Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2626

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثَنَا جَعْفَرٌ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَقَالَ: فَخَرَجَ حَتَّى إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ عَلَى الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ بِالتَّوْحِيدِ: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، [لَبَّيْكَ] لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ. قَالَ: وَأَمَّا النَّاسُ يَزِيدُونَ "ذَا الْمَعَارِجِ" وَنَحْوِهِ، وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْمَعُ لَا يَقُولُ شَيْئًا.

جناب جعفر اپنے والد محرم سے بیان کرتے ہیں ،وہ فرماتے ہیں :ہم حضرت جابر بن عبداللہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ہم نے انہیں رسول اللہ ﷺ کے حج کے بارے میں سوال کیا ۔تو انہوں نے فرمایا :آپ (سفر حج ) کےلیے نکلے حتی کہ آپ کی سواری آ پ کو لے کر بیداء مقام پرسیدھی ہوئی توآپ نے بلند آواز سے یہ کلمات توحید پکارے ((لَبَّیْکَ اللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ، إنَّ الْحَمْدَ وَ النِّعْمَتَہ لَک وَالْمُلْکَ ، لَا شَرِیْکَ لَکَ) ": اے اللہ ! میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں ، میں تیری عبادت پر قائم ہوں ۔میں تیری فرمانبرداری کےلیے حاضر ہوں ، تیرا کوئی شریک نہیں ،اے اللہ ! میں حاضر ہوں ۔بلاشبہ ساری تعریفیں تیر ے ہی لائق ہیں اور تمام نعمتیں تیر ی ہی ملکیت ہیں ۔ اور بادشاہی بھی تیری ہی ہے ۔تیرا کوئی شریک نہیں ہے"جب کہ صحابہ کرام "ذاالمعارج "(اے سڑھیوں والے ) کے الفاظ بڑھا دیتے تھےاور نبی کریم ﷺ یہ الفاظ سننے کے باوجود انہیں کچھ نہیں کہتے تھے ۔

حَجَّةِ النَّبِيِّ ← أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَسَأَلْنَاهُ ← أَبِي ← جَعْفَرٌ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2626

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2627

ثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَا: ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ: عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "أَتَانِي جِبْرِيلُ، فَقَالَ: مُرْ أَصْحَابَكَ أَنْ يَرْفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالتَّلْبِيَةِ". وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ: "بِالْإِهْلَالِ وَالتَّلْبِيَةِ".

۔۔حضرت سائب ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آ پ نے فرمایا : "میرے پاس جبرائیل آتے تو انہوں نے فرمایا:اپنے ساتھیو ں کو حکم دیں کہ وہ بلند آواز سے تلبیہ پکاریں ۔"جناب احمد بن منیع کی روایت میں "بالا ھلال والتلبیتہ"کے الفاظ ہیں

أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ: "بِالْإِهْلَالِ وَالتَّلْبِيَةِ". ← مُرْ أَصْحَابَكَ أَنْ يَرْفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالتَّلْبِيَةِ". ← أَتَانِي جِبْرِيلُ ← النَّبِيِّ ← أَبِيهِ ← خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ ← عبد الملك بن أبي بكر بن الحارث بن هشام ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2627

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2628

ثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ، عَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "جَاءَنِي جِبْرِيلُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ! مُرْ أَصْحَابَكَ فَلْيَرْفَعُوا صِيَاحَهُمْ بِالتَّلْبِيَةِ فَإِنَّهَا شِعَارُ الْحَجِّ".

حضرت زید بن خالد جہنی ؓؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : "جبرائیل ؑتشریف لائے تو فرمایا : اے محمد ﷺ !اپنے ساتھیوں کو حکم دیں کہ وہ بآواز بلند تلبیہ پکاریں کیونکہ یہ شعار حج ہے ۔"

زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ← خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ ← الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ حَنْطَبِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ، ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2628

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2629

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، ثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنِي الْمُطَّلِبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ، عَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ زيد بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "أَتَانِي جِبْرِيلُ، فَقَالَ لِي: أَشْعِرْ بِالتَّلْبِيَةِ فَإِنَّهَا شِعَارُ الْحَجِّ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذِهِ اللَّفْظَةُ: فَإِنَّهَا شِعَارُ الْحَجِّ، مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي كُنْتُ أَعْلَمْتُ أَنَّ الْعَرَبَ قَدْ تَقُولُ: إِنَّ أَفْضَلَ الْعَمَلِ كَذَا وَإِنَّمَا تُرِيدُ: مِنْ أَفْضَلِ، وَخَيْرُ الْعَمَلِ كَذَا، وَإِنَّمَا تُرِيدُ مِنْ خَيْرِ الْعَمَلِ. وَالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، إِنَّمَا أَرَادَ بِقَوْلِهِ: فَإِنَّهَا شِعَارُ الْحَجِّ أَيْ مِنْ شِعَارِ الْحَجِّ.

حضرت زید بن خالد جہنی ؓبیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :"میرے پاس جبرائیل ؑ آئے تو انہوں نے کہا :تلبیہ کو شعار بنائیں کیونکہ تلبیہ حج کا شعا ر ہے ۔"امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں :یہ الفاظ " تلبیہ حج کا شعار ہے ۔"یہ اسی قسم سے تعلق رکھتا ہے جس کے بارے میں میں بیا ن کر چکا ہوں کہ عرب لوگ یہ کہتے ہیں : "یہ افضل ترین حج ہے ۔"اور ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ یہ عمل افضل ترین اعمال میں سے ایک ہے ۔کبھی عرب کہتے ہیں : بہترین عمل اس طرح ہے "اور ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ یہ عمل بہترین اعمال میں سے ایک بہترین عمل ہے ۔اسی طرح نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان :"تلبیہ شعار حج ہے " سے آپ کی مراد یہ ہےکہ تلبیہ شعار حج میں سے ایک شعار ہے

زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ← خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ ← الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ حَنْطَبِ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2629

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2630

ثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ (1) وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي لَبِيدٍ أَخْبَرَاهُ، عَنْ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "أَمَرَنِي جِبْرِيلُ بِرَفْعِ الصَّوْتِ بِالْإِهْلَالِ فَإِنَّهُ مِنْ شِعَارِ الْحَجِّ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَرَّجْتُ طُرُقَ هَذَا الْخَبَرِ فِي "كِتَابِ الْكَبِيرِ".

حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : "جبرائیل ؑ نے مجھے بلند آواز سے تلبیہ پکارنے کا حکم دیا کیونکہ یہ حج کے شعار میں سے ہے ۔"امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں :میں نے اس حدیث کے طرق کتاب الکبیر میں بیان کردیے ہیں ۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي لَبِيدٍ أَخْبَرَاهُ، ← أُسَامَةُ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2630

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2631

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَرْبُوعٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "الْعَجُّ وَالثَّجُّ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: الْعَجُّ رَفْعُ الصَّوْتِ بِالتَّلْبِيَةِ، وَالثَّجُّ نَحْرُ الْبُدْنِ لِيَثُجَّ الدَّمُ مِنَ الْمَنْحَرِ.

حضر ت ابوبکر صدیق ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا : کون سا عمل افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا : "بلند آواز سے تلبیہ پکارنااور قربانی کرنا "امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : "العج " سے مراد بلند آوازسے تلبیہ پکارنا ہے اور الثج سے مراد اونٹ ذبح کرنا،اور اس کا خون بہانا ہے ۔

أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ: ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَرْبُوعٍ، ← ابْنَ الْمُنْكَدِرِ، ← الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2631

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2632

ثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ الْكِنْدِيُّ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْد، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، قَالَ: ثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ: انْطَلَقْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَلَمَّا أَتَيْنَا وَادِيَ الْأَزْرَقِ، قَالَ: "أَيُّ وَادٍ هَذَا؟ " قُلْنَا: وَادِي الْأَزْرَقِ. قَالَ: "كَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى مُوسَى"، فَنَعَتَ مِنْ طُولِهِ وَشَعْرِهِ وَلَوْنِهِ، وَاضِعًا أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ لَهُ جواز إِلَى اللَّهِ بِالتَّلْبِيَةِ مَارًّا بِهَذَا الْوَادِي، ثُمَّ نَفَرْنَا حَتَّى أَتَيْنَا؛ قَالَ دَاوُدُ: أَظُنُّهُ ثَنِيَّةَ هَرْشَى. فَقَالَ: "أَيُّ ثَنِيَّةٍ هَذِهِ؟ " فَقُلْنَا: ثَنِيَّةُ هَرْشَى. قَالَ: "كَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى يُونُسَ عَلَى نَاقَةٍ حَمْرَاءَ خِطَامُ النَّاقَةِ خَلِيَّةٌ، عَلَيْهِ جُبَّةٌ لَهُ مِنْ صُوفٍ بِهَذِهِ الثَّنِيَّةِ مُلَبِّيًا".

حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مکہ مکر مہ سے مدینہ منورہ کی طرف چلے ۔پھر جب ہم وادی ازرق میں پہنچے تو آ پ نے فرمایا : "یہ کون سی وادی ہے ؟"ہم نے عر ض کی :یہ وادی ازرق ہے ۔آپ نے فرمایا: "گویاکہ میں موسیٰ ؑ کو دیکھ رہا ہوں "پھر آپ نے موسی ؑکے طویل قدوقامت ،ان کے بالوں اور رنگت کی صفت بیان کی ،موسیٰ ؑ اپنی انگلیاں کانوں میں ڈال کر بلند آواز سے تلبیہ پکارتے ہوئے اس وادی سے گزررہے ہیں ۔ پھر ہم چلتے رہے حتی کہ ہم ثنیہ ہرشی کے پاس آگئے توآپ نے دریافت کیا : "یہ کونسی گھاٹی ہے؟"ہم نے عرض کیا یہ ہرشی گھاٹی ہے ۔آپ نے فرمایا : "گویا کہ میں یونس ؑ کو دیکھ رہا ہوں ۔وہ سرخ رنگ کی اونٹنی پر سوار ہیں جس کی لگام کھجور کی چھال کی رسی ہے ۔حضرت یونس ؑ نے اونی جبہ پہنا ہوا ہے اور وہ تلبیہ پکارتے ہوئے اس گھاٹی سے گزررہے ہیں ۔"

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي الْعَالِيَةِ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ الْكِنْدِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2632

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2633

ثَنَا أَبُو مُوسَى، ثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، فَمَرَرْنَا بِوَادِي، فَقَالَ: "أَيُّ وَادٍ هَذَا؟ " فَقَالُوا: وَادِي الْأَزْرَقِ، قَالَ: "كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مُوسَى" -فَذَكَرَ مِنْ لَوْنِهِ وَشَعَرِهِ شَيْئًا لَمْ يَحْفَظْهُ دَاوُدُ- "وَاضِعًا أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ لَهُ جواز إِلَى اللَّهِ بِالتَّلْبِيَةِ، مَارًّا بِهَذَا الْوَادِي"، قَالَ: ثُمَّ سِرْنَا حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى ثَنِيَّةٍ، قَالَ: "أَيُّ ثَنِيَّةٍ هَذِهِ؟ " فَقَالُوا: هَرْشَى أَوْ كَذَا (1). فَقَالَ: "كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى يُونُسَ عَلَى نَاقَةٍ حَمْرَاءَ عَلَيْهِ جُبَّةٌ صُوفٌ خِطَامُ نَاقَتِهِ خَلِيَّةٌ مَارًّا بِهَذَا الْوَادِي مُلَبِّيًا".

حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان سفر کیا۔ ہم ایک وادی سے گزرے تو آپ نے فرمایا : "یہ کونسی وادی ہے ؟ہم نے عرض کی :یہ وادی ارزق ہے ۔آپ نے فرمایا : "گویا کہ میں موسیٰ ؑکو دیکھ رہا ہوں "پھر آپ نےان کے بالوں اور رنگت کے بارے میں کچھ بتایا ، وادی راوی کو وہ یاد نہیں ہے ۔ حضرت موسی ٰ ؑ اپنی انگلیاں اپنے کانوںمیں ڈال کر بلند آواز سے تلبیہ پکارتے ہوئے اس وادی سے گزررہے ہیں ۔ "حضرت ابن عباس فرماتے ہیں : پھر ہم چلتے رہے حتی کہ ہم ایک گھاٹی پر آگئے ۔آپ نے دریافت کیا "یہ کونسی گھاٹی ہے؟"صحابہ کرام نے عرض کیا: "ھَرْشٰی یا لَفَتَ"گھاٹی ہے آپ نے فرمایا : "گویا کہ میں یونس ؑ کو دیکھ رہا ہوں ۔وہ سرخ رنگ کی اونٹنی پر سوار ہیں اور اونی جبہ پہنے ہوئے ہیں ۔ان کی اونٹنی کی مہار کھجور کی چھال کی رسی ہے،وہ تلبیہ پڑھتے ہوئے اس وادی سے گزررہے ہیں ۔"

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي الْعَالِيَةِ ← دَاوُدُ، ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← أَبُو مُوسَى،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2633

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2634

أَخْبَرَنَا الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّابُونِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ -يَعْنِي ابْنَ حُمَيْدٍ- حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَا مِنْ مُلَبِّي يُلَبِّي إِلَّا لَبَّى مَا عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ مِنْ شَجَرٍ وَحَجَرٍ حَتَّى تَنْقَطِعَ الْأَرْضُ هَاهُنَا، وَهَاهُنَا" -يَعْنِي عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ-.

حضرت سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : " جب کوئی تلبیہ کہنے والا تلبیہ کہتا ہے تو اس کے دائیں اور بائیں جانب زمین کے آخری کناروں تک موجود ہر درخت اور پتھر بھی تلبیہ کہتے ہیں ۔"

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِي حَازِمٍ ← عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ← عُبَيْدَةُ -يَعْنِي ابْنَ حُمَيْدٍ- ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّابُونِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2634

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2635

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ؛ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ؛ ح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ: أَنَّهُمْ كَانُوا فِي سَفَرٍ وَفِيهِمْ مَنْ قَدْ أَحْرَمَ. قَالَ: فَرَكِبَ أَبُو قَتَادَةَ فَرَسَهُ فَأَتَى حِمَارَ وَحْشٍ، فَأَصَابَهُ، فَأَكَلُوا مِنْ لَحْمِهِ، ثُمَّ كَأَنَّهُمْ هَابُوا ذَلِكَ، فَسَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَقَالَ: "اشْتَرَكْتُمْ أَوْ أَشَرْتُمْ؟ " قَالُوا: لَا. قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "فَكُلُوهُ". وَفِي خَبَرِ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ قَالَ: "أَشَرْتُمْ أَوْ أَعَنْتُمْ". وَفِي خَبَرِ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ بِمِثْلِهِ، وَقَالَ: "أَشَرْتُمْ، أَوْ صِدْتُمْ، أَوْ أَعَنْتُمْ". قَالُوا: لَا. قَالَ: "فَكُلُوهُ".

حضرت عبد اللہ بن ابی قتادہ اپنے والد گرامی حضرت ابو قتادہ ؓ سے بیان کرتے ہیں کہ وہ ایک سفر میں تھے ،ان کے کچھ ساتھی محرم تھے ۔حضرت ابو قتادہ ؓ نےشکا ر دیکھا تو اپنے گھوڑے پر سوارہو کر جنگلی گدھے کا پیچھا کیا اور اسے شکار کر لیا پھر لوگوں نے اس کا گوشت کھایا ۔پھر وہ (حالت احرام میں شکارکا گوشت کھانے پر ) گویا کہ ڈرنے لگے ۔تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا : "کیا تم نے شکار کرنے میں شرکت کی ہے ،یاتم انے اس شکا ر کی طرف اشارہ ( کر کے حضرت ابو قتادہ کو متوجہ ) کیا تھا ؟ انہوں نے عر ض کی : جی نہیں نبی کریم ﷺ نے حکم دیا کہ "تم اسے کھا لو ۔"جناب ابن عدی کی روایت میں ہے : کیا تم نے اشار ہ یا مدد کی تھی ؟ ""کیا تم نے اشارہ کیا تھا یا شکا ر کیا تھا یا تم انے شکار کرنے میں مدد کی تھی ؟ صحابہ کرام نے عر ض کیا : جی نہیں تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا :تم اسے کھا لو۔"

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، ← شُعْبَةُ، ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← شُعْبَةُ، ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَزِيعٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو عَامِرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2635

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ أَبوَابُ الصَّلَاۃِ قَبلَ الجُمُعَۃِ · حديث 1842

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو خَلْدَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَنَادَاهُ يَزِيدُ الضَّبِّيُّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي زَمَنِ الْحَجَّاجِ، فَقَالَ: يَا أَبَا حَمْزَةَ! قَدْ شَهِدْتَ الصَّلَاةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَشَهِدْتَ الصَّلَاةَ مَعَنَا، فَكَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي؟ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا اشْتَدَّ الْبَرْدُ بَكَّرَ بِالصَّلَاةِ، وَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ أَبْرَدَ بِالصَّلَاةِ.

"جناب ابوخلد ہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت انس ؓ کو سنا جبکہ حجاج بن یوسف کے زمانہ اقتدار میں جمعہ کے دن جناب یزید الضبی نے انہیں پکارا تو کہا: اے ابو حمزہ! آپ نے رسول اللہﷺ کے ساتھ بھی نماز یں پڑھی ہیں اور ہمارے ساتھ بھی نماز جمعہ اد اکی ہے ۔ تو آپ بتائیں کہ رسول اللہﷺ نما ز کیسے ادا کرتے تھے ؟"انہوں نے فرمایا: رسول اللہﷺ جب سردی شدید ہوتی تو نماز جلدی ادا کر لیتے اور جب گرمی شدید ہوتی تو نماز کو ٹھنڈا کر لیتے ۔"

نَادَاهُ يَزِيدُ الضَّبِّيُّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي زَمَنِ الْحَجَّاجِ، ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبُو خَلْدَةَ ← حَرَمِيّ بن عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ ← إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The gates of prayer before Friday · Hadith 1842

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ أَبوَابُ الصَّلَاۃِ قَبلَ الجُمُعَۃِ · حديث 1843

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ كَاتِبِ عَلِيٍّ قَالَ: كَانَ مَرْوَانُ يَسْتَخْلِفُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَلَى الْمَدِينَةِ فَصَلَّى بِهِمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَرَأَ بِـ (الْجُمُعَةِ)، وَ (إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ). فَقُلْتُ: أَبَا هُرَيْرَةَ! لَقَدْ قَرَأْتَ بِنَا قِرَاءَةً قَرَأَهَا بِنَا عَلِيٌّ بِالْكُوفَةِ. فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: سَمِعْتُ حِبِّي أَبَا الْقَاسِمِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ بِهِمَا.

"حضرت علی ؓ کے کاتب جناب عبید اللہ بن ابی رافع بیان کرتے ہیں کہ مروان حضرت ابوہریرہؓ کو مدینہ منورہ پر اپنا قائم مقام بناتا تھا ۔ تو انہوں نے اہل مدینہ کو جمعہ کے دن نماز پڑھائی تو سورہ ٔ جمعہ اور سورۂ(إِذَا جَآءَکَ الْمُنَا فِقُوْنَ)کی قراءت سنائی ہے جو حضرت علی ؓ ہمیں کوفہ میں سناتے تھے ۔ تو حضرت ابوہریرہؓ نے فرمایا: "میں نے اپنے محبوب ابوالقاسم ﷺ کو یہ دونوں سورتیں پڑھتے ہوئے سنا ہے ۔"امام ابوبکر ؒ اپنے استاد یحییٰ بن حکیم کی سند سے جناب جعفر سے بیان کرتے ہیں کہ دوسری رکعت میں سورۂ (إِذَا جَآءَکَ الْمُنَافِقُوْنَ) کی قراءت کی تھی ۔"

عُبَيْدَ الله بْنَ أبِي رَافِعٍ كَاتِبُ عَلِيٍّ، ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← یَحْیَی بْنُ حَکِیمٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The gates of prayer before Friday · Hadith 1843

chevron_left Previous
1…107108109…258
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden22. The groups of the gates of obligatory travel23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness24. The congregation of the gates of prayer on the rows25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr37. The gates of the prayer of fear38. Collections of the gates of an eclipse prayer39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals