Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ أَبوَابُ الصَّلَاۃِ قَبلَ الجُمُعَۃِ · حديث 1844

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، نَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ جَعْفَرٍ: [فِي] الثَّانِيَةِ (إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ).

"امام ابوبکرؒ اپنے استاد یحییٰ بن حکیم کی سند سے جناب جعفر سے بیان کرتے ہیں کہ دوسری رکعت میں سورۂ (إِذَا جَآکَ الْمُنَافِقُوْنَ)کی قراءت کی تھی"

جَعْفَرٍ: [فِي] الثَّانِيَةِ (إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ). ← عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ← یَحْیَی بْنُ حَکِیمٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The gates of prayer before Friday · Hadith 1844

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ أَبوَابُ الصَّلَاۃِ قَبلَ الجُمُعَۃِ · حديث 1845

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَا: ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كَتَبَ الضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ إِلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ يَسْأَلُهُ مَا كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ مَعَ سُورَةِ الْجُمُعَةِ؟ فَكَتَبَ إِلَيْهِ: أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ بِـ (هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ). وَقَالَ الْمَخْزُومِيُّ فِي حَدِيثِهِ: يَسْأَلُهُ مَا كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْجُمُعَةِ؟ فَكَتَبَ إِلَيْهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقْرَأُ (سُورَةَ الْجُمُعَةِ)، وَ (هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ). [193 - ب].

"جناب عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود بیان کرتےہیں کہ ضحاک بن قیس نے حضرت نعمان بن بشیر ؓ کو یہ سوال لکھ کر بھیجا کہ نبی اکرمﷺ جمعہ کے دن ( نماز جمعہ میں) سورۂ جمعہ کے ساتھ کونسی سورت پڑھا کرتے تھے ۔ تو انہوں نے جواب میں لکھا کہ آپ سورۂ (ھَلْ أَتَاکَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَۃِ)پڑھا کر تے تھے ۔" جناب مخزومی کی روایت میں ہے کہ انہوں نے حضرت نعمان ؓ سے یہ سوال پوچھا تھا کہ نبی کریمﷺ نماز جمعہ میں کونسی سورتیں پڑھتے تھے ۔ تو انہوں نے جوب لکھا کہ رسول اللہﷺ سورۂ جمعہ اور سورۂ (ھَلْ أَتَاکَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَۃِ)پڑھا کرتے تھے ۔"

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The gates of prayer before Friday · Hadith 1845

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ أَبوَابُ الصَّلَاۃِ قَبلَ الجُمُعَۃِ · حديث 1846

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ الْفِهْرِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: سَأَلْنَاهُ مَا كَانَ يَقْرَأُ بِهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْجُمُعَةِ مَعَ السُّورَةِ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا الْجُمُعَةُ؟ قَالَ: كَانَ يَقْرَأُ مَعَهَا (هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ).

"جناب ضحاک بن قیس ؒ بیان کرتےہیں کہ ہم نے حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے پوچھا کہ نبی کریمﷺ جمعہ والے دن اس سورت کے ساتھ جس میں جمعہ کا ذکر ہے ، کونسی سورت پڑھا کرتے تھے ۔ انہوں نے فرمایا: "آپ اس سورت کے ساتھ سورۂ (ھَلْ أَتَاکَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَۃِ) پڑھا کرتے تھے ۔"

النعمان بن بشير الأنصاري ← الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ الْفِهْرِيِّ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ ← أَبِي ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The gates of prayer before Friday · Hadith 1846

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2636

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ -يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ- أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عُثْمَانَ [263 - أ] بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّهُ أَصَابَ حِمَارَ وَحْشٍ وَهُوَ مَعَ قَوْمٍ وَهُمْ مُحْرِمُونَ، فَذَكَرُوهُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "أَصِدْتُمْ أَوْ أَعَنْتُمْ أَوْ أَشَرْتُمْ". قَالُوا: لَا: قَالَ: "فَكُلُوهُ".

حضرت ابو قتادہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک جنگلی گدھا شکار کیا جب کہ وہ ایسے لوگوں کے ہمراہ تھے جو حالت احرام میں تھے تو انہوں نے نبی کریم ﷺ کو اس بارے میں اطلاع دی تو آ پ نے فرمایا : "کیا تم نے شکار کیاتھا ،یا تم نے شکار کرنے میں مدد کی تھی یا تم نے اس کی طرف اشارہ کیاتھا ؟"صحابہ نے عرض کی : جی نہیں ۔تو آپ نے فر مایا : "تو پھر اس کا گوشت کھا لو ۔"

فكلوه ← لَا۔ ← "أَصِدْتُمْ أَوْ أَعَنْتُمْ أَوْ أَشَرْتُمْ". ← أَبِيهِ: أَنَّهُ أَصَابَ حِمَارَ وَحْشٍ وَهُوَ مَعَ قَوْمٍ وَهُمْ مُحْرِمُونَ، فَذَكَرُوهُ لِلنَّبِيِّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← عُثْمَانَ أ] بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، ← شُعْبَةُ، ← يَزِيدُ -يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ-، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2636

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2637

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ؛ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْقَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ قَالَ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا بِالْأَبْوَاءِ. قَالَ ابْنُ مَعْمَرٍ: أَوْ بِوَدَّانَ، فَأَهْدَيْتُ لَهُ حِمَارًا وَحْشِيًّا، فَرَدَّهُ إِلَيَّ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِي، قَالَ: "إِنَّهُ لَيْسَ بِنَا رَدٌّ عَلَيْكَ، وَلَكِنَّا حُرُمٌ". وَفِي خَبَرِ ابْنِ جُرَيْجً: قُلْتُ لِابْنِ شِهَابٍ: الْحِمَارُ عَقِيرٌ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي مَسْأَلَةِ ابْنِ جُرَيْجٍ الزُّهْرِيَّ وَإِجَابَتِهِ إِيَّاهُ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ مَنْ قَالَ فِي خَبَرِ الصَّعْبِ: أَهْدَيْتُ لَهُ لَحْمَ حِمَارٍ أَوْ رِجْلَ حِمَارٍ وَاهِمٌ فِيهِ، إِذِ الزُّهْرِيُّ قَدْ أَعْلَمَ أَنَّهُ لَا يَدْرِي الْحِمَارَ كَانَ عَقِيرًا أَمْ لَا حِينَ أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ وَكَيْفَ يرْوي أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُهْدِيَ لَهُ لَحْمُ حِمَارٍ أَوْ رِجْلُ حِمَارٍ وَهُوَ لَا يَدْرِي كَانَ الْحِمَارُ الْمُهْدَى إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَقِيرًا أَمْ لَا؟ قَدْ خَرَّجْتُ أَلْفَاظَ هَذَا الْخَبَرِ فِي "كِتَابِ الْكَبِيرِ" ومَنْ قَالَ فِي الْخَبَرِ: أَهْدَيْتُ لَهُ لَحْمَ حِمَارٍ أَوْ قَالَ: رِجْلَ حِمَارٍ أَوْ قَالَ: حِمَار.

حضرت مصعب بن جثامہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسو ل اللہ ﷺ میرے پاس سے گزرے جب کہ میں ودان یا ابواءمقام پر تھا ۔ میں نے آپ کو ایک جنگلی گدھے کا شکا ر پیش کیا تو آپ نے وہ قبو ل نہ کیا پھر جب رسول اللہ ﷺ نے میرے چہرے پر رنج و افسوس کے آثا ر دیکھے تو (تسلی دینے کےلیے ) فرمایا: "ہم نے تمہارا ہدیہ کسی غصے کی وجہ سے واپس نہیں کیا بلکہ وجہ صرف یہ ہے کہ ہم حالت احرام میں ہیں ( اور یہ شکار ہمارے لیے جائز نہیں ) "جناب جریح کی روایت میں ہے :میں نے امام ابن شہاب زہری ؒ سے پوچھا :کیا گدھا ذبح کیا ہواتھا ؟ انہوں نے فرمایا : مجھے معلوم نہیں ۔امام ابو بکرؒ فرماتے ہیں :امام ابن جریح کا یہ سوال اور امام زہری ؒ کا یہ جواب اس بات کی دلیل ہے کہ جن راویوں نے حضرت مصعب ؓ کی روایت کےیہ الفاظ روایت کیے ہیں کہ : میں نے نبی کریم ﷺ کو جنگلی گدھے کا گوشت پیش کیا ۔ یاجنگلی گدھے کی ران پیش کی ۔تو یہ ان راویوں کاوہم ہے ۔کونکہ امام زہری ؒ نے بیان کر دیا ہے کہ انہیں معلو م نہیں کہ جب نبی کریم ﷺ کو گدھا پیش کیاگیا تھا تو وہ ذبح تھا یا نہیں ۔لہذ ا یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ یہ روایت کریں کہ نبی کریم ﷺ کو جنگلی گدھے کا گوشت یا اس کی ران پیش کی گئی تھی حالا نکہ انہیں یہ بھی علم نہیں کہ نبی کریم ﷺ کو پیش کیا گیا جنگلی گدھا ذبح کیا ہوا تھا یا نہیں ؟ میں نے اس روایت کے مختلف طرق کتاب الکبیر میں بیان کر دیے ہیں جب راویوں نے یہ الفاظ بیان کیے ہیں :میں نےنبی کریم ﷺ کو جنگلی گدھے کاگوشت پیش کیا ،یا جنہوں نے کہا:گدھے کی ران ہدیہ کی ۔یا جنہوں نے روایت کیا : جنگلی گدھا پیش کیا ۔ان سب روایات کو میں نے بیان کردیا ہے ۔

بِالْأَبْوَاءِ ← مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ ← الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَۃَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْقَيْسِيُّ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2637

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2638

حَدَثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى؛ ح وَقَرَأْتُهُ عَلَى بُنْدَارٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كُنَّا مَعَ طَلْحَةَ وَنَحْنُ حُرُمٌ فَأُهْدِيَ لَهُ طَيْرٌ وَطَلْحَةُ رَاقِدٌ، فَمِنَّا مَنْ أَكَلَ وَمِنَّا (1) مَنْ تَوَرَّعَ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ طَلْحَةُ وَافقَ مَنْ أَكَلَ وَقَالَ: أَكَلْنَاهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ الدَّوْرَقِيُّ. وَقَالَ بُنْدَارٌ: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: "أَخْبَارُ أَبِي قَتَادَةَ وَتَصْوِيبُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِعْلَ مَنْ أَكَلَ من الصَّيْدِ الَّذِي اصْطَادَهُ أَبُو قَتَادَةَ، وَمَسْأَلَتُهُ إِيَّاهُمْ هَلْ مَعَكُمْ مِنْ لَحْمِهِ شَيْءٌ، وَأَكْلُهُ مِنْ ذَلِكَ اللَّحْمِ مِنْ هَذَا الْبَابِ، وَخَبَرُ عُمَيْرِ بْنِ سَلَمَةَ الضُّمَيْرِيِّ مِنْ هَذَا الْبَابِ أَيْضًا.

۔۔جناب عبدالرحمن التیمی بیان کرتے ہیں کہ ہم طلحہ ؓ کے ساتھ حالت احرام میں تھے تو انہیں ایک پرندہ ہدیہ دیا گیا جبکہ وہ سوئے ہوئے تھے ،لہذا کچھ لوگوں نے اس کا گوشت کھا لیا اور کچھ نے کھانے سے اجتناب کیا ۔پھر جب حضرت طلحہ بیدار ہوئے تو انہوں نے گوشت کھانے والوں کی موافقت کی اور فرمایا :ہم نے رسو ل اللہ کے ساتھ ( حالت احرام میں ) پرندے کا گوشت کھایا تھا ۔یہ الفاظ جناب دورقی کی روایت کےہیں ۔امام ابوبکر ؒفرماتے ہیں : حضرت ابو قتادہ ؓ کے شکار کرنے والی حدیث جس میں نبی کریم ﷺ نے اس شکار کا گوشت کھانے والے صحابہ کے عمل کودر ست قرار دیا تھا اور پوچھا تھا :کیا تمہارےپاس اس کا گوشت موجود ہے ۔پھر گوشت ملنے پر آ پ نے بھی کھایا تھا : وہ حدیث بھی اسی مسئلہ کے متعلق ہے ۔حضرت عمیر بن سلمہ الضمیر ی کی روایت بھی اسی مسئلہ کے متعلق ہے ۔

أَبِيهِ ← معاذ بن عبد الرحمن التيمي ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← يَحْيَى ← وَقَرَأْتُهُ عَلَى بُنْدَارٍ، ← يَحْيَى ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2638

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2639

قَرَأْتُ عَلَى بُنْدَارٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُوسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: اسْتَذْكِرْهُ كَيْفَ حَدَّثْتَنَا عَنْ لَحْمٍ أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟، فَاسْتَذْكَرْتُهُ، فَقَالَ: أُهْدِيَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَحْمُ صَيْدٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَرَدَّهُ وَقَالَ: "إِنَّا حُرُمٌ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: رَوَاهُ زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ طَاوُوسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَحْمَ صَيْدٍ فَقَالَ: "لَوْلَا أَنَّا حُرُمٌ قَبِلْنَاهُ". حَدَّثَنَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ زُهَيْرٍ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَخَبَرُ طَاوُوسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ دَالٌ عَلَى أَنَّ مَنْ قَالَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِمَارُ وَحْشٍ أَرَادَ خَبَرَهُ عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ [263 - ب] رِوَايَةَ مَنْ قَالَ: أَهْدَيْتُ لَهُ حِمَارًا وَحْشِيًّا، فَلَعَلَّهُ شُبِّهَ عَلَى بَعْضِ الرُّوَاةِ، فَجَعَلَ خَبَرَ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ فِي ذِكْرِ لَحْمِ الصَّيْدِ فِي قِصَّةِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ. وَخَبَرَ عَائِشَةَ: أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَحْمُ ظَبْيٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَلَمْ يَأْكُلْهُ، كَخَبَرِ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ وَالْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ.

حضر ت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں : جب حضرت زید بن ارقم ؓ تشریف لائے تو حضرت ابن عباس ؓ نے انہیں یاد دلاتے ہوئے پوچھا :آپ نے ہمیں کیسے بیان کیاتھا کہ نبی کریم ﷺ کو (شکار کا ) گوشت پیش کیاگیا تھا ؟جب میں نے انہیں یا د دلایا تو انہوں نے فرمایا : نبی کریم ﷺ کو شکار کا گوشت پیش کیاگیا جب کہ آ پ حالت احرام میں تھے توآپ نے وہ گوشت واپس کر دیا اور فرمایا : "بے شک ہم حالت احرام میں ہیں ۔"اما مابوبکر ؒفرماتے ہیں : جناب زہیر نے اپنی سند سے حضرت براءبن عازب ؓ سے بیان کیا ہے ،وہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ کو شکار کا گوشت ہدیہ کیا گیا تو آپ نے فرمایا : "اگر ہم حالت ا حرام میں نہ ہوتے تو اسے قبول کر لیتے ۔"امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : جناب طاؤس کی حضرت ابن عباس ؓ سے مروی روایت اس بات کی دلیل ہے کہ میں نے جن راویوں نے حضر ت ابن عباس سے یہ روایت کی ہے نبی کریم ﷺ کو ایک جنگلی گدھا ہدیہ پیش کیا۔تو ان کی مراد حضرت صعب بن جثامہ ؓ کی روایت ہے ۔ اور جن راویوں نے یہ روایت کی : "کہ نبی کریم ﷺ کو ایک جنگلی گدھا ہدیہ پیش کیاگیا ۔تو ممکن ہے کہ کسی کو شبہ ہوگیا ہوتو اس نے حضرت ابن عباس کی حضرت زید بن ارقم کی روایت میں شکا ر کے گوشت کاذکر ہے ،اس کو حضرت صعب بن جثامہ کی روایت میں شامل کردیا ہو ۔حضر ت عائشہ ؓ کی روایت کہ نبی کریم ﷺ کو ایک ہون کا گوشت پیش کیاگیا جب کہ آ پ حالت احرام میں تھے ۔تو آ پ نے اسے نہ کھایا ، یہ روایت بھی حضرت زید بن ارقم اور براء بن عازب ؓ کی طرح ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ دَالٌ عَلَى ← أَبُو بَكْرٍ: فَخَبَرُ طَاوُوسٍ، ← زُهَيْرٍ ← الْحَسَنُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ← حُرُمٌ قَبِلْنَاهُ". ← لَوْلَا ← أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ لَحْمَ صَيْدٍ ← الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوُوسٍ، ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← أَبُو بَكْرٍ: رَوَاهُ زُهَيْرٌ، ← حُرُمٌ ← أُهْدِيَ إِلَى النَّبِيِّ لَحْمُ صَيْدٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَرَدَّهُ ← لَحْمٍ أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ فَاسْتَذْكَرْتُهُ، ← ابْنُ عَبَّاسٍ: اسْتَذْكِرْهُ كَيْفَ حَدَّثْتَنَا ← لَمَّا قَدِمَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوُوسٍ، ← الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← يَحْيَى ← عَلَى بُنْدَارٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2639

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2640

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ -يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ- أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عطاء، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَدِمَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ مَكَّةَ، لَمْ يَقُلِ ابْنُ مَعْمَرٍ: مَكَّةَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَذْكِرُه كَيْفَ أَخْبَرْتَنِي عَنْ لَحْمٍ أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَرَامًا؟ قَالَ: نَعَمْ أَهْدَى لَهُ رَجُلٌ عُضْوًا مِنْ لَحْمِ صَيْدٍ، فَرَدَّهُ عَلَيْهِ، وَقَالَ: "إِنَّا لَا نَأْكُلُهُ، إِنَّا حُرُمٌ".

۔۔ حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت زید بن ارقم ؓ مکہ مکرمہ تشریف لائے ۔( ابن معمر کی روایت میں مکہ مکرمہ کا ذکر نہیں ہے ) تو حضرت ابن عباس ؓ نے انہیں یاد دلاتے ہوئے پوچھا : آپ نے مجھے کیسے بیان کیا تھا کہ نبی کریم ﷺ کو حالت احرام میں گوشت پیش کیاگیا تھا؟انہوں نے فرمایا ،ایک شخص نے آپ کو شکار کیے ہوئے جانور کا ایک عضو پیش کیا تھا ۔تو آپ نے اسے وہ واپس کردیا اور فرمایا : "بے شک ہم اسے نہیں کھا سکتے ،بے شک ہم حالت احرام میں ہیں ۔"

حُرُمٌ ← لا نَأْكُلُهُ ← نَعَمْ أَهْدَى لَهُ رَجُلٌ عُضْوًا مِنْ لَحْمِ صَيْدٍ، فَرَدَّهُ عَلَيْهِ، ← لَحْمٍ أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ حَرَامًا؟ ← ابْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَذْكِرُه كَيْفَ أَخْبَرْتَنِي ← قَدِمَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ مَكَّةَ، لَمْ يَقُلِ ابْنُ مَعْمَرٍ: مَكَّةَ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← محمد يعني ابن بكر ← مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2640

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2641

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ -يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيَّ- وَيَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ، أَنَّ عَمْرًا مَوْلَى الْمُطَّلِبِ أَخْبَرَهُمَا، عَنِ الْمُطَّلِبِ بن عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: "لَحْمُ صَيْدِ الْبَرِّ لَكُمْ حَلَالٌ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ مَا لَم تَصده أَوْ يُصَدُ (1) لَكُمْ". حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ، حَدَّثَنَا أَسَدٌ -يَعْنِي ابْنَ مُوسَى- حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ -وَهُوَ ابْنُ سَالِمٍ- عَنْ عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ: مِثْلَهُ سَوَاءً، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: صَيْدُ الْبَرِّ، وَلَمْ يَقُلْ: لَحْمٌ.

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ نبی اکرم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا :خشکی کے شکار کا گوشت تمہارے لیے حلا ل ہے جب کہ تم حالت احرام میں ہو ،بشرطیکہ تم نے خود شکار نہ کیا ہو اور نہ خاص طور پر تمہارے لیے شکار کیا گیا ہو ۔"امام صاحب اپنے استاد نصربن مرزووق کی سند سے یہی روایت لائے ہیں اس میں خشکی کے شکا ر کا ذکر ہے اور لحم (گوشت ) کا لفظ مذکو ر نہیں ۔

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2641

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2642

وَقَدْ رَوَى مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فَأَحْرَمَ أَصْحَابِي، وَلَمْ أُحْرِمْ، فَرَأَيْتُ حِمَارًا فَحَمَلْتُ عَلَيْهِ، فَاصْطَدْتُهُ، فَذَكَرْتُ شَأْنَهُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. وَذَكَرْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ أَحْرَمْتُ، وَأَنِّي إِنَّمَا اصْطَدْتُهُ لَكَ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَصْحَابَهُ فَأَكَلُوا وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ حِينَ أَخْبَرْتُهُ أَنِّي اصْطَدْتُهُ لَهُ. حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذِهِ الزِّيَادَةُ: إِنَّمَا اصْطَدْتُهُ لَكَ، وَقَوْلُهُ: وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ حِينَ أَخْبَرْتُهُ: أَنِّي اصْطَدْتُهُ لَكَ، لَا أَعْلَمُ أَحَدًا ذَكَرَهُ فِي خَبَرِ أَبِي قَتَادَةَ غَيْرَ مَعْمَرٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ، فَإِنْ صَحَّتْ هَذِهِ اللَّفْظَةُ فَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَكَلَ مِنْ لَحْمِ ذَلِكَ الْحِمَارِ قَبْلَ [أَنْ] يُعْلِمَهُ أَبُو قَتَادَةَ أَنَّهُ اصْطَادَهُ مِنْ أَجْلِهِ، فَلَمَّا أَعْلَمَهُ أَبُو قَتَادَةَ أَنَّهُ اصْطَادَهُ مِنْ أَجْلِهِ امْتَنَعَ مِنْ أَكْلِهِ بَعْدَ إِعْلَامِهِ إِيَّاهُ أَنَّهُ اصْطَادَهُ مِنْ أَجْلِهِ، لِأَنَّهُ قَدْ ثَبَتَ عَنْهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَدْ أَكَلَ مِنْ لَحْمِ ذَلِكَ الْحِمَارِ.

حضرت ابو قتادہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم صلح حدیبیہ کے سال رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (عمرہ کےلیے ) نکلے تو میرے ساتھیوں نے احرام باندھا اور میں نے احرام نہ باندھا ۔میں نے ایک جنگلی گدھا دیکھا تو اس پر حملہ کر دیا اور اسے شکار کر لیا ۔پھر میں نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا اور میں نے آپ کویہ بھی بتایا کہ میں حالت احرام میں نہیں تھا اور میں نے یہ شکار آپ کےلیےکیا ہے لہذا نبی کریم ﷺ نے یہ معلو م ہونے پرکہ یہ شکار حضرت ابوقتادہ ؓ نے آپ کے لیے کیا ہے ،آپ نے خو داس میں سے نہ کھایا اور اپنے صحابہ سے کہا تم کھا لو ۔امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں :یہ الفاظ : "بلاشبہ یہ شکار میں نے آپ ہی کےلیے کیا ہے "اور یہ الفاظ جب میں نے رسول اللہ ﷺ کو بتایا کہ میں نے یہ شکار آپ ہی کےلیے کیاہے تو آپ نے اس میں سے کچھ نہ کھایا۔میرے علم کے مطابق اس سند سے حضر ت ابو قتادہ ؓ کی روایت میں صرف معمر ہی نے ان الفاظ کا اضافہ بیان کیا ہے ۔اگر یہ الفاظ صحیح ثابت ہو جائیں تو پھر اس حدیث کا معنی یہ ہو گا کہ نبی کریم ﷺ نے اس جنگلی گدھے کا گوشت کھایاتھا جب کہ ابھی حضرت قتادہ نے آپ کو یہ نہیں بتایاتھاکہ انہوں نے خاص آ پ کےلیے اسے شکار کیاہے ۔پھر جب حضرت ابوقتادہ نے رسول اللہ ﷺ کو بتادیا کہ انہوں نے یہ گدھا آپ ہی کےلیے شکار کیا ہے تو پھر آپ نے گوشت کھانا ترک کر دیا اور اس سے رک گئے ۔کیوں کہ یہ بات آ پ کے بارے میں ثابت ہے کہ آپ نے اس گدھے کا گوشت کھایا تھا ۔(جیسا کہ اگلی روایت میں آرہا ہے ۔)

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← يَحْيَى أَبِي كَثِيرٍ، ← وَقَدْ رَوَى مَعْمَرٌ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2642

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2643

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ؛ أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُمْ مُحْرِمُونَ وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ، فَرَأَى حِمَارًا وَحْشِيًّا فَرَكِبَ فَرَسَهُ، وَسَأَلَهُمْ أَنْ يُنَاوِلُوهُ الرُّمْحَ أَوِ السَّوْطَ، فَأَبَوْا أَنْ يُنَاوِلُوهُ، فَتَنَاوَلَهُ، ثُمَّ شَدَّ عَلَيْهِ، فَعَقَرَهُ، ثُمَّ جَاءَ بِهِ فَلَحِقُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: "هَلْ مَعَكُمْ مِنْ لَحْمِهِ شَيْءٌ؟ " قَالُوا: نَعَمْ. فَأَتَوْهُ بِرِجْلِهِ فَأَكَلَ مِنْهَا. قَدْ خَرَّجْتُ فِي "كِتَابِ الْكَبِيرِ" طُرُقَ خَبَرِ أَبِي قَتَادَةَ، وذكر مَنْ قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَكَلَ مِنْ لَحْمِ ذَلِكَ الْحِمَارِ.

حضرت ابو قتادہ ؓ سے روایت ہےکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پر نکلے جب کہ صحابہ کرام محرم تھے اور حضرت ابو قتادہ ؓ غیر محرم تھے ۔انہوں نے ایک جنگلی گدھا دیکھا تو (اسے شکار کرنے کےلیے ) اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور اپنے ساتھیوں سے کہا کہ وہ انہیں نیزہ یا کوڑا پکڑا دیں لیکن انہوں نے انہیں وہ پکڑانے سے انکار کر دیا ( کیونکہ وہ حالت احرام میں تھے ) لہذا انہوں نے خود ہی ( نیچے اتر کر ) وہ نیزہ پکڑ ا پھر اس گدھے کا پیچھا کیا اور اسے ( پکڑ کر ) ذبح کر لیا ۔پھر وہ گدھا لے کر حاضر ہو گئے ۔اور دوسرے صحابہ کرام بھی آپ کے پاس حاٖضر ہوئے اور سارا ماجرا سنایا ۔ آپ نے فرمایا : "کیا تمہارے پاس اس کا کچھ گوشت ہے ؟ صحابہ کرام نے عر ض کیا : جی ہاں اور آپ کو اس کی ران پیش کی گئی اور آپ نے اس میں سے کھایا ۔میں نے حضرت ابو قتادہ ؓ کی روایت کے تمام طرق کتاب الکبیر میں بیان کردیے ہیں اور یہ ان کی دلیل ہے جو کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اس گدھے کا گوشت کھایا تھا ۔

أَبِي قَتَادَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← أَبِيهِ ← ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2643

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ أَبوَابُ الصَّلَاۃِ قَبلَ الجُمُعَۃِ · حديث 1847

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، نَا شُعْبَةُ؛ وَثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ؛ ح وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ، ثَنَا سَعِيدٌ -يَعْنِي ابْنَ عَامِرٍ-، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ فِي الْجُمُعَةِ بِـ (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى)، وَ (هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ). قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدْ أَمْلَيْتُ اجْتِمَاعَ الْعِيدِ وَالْجُمُعَةِ فِي الْيَوْمِ الْوَاحِدِ وَالْقِرَاءَةَ فِيهِمَا فِي كِتَابِ الْعِيدَيْنِ.

"حضرت سمرہ بن جندب ؓ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہﷺ جمعہ میں سورہ ( سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلٰی) اور(ھَلْ أَتَاکَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَۃِ) پڑھا کرتے تھے ۔"امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : "ایک ہی دن میں عید اور جمعہ کے جمعہ ہونے اور ان میں قراء ت کے بارے میں احادیث میں کتاب العیدین میں لکھوا چکا ہوں ۔

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ، ← معبد بن خالد، ← شُعْبَةُ، ← سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ عَامِرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ، ← شُعْبَةُ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The gates of prayer before Friday · Hadith 1847

chevron_left Previous
1…108109110…258
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden22. The groups of the gates of obligatory travel23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness24. The congregation of the gates of prayer on the rows25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr37. The gates of the prayer of fear38. Collections of the gates of an eclipse prayer39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals