صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2626
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثَنَا جَعْفَرٌ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَقَالَ: فَخَرَجَ حَتَّى إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ عَلَى الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ بِالتَّوْحِيدِ: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، [لَبَّيْكَ] لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ. قَالَ: وَأَمَّا النَّاسُ يَزِيدُونَ "ذَا الْمَعَارِجِ" وَنَحْوِهِ، وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْمَعُ لَا يَقُولُ شَيْئًا.
جناب جعفر اپنے والد محرم سے بیان کرتے ہیں ،وہ فرماتے ہیں :ہم حضرت جابر بن عبداللہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ہم نے انہیں رسول اللہ ﷺ کے حج کے بارے میں سوال کیا ۔تو انہوں نے فرمایا :آپ (سفر حج ) کےلیے نکلے حتی کہ آپ کی سواری آ پ کو لے کر بیداء مقام پرسیدھی ہوئی توآپ نے بلند آواز سے یہ کلمات توحید پکارے ((لَبَّیْکَ اللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ، إنَّ الْحَمْدَ وَ النِّعْمَتَہ لَک وَالْمُلْکَ ، لَا شَرِیْکَ لَکَ) ": اے اللہ ! میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں ، میں تیری عبادت پر قائم ہوں ۔میں تیری فرمانبرداری کےلیے حاضر ہوں ، تیرا کوئی شریک نہیں ،اے اللہ ! میں حاضر ہوں ۔بلاشبہ ساری تعریفیں تیر ے ہی لائق ہیں اور تمام نعمتیں تیر ی ہی ملکیت ہیں ۔ اور بادشاہی بھی تیری ہی ہے ۔تیرا کوئی شریک نہیں ہے"جب کہ صحابہ کرام "ذاالمعارج "(اے سڑھیوں والے ) کے الفاظ بڑھا دیتے تھےاور نبی کریم ﷺ یہ الفاظ سننے کے باوجود انہیں کچھ نہیں کہتے تھے ۔
حَجَّةِ النَّبِيِّ ← أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَسَأَلْنَاهُ ← أَبِي ← جَعْفَرٌ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ
Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2626
