صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1607
أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَزَّارُ، أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَبَّاسِ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ قَالَ: كَانَ أَبِي قَدْ تَرَكَ الصَّلَاةَ مَعَنَا. قُلْتُ: مَا لَكَ لَا تُصَلِّي مَعَنَا؟ قَالَ: إِنَّكُمْ تُخَفِّفُونَ الصَّلَاةَ، قُلْتُ، فَأَيْنَ قَوْلُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّ فِيكُمُ الضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ، وَذَا الْحَاجَةِ؟ " قَالَ: قَدْ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ ذَلِكَ، ثُمَّ صَلَّى بِنَا ثَلَاثَةَ أَضْعَافِ مَا تُصَلُّونَ.
"جناب ابراہیم التیمی بیان کرتے ہیں کہ میرے والد گرامی نے ہمارے ساتھ نماز پڑھنی چھوڑ دی تو میں نے کہا: آپ ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھتے؟ انہوں نے فرمایا:بے شک تم بہت ہلکی نماز پڑھتے ہو (اس لیے میں تمہارے ساتھ نماز نہیں پڑھتا)۔ میں نے عرض کی:نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان کدھر گیا کہ بلاشبہ تم میں کمزور، عمر رسیدہ، اور ضرورت مند افراد بھی ہوتے ہیں۔(اس لیے ہلکی نماز پڑھایا کرو) انہوں نے جواب دیا:میں نے حضرت ابن مسعود ؓ کو یہ حدیث بیان کرتے ہوۓ سنا ہے۔پھر انہوں نے ہمیں تمہار ی نامز سے تین گنا زائید طویل نماز پڑھائی۔"
إِنَّكُمْ تُخَفِّفُونَ الصَّلَاةَ، قُلْتُ، فَأَيْنَ قَوْلُ النَّبِيِّ ← كَانَ أَبِي قَدْ تَرَكَ الصَّلَاةَ مَعَنَا. قُلْتُ: مَا لَكَ لَا تُصَلِّي مَعَنَا؟ ← إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ← عَمَّارِ الدُّهْنِيِّ، ← عبد الجبار بن العباس ← أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ← أَبُو يحيى مُحَمَّد بن عبد الرَّحِيم الْبَزَّارُ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein · Hadith 1607
