Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَفعَالِ المُبَاحَۃِ فِی المَسجِدِ غَیرَ الصَّلاَۃِ وَذِکرِاللہِ · حديث 1333

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثَنَا عَفَّانُ، ثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ سَعْدًا رُمِيَ فِي أَكْحَلِهِ، فَضَرَبَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِبَاءً فِي الْمَسْجِدَ، لِيَعُودَهُ مِنْ قَرِيبٍ، قَالَ: فَتَحَجَّرَ كَلْمُهُ لِلْبُرْءِ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنْ لَيْسَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ، أَنْ أُجَاهِدَ فِيكَ مِنْ قَوْمٍ كَذَّبُوا نَبِيَّكَ، وَأَخْرَجُوهُ وَفَعَلُوا وَفَعَلُوا، وَإِنِّي (1) [144 - أ] أَظُنُّ أَنْ قَدْ وُضِعَتِ الْحَرْبُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ فَافْجُرْ هَذَا الْكَلْمَ حَتَّى يَكُونَ مَوْتِي فِيهِ، قَالَ: فَبَيْنَا هُمْ ذَاتَ لَيْلَةٍ إِذِ انْفَجَرَ كَلْمُهُ، فَسَالَ الدَّمُ مِنْ جُرْحِهِ حَتَّى دَخَلَ خِبَاءَ الْقَوْمِ، فَنَادَوْا: يَا أَهْلَ الْخِبَاءِ مَا هَذَا الَّذِي يَأْتِينَا مِنْ قِبَلِكُمْ، فَنَظَرُوا فَإِذَا لَبَّتُهُ قَدِ انْفَجَرَ مِنْ كَلْمِهِ وَإِذَا الدَّمُ لَهُ هَدِيرٌ.

حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت سعد ؓ کو (جنگ خندق)ہفت اندام کی رگ میں تیر لگ گیا ( اور وہ شدید زخمی ہو گئے )نبی کریمﷺ نے ان کے لیے مسجد میں خیمہ لگوایا تا کہ قریب رہ کر ان کی تیما داری کر سکیں ۔ راوی کہتے ہیں : ان کا زخم بھرنے لگا ۔ تو انہوں نے اللہ تعالی سے یہ دعا کی : اے اللہ ! تو خوب جانتا ہے کہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب کوئی چیز نہیں کہ میں تیرے دین کے لیے ایسے لوگوں سے جہاد کروں جنہوں نے تیرے نبی ﷺ کو جھٹلایا اور اسے (مکہ مکرمہ سے )نکال دیا ۔ اور طرح طرح کی تکا لیف دیں ۔ میر ا خیال ہے کہ تو نے ہمارے اور ان کے درمیان جنگ ختم کر دی ۔ لہذا میرے اس زخم کو جاری کر دے تا کہ میری موت (شہادت) اسی زخم کی وجہ سے ہو جائے ۔ راوی کہتا ہے : وہ اسی حال میں تھے کہ ان کا زخم پھوٹ پڑا ۔ ان کا خون اس قدر بہہ نکلا کہ وہ دوسرے لوگوں کے خیمے میں داخل ہو گیا تو انہوں نے پکار کر پوچھا : اے خیمے والوں ! یہ کیا چیز تمہاری طرف سے ہمارے خیمے میں آ رہی ہے؟ تو انہوں نے دیکھا تو حضرت سعد ؓ کی سینہ زخم کی وجہ سے پھٹ چکا تھا اور ان کا خون تیز ااواز کے ساتھ نکل رہا تھا ۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr · Hadith 1333

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَفعَالِ المُبَاحَۃِ فِی المَسجِدِ غَیرَ الصَّلاَۃِ وَذِکرِاللہِ · حديث 1334

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَهْمِ الْأَنْمَاطِيُّ، نَا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ الشَّيْبَانِيِّ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو، حَدَّثَنَا ابْنُ الدَّيْلَمِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو؛ وَثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُنْقِذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيُّ، ثَنَا أَيُّوبُ -يَعْنِي ابْنَ سُوَيْدٍ- عَنْ أَبِي زُرْعَةَ -وَهُوَ يَحْيَى بْنُ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيُّ- عَنْ أَبِي بُسْرٍ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ دَاوُدَ لَمَّا فَرَغَ مِنْ بُنْيَانِ مَسْجِدِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سَأَلَ اللَّهَ حُكْمًا يُصَادِفُ حُكْمَهُ، وَمُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ، وَلَا يَأْتِي هَذَا الْمَسْجِدَ أَحَدٌ لَا يُرِيدُ إِلَّا الصَّلَاةَ فِيهِ إِلَّا خَرَجَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَمَّا اثْنَتَانِ فَقَدْ أُعْطِيَهُمَا، وَأَنَا أَرْجُو أَنْ يَكُونَ قَدْ أُعْطِيَ الثَّالِثَةَ".

سیدنا عبداللہ بن عمرو نم عاص ؓ کا بیان ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا جب سیلمان بن داود ؑ بیت المقدس کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو انہوں نے اللہ تعالی سے یہ دعا کی کہ وہ انہیں امنے حکم کے موافق حکم عطا فرمائے ، اور ایسی بادشاہت و حکومت عطا فرمائے جو ان کے بعد کسی کو نصیب نہ ہو اور جو شخص بھی اس مسجد میں صرف نماز پڑھنے کی نیت سے آئے تو وہ گناہوں سے اس طرح پاک صاف ہو جائے جس طرح وہ اپنے پیدا ئش کے دن تھا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : پہلی دو دعائیں قبول ہو گئ تھیں اور مجھے امید ہے ان کی تیسری دعا بھی قبول کی جا ئے گی۔

أَرْجُو أَنْ يَكُونَ قَدْ أُعْطِيَ الثَّالِثَةَ". ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أَبِي بُسْرٍ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ، ← أَبِي زُرْعَةَ -وَهُوَ يَحْيَى بْنُ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيُّ- ← ايوب يعني ابن سويد ← إبراهيم بن منقذ بن عبد الله الخولاني ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← ابن الديلمي ← أَبِي زُرْعَةَ الشَّيْبَانِيِّ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو، ← اَیُّوْبُ بْنُ سُوَیْدٍ ← عُبَيد الله بن الجهم الأنماطي، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr · Hadith 1334

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَفعَالِ المُبَاحَۃِ فِی المَسجِدِ غَیرَ الصَّلاَۃِ وَذِکرِاللہِ · حديث 1335

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، نَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ هِشَامًا، نَا مُحَمَّدٌ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ: "مَا لَهُمْ مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ نَارًا كَمَا شَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ".

حضرت علی ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے جنگ احزاب میں فرمایا: اللہ تعالی ان مشرکوں کی قبروں اور ان کے گھروں کو آگ سے بھرے جیسے انہوں نے ہمیں درمیانی نماز سے مشغول کیے رکھا حتی کہ سورج غروب ہو گیا ۔

الصَّلَاةِ الْوُسْطَى حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ". ← يَوْمَ الْأَحْزَابِ: "مَا لَهُمْ مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ نَارًا كَمَا شَغَلُونَا ← النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← عَلِيٍّ، ← عُبَيْدَةُ ← مُحَمَّدٍ ← ھِشَامًا ← الْمُعْتَمِرُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr · Hadith 1335

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَفعَالِ المُبَاحَۃِ فِی المَسجِدِ غَیرَ الصَّلاَۃِ وَذِکرِاللہِ · حديث 1336

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ: "مَلَأَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا كَمَا شَغَلُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى".

حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جنگ خند ق والے دن فرمایا : اللہ تعالی نے ان کافروں کے دل اور ان کی قبروں کو آگ سے بھر دے جیسے انہوں نے ہمیں درمیانی نماز سے مشغول کیے رکھا ۔

عَلِيٍّ، ← زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr · Hadith 1336

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَفعَالِ المُبَاحَۃِ فِی المَسجِدِ غَیرَ الصَّلاَۃِ وَذِکرِاللہِ · حديث 1337

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ؛ وَثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "شَغَلُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى صَلَاةِ الْعَصْرِ، مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ أَوْ قَالَ: بُيُوتَهُمْ نَارًا".

حضرت علی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ان کافروں نے ہمیں درمیانی نماز ، نماز عصر سے مشغول کر دیا تھا، اللہ تعالی نمے ان کی قبروں یا فرمایا: ان کے گھروں کو آگ سے بھر دے ۔ جناب الاشیخ کی روایت میں ہے ان کے گھروں اور ان کی قبروں کو آگ سے بھر دے ، پھر آپ نے (عصر کی نماز ) دو عشائوں کے درمیان پڑھی۔ جناب سلم نے ان الفاظ کا اضافہ کیا ہے۔: مضرب اور عشا کے درمیان (نماز عصر پڑھی)۔

عَلِيٍّ، ← شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ ← مُّسْلِمٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← الْأَعْمَشِ؛ وَثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ← ابْنِ نُمَيْرٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr · Hadith 1337

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَفعَالِ المُبَاحَۃِ فِی المَسجِدِ غَیرَ الصَّلاَۃِ وَذِکرِاللہِ · حديث 1338

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، نَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "الصَّلَاةُ الْوُسْطَى صَلَاةُ الْعَصْرِ".

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : درمیانی نماز ، نماز عصر ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr · Hadith 1338

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَفعَالِ المُبَاحَۃِ فِی المَسجِدِ غَیرَ الصَّلاَۃِ وَذِکرِاللہِ · حديث 1339

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ [144 - ب] نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا هِلَالُ بْنُ بِشْرٍ، نَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، ثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَ الْعِشَاءِ، وَلَا يُحِبُّ الْحَدِيثَ بَعْدَهَا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَرِ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: جَدَبَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّمَرَ بَعْدَ الْعَتَمَةِ.

حضرت ابو برذہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ عشا سے پہلے سونا نا پسند کرتے تھے اور عشا کے بعد گفتگو کرنا پسند نہیں فرماتے تھے امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : جناب شفیق بن عبداللہ کی روایت میں یہ الفاظ ہیں : رسول اللہ ﷺ نے ہمارے لیے عشا کے بعد بات چیت کرنا سخت معیوب قرار دیا۔

أَبِي بَرْزَةَ: ← أَبِي الْمِنْهَالِ، ← خَالِدٌ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، ← هِلَالُ بْنُ بِشْرٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ ب]

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr · Hadith 1339

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَفعَالِ المُبَاحَۃِ فِی المَسجِدِ غَیرَ الصَّلاَۃِ وَذِکرِاللہِ · حديث 1340

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ؛ وَثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا جَرِيرٌ، كِلَاهُمَا عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ. أنا أبو طاهر، نا أبو بكر، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ مَعْمَرٍ يَقُولُ: قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ: يَعْنِي بِالْجَدْبِ الذَّمَّ (1).

امام صاحب اپنی سند کے ساتھ جناب عبدا لصمد سے روایت کرتے ہیں ، وہ فرماتے ہیں :جَدَبَ کا معنی مذمت کرنا ، معیوب قرار دینا ہے ۔

عَبْدُ الصَّمَدِ: يَعْنِي بِالْجَدْبِ الذَّمَّ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← شَقِيقٍ، ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← جَرِيرٌ، كِلَاهُمَا ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ؛ وَثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ← أَبُو بَكْرٍ، نَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr · Hadith 1340

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَفعَالِ المُبَاحَۃِ فِی المَسجِدِ غَیرَ الصَّلاَۃِ وَذِکرِاللہِ · حديث 1341

وَأَخْبَرَنَا الشَّيْخُ الْفَقِيهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْمُسْلِمِ السُّلَمِيُّ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّابُونِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، نَا أَبُو مُوسَى، ثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، نَا الْأَعْمَشُ؛ وَحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ وَهُوَ وَاقِفٌ بِعَرَفَةَ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! جِئْتُ مِنَ الْكُوفَةِ، وَتَرَكْتُ بِهَا رَجُلًا يُمْلِي الْمَصَاحِفَ عَنْ ظَهَرِ قَلْبِهِ. فَغَضِبَ عُمَرُ، وَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَزَالُ يَسْمُرُ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ اللَّيْلَةَ كَذَاكَ فِي الْأَمْرِ مِنْ أُمُورِ الْمُسْلِمِينَ.

جناب ابراہیم اور علقمہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عمر ؓ کے پاس حاضر ہوا جبکہ وہ میدان عرفات میں کھڑے تھے، اس نے کہا : اے امیر المومنین ! میں کوفہ سے آیا ہوں اور میں وہاں ایک ایسے شخص کو چھوڑ کر آیا ہوں جو قرآن مجید کو زبانی لکھواتا ہے تو حضرت عمر ؓ سخت ناراض ہوئے ۔ اور فرمایا : رسول اللہ ﷺ ہمیشہ حضرت ابو بکر ؓ کے گھر مسلمانوں کے مسائل و امور میں رات کے وقت مشورہ کیا کرتے تھے۔

ظَهَرِ قَلْبِهِ. فَغَضِبَ عُمَرُ، ← يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! جِئْتُ مِنَ الْكُوفَةِ، وَتَرَكْتُ بِهَا رَجُلًا يُمْلِي الْمَصَاحِفَ ← جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ وَهُوَ وَاقِفٌ بِعَرَفَةَ، ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَبُو مُوسَى، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← أَبُو طَاهِرٍ، ← الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّابُونِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← الشَّيْخُ الْفَقِيهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْمُسْلِمِ السُّلَمِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr · Hadith 1341

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَفعَالِ المُبَاحَۃِ فِی المَسجِدِ غَیرَ الصَّلاَۃِ وَذِکرِاللہِ · حديث 1342

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَبَرُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو مِنْ هَذَا الْجِنْسِ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُنَا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ حَتَّى يُصْبِحَ مَا يَقُومُ فِيهَا إِلَّا [إِلَى] عُظْمِ صَلَاةٍ. أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، ثَنَاهُ بُنْدَارٌ، ثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو؛ ح وَثَنَا بُنْدَارٌ، ثَنَا عَفَّانُ، ثَنَا أَبُو هِلَالٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِمِثْلِهِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ يُحَدِّثُهُمْ بَعْدَ الْعِشَاءِ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ لِيَتَّعِظُوا مِمَّا قَدْ نَالَهُمْ مِنَ الْعُقُوبَةِ فِي الدُّنْيَا مَعَ مَا أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ مِنَ الْعِقَابِ فِي الْآخِرَةِ لَمَّا عَصَوْا رُسُلَهُمْ وَلَمْ يُؤْمِنُوا، فَجَائِزٌ لِلْمَرْءِ أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا يَعْلَمُ أَنَّ السَّامِعَ يَنْتَفِعُ بِهِ مِنْ أَمْرِ دِينِهِ بَعْدَ الْعِشَاءِ، إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ يَسْمُرُ بَعْدَ الْعِشَاءِ فِي الْأَمْرِ مِنْ أُمُورِ الْمُسْلِمِينَ مِمَّا يَرْجِعُ إِلَى مَنْفَعَتِهِمْ عَاجِلًا وَآجِلًا، دِينًا وَدُنْيَا، وَكَانَ يُحَدِّثُ أَصْحَابَهُ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ لِيَنْتَفِعُوا بِحَدِيثِهِ، فَدَلَّ فِعْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَنَّ كَرَاهَةَ الْحَدِيثِ بَعْدَ الْعِشَاءِ بِمَا لَا مَنْفَعَةَ فِيهِ دِينًا وَلَا دُنْيَا، وَيَخْطِرُ بِبَالِي أَنَّ كَرَاهَتَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بالِاشْتِغَالَ بِالسَّمَرِ، لِأَنَّ ذَلِكَ يُثَبِّطُ عَنْ قِيَامِ اللَّيْلِ، لِأَنَّهُ إِذَا اشْتَغَلَ أَوَّلَ اللَّيْلِ بِالسَّمَرِ ثَقُلَ عَلَيْهِ النَّوْمُ آخِرَ اللَّيْلِ فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ، وَإِنِ اسْتَيْقَظَ لَمْ يَنْشَطْ لِلْقِيَامِ. جُمَّاعُ أَبْوَابِ صَلَاةِ الْخَوْفِ

امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ کی روایت اسی قسم کے متعلق ہے کہ رسول اللہ ﷺ (رات کے وقت)ہمیں بنی اسرائیل کے بارے میں بیان کرتے تھے حتی کہ صبح ہو جاتی آپ اس دوران صرف بڑی نماز ( یعنی فرض نماز ) کے لیے اٹھتے تھے۔ حضرت عمران بن حصین ؓ نبی کریم ﷺ سے اس کی مثل روایت کرتے ہیں ۔ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں ۔ نبی کریم ﷺ صحابہ کرام کو عشا کے بعد بنی اسرائیل کے حالات بیان کیا کرتے تھے۔ تاکہ وہ عبرت و تصحیت حاصل کریں ،بنی اسرائیل کو ملنے والے دنیاوی عذاب سے اس اخروی عذاب سے جو اُن کی رسولوں کی نافرمانی کرنے اور ایمان نہ لانے کی وجہ سے اللہ تعالی نے ان کے لیے تیار رکھا ہے ۔لہذا آدمی کے لیے عشا کے بعد ایسی مفید گفتگو کرنا جائز ہے جس ساممعین کو دینی فائدہ ہو کیو نکہ نبی کریم ﷺ مسلمانوں کے امور میں سے کسی معاملہ میں عشا کے بعد گفتگو کیا کرتے تھے۔ جس سے مسلمانوں کے دین و دنیا جلدی یا تاخیر سے فائدہ ہوتا ۔ آپ اپنے صحابہ کرام کو بنی اسرائیل کے حالات و واقعات بیان کرتے تھے تا کہ وہ آپ کی گفتگو سے مستفید ہو ۔لہذا آپ کے فعل مبارک میں اس بات کی دلیل ہے کہ عشا کے بعد وہ گفتگو نا پسند یدہ ہے جس میں دینی اور دنیا وی کوئی فائدہ نہ ہو ۔ اور میرے خیال میں آپ ﷺ کا عشا کے بعد گفتگو کو نا پسند کرنا اس لیے بھی ہو سکتا ہے کہ یہ نماز تہجد میں سستی اور غفلت کا سبب بنتی ہے ، کیو نکہ جب انسان ابتدائی رات میں گفتگو میں مشغول رہے گا تو رات کے آخری پہر اسے گہری نیند آئے گی تو وہ بیدار نہیں ہو سکے گا ۔ اگر بیدار ہو بھی جائے تو نماز تہجد کے لیے چاق و چونبد نہیں ہو گا۔

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr · Hadith 1342

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ الخَوفِ · حديث 1343

أنا أبو طاهر نا أبو بكر نا محمد بن بشار و أبو موسى محمد بن المثنى قالا حدثنا يحيى بن سعيد ثنا سفيان حدثني الأشعث بن سليم عن الأسود بن هلال عن ثعلبة بن زهدم قال : كنا مع سعيد بن العاص بطبرستان فقال : أيكم صلى مع رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الخوف ؟ فقال حذيفة : أنا قال : فقام حذيفة فصف الناس خلف صفين صفا خلفه وصفا موازي العدو فصلى بالذين خلفه ركعة ثم انصرف هؤلاء مكان هؤلاء وجاء أولئك فصلى بهم ركعة ولم يقضوا هذا لفظ حديث أبي موسى وقال بندار : عن أشعث بن أبي الشعثاء ولم يقل : ولم يقضوا

حضرت ثعلبہ بن زہدم ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم سعید بن غاص ؓ کے ساتھ طبرستان میں تھے تو انہوں نے پوچھا : تم میں سے کس نے رسول اللہ ﷺ لے ساتھ نماز خوف پڑھی ہے ؟ حضرت حذیفہ ؓ نے جواب دیا : میں نے پڑھی ہے ۔حضرت حذیفہ ؓ (نماز پڑھانے کے لیے ) کھڑے ہوئے اور لوگوں نے ان کے پچھے دو صفیں بنائیں ۔ ایک صف ان کے پچھے کھڑی ہو گی اور دوسری صف دشمن کے سامنے سٖ آرا ہو گئ، تو جو لوگ ان کے پچھے کھڑے تھے حضرت حذیفہ ؓ نے انہیں ایک رکعت پڑھائی ، پھر یہ لوگ ان کی جگہ جا کر صف آرا ہو گئے۔ وہ لوگ آئے تو انہیں بھی ایک رکعت پڑھائی ۔ اور انہوں نے (دوسری رکعت ) مکمل نہیں کی۔ جناب ابو الشعثا کی روایت میں یہ الفاظ موجود نہیں کہ انہوں نے (دوسری رکعت ) مکمل نہیں کی۔ ۱۳۴۴۔حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ذی قر و مقام پر نماز (خوف) پڑھائی۔ جناب ابو موسٰی کی روایت میں ہے : حضرت حذیفہ ؓ کی نماز جیسی اور جناب بندرا نے حضرت حذیفہ ؓ کی حدیث جیسی روایت بیان کی اور اس کے آخر میں یہ الفاظ روایت کیئے : اور انہوں نے (دوسری رکعت) مکمل نہیں کی۔

ثَعْلَبَةَ بْنِ زَهْدَمٍ ← الأَسْوَدِ بْنِ هِلاَلٍ ← الأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← محمد بن بشار و أبو موسى محمد بن المثنى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The gates of the prayer of fear · Hadith 1343

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ الخَوفِ · حديث 1344

أنا أبو طاهر نا أبو بكر قال حدثنا يعني محمد و أبو موسى قالا حدثنا يحيى بن سعيد حدثنا سفيان حدثني أبو بكر بن أبي الجهم عن عبيد الله بن عبد الله عن عبد الله بن عباس : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى بذي قرد قال أبو موسى : مثل صلاة حذيفة وذكر بندار الحديث مثل حديث حذيفة وقال في آخره : ولم يقضوا وقال أبو موسى في عقب خبر ابن عباس : قال سفيان

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ذی قر و مقام پر نماز (خوف) پڑھائی۔ جناب ابو موسٰی کی روایت میں ہے : حضرت حذیفہ ؓ کی نماز جیسی اور جناب بندرا نے حضرت حذیفہ ؓ کی حدیث جیسی روایت بیان کی اور اس کے آخر میں یہ الفاظ روایت کیئے : اور انہوں نے (دوسری رکعت) مکمل نہیں کی۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الْجَهْمِ ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← يعني محمد و أبو موسى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The gates of the prayer of fear · Hadith 1344

chevron_left Previous
1…737475…258
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals