Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ فَضَائِلِ المَسَاجِدِ وَبِنَا ئِھَا وَتَظِیمِھَا · حديث 1321

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَبَّاسِ بِبَغْدَادَ -وَأَصْلُهُ بَصْرِيٌّ- ثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْخَزَّازِ، قَالَ، قَالَ أَبُو قِلَابَةَ الْجَرْمِيُّ: انْطَلَقْنَا مَعَ أَنَسٍ نُرِيدُ الزَّاوِيَةَ، قَالَ: فَمَرَرْنَا بِمَسْجِدٍ فَحَضَرَتْ صَلَاةُ الصُّبْحِ، فَقَالَ أَنَسٌ: لَوْ صَلَّيْنَا فِي هَذَا الْمَسْجِدِ؛ فَإِنَّ بَعْضَ الْقَوْمِ يَأْتِي الْمَسْجِدَ الْآخَرَ! قَالُوا: أَيُّ مَسْجِدٍ؟ [143 - أ] فَذَكَرْنَا مَسْجِدًا، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَتَبَاهَوْنَ بِالْمَسَاجِدِ، لَا يَعْمُرُونَهَا إِلَّا قَلِيلًا، أَوْ قَالَ: يَعْمُرُونَهَا قَلِيلًا". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: الزَّاوِيَةُ قَصْرٌ مِنَ الْبَصْرَةِ عَلَى شَبَهٍ مِنْ فَرْسَخَيْنِ.

حضرت ابو قلابہ جرمی بیان کرتے ہیں کہ ہم نے انس ؓ کے ساتھ زاویہ مقام کی طرف جا رہے تھے تو ہم اایک مسجد کے پاس سے گزرے جبکہ صبح کی نماز کا وقت ہو چکا تھا ۔ چنانچہ حضرت انس ؓ نے فرمایا: اگر ہم اس مسجد میں نماز پڑھ لیں (تو بہتر ہے) کیونکہ کچھ لوگ تو دوسری مسجد میں نماز پڑھتے ہیں ۔ انہوں نے پوچھا :کونسی مسجد؟ تو ہم نے ایک مسجد کا ذکر کیا ۔ حضرت انس ؓنے فرمایا: بے شک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگوں پر ایک وقت آے گا کہ وہ مساجد پر فخر کا اظہار کریں گے ۔ وہ اسے آباد نہیں کریں گے مگر بہت تھوڑا ؛ یا فرمایا وہ اسے بہت کم آباد کریں گے۔ امام ابو بکرؒ فرماتے ہیں : زاویہ ، بصرہ سے دو فرسخ کے فاصلے پر ایک محل ہے (جہاں پر حضرت انس ؓ کی زمین اور گھر تھا)

أَيُّ مَسْجِدٍ؟ أ] فَذَكَرْنَا مَسْجِدًا، ← أَنَسٌ: لَوْ صَلَّيْنَا فِي هَذَا الْمَسْجِدِ؛ فَإِنَّ بَعْضَ الْقَوْمِ يَأْتِي الْمَسْجِدَ الْآخَرَ! ← فَمَرَرْنَا بِمَسْجِدٍ فَحَضَرَتْ صَلَاةُ الصُّبْحِ، ← أَبُو قِلَابَةَ الْجَرْمِيُّ: انْطَلَقْنَا مَعَ أَنَسٍ نُرِيدُ الزَّاوِيَةَ، ← أَبِي عَامِرٍ الْخَزَّازِ ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَبَّاسِ بِبَغْدَادَ -وَأَصْلُهُ بَصْرِيٌّ- ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization · Hadith 1321

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ فَضَائِلِ المَسَاجِدِ وَبِنَا ئِھَا وَتَظِیمِھَا · حديث 1322

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، نَا الْمُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يَتَبَاهَى النَّاسُ بِالْمَسَاجِدِ".

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کی نشاینوں میں سے یہ ہے کہ لوگ مساجد کے بارے میں فخر ومباہات کا اظہار کریں گے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← الْمُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization · Hadith 1322

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ فَضَائِلِ المَسَاجِدِ وَبِنَا ئِھَا وَتَظِیمِھَا · حديث 1323

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، نَا حَمَّادٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ؛ وَأَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَبَاهَى النَّاسُ فِي الْمَسَاجِدِ".

حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت قائم نہیں ہو گی حتی کہ لوگ مساجد کی (تعمیر و تزئین) میں فخر و مباہات کرنے لگیں۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَنَسٍ، وَأَيُّوبَ، ← قَتَادَةَ ← حَمَّادٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization · Hadith 1323

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ فَضَائِلِ المَسَاجِدِ وَبِنَا ئِھَا وَتَظِیمِھَا · حديث 1324

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ؛ ح وَثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ النَّسَوِيُّ، نَا يَعْقُوبُ -يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ- ثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ أَخْبَرَهُ: أَنَّ الْمَسْجِدَ كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَبْنِيًّا بِاللَّبِنِ، وَسَقْفَهُ الْجَرِيدُ، وَعُمُدَهُ خَشَبُ النَّخْلِ، فَلَمْ يَزِدْ فِيهِ أَبُو بَكْرٍ شَيْئًا، وَزَادَ فِيهِ عُمَرُ، وَبَنَاهُ عَلَى بُنْيَانِهِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّبِنِ وَالْجَرِيدِ، وَأَعَادَ عُمُدَهُ خَشَبًا، ثُمَّ غَيَّرَهُ عُثْمَانُ، فَزَادَ فِيهِ زِيَادَةً كَثِيرَةً، وَبَنَى جِدَارَهُ بِالْحِجَارَةِ الْمَنْقُوشَةِ وَالْقِصَّةِ، وَجَعَلَ عُمُدَهُ حِجَارَةً مَنْقُوشَةً، وَسَقْفَهُ بِالسَّاجِ. قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى: وَعُمُدَهُ خَشَبُ النَّخْلِ، وَلَمْ يَذْكُرِ الْقِصَّةَ.

حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ مسجد نبوی رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں ایٹنوں سے بنی ہوئی تھی، اس چھت کھجور کی ٹہنیوں سے ڈالی گئ تھی اور اس کے ستون کھجور کی لکڑی کے تھے۔ حضرت ابو بکر ؓ نے (اپنے عہد میں) کچھ اضافہ نہیں کیا ۔ اور حضرت عمر ؓ نے اس میں اضافہ ( کر کے اسے کشادہ اور وسیع) کیا۔ اور اسے رسول اللہﷺ کے عہد مبارک کی بنیادوں پر اینٹوں اور کھجو ر کی شاخوں سے تعمیر کیا اور اس کے ستون لکڑی سے دوبارہ بنوائے۔پھر حضرت عثمان ؓ نے اس میں تبدیلی کی اور کافی اضافہ کیا۔ انہوں نے اس کی دیواریں منقش پتھروں اور چونے سے بنوائیں ، اور اس کے ستون بھی منقش پتھروں سے تعمیر کرائے، اور اس کی چھت ساگوان کی عمدہ لکڑی سے ڈالی۔ محمد بن یحیی ٰ کی روایت میں الفاظ اس طرح ہیں : اور اس کے ستون کھجور کی لکڑی کے بنوائے ۔ اور انہوں نے چونے کا ذکر نہیں کیا ۔

نَافِعٍ ← صَالِحٍ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ ← عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ النَّسَوِيُّ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization · Hadith 1324

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ فَضَائِلِ المَسَاجِدِ وَبِنَا ئِھَا وَتَظِیمِھَا · حديث 1325

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْبِسْطَامِيُّ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي فُدَيْكٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ حَنْطَبٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلَا يَجْلِسْ حَتَّى يَرْكَعَ رَكْعَتَيْنِ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا بَابٌ طَوِيلٌ خَرَّجْتُهُ فِي "كِتَابِ الْكَبِيرِ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَهَذَا الْأَمْرُ أَمْرُ فَضِيلَةٍ لَا أَمْرُ فَرِيضَةٍ، وَالدَّلِيلُ عَلَى ذَلِكَ خَبَرُ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا ذَكَرَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ، قَالَ الرَّجُلُ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا؟ قَالَ: "لَا. إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ"، فَأَعْلَمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ مَا سِوَى الْخَمْسِ مِنَ الصَّلَوَاتِ فَتَطَوُّعٌ لَا فَرْضٌ.

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو دو رکعت پڑھے بغیر نہ بیٹھے: امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : یہ ایک طویل باب ہے میں نے اسے کتاب الکبیر میں بیان کیا ہے ۔ امام ابو بکرؒ فرماتے ہیں ۔ یہ حکم اور فضلیت ثواب کے لیے ہیں ، فرض و جواب کے لیے ۔ اس کی دلیل حضرت طلحہ بن عبداللہؓ کی وہ حدیث ہے جو وہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔ جب آپ نے پانچ نمازوں کی فرضیت بیان کی تو ایک شخص نے سوال کیا : کیا مجھ پر ان کے علاوہ بھی کوئی نماز فرض ہے؟ آپ نے فرمایا : نہیں ، مگر یہ کہ تم نفل نماز پڑھو ، اسی طرح آپ نے بیان فرما دیا کہ نماز پنچگانہ کے علاوہ نفل نمازیں ہیں ، فرض نہیں ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْمُطَّلِبِ بْنِ حَنْطِبٍ ← كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي فُدَيْكٍ الْمَدَنِيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْبِسْطَامِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization · Hadith 1325

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ فَضَائِلِ المَسَاجِدِ وَبِنَا ئِھَا وَتَظِیمِھَا · حديث 1326

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى وَأَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ يُوسُفُ: ابْنِ الْمُسَيَّبِ الْبَجَلِيُّ، وَقَالَا: قَالَ: ثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلَكِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَقِيَ عَبْدَ اللَّهِ رَجُلٌ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ مَسْعُودٍ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَهُوَ يَقُولُ: "إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يَمُرَّ الرَّجُلُ فِي الْمَسْجِدِ لَا يُصَلِّي فِيهِ رَكْعَتَيْنِ. وَأَنْ لَا يُسَلِّمَ الرَّجُلُ إِلَّا عَلَى مَنْ يَعْرِفُ، وَأَنْ يُبَرِّدَ الصَّبِيَّ الشَّيْخُ". قَالَ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

جناب ابو جعد بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عبداللہ ؓ کو ملا تو اس نے کہا :اے ابن مسعود ! علیک۔ تو حضرت عبداللہ نے فرمایا : اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : بے شک قیا مت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ آدمی مسجد سے گزرے گا اور اس میں دو رکعات بھی ادا نہیں کرے گا ۔ اور آدمی جاننے والوں ہی کو سلام کرے گا ۔ اور بچہ بزرگوں کو حقیر اور کم تر سمجھے گا ۔ جناب احمد بن عثمان کی روایت میں ہے : حضرت عبداللہ نے فرمایا : رسول اللہ نے فرمایا :

السلام عليك يا ابن مسعود ← لَقِيَ عَبْدَ اللَّهِ رَجُلٌ، ← أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← قَتَادَةَ ← الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ← يُوسُفُ: ابْنِ الْمُسَيَّبِ الْبَجَلِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَکِيمٍ الْأَوْدِيُّ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization · Hadith 1326

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ فَضَائِلِ المَسَاجِدِ وَبِنَا ئِھَا وَتَظِیمِھَا · حديث 1327

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، نَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثَنَا الْأَفْلَتُ بْنُ خَلِيفَةَ، حَدَّثَتْنِي جَسْرَةُ بِنْتُ دَجَاجَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ قَالَتْ: جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوُجُوهُ بُيُوتِ [143 - ب] أَصْحَابِهِ شَارِعَةٌ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: "وَجِّهُوا هَذِهِ الْبُيُوتَ عَنِ الْمَسْجِدِ" ثُمَّ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَصْنَعِ الْقَوْمُ شَيْئًا، رَجَاءَ أَنْ يَنْزِلَ لَهُمْ فِي ذَلِكَ رُخْصَةٌ؛ فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ بَعْدُ، فَقَالَ: "وَجِّهُوا هَذِهِ الْبُيُوتَ عَنِ الْمَسْجِدِ؛ فَإِنِّي لَا أُحِلُّ الْمَسْجِدَ لِحَائِضٍ وَلَا جُنُبٍ". جُمَّاعُ أَبْوَابِ الْأَفْعَالِ الْمُبَاحَةِ فِي الْمَسْجِدِ غَيْرِ الصَّلَاةِ، وَذِكْرِ اللَّهِ

حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں : رسول اللہ ﷺ مسجد میں تشر یف لائے اور آپ کے صحابہ کرام کے گھروں کے رخ مسجد کی طرف تھے۔ تو آپ نے فرمایا: ان گھروں کے رخ مسجد کی طرف سے تبدیل کر دو ۔ پھر نبی کریم ﷺ مسجد میں داخل ہوئے تو صحابہ نے ابھی تک کچھ تبدیلی نہیں کی تھی اس امید پر کہ اس سلسلے میں ان کے لیے رخصت نازل ہو جائے گی ۔ آپ نے پھر فرمایا : ان گھروں کے دروازے مسجد سے (دوسری طرف) موڑ دو: بے شک میں جنبی شخص اور حائضہ عورت کے لیے مسجد کو حلال قرار نہیں دیتا ۔

عَائِشَةَ ← الْأَفْلَتُ بْنُ خَلِيفَةَ، حَدَّثَتْنِي جَسْرَةُ بِنْتُ دَجَاجَةَ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← مُعَلَّی بْنُ أَسَدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization · Hadith 1327

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَفعَالِ المُبَاحَۃِ فِی المَسجِدِ غَیرَ الصَّلاَۃِ وَذِکرِاللہِ · حديث 1328

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ؛ ح وَثَنَا الحسن بن محمد الزَّعْفَرَانِيُّ، نَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَا: ثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ: أَنَّ وَفْدَ ثَقِيفٍ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَهُمُ الْمَسْجِدَ حَتَّى يَكُونَ أَرَقَّ لِقُلُوبِهِمْ.

حضرت عثمان بن ابی العاص ؓ سے مروی ہے کہ ثقیف قبیلہ کا ایک وفد رسول اللہﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا تو آپ نے ان کو مسجد نبوی میں ٹھہرایا تاکہ یہ چیز ان کے دلوں کو خوب نرم کر دیں (اور وہ اسلام قبول کر لیں)۔

الْحَسَنِ، ← حُمَيْدٍ ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr · Hadith 1328

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَفعَالِ المُبَاحَۃِ فِی المَسجِدِ غَیرَ الصَّلاَۃِ وَذِکرِاللہِ · حديث 1329

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ؛ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ فِي قَوْلِهِ [تَعَالَى]: (إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَذَا) [التوبة: 28] قَالَ: إِلَّا أَنْ يَكُونَ عَبْدًا أَوْ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ.

جناب ابو زبیر بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سید نا جابر بن عبداللہ ؓ کو اللہ تعالی کے اس فرمان(إِنَّمَا الْمُشْرِ کُوْنَ نَجَسٌ فَلاَ یَقْرَبُوْا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِھِمْ ھٰذَا)(التوبۃ:28)"بلا شبہ مشرکین پلید ہیں ، لہذا وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب نہ آئیں ۔ کی تفسیر کرتے ہوئے سنا ، انہوں نے فرمایا : مگر یہ کہ وہ غلام ہو یا اہل ذمہ کا کوئی فرد ہو (تو وہ مسجد حرام میں داخل ہو سکتا ہے )

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr · Hadith 1329

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَفعَالِ المُبَاحَۃِ فِی المَسجِدِ غَیرَ الصَّلاَۃِ وَذِکرِاللہِ · حديث 1330

أنا أبو طاهر، نا أبو بكر، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نَا يَحْيَى، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كُنْتُ أَبِيتُ فِي الْمَسْجِدِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَعْزَبُ.

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں مسجد نبو ی میں رات کو سویا کرتا تھا حالانکہ میں کنوارا تھا۔

كُنْتُ أَبِيتُ فِي الْمَسْجِدِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ وَأَنَا أَعْزَبُ. ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr · Hadith 1330

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَفعَالِ المُبَاحَۃِ فِی المَسجِدِ غَیرَ الصَّلاَۃِ وَذِکرِاللہِ · حديث 1331

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَ أَحَدُنَا يَمُرُّ فِي الْمَسْجِدِ وَهُوَ جُنُبٌ مُجْتَازًا.

حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی شخص جنابت کی حالت میں مسجد میں چل کے گزر جاتا تھا ۔

كَانَ أَحَدُنَا يَمُرُّ فِي الْمَسْجِدِ وَهُوَ جُنُبٌ مُجْتَازًا. ← جَابِرٍ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← هُشَيْمٌ ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr · Hadith 1331

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَفعَالِ المُبَاحَۃِ فِی المَسجِدِ غَیرَ الصَّلاَۃِ وَذِکرِاللہِ · حديث 1332

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَادَةَ الْوَاسِطِيُّ، نَا أَبُو أُسَامَةَ، ثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ وَلِيدَةً سَوْدَاءَ كَانَتْ لِحَيٍّ مِنَ الْعَرَبِ، فَأَعْتَقُوهَا فَكَانَتْ عِنْدَهُمْ، فَخَرَجَتْ صَبِيَّةٌ لَهُمْ يَوْمًا عَلَيْهَا وِشَاحٌ مِنْ سُيُورٍ حُمْرٍ، فَوَقَعَ مِنْهَا، فَمَرَّتِ الْحُدَيَّاةُ، فَحَسِبَتْهُ لَحْمًا فَخَطِفَتْهُ، فَطَلَبُوهُ فَلَمْ يَجِدُوهُ، فَاتَّهَمُوهَا بِهِ، فَفَتَّشُوهَا حَتَّى فَتَّشُوا قُبُلَهَا، قَالَ: فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ مَرَّتِ الْحُدَيَّاةُ فَأَلْقَتِ الْوِشَاحَ، فَوَقَعَ بَيْنَهُمْ، فَقَالَتْ لَهُمْ: هَذَا الَّذِي اتَّهَمْتُمُونِي بِهِ وَأَنَا مِنْهُ بَرِيئَةٌ، وَهَا هُوَ ذِي كَمَا تَرَوْنَ، فَجَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَسْلَمَتْ، فَكَانَ لَهَا فِي الْمَسْجِدِ خِبَاءٌ، أَوْ حِفْشٌ. قَالَتْ: فَكَانَتْ تَأْتِيَنِي فَتَجْلِسُ إِلَيَّ، فَلَا تَكَادُ تَجْلِسُ مِنِّي مَجْلَسَةً إِلَّا قَالَتْ: وَيَوْمُ الْوِشَاحِ مِنْ تَعَاجِيبِ رَبِّنَا ... إِلَّا أَنَّهُ مِنْ بَلْدَةِ الْكُفْرِ أَنْجَانِي فَقُلْتُ لَهَا: مَا بَالُكِ لَا تَجْلِسِينَ مِنِّي مَجْلِسًا إِلَّا قُلْتِ هَذَا؟ قَالَتْ: فَحَدَّثَتْنِي الْحَدِيثَ. قَدْ خَرَّجْتُ ضَرَبَ الْقِبَابِ فِي الْمَسَاجِدِ لِلِاعْتِكَافِ فِي كِتَابِ الِاعْتِكَافِ.

حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ ایک سیاہ فام عورت کسی عربی قیبلے کی لونڈی تھی ۔ انہوں نے اسے آزاد کر دیا اور وہ ان کے ساتھ ہی رہتی تھی ۔ ایک روز ان کی ایک لڑکی گھر سے باہر گئ۔ اس سرخ کے چمڑے کا کمر بند ہار پہنا ہوا تھا ۔ تو اس ک اوہ کمر بند ہار وہ گر گیا ، وہاں سے ایک چیل گزری تو اس نے اسے گوشت سمجھ کر اچک لیا (اور چلی گی) قبیلہ والوں نے اسے تلاش کیا مگر انہیں کمر بند ہار نہ ملا انہوں نے اس کی چوری کا الزام اس لونڈی پر لگا دیا ۔ پھر اس کی تلاشی لی حتی کہ اس کی شرم گاہ میں بھی تلاش کیا گیا۔ وہ اسی تلاش اور تحقیق میں تھے کہ چیل وہاں سے گزری تو اس نے وہ کمر بند ہار وہاں پر پھینک دیا ۔ وہ ہار ان کے درمیان آ کر گر پڑا تو اس لونڈی نے ان کو کہا : یہی وہ ہار ہے جس کا الزام تم نے مجھ پر لگایا تھا حالانکہ میں اس سے بلکل بری تھی ۔ اور اب وہ تمہارے سامنے پڑا ہے پھر وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر مسلمان ہو گی۔ تو اس کا خیمہ یا جھو نپڑی مسجد میں (لگا دی گئ) تھی، حجرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں : وہ میرے پاس آ کر بیٹھتی وہ یہ شعر پڑھتی:وَیَوْمَ الْوِشَاحِ مِنْ تَعَاجِیْبِ رَبَّنَا إِلَّا أَنَّہُ مِنْ بَلْدَۃِ الْکُفْرِ أَنْجَانِیْ" اور کمر بند ہار کی (گمشدگی اور باز یابی) کا دن میرے رب کے عجائبات میں سے ہے ، مگر یہ کہ اس نے مجھے سر زمین کفر سے نجات عطا فر ما دی۔ میں نے اس سے کہا : کیا وجہ ہے تم جب بھی میرے پاس بیٹھتی ہو یہ شعر پڑھتی ہو ؟ تو اس نے مجھے یہ واقعہ بیان کیا ۔ میں نے اعتکاف کے لیے مساجد میں گنبد نما خیمے لگانے کے متعلق احادیث کتاب الا عتکاف میں بیان کی ہیں۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَةَ الْوَاسِطِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr · Hadith 1332

chevron_left Previous
1…727374…258
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden22. The groups of the gates of obligatory travel23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness24. The congregation of the gates of prayer on the rows25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr37. The gates of the prayer of fear38. Collections of the gates of an eclipse prayer39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals