Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1891

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ -وَهُوَ ابْنُ أَبِي هِنْدَ- عَنْ مُطَرِّفٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، فَدَعَا بِلَبَنٍ لقحة [لِيَسْقِيَهُ] (1) فَقُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "الصِّيَامُ جُنَّةٌ مِنَ النَّارِ، كَجُنَّةِ أَحَدِكُمْ مِنَ الْقِتَالِ"، قَالَ: "وَصِيَامٌ حَسَنٌ صِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ".

"جناب مطرف بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عثمان بن ابی العاص ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے مجھے پلانے کےلیے دودھ منگوایا تو میں نے عرض کی کہ میں روزے سے ہوں ۔ تو انہوں نے فرمایا:"بے شک میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : "روزہ جہنم سے اسی طرح ڈھال ہے جس طرح تم میں سے کسی شخص کی جنگی ڈھال ہوتی ہے ۔"اور فرمایا : بہترین روزے ہر مہینے تین دن کے روزے رکھنا ہے ۔"

وَصِيَامٌ حَسَنٌ صِيَامُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ.(3/193) ← «الصَّيَامُ جُنَّةٌ مِنَ النَّارِ كَجُنَّةِ أَحَدِكُمْ مِنَ الْقِتَالِ» ← إِنِّي ← دَخَلْتُ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، فَدَعَا بِلَبَنٍ لقحة فَقُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ ← مُطَرِّفٍ ← سَعِيدٌ وَهُوَ ابْنُ أَبِي هِنْدَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1891

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1892

حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلَانِيُّ (1)، نَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ سَيْفِ بْنِ أَبِي سَيْفٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ غُطَيْفٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "الصَّوْمُ جُنَّةٌ مَا لَمْ يَخْرِقْهُ".

"حضرت ابوعبیدہ بن جراح ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: "روزہ ڈھال ہے جب تک روزے دار اس میں کمی ونقص پیدا نہ کرے ۔"

"الصَّوْمُ جُنَّةٌ مَا لَمْ يَخْرِقْهُ". ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ ← عِيَاضِ بْنِ غُطَيْفٍ، ← الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← سَيْفِ بْنِ أَبِي سَيْفٍ، ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلَانِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1892

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1893

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، نَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا نَصْرٍ الْهِلَالِيَّ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ، قَالَ: "عَلَيْكَ بِالصَّوْمِ، فَإِنَّهُ لَا عِدْلَ لَهُ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ: هَذَا هُوَ الَّذِي قَالَ [فيه] شُعْبَةُ: هُوَ سَيِّدُ بَنِي تَمِيمٍ.

"حضرت ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ!مجھے کوئی عمل بتا دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "روزے رکھا کرو کیونکہ اس جیسا کوئی عمل نہیں ہے ۔ "امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں :"محمد بن ابی یعقوب ، یہ وہی راوی ہیں جن کے بارے میں امام شعبہ ؒ فرماتے ہیں : "وہ نبی تمیم کے سردار ہیں ۔ "

قُلْتُ ← اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، ← اَبَا نَصْرٍ الْھِلَالِیَّ ← مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1893

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1894

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، نَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ (1) عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ [198 - أ] مِنْ ذَنْبِهِ، وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".

"حضرت ابوہریرہؓ نبی کریمﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: "جس شخص نے رمضان کے روزے ایمان اور ثواب کی نیت سے رکھے اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جائیں گے اور جس شخص نے لیلۃ القدر کا قیام ایمان اور ثواب کی نیت سے کیا اس کے گزشتہ تمام گناہ بخش دئیے جاتے ہیں ۔"

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1894

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1895

ثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، ثَنَا أَبَانُ -يَعْنِي: ابْنَ يَزِيدَ الْعَطَّارَ (2) - عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي سَلَامٍ، عَنْ أَبِي سَلَامٍ، عَنِ الْحَارِثِ الْأَشْعَرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "إِنَّ اللَّهَ أَوْحَى إِلَى يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ أَنْ يَعْمَلَ بِهِنَّ، وَيَأْمُرَ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنْ يَعْمَلُوا بِهِنَّ، فَكَأَنَّهُ أَبْطَأَ بِهِنَّ، فَأَتَاهُ عِيسَى، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ أَمَرَكَ بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ أَنْ تَعْمَلَ بِهِنَّ، وَيَأْمُرُ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنْ يَعْمَلُوا بِهِنَّ. فَإِمَّا أَنْ تُخْبِرَهُمْ، وَإِمَّا أَنْ أُخْبِرَهُمْ. فَقَالَ: يَا أَخِي! لَا تَفْعَلْ، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ تَسْبِقَنِي بِهِنَّ أَنْ يُخْسَفَ بِي، أَوْ أُعَذَّبَ (3). قَالَ: فَجَمَعَ بَنِي إِسْرَائِيلَ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ حَتَّى امْتَلَأَ الْمَسْجِدَ، وَقَعَدُوا عَلَى الشُّرُفَاتِ، ثُمَّ خَطَبَهُمْ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ أَوْحَى إِلَيَّ بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ أَنْ أَعْمَلَ بِهِنَّ، وَآمُرَ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنْ يَعْمَلُوا بِهِنَّ. أَوَّلُهُنَّ: أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، فَإِنَّ مَثَلَ مَنْ أَشْرَكَ بِاللَّهِ كَمَثَلِ رَجُلٍ اشْتَرَى عَبْدًا مِنْ خَالِصِ مَالِهِ بِذَهَبٍ أَوْ وَرِقٍ ثُمَّ أَسْكَنَهُ دَارًا، فَقَالَ: اعْمَلْ وَارْفَعْ إِلَيَّ، فَجَعَلَ يَعْمَلُ وَيَرْفَعُ إِلَى غَيْرِ سَيِّدِهِ، فَأَيُّكُمْ يَرْضَى أَنْ يَكُونَ عَبْدُهُ كَذَلِكَ، فَإِنَّ اللَّهَ خَلْقَكُمْ وَرَزَقَكُمْ فَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا. وَإِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَلَا تَلْتَفِتُوا، فَإِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُ بِوَجْهِهِ إِلَى وَجْهِ عَبْدِهِ مَا لَمْ يَلْتَفِتْ. وَآمُرُكُمْ بِالصِّيَامِ، وَمَثَلُ ذَلِكَ كَمَثَلِ رَجُلٍ فِي عِصَابَةٍ مَعَهُ صُرَّةُ مِسْكٍ كُلُّهُمْ يُحِبُّ أَنْ يَجِدَ رِيحَهَا، وَإِنَّ الصِّيَامَ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ. وَآمُرُكُمْ بِالصَّدَقَةِ، وَمَثَلُ ذَلِكَ كَمَثَلِ رَجُلٍ أَسَرَهُ الْعَدُوُّ، فَأَوْثَقُوا يَدَهُ إِلَى عُنُقِهِ، وَقَرَّبُوهُ لِيَضْرِبُوا عُنُقَهُ، فَجَعَلَ يَقُولُ: هَلْ لَكُمْ أَنْ أَفْدِيَ نَفْسِيَ مِنْكُمْ، وَجَعَلَ يُعْطِي الْقَلِيلَ وَالْكَثِيرَ، حَتَّى فَدَى نَفْسَهُ. وَآمُرُكُمْ بِذِكْرِ اللَّهِ كَثِيرًا، وَمَثَلُ ذِكْرِ اللَّهِ كَمَثَلِ رَجُلٍ طَلَبَهُ الْعَدُوُّ سِرَاعًا فِي أَثَرِهِ حَتَّى أَتَى حِصْنًا حَصِينًا فَأَحْرَزَ نَفْسَهُ فِيهِ، وَكَذَلِكَ الْعَبْدُ لَا يَنْجُو مِنَ الشَّيْطَانِ إِلَّا بِذِكْرِ اللَّهِ". قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "وَأَنَا آمُرُكُمْ بِخَمْسٍ أَمَرَنِي اللَّهُ بِهِنَّ: الْجَمَاعَةُ، وَالسَّمْعُ وَالطَّاعَةُ، وَالْهِجْرَةُ، وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَمَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ قِيدَ شِبْرٍ؛ فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِيمَانِ وَالْإِسْلَامِ مِنْ رَأْسِهِ، إِلَّا أَنْ يُرَاجِعَ. وَمَنِ ادَّعَى دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ فَهُوَ مِنْ جُثَى جَهَنَّمَ". قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَإِنْ صَامَ وَصَلَّى؟ قَالَ: "وَإِنْ صَامَ وَصَلَّى. تَدَاعُوا بِدَعْوَى اللَّهِ الَّذِي سَمَّاكُمْ بِهَا الْمُؤْمِنِينَ الْمُسْلِمِينَ عِبَادَ اللَّهِ".

"حضرت حارث اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:"اللہ تعالیٰ نے یحییٰ ؑ کی طرف پانچ کلمات پر عمل کرنے کی وحی کی اور نبی اسرائیل کو بھی ان پر عمل کرنے کے حکم دینے کی وحی کی ۔ پھر گویا انہوں نے اس کام میں تاخیر کر دی تو عیسیٰ ؑ ان کے پاس آئے اور کہا: بیشک اللہ تعالیٰ نے آپ کو پانچ کلمات کا حکم دیا ہے کہ آپ ان پر عمل کریں اور بنی اسرائیل کو بھی ان پر عمل کرنے کا حکم دیں ۔ لہٰذا یا تو آپ انہیں خبر دیں یا پھر میں انہیں خبر دیتا ہوں ۔ تو حضرت یحییٰ ؑ نے فرمایا: اے میرے بھائی ! ایسا نہ کرنا کیونکہ میں ڈرتا ہوں کہ اگر تم نے مجھ سے پہلے یہ کلمات نہیں بتائے تومجھے زمین میں دھنسا دیا جائے گا یا عذاب دیا جائے گا ۔ لہٰذا انہوں نے بنی اسرائیل کو بیت المقدس میں جمع کیا حتی کہ مسجد بھر گئی اور لوگ برآمدوں اور بالکونیوں میں بیٹھ گئے ، پھر انہیں خطبہ ارشاد فرمایا تو کہا: " بے شک اللہ تعالیٰ نے میری طرف پانچ باتوں کی وحی کی ہے ، کہ میں ان پر عمل کروں اور بنی اسرائیل کو بھی ان پر عمل کرنے کا حکم دوں ۔ ان میں سے پہلی بات یہ ہے کہ تم اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بنانا کیونکہ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والے شخص کی مثال اس شخص جیسی ہے جس نے اپنے خالص مال سونے یا چاندی کے ساتھ ایک غلام خریدار پھر اسے گھر میں بساتا ہے اور کہتا ہے : کام کرو اور اس کی اجرت مجھے دو ۔ تو وہ کام کرتا ہے اور اس کی اجرت اپنے آقا کے علاوہ کسی اور شخص کو دے دیتا ہے ۔ تو تم میں سے کون ہے جو یہ بات پسند کرے کہ اس کا غلام ایسا ہو ۔ پس اللہ تعالیٰ تمہیں پیدا کیا ہے اور تمہیں رزق عطا کیا ہے تو تم ا س کے ساتھ کسی کو شریک مت بناؤ۔ اور جب تم نماز کےلیے کھڑے ہو تو ادھر ادھر مت جھانکو ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے چہرہ اقدس کے ساتھ اپنے بندے کے چہرے کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جب تک وہ دوسری طرف متوجہ نہیں ہوتا ۔ اور میں تمہیں روزہ رکھنے کا حکم دیتا ہوں ۔ اور اس کی مثال اس شخص جیسی ہے جو ایک جماعت کے ساتھ ہے اور اس کے پاس کستوری کی ایک تھی ل ہے ۔ ان میں سے ہر شخص پسند کرتا ہے کہ وہ کستوری کی خوشبو سونگھ لے ۔ اور بے شک روزہ اللہ کے نزدیک کستوری کی مہک سے زیادہ پاکیزہ ہے ۔ اور میں تمہیں صدقہ کرنے کا حکم دیتا ہوں ۔ اور اس کی مثال اس شخص کی ہے جسے دشمن نے قیدی بنا لیا ہو اور اس کے ہاتھ اس کی گردن اڑانے کےلیے اسے قریب کر لیا ہو ، تو اس نے کہنا شروع کر دیا ۔ کیا میں تمہیں اپنی جان کا فدیہ دے کر آزادی حاصل کر لوں۔ لہٰذا وہ ہر چھوٹی بڑی چیز انہیں دینا شروع کر دیتا ہے ۔ حتی کہ وہ فدیہ دے کر آزادی حاصل کر لیتا ہے ۔ اور میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا ذکر بکثرت کرنے کا حکم دیتا ہوں ، اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کی مثال اس شخص جیسی ہے جس کے پیچھے تیز رفتار دشمن لگا ہو۔ حتی کہ وہ ایک مضبوط قلعہ میں آکر پناہ حاصل کرلیتا ہے ۔ اسی طر ح بندہ صرف اللہ کے ذکر کے ساتھ شیطان سے پناہ حاصل کر سکتا ہے ۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا:"اور میں بھی تمہیں پانچ چیزوں کا حکم دیتا ہوں جن کا اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے ۔ (۱) جماعت کے ساتھ وابستہ رہنا ۔(۲) امیر وحکمران کی بات سننا(۳) اور اطاعت کرنا ۔ ( ۴) ہجرت کرنا (۵) اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اور جس شخص نے ایک بالشت کے برابر جماعت سے علیحدگی اختیار کی تو اس نے ایمان واسلام کا پٹہ (عہد وپیمان ) اپنے سر سے اتار دیا الایہ کہ واپس لوٹ آئے اور جو شخص جاہلیت کے بول بولے تو وہ جہنمی ہے ۔ آپ سے عرض کی گئی : "اگرچہ وہ روزے رکھے اور نماز پڑھے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا:اگرچہ وہ روزے رکھتا ہو اور نماز پڑھتا ہو۔ تم اللہ کی پکار کے ساتھ پکارو جس اللہ نے تمہیں اپنی پکار کے ساتھ مومنین مسلمین اور عباد اللہ کا نام دیا ہے ۔"

الْحَارِثُ الْأَشْعَرِيُّ؛ ← أَبِي سَلَّامٍ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي سَلَامٍ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبَانُ -يَعْنِي: ابْنَ يَزِيدَ الْعَطَّارَ ← أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، ← أَبُو مُوسَی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1895

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1896

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ تَسْنِيمٍ، نَا مُحَمَّدٌ -يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيَّ- أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الزَّيَّاتِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -يَعْنِي-: "قَالَ اللَّهُ: كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلَّا الصِّيَامَ فَهُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، الصِّيَامُ عَنْهُ جُنَّةٌ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ، لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ: إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ بِفِطْرِهِ، وَإِذَا لَقِيَ رَبَّهُ فَرِحَ بِصَوْمِهِ".

"جناب ابوصالح زیات سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہؓ کو فرماتے ہوئے سنا:"رسو ل اللہﷺ نے فرمایا: یعنی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے سوائے روزے کے ۔ وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ روزہ اس کےلیے ڈھال ہے ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ! روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک قیامت والے دن کستوری کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہوگی ۔ روزے دار کو دو خوشیاں ملتی ہیں۔(۱)جب روزہ افطار کرتا ہے تو افطار ی سے خوش ہوتا ہے اور (۲) جب اپنے رب سے ملاقات کرے گا تو اپنے روزے کی وجہ سے خوش ہوگا ۔"

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبِي صَالِحٍ الزَّيَّاتِ أَنَّهُ ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مُحَمَّدٌ -يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ- ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ تَسْنِيمٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1896

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2685

ح وَفِي خَبَرِ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "فَإِنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسِ الْخُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا حَتَّى [268 - ب] يَكُونَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ". ثَنَاهُ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنِ الْعَلَاءِ وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَا: ثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ.

۔۔حضرت ابن عمر نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : "پس اگر محرم کو جوتے نہ ملیں تو وہ موزے پہن لے ۔وہ موزوں کو کاٹ لے حتی کہ وہ ٹخنو ں سے نیچے ہو جائیں ۔"

أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← لْيَقْطَعْهُمَا حَتَّى يَكُونَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ". ثَنَاهُ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنِ الْعَلَاءِ ← ابْنِ عُمَرَ ← وَفِي خَبَرِ سَالِمٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2685

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2686

ثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَزَرِيُّ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ، ثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، قَالَ: قَالَ مُحَمَّدٌ -يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ- حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَالِمٍ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، قَدْ كَانَ صَنَعَ ذَلِكَ -يَعْنِي قَطْعَ الْخُفَّيْنِ لِلنِّسَاءِ- حَتَّى حَدَّثَتْهُ صَفِيَّةُ بِنْتُ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ رَخَّصَ لِلنِّسَاءِ فِي الْخُفَّيْنِ.

۔۔حضرت سالم ؒ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ (اپنی محرمہ ) عورتو ں کے موزے (ٹخنوں سے نیچے ) کاٹ دیتے تھے حتی کہ حضرت صفیہ بنت ابو عبید نے انہیں حضرت عائشہ ؓ سے حدیث سنائی کہ رسول اللہ ﷺ نے عورتوں کےلیے موزے پہنے کی رخصت دی ہے ۔(تو انہوں نے موزے کاٹنے چھوڑ دیے )

سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَزَرِيُّ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2686

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2687

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ محمد النُّفَيْلِيِّ، ثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَقَالَ: أَمَرَ -يَعْنِي النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِقُبَّةٍ لَهُ مِنْ شَعْرٍ فَضُرِبَتْ لَهُ بِخمرةٍ، فَسَارَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى أَتَى عَرَفَةَ فَوَجَدَ الْقُبَّةَ قَدْ ضُرِبَتْ لَهُ بِنَمِرَةٍ فَنَزَلَ بِهَا.

جناب محمد بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت جابر بن عبداللہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔پھر مکمل حدیث بیان کی ۔اور فرمایا:نبی کریمﷺ نے اپنے لیے بالوں کا بنا ہوا ایک خیمہ لگانے کاحکم دیا تو وہ نمرہ وادی میں لگادیا گیا۔پھر رسول اللہ ﷺ چلتے رہے حتی کہ عرفات پہنچ گئے ۔آپ نے دیکھا کہ وادی نمرہ میں آپ کےلیے خیمہ لگادیاگیا ہے تو آپ اس میں تشریف فرما ہو گئے ۔

الحديث بطوله ← دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2687

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2688

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ [بْنُ جَعْفَرٍ] الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ -يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ- عَنْ زَيْدٍ -وَهُوَ ابْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ- عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحُصَيْنِ الْأَحْمَسِيِّ، عَنْ أُمِّ الْحُصَيْنِ أن جَدَّتِهِ قَالَتْ: حَجَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَجَّةَ الْوَدَاعِ فَرَأَيْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ وَبِلَالًا، يَقُودُ أَحَدُهُمَا بِخِطَامِ رَاحِلَتِهِ وَالْآخَرُ رَافِعًا ثَوْبَهُ يَسْتُرُهُ مِنَ الْحَرِّ حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ (1).

۔۔حضرت ام الحصین ؓ بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج وداع کیا تو میں نے حضرت اسامہ اور بلال ؓ کو دیکھا ۔ان دونوں میں سے ایک رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی کی مہار پکڑے ہوئے تھا اور اسے ہانک رہا تھا جب کہ دوسرا آپ کو گرمی کی تپش سے بچانے کےلیے آپ پر کپڑے سے سایہ کیے ہواتھا حتی کہ آپ نے جمرہ عقبہ کوکنکریاں مار لیں ۔

أُمِّ الْحُصَيْنِ أن جَدَّتِهِ ← يَحْيَى بْنِ الْحُصَيْنِ الْأَحْمَسِيِّ، ← زَيْدٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي أَنِيسَةَ ← عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو الرَّقِّيَّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2688

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2689

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: كُنَّا نَلْبَسُ مِنَ الثِّيَابِ إِذَا أَهْلَلْنَا مَا لَمْ نُهِلَّ فِيهِ، وَنَلْبَسُ الْمُمَشَّقَ إِنَّمَا هُوَ طِينٌ. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ: كُنَّا نَلْبَسُ إِذَا أَهْلَلْنَا مَا لَمْ يَمَسَّهُ طِيبٌ وَلَا زَعْفَرَانٌ، وَنَلْبَسُ الْمُمَشَّقَ إِنَّمَا هُوَ مُطَيَّنٌ.

حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم جب احرام باندھتے تو پھر ایسے کپڑے (بدل بدل کر )پہنتے رہتے تھے جن میں ہم نے احرام نہیں باندھا ہوتا تھا(ابتدائے احرام میں وہ نہیں پہنے تھے )اور ہم گیرو سے رنگے ہوئے رنگین کپڑے بھی پہن لیتے تھے ۔امام صاحب اپنے استاد محمد بن معمر کی سند سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں ۔جب احرام باندھتے تو ایسے کپڑے پہنتے جنہیں خوشبو اور زعفران نہیں لگا ہوتا تھا ۔اور ہم گیر و سے رنگے ہوئے کپڑے پہن لیتے تھے ۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2689

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2690

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ قَالَتْ: كُنَّا نُغَطِّي وُجُوهَنَا مِنَ الرِّجَالِ وَكُنَّا نَمْتَشِطُ قَبْلَ ذَلِكَ.

۔۔حضرت اسماء ؓ بیان کرتی ہیں کہ ہم (حالت احرام میں اپنے چہرے اجنبی مردوں سے ڈھانپ لیتی تھیں اور اس سے پہلے کنگھی کر لیا کرتی تھیں

كُنَّا نُغَطِّي وُجُوهَنَا مِنَ الرِّجَالِ وَكُنَّا نَمْتَشِطُ قَبْلَ ذَلِكَ. ← أَسْمَاءَ ← فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ حُمَيْدٍ، ← زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2690

chevron_left Previous
1…116117118…258
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals