Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1619

و روى عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة و مسروق بن الأجدع عن عائشة : أن أبا بكر صلى بالناس و رسول الله صلى الله عليه و سلم في الصف

"جناب مسروق بن اجدع، حضر ت عائشہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے لوگوں کو نماز پڑھائی اوررسول اللہ ﷺ صف میں شامل تھے۔"

عبيد الله بن عبد الله بن عتبة و مسروق بن الأجدع ← و روي

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein · Hadith 1619

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1620

أنا أبو طاهر نا أبو بكر نا بندار نا بكر بن عيسى صاحب البصري ثنا شعبة عن نعيم بن أبي هند عن أبي وائل عن مسروق عن عائشة : أن أبا بكر صلى بالناس و رسول الله صلى الله عليه و سلم في الصف خلفه

"حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور رسول اللہ ﷺ ان کے پیچھے صف میں تھے۔"

مَسْرُوقٍ ← أَبِي وَائِلٍ ← نُعَیْمِ بْنِ اَبِیْ ھِنْدَ، ← شُعْبَةُ، ← بَكْرُ بْنُ عِيسَى صَاحِبُ الْبُصْرَى ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein · Hadith 1620

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1621

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا بندار ثنا بدل بن المحبر ثنا شعبة عن موسى بن أبي عائشة عن عبيد الله بن عبد الله عن عائشة : أن أبا بكر صلى بالناس و رسول الله صلى الله عليه و سلم في الصف خلفه قال أبو بكر : فلم يصح الخبر أن النبي صلى الله عليه و سلم كان هو الإمام في المرض الذي توفي فيه في الصلاة التي كان هو فيها قاعدا و و أبو بكر و القوم قيام لأن في خبر مسروق و عبيد الله بن عبد الله عن عائشة أن أبا بكر كان الإمام و النبي صلى الله عليه و سلم مأموم و هذا ضد خبر هشام عن أبيه عن عائشة و خبر إبراهيم بن الأسود عن عائشة على أن شعبة بن الحجاج قد بين في روايته عن الأعمش عن إبراهيم عن الأسود عن عائشة أن من الناس من يقول : كان أبو بكر المقدم بين يدي رسول الله صلى الله عليه و سلم و منهم من قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم المقدم بين يدي أبي بكر و إذا كان الحديث الذي به احتج من زعم أن فعله الذي كان في سقطته من الفرس و أمره صلى الله عليه و سلم بالاقتداء بالأئمة و قعودهم في الصلاة إذا صلى إمامهم قاعدا منسوخ غير صحيح من جهة النقل فغير جائز لعالم أن يدعي نسخ ما قد صح عن النبي صلى اله عليه و سلم بالأخبار المتواترة بالأسانيد الصحاح من فعله و أمره بخبر مختلف فيه على أن النبي صلى الله عليه و سلم قد زجر عن هذا الفعل الذي ادعته هذه الفرقة في خبر عائشة الذي ذكرنا أنه مختلف فيه عنها و أعلم أنه فعل فارس و الروم بعظمائها يقومون و ملوكهم قعود و قد ذكرنا هذا الخبر في موضعه فكيف يجوز أن يؤمر بما قد صح عن النبي صلى الله عليه و سلم من الزجر عنها استنانا بفارس والروم من غير أن يصح عنه صلى الله عليه و سلم الأمر به و إباحته بعد الزجر عنه و لا خلاف بين أهل المعرفة بالأخبار أن النبي قد صلى قاعدا و أمر القوم بالقعود و هم قادرون على القيام لو ساعدهم القضاء و قد أمر النبي صلى الله عليه و سلم المأموين بالاقتداء بالإمام والقعود إذا صلى الإمام قاعدا و زجر عن القيام في الصلاة إذا صلى الإمام قاعدا و اختلفوا في نسخ ذلك و لم يثبت خبر من جهة النقل بنسخ ما قد صح عنه صلى الله عليه و سلم مما ذكرنا من فعله و أمره فما صح عن النبي صلى الله عليه و سلم واتفق أهل العلم على صحته يقين و ما اختلفوا فيه و لم يصح فيه خبر عن النبي صلىالله عليه و سلم شك و غير جائز ترك اليقين بالشك و إنما يجوز ترك اليقين باليقين فإن قال قائل غير منعم الروية : كيف يجوز أن يصلي قاعدا من يقدر على القيام ؟ قيل له : إن شاء الله يجوز ذلك أن يصلي بأولى الأشياء أن يجوز به و هي سنة النبي صلى الله عليه و سلم أمر باتباعها ووعد الهدى على اتباعها فأخبر أن طاعته صلى الله عليه و سلم طاعته عز و جل و قوله : كيف يجوز لما قد صح عن النبي صلى الله عليه و سلم الأمر به و ثبت فعله له بنقل العدل عن العدل موصولا إليه بالأخبار المتواترة جهل من قائله و قد صح عن النبي صلى الله عليه و سلم عند جميع أهل العلم بالأخبار الأمر بالصلاة قاعدا إذا صلى الإمام قاعدا و ثبت عندهم أيضا أنه صلى الله عليه و سلم صلى قاعدا بقعود أصحابه لا مرض بهم و لا بأحد منهم و ادعى قوم نسخ ذلك فلم تثبت دعواهم بخبر صحيح لا معارض له فلا يجوز ترك ما قد صح من أمره صلى الله عليه و سلم و فعله في وقت من الأوقات إلا بخبر صحيح عنه ينسخ أمره ذلك و فعله و وجود نسخ ذلك بخبر صحيح معدوم و في عدم وجود ذلك بطلان ما ادعت فجازت الصلاة قاعدا إذا صلى الإمام قاعدا اقتداء به على أمر النبي صلى الله عليه و سلم و فعله و الله الموفق للصواب

"جناب عبید اللہ بن عبداللہ ، حضرت عائشہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر ؓ نے صحابہ کرام ؓ کو نماز پڑھائی جبکہ رسول اللہ ﷺ ان کے پیچھے صف میں موجود تھے۔ امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں:چنانچہ یہ روایت درست نہیں ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنی آخری بیمار ی میں ادا کی گئی نماز میں امام تھے، اور آپ بیٹھے ہوۓ تھے جبکہ ابوبکر ؓ اور صحابہ کرام ؓ کھڑے تھے۔کیونکہ جناب مسروق اور عبید اللہ کی حضرت عائشہ سے روایت کردہ احادیث میں مذکور ہے کہ امام حضرت ابوبکر ؓ تھے اور نبی کریم ﷺ مقتدی تھے اور یہ روایت جناب عروہ اور اسود کی حضرت عائشہ سے مروی روایات کے خلاف ہے۔ اس بنا پر کی امام شعبہ بن حجاج نے اپنی سند سے حضرت عائشہ ؓ سے مروی روایت میں بیان کر دیا ہے کہ کچھ لوگ کہتے ہیں:ابوبکر ؓ رسول اللہ ﷺ کے امام تھے۔جبکہ کچھ لوگوں کو کہنا ہے کہ نبی کریم ﷺ حضرتا ابوبکر ؓ کے امام تھے جب وہ حدیث جس سے ان لوگوں نے استدلال کیا ہے جس کا خیال ہے کہ آپ ﷺ کا یہ فعل اس و قت کا ہے جب آپ گھوڑے سے گر گئے تھے، اور آپ ﷺ کا یہ حکم کی ائمہ کی اقتداء کی جاۓ اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھائیں تو مقتدی بھی بیٹھ کر نماز پڑھیں، یہ منسوخ ہے۔جبکہ یہ پات نقل کے اعتبار سے صحیح ثانت نہیں ہے۔لہٰذا کسی عالم دین کے لیے ایک مختلف فیہ حدیث کے ساتھ آپ کے کسی ایسے فعل اور حکم کو منسوخ قرارد دینا درست نہیں، جو آپ سے صحیح اور متواتر اسانید کے ساتھ ثانت ہو۔کیونکہ محدثین کے اس گروہ نے جو دعویٰ کیا ہے اس فعل سے نبی کریم ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ کی حدیث میں منع کیا ہے اور ہم نے بیان کیا ہے کہ وہ روایت مختلف فیہ ہے اور آپ نے بیان کیا ہے کہ یہ کام ایرانی اور رومی اپنے بادشاہوں کے ساتھ کرتے ہیں کہ جب ان کے بادشاہ بیٹھے ہوتے ہیں تو یہ(ان کے تعظیم کے لیے) کھڑے رہتے ہیں۔ ہم اس حدیث کو اس کے مقام پر بیان کر چکے ہیں۔لہٰذا جس کام سے رسول اللہ ﷺ منع کر چکے ہون۔ایرانیوں اور رومیوں کی اتباع کرتے ہوۓ اس کام کا حکم دیان کسی طرح درست ہوسکتا ہے جبکہ نبی کریمﷺ کے منع کرنے کے بعد یہ بات بھی صحیح ثابت نہ ہو کہ آپ نے اس کام کا حکم دیا ہو اور اسے جائز قراردیا ہو۔احادیث کی مورفت رکھنے والے علاۓ کرام کا اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں کہ نبی کریم ﷺ نے بیٹھ کر نماز ادا کی ہے، اور لوگوں کو بھی بیٹھ کر نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے، جبکہ وہ قیام کی قدرت رکھتے ہوں اور ان کے لیے بیٹھ کر نماز کی ادائیگی ممکن ہو۔یقیناً نبی اکرم ﷺ نے مقتدیوں کو امام کی اقتداء میں بیٹھ کر نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے ، جبکہ امام بھی بیٹھ کر نماز پڑھ رہا ہو اور جب امام بیٹھ کر نماز پڑھا ریا ہو تو مقتدیوں کو نماز میں کھڑے ہونے سے منع کیا ہے۔اس حکم کے منسوخ ہونے میں علماء نے اختلاف کیا ہے لیکن نقل کے اعتبار سے نبی کریم سے ایسی کوئی روایت ثابت نہیں ہے جو نبی کریم ﷺ سے ثابت آپ کے فعل اور حکم کو منسوخ کرے۔جسے ہم نے بیان کیا ہے۔لہٰذا جو چیز آپ سے صحیح ثابت ہے اور اہل علم کا اس کی صحت پر اتفاق ہے وہ چیز یقینی ہے، اور جس چیز میں علماۓ کرام کا اختلاف ہے اور اس کے بارے میں نبی کریم ﷺ سے بھی کوئی چیز ثابت نہیں تو وہ چیز مشکوک ہے اور مشکوک چیز کے ساتھ یقینی اور پختہ چیز کو ترک کرنا جائز نہیں ہے بلکہ یقنی چیز کو یقینی چیز کے ساتھ یہ ترک کیا جاتا ہے۔اگر (احکام دین میں) گہراغورفکر کرنے والا شخص یہ کہے کہ قیام کی قدرت رکھنے والے شخص کےلیے بیٹھ کر نماز پڑھنا کس طرح جائز ہو سکتا ہے؟ اسے جواب دیا جاۓ گا کہ اگر اللہ چاہے تو اس کے لیے یہ جائز ہو گا کہ وہ بہترین چیز کے ساتھ نماز پڑھ لے جبکہ یہ تو نبی ﷺ کی سنت ہے جس کی اتباع کا حکم دیا گیا ہے اور اس کی اتباع پر ہدایت نصیت کرنے کا وعدہ کیا ہے۔چجانچہ بتایا ہے کہ آپ ﷺ کی اطاعت در حقیت اللہ عزوجل ہی کی اطاعت ہے اور سائل کا یہ کہنا:(بیٹھ کر مقتدی کا نماز پڑھنا) کیسے جائز ہو سکتا ہے جبکہ نبی کریم ﷺ سے عادل راویوں کی متواتر سانید سے صحیح ثابت ہے آ پ نے (کھڑے ہو کر، بیٹھے امام کے پیچھے نماز پڑھنے کا)حکم دیا ہے اور آپ کے فعل سے بھی ثابت ہے۔یہ قائل کی لا علمی ہے، کیونکہ تما ماہرین علم حدیث کے نزدیک نبی کریم ﷺ سے صحیح ثابت ہے کہ آُ ﷺ نے بیٹھ کر نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے جبکہ امام بیٹھ کر نماز پڑھاۓ اور ان کے نزدیک یہ بات بھی ثابت شدہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہ سمیت بیٹھ کر نماز ادا کی ہے ، جبکہ صحابہ کرام یا ان میں سے کوئی ایک بھی بیمار نہیں تھا۔(سب بیٹھ کر نماز پڑھنے پر قادر تھے) ایک گروہ نے اس کے منسوخ ہونے کا دعوٰی کیا ہے۔لیکن ان کا یہ دعویٰ کسی ایسی صحیح روایت سے ثابت نہیں جس روایت کی کوئی معارض ومخالف روایت موجود نہ ہو۔لہٰذا جو چیز رسول اللہ ﷺ کے حکم اور آپ کے فعل سے صحیح ثانت ہو اس کی مخالفت کرنا اس وقت تک جائز نہیں جب تک آپ کے حکم اور فعل کو منسوخ کرنے والی کوئی صحیح روایت موجود نہ ہو اور اس حکم کو منسوخ کرنے والی کوئی صحیح روایت موجود نہ ہو اور اس حکم کو منسوخ کرنے والی صحیح روایت معدوم ہے۔ایسی روایت کا دستیاب نہ ہونا، اہل محدثین کے اس گروہ کے دعویٰ کو باطل کرتا ہے۔لہٰذا جب امام بیٹھ کر نماز پڑھاے ٔ تو مقتدیوں کے لیے رسول اللہ ﷺ کے حکم اور فعل کے مطابق امام کی اقتداء میں بیٹھ کر نماز پڑھنا جائز ہے۔ واللہ الموفق للصواب (اللہ تعالٰی ہی درست راہ کی توفیق بخشتا ہے۔) "

عَائِشَةَ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ← شُعْبَةُ، ← بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ، ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein · Hadith 1621

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2508

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ (1)، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - النَّاسَ فَقَالَ: "إِنَّ اللَّهَ قَدِ افْتَرَضَ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ". فَقَالَ رَجُلٌ: أَكُلَّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَسَكَتَ عَنْهُ، حَتَّى أَعَادَهَا ثَلَاثًا. فَقَالَ: "لَوْ قُلْتُ: نَعَمْ، لَوَجَبَتْ، وَلَوْ وَجَبَتْ مَا قُمْتُمْ بِهَا". وَقَالَ: "ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ (1)، فَإِنَّمَا هَلَكَ الَّذِينَ مِنْ قِبَلِكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ، فَمَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ، فَأْتُوهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ، وَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَانْتَهُوا عَنْهُ". قَالَ: فَأُنْزِلَتْ: (لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ) [المائدة: 101].

حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے لوگوں سے خطاب فرمایا تو کہا:"بے شک اللہ تعالی نے تم پر حج فرض کیا ہے ۔" تو ایک شخص نے کہا : اے اللہ کے رسول کیا ہر سال حج فرض ہے۔ تو آپ نے اسے کوئی جواب نہ دیا حتی کہ اس نے یہی سوال تین بار کیا ۔ پھر رسول اللہ نے فرمایا: "اگر میں کہ دیتا کہ ہاں ہر سال فرض ہے تو وہ فرض ہو جاتا۔اور اگر ہر سال فرض ہو جاتا تو تم اسے ادا نہ کر سکتے ۔" اور آپ نے فرمایا :" تم مجھے چھوڑ دو جب تک میں تمھیں چھوڑے رکھوں خواہ مخواہ سوال نہ کرو کیو نکہ تم سے پہلے لوگ اس لیے تباہ و برباد ہوئے کہ وہ اپنے انبیاء سے بہت زیادہ سوال کرتے تھے اور انبیائے کرام سے بہت باتوں میں اختلاف کرتے تھے ۔ لہذا میں تمھیں جس چیز کا حکم دوں تو تم حسب استطاعت اس پر عمل کرو اور جب کسی چیز سے تمھیں روک جا و ۔"راوی کہتے ہیں تو یہ آیت نازل ہوئی :" اے ایمان والو ایسی باتوں کے بارے میں سوال نہ کرو کہ اگر وہ تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمھیں بری لگیں۔"

رجل أكل عام ← "إِنَّ اللَّهَ قَدِ افْتَرَضَ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ". ← خَطَبَ رَسُولَ اللَّهِ النَّاسُ، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2508

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2509

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَبَرُ أَبِي لَاسٍ الْخُزَاعِيِّ قَدْ أَمْلَيْتُهُ فِي كِتَابِ الزَّكَاةِ.

امام ابو بکر ؒبیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو لاس کی حدیث میں کتاب الزکاۃ میں بیان کر چکا ہوں جو اس مسئلے کی دلیل ہے۔

أَبُو بَكْرٍ: خَبَرُ أَبِي لَاسٍ الْخُزَاعِيِّ قَدْ أَمْلَيْتُهُ فِي كِتَابِ الزَّكَاةِ.

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2509

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2510

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَبَرُ أُمِّ مَعْقِلٍ قَدْ أَمْلَيْتُهُ فِي كِتَابِ الصَّدَقَاتِ أَيْضًا.

امام ابو بکرؒ فرماتے ہیں :اس مسئلے کی دلیل حضرت امام معقل ؓکی حدیث ہے جسے میں کتاب الصدقات میں بیان کر چکا ہوں۔

أَبُو بَكْرٍ: خَبَرُ أُمِّ مَعْقِلٍ قَدْ أَمْلَيْتُهُ فِي كِتَابِ الصَّدَقَاتِ أَيْضًا.

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2510

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2511

حَدَّثَنَا عَيسى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُنْقِذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ سُهَيْلَ بْنَ أَبِي صَالِحٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "وَفْدُ اللَّهِ ثَلَاثَةٌ: الْغَازِي، وَالْحَاجُّ، وَالْمُعْتَمِرُ".

حضرت ابوہریرہ ؓبیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:" اللہ تعالی کے سفیر تین ہیں: مجاہد، حاجی اور عمرہ کرنے والا۔"

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبِي ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← أَبِيهِ ← مَخْرَمَةَ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← عَيسى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُنْقِذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2511

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2512

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "تَابِعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، فَإِنَّهُمَا تَنْفِيَانِ الْفَقْرَ وَالذَّنُوبَ، كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ وَالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ. وَلَيْسَ لِلْحَجَّةِ الْمَبْرُورَةِ ثَوَابٌ دُونَ الْجَنَّةِ".

حضرت عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:"پے درپے حج اور عمرہ ادا کیا کرو کیو نکہ حج و عمرہ فقروفاقہ کو مٹاتے ا ور گناہوں کو ایسے ہی صاف کر دیتے ہیں جیسے آگ کی بھٹی لوہے، سونے اور چاندی کی میل کچیل کو صاف کر دیتی ہے اور حج مبرور کی جزا تو صرف جنت ہے۔"

عَبْدُ اللَّهِ ← شَقِيقٍ، ← عَاصِمٍ، ← وَأَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ، ← أَبُو خَالِدٍ؛ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2512

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2513

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِيهِ سُمَيٌّ؛ ح وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سُمَيٍّ؛ ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا، وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ".

حضرت ابو ہریرہ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا :"ایک عمرہ دوسرے عمرے تک کے درمیانی گناہوں کا کفارہ بنتا ہے اور حج مبرور کی جزا صرف جنت ہی ہے۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← سُمَيٍّ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ ← وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، ← سُمَيٍّ ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ← سُمَيٍّ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2513

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2514

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، كِلَاهُمَا عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "مَنْ حَجَّ فَلَمْ يَرْفُثْ، وَلَمْ يَفْسُقْ، رَجَعَ كَأَنَّمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ".

حضرت ابو ہریرہ ؓسے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا:" جس شخص نے ایسا حج کیا جس میں اس نے اپنی بیوی سے بوس وکنارہ کیا نہ فسق وفجور میں مبتلا ہوا تو وہ ایسے صاف ہو کر لوٹتا ہے گویا کہ اس کی والدہ نے اسے ابھی جنم دیا ہو۔"

"مَنْ حَجَّ فَلَمْ يَرْفُثْ، وَلَمْ يَفْسُقْ، رَجَعَ كَأَنَّمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ". ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ، كِلَاهُمَا ← وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ← الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ أَبُو عَمَّارٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2514

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2515

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ ابْنِ شِمَاسَةَ قَالَ: حَضَرْنَا عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ وَهُوَ فِي سِيَاقَةِ الْمَوْتِ فَبَكَى طَوِيلًا، وَقَالَ: فَلَمَّا جَعَلَ اللَّهُ الْإِسْلَامَ فِي قَلْبِي أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! ابْسُطْ يَمِينَكَ لِأُبَايِعَكَ، فَبَسَطَ يَدَهُ، فَقَبَضْتُ يَدِي. فَقَالَ: "مَا لَكَ يَا عَمْرُو؟ " قَالَ: أَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِطَ. قَالَ: "تَشْتَرِطُ مَاذَا؟ " قَالَ: أَنْ يُغْفَرَ لِي. قَالَ: "أَمَا عَلِمْتَ يَا عَمْرُو! أَنَّ الْإِسْلَامَ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ، وَأَنَّ الْهِجْرَةَ تَهَدَّمُ مَا كَانَ قَبْلَهَا، وَأَنَّ الْحَجَّ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ".

جناب ابن شماسہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت عمرو بن عاص ؓکے پاس ان کی تیمارداری کے لیے آئے جبکہ وہ حالت نزع میں تھے وہ بڑی دیر تک روتے رہے، پھر فرمایا :جب اللہ تعالی نے اسلام کی محبت میرے دل میں ڈ ال دی تو میں نبی کریم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول اپنا دایاں دست مبارک بڑھائیے تاکہ میں آپ کی بیعت کروں ۔ چنانچہ آپ نے اپنا ہاتھ بڑھا دیا ۔ میں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔ آپ نے فرمایا:"اے عمرو تمھیں کیا ہوا؟ ہاتھ پیچھے کیوں کیا ہے " حضرت عمرو کہتے ہیں : میں نے عرض کیا کہ میں ایک شرط لگانا چاہتا ہوں نبی کریم ﷺ نے پوچھا :"کیسی شرط لگانا چاہتے ہو؟" انھوں نے عرض کی : کہ اسلام لانے سے میرے گزشتہ گناہ معاف کر دیے جائیں گے؟ آپ نے فرمایا :" اے عمرو کیا تمھیں علم نہیں کہ اسلام گزشتہ گناہوں کو معاف کر دیتا ہے، اور ہجرت بھی سابقہ گناہوں بخشش کا باعث بن جاتا ہے۔"

حَضَرْنَا عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ وَهُوَ فِي سِيَاقَةِ الْمَوْتِ فَبَكَى طَوِيلًا، ← ابن شماسة، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ*،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2515

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2516

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْحُجَّاجِ، وَلِمَنِ اسْتَغْفَرَ لَهُ الْحَاجُّ".

حضرت ابو ہریرہ ؓبیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:"اے اللہ حجاج کرام کی بخشش فرما اور ان لوگوں کو بھی معاف فرما جن کی بخشش کی دعا حاجی کرے۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← مَنْصُورٌ، ← شَرِيکٍ ← أَبُو أَحْمَدَ حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2516

chevron_left Previous
1…979899…258
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals