدِيثُ أَبِي الْخَطَّابِ- قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ ذَاتَ يَوْمٍ [وَقَدْ أ] هَلَّ (2) رَمَضَانُ، فَقَالَ: "لَوْ يَعْلَمُ الْعِبَادُ مَا رَمَضَانُ لَتَمَنَّتْ أُمَّتِي أَنْ يَكُونَ السَّنَةَ كُلَّهَا". فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ خُزَاعَةَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! حَدِّثْنَا، فَقَالَ: "إِنَّ الْجَنَّةَ لَتَزَيَّنُ لِرَمَضَانَ مِنْ رَأْسِ الْحَوْلِ إِلَى الْحَوْلِ، فَإِذَا كَانَ أَوَّلُ يَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ هَبَّتْ رِيحٌ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ فَصَفَقَتْ وَرَقَ الْجَنَّةِ فَتَنْظُرُ الْحُورُ الْعِينُ إِلَى ذَلِكَ فَيَقُلْنَ: يَا رَبِّ! اجْعَلْ لَنَا مِنْ عِبَادِكَ فِي هَذَا الشَّهْرِ أَزْوَاجًا تُقِرُّ أَعْيُنَنَا بِهِمْ، وَتُقِرُّ أَعْيُنَهُمْ بِنَا"، قَالَ: "فَمَا مِنْ عَبْدٍ يَصُومُ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ إِلَّا زُوِّجَ زَوْجَةً مِنَ الْحُورِ الْعِينِ فِي خَيْمَةٍ مِنْ دُرَّةٍ مِمَّا نَعَتَ اللَّهُ: (حُورٌ مَقْصُورَاتٌ فِي الْخِيَامِ) [الرحمن: 72] عَلَى كُلِّ امْرَأَةٍ سَبْعُونَ حُلَّةً لَيْسَ مِنْهَا حُلَّةٌ عَلَى لَوْنِ الْأُخْرَى، تُعْطَى سَبْعينَ لَوْنًا مِنَ الطِّيبِ، لَيْسَ مِنْهُ لَوْنٌ عَلَى رِيحِ الْآخَرِ، لِكُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ سَبْعُونَ أَلْفَ وَصِيفَةٍ لِحَاجَتِهَا، وَسَبْعُونَ أَلْفَ وَصِيفٍ، مَعَ كُلِّ وَصِيفٍ صَحْفَةٌ مِنْ ذَهَبٍ، فِيهَا لَوْنُ طَعَامٍ تَجِدُ لَآخِرِ (1) لُقْمَةٍ مِنْهُ لَذَّةً لَا تَجِدُ لِأَوَّلِهِ، لِكُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ سَبْعُونَ سَرِيرًا مِنْ يَاقُوتَةٍ حَمْرَاءَ، عَلَى كُلِّ سَرِيرٍ سَبْعُونَ فِرَاشًا بَطَائِنُهَا مِنْ إِسْتَبْرَقٍ، فَوْقَ كُلِّ فِرَاشٍ سَبْعُونَ أَرِيكَةً، وَيُعْطَى زَوْجُهَا مِثْلَ ذَلِكَ عَلَى سَرِيرٍ مِنْ يَاقُوتٍ أَحْمَرَ، مُوَشَّحٍ بِالدُّرِّ، عَلَيْهِ سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ، هَذَا بِكُلِّ يَوْمٍ صَامَهُ مِنْ رَمَضَانَ، سِوَى مَا عَمِلَ مِنَ الْحَسَنَاتِ". وَرُبَّمَا خَالَفَ الْفِرْيَابِيَّ سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ فِي الْحَرْفِ وَالشَّيْءِ فِي مَتْنِ الْحَدِيثِ. ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ (2)، نَا جَرِيرُ بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ نَافِعِ بْنِ بُرْدَةَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ غِفَارٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: نَحْوَهُ، إِلَى قَوْلِهِ: (حُورٌ مَقْصُورَاتٌ فِي الْخِيَامِ) [الرحمن: 72].

"جناب ابوخطاب غفاری ؒ حضرت ابو مسعود ؓ سے روایت کرتے ہیں ۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو ایک دن فرماتے ہونے سنا ، جبکہ رمضان المبارک شروع ہو چکا تھا۔ آپ نے فرمایا:"اگر بندے رمضان المبارک کی اہمیت وشان جان لیں تو میری امت تمنا کرے کہ سارا سال ہی رمضان رہے ۔ تو بنو خزاعہ کے ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے نبی ! ہمیں ( اس کی شان کے متعلق ) بیان کریں ۔ پس آپ نے فرمایا: بے شک جنت کو رمضان کےلیے پورا سال آراستہ کیا جاتا ہے پھر جب رمضان کا پہلا دن ہوتا ہے تو عرش کے نیچے سے ہوا چلتی ہے جس سے جنت( کے درختوں ) کے پتے بجتے لگتے ہیں ۔ حورعین یہ منظر دیکھ کر کہتی ہیں : "اے ہمارے رب! اس مہینے میں اپنے بندوں میں سے ہمارے خاوند بنا جن سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور ان کی آنکھیں ہمارے ساتھ ٹھنڈی ہوں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "لہٰذا جو شخص بھی رمضان میں ایک روزہ رکھتا ہے تو اس کی شادی ایک حورعین سے کردی جاتی ہے جو موتی سے بنے خیمے میں ہوتی ہے ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا وصف بیان کیا ہے :(حُوْرٌ مَّقْصُوْرَاتٌ فِی الْخِیَامِ) "حورین خیموں میں محفوظ ہوں گی۔"(الرحمٰن:۷۲) ہر عورت ستر جوڑے پہنے ہو گی ۔ کسی جوڑے کا رنگ دوسرے کے ساتھ ملتا نہیں ہوگا اسے ستر قسم کی خوشبوئیں دی جائیں گی۔ ان میں سے کوئی خوشبو دوسری سے ملتی جلتی نہ ہوگی ۔ ان میں سے ہر عورت کی خدمت کےلیے ستر ہزار خادمائیں ہوں گی۔ اورستر ہزار خاوم ہوں گے ۔ ہر خادم کے پاس سونے کا ایک پیالہ ہوگا ۔ اس میں ایسا کھانا ہوگا کہ ہر لقمے کی لذت مختلف ہوگی ۔ ہر عورت کےلیے سرخ یا قوت سے بنے ستر پلنگ ہوں گے ۔ ہر پلنگ پر ستر بچھونے ہوں گے جن کے استر موٹے ریشم کے ہوں گے ۔ ہر بچھونے پر ستر آراستہ تکیے ہوں گے ۔ اور اس کے خاوند کو بھی سرخ یا قوت کے پلنگ پر جس پر موتیوں کی جھالر ہوگی اسی طرح کی تعمتیں عطا ہوں گی۔ وہ سونے کے دو کنگن پہنے ہوگا۔ یہ انعامات رمضان کے ہر روزے کے بدلے میں ہوں گے اور دیگر نیک اعمال کا بدلہ الگ ہوگا۔" بعض اوقات فریابی نے سہل بن حماد کی متن حدیث کے بعض کے بعض الفاظ میں مخالفت کی ہے ۔ جناب سلم بن جنادہ کی روایت میں ہے : "رسول اللہﷺ نے فرمایا:آپ کے اس فرمان (حُوْرٌ مَّقْصُوْرَاتٌ فِی الْخِیَا)تک روایت بیان کی ۔"

ذَاتَ يَوْمٍ هَلَّ رَمَضَانُ، ← ابْنِ مَسْعُودٍ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، ← أَبُو الْخَطَّابِ: -الْغِفَارِيُّ، ← ابْنِ مَسْعُودٍ، ← نافع بن بردة ← الشَّعْبِيِّ، ← جَرِيرُ بْنُ أَيُّوبَ الْبَجَلِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، ← سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ أَبُو عَتَّابٍ ← أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1886

chevron_left Previous
1…114115116…258
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden22. The groups of the gates of obligatory travel23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness24. The congregation of the gates of prayer on the rows25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr37. The gates of the prayer of fear38. Collections of the gates of an eclipse prayer39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals