Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ سُترَۃِ المُصَلِّی · حديث 842

أنا أبو طاهر نا أبو بكر نا إسحاق بن إبراهيم بن حبيب بن الشهيد نا عمر بن عبيد الطنافسي عن سماك بن حرب عن موسى بن طلحة عن أبيه قال : كنا نصلي والدواب تمر بين أيدينا فسألنا النبي صلى الله عليه وسلم فقال : مثل آخرة الرحل يكون بين يدي أحدكم فلا يضره ما مر بين يديه

" جناب موسیٰ بن طلحہ اپنے والد گرامی سے بیان کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں : " ہم اس حال میں نماز پڑھا کرتے تھے کہ چوپائے ہمارے سامنے سے گزرتے رہتے تھے، تو ہم نے نبی اکرم ﷺ سے اس کے متعلق پوچھا، تو آُ ﷺ نے فرمایا: " تم میں سے کسی شخص کے سامنے کجاوے کی لکڑی کے برابر کوئی چیز ہو تو آگے سے گزرنے والی چیز اسے نقصان نہیں دے گی۔ "

كُنَّا نُصَلِّي وَالدَّوَابُّ تَمُرُّ بَيْنَ أَيْدِينَا، فَسَأَلْنَا النَّبِيَّ ← أَبِيهِ ← مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of the prayer jacket · Hadith 842

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ سُترَۃِ المُصَلِّی · حديث 843

أنا أبو طاهر نا أبو بكر نا أبو موسى نا عبد الرحمن ثنا إسرائيل عن سماك عن موسى بن طلحة عن أبيه : عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : ليجعل أحدكم بين يديه مثل مؤخرة الرحل ثم لا يضره ما مر بين يديه قال أبو بكر : ففي قوله صلى الله عليه وسلم : مثل مؤخرة الرحل يكون بين يدي أحدكم ثم لا يضره ما مر بين يديه دلالة واضحة إذا لم يكن بين يديه مثل مؤخرة الرحل ضره مرور الدواب بين يديه والدواب التي تضر مرورها بين يديه هي الدواب التي أعلم النبي صلى الله عليه وسلم أنها تقطع الصلاة وهو الحمار والكلب الأسود على ما أعلم المصطفى صلى الله عليه وسلم لا غيرهما من الدواب التي لا تقطع الصلاة

جناب موسیٰ بن طلحہ کے والد محترم نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ آُ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کسی شخص کو چاہیے کہ وہ اپنے سامنے کجاوے کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز بطور سترہ رکھ لے، پھر اسے اپنے سامنے سے گزرنے والی چیزیں ضرر نہیں دیں گی ۔ " امام ابو بکر رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں : "اآپ کے اس فرمان : " کجاوے کی پچحلی لکڑی کے برابر کوئی چیز جب تم میں سے کسی شخص کے سامنے ہو گی تو اسے اپنے آگے سے گزرنے والی چیز نقصان نہیں دے گی۔" میں واضح دلیل ہے کہ جب اس کے سامنے کجاوے کی لکڑی کے برابر سترہ نہیں ہو گا تو اسے اپنے سامنے سے گزرنے والے چوپائے نقصان دیں گے۔ اور وہ چوپائے جب کا اس کے سامنے سے گزرنا نقصان دہ ہے ، وہ وہی چاپائے ہیں جن کے بارے میں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے کہ وہ نماز توڑ دیتے ہیں ، اور وہ گدھا اور سیاہ کتا ہیں ، جیسا کہ مصطفیٰ ﷺ نے فرمایاہے ، ان کے علاوہ دیگر چوپائے مراد نہیں ہیں جو نماز نہیں کاٹتے۔

أَبِيهِ ← مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، ← سِمَاكٍ، ← اِسْرَائِیْلُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← أَبُو مُوسَى، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of the prayer jacket · Hadith 843

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ سُترَۃِ المُصَلِّی · حديث 844

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو مُوسَى، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّهُ كَانَ لَهَا ثَوْبٌ فِيهِ تَصَاوِيرُ مَمْدُودَةٌ إِلَى سَهْوَةٍ، فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَيْهِ. فَقَالَ: "أَخِّرِيهِ عَنِّي". فَأَخَذَتْهُ فَجَعَلَتْهُ وَسَائِدَ. جُمَّاعُ أَبْوَابِ الْكَلَامِ الْمُبَاحِ فِي الصَّلَاةِ وَالدُّعَاءِ وَالذِّكْرِ، وَمَسْأَلَةِ الرَّبِّ عَزَّ وَجَلَّ وَمَا يُضَاهِي هَذَا وَيُقَارِبُهُ

حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں : " ان کے پاس تصاویر والا کپڑا تھا جو دریچے پر پھیلا ہوا تھا، نبی کریم اسے سترہ بنا کر نماز پڑھا کرتے تھے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: یہ کپڑہ مجھ سے دور کر دو ، لہٰذا میں نے اس کے تکیے بنا لیے۔"

الْقَاسِمِ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو مُوسَى، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of the prayer jacket · Hadith 844

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الکَلَامِ المُبَاحِ فِی الصَّلاَۃِ وَالدُّعَاءِ وَالذِّکرِ، وَمَساَلَۃِ الرَّبِّ عَذَّوَجَلَّ وَمَا یُضَاھِی ھٰذَا وَیُقَارِبُہُ · حديث 845

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثَنَا أَبِي وَشُعَيْبٌ قَالَا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ؛ أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلِّمْنِي دُعَاءً أَدْعُو بِهِ فِي صَلَاتِي.

" حضرت ابو بکر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی : مجھے کوئی ایسی دعا سکھا دیں جو میں اپنی نماز میں مانگا کروں۔"

لِرَسُولِ اللَّهِ عَلِّمْنِي دُعَاءً أَدْعُو بِهِ فِي صَلَاتِي. ← أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ؛ أَنَّهُ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي الْخَيْرِ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← اللَّيْثُ ← أَبِي وَشُعَيْبٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance · Hadith 845

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الکَلَامِ المُبَاحِ فِی الصَّلاَۃِ وَالدُّعَاءِ وَالذِّکرِ، وَمَساَلَۃِ الرَّبِّ عَذَّوَجَلَّ وَمَا یُضَاھِی ھٰذَا وَیُقَارِبُہُ · حديث 846

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَاهُ يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ وَابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يَقُولُ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلِّمْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ! دُعَاءً أَدْعُو بِهِ فِي صَلَاتِي وَفِي بَيْتِي. قَالَ: "قُلِ: اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا، وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ، وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ".

حضرت عبداللہ بن عمر و بن عاص فرماتے ہیں کہ ابو بکر صدیق ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ ! مجھے کوئی ایسی دعا سکھا دیجیے جو میں اپنی نماز اور اپنے گھر میں مانگا کروں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تم یہ دعا مانگا کرو:اللھُمَّ إِنّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ ظُلْمًا وَّلاَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ إِلَّا أَنْتَ ، فَاغْفِرُ لِیْ مَغْفِرۃً مِّنْ عِنْدِکَ وَارْحَمْنِیْ إِنَّکَ أَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ۔ اے اللہ بے شک میں نے اپنی جان پر بہت ظلم کیے ہیں اور تیرے سوا گناہوں کو معاف کرنے والا کوئی نہیں ہے ، لہٰذا تو اپنے پاس سے مجھے مغفرت و بخشش عطا فرما اور مجھ پر رحم فرما، بے شک تو بہت زیادہ بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔"

لِرَسُولِ اللَّهِ عَلِّمْنِي ← إِنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أَبِي الْخَيْرِ أَنَّهُ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ وَابْنُ لَهِيعَةَ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَبُو بَكْرٍ، نَاهُ يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ، ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance · Hadith 846

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الکَلَامِ المُبَاحِ فِی الصَّلاَۃِ وَالدُّعَاءِ وَالذِّکرِ، وَمَساَلَۃِ الرَّبِّ عَذَّوَجَلَّ وَمَا یُضَاھِی ھٰذَا وَیُقَارِبُہُ · حديث 847

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ (إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ) إِلَى آخِرِهَا، مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةً إِلَّا قَالَ: "سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي".

حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں : جب سورۃ ( اذ جاء نصر اللہ ولفتح) آخر تک نازل ہوئی تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو ہر نماز میں یہ تسبیح پڑھتے ہوئے سنا: سُبْحَانَکَ اللھُمَّ وَبِحَمْدِکَ ، اللھُمّ اغْفِرْلِیْ۔" اے اللہ! تو پاک ہے ساتھ اپنی تعریفوں کے، اے اللہ! مجھے معاف فرما۔"

عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← مُّسْلِمٍ ← الْاَعْمَشِ ← ابْنِ نُمَيْرٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance · Hadith 847

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الکَلَامِ المُبَاحِ فِی الصَّلاَۃِ وَالدُّعَاءِ وَالذِّکرِ، وَمَساَلَۃِ الرَّبِّ عَذَّوَجَلَّ وَمَا یُضَاھِی ھٰذَا وَیُقَارِبُہُ · حديث 848

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ آدَمَ، ثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ [97 - ب] الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كُنَّا نَغْدُو إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَجِيءُ الرَّجُلُ وَتَجِيءُ الْمَرْأَةُ فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ أَقُولُ إِذَا صَلَّيْتُ؟ قَالَ: "قُلِ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَاهْدِنِي، وَعَافِنِي، وَارْزُقْنِي، فَقَدْ جُمِعَ لَكَ دُنْيَاكَ وَآخِرَتُكَ".

حضرت ابو مالک اشجعی اپنے والد گرامی سے روایت کرتے ہیں ، وہ فرماتے ہیں : ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں صبح کے وقت حاضر ہوئے چنانچہ مردو خواتین آتے اور عرض کرتے : اے اللہ کے رسول ! جب میں نماز پڑھوں تو کیسے دعا مانگو؟ آپ فرماتے اس طرح مانگا کرو: اللھُمَّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَاھْدِنِیْ وَعَافِنِیْ وَراْزُقْنِیْ،" اے اللہ! مجھے معاف فرما ، مجھ پر رحم فرما، مجھے ہدایت عطا کر، مجھے عافیت سے نواز دےاور مجھے رزق عطا فرما۔"" تو تیرے لیے تیری دنیا اور آخرت ( کی خیر و بھلائی )جمع کر دی جائے گی۔"

كُنَّا نَغْدُو إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَيَجِيءُ الرَّجُلُ وَتَجِيءُ الْمَرْأَةُ، فَيَقُولُ: ← أَبِيهِ ← أَبِي مَالِكٍ ب] الْأَشْجَعِيِّ، ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ آدَمَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance · Hadith 848

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الکَلَامِ المُبَاحِ فِی الصَّلاَۃِ وَالدُّعَاءِ وَالذِّکرِ، وَمَساَلَۃِ الرَّبِّ عَذَّوَجَلَّ وَمَا یُضَاھِی ھٰذَا وَیُقَارِبُہُ · حديث 849

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، نَا ابْنُ عُلَيَّةَ؛ ح وَثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي بَعْضِ صَلَاتِهِ: "اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا". فَلَمَّا انْصَرَفَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا الْحِسَابُ الْيَسِيرُ؟ قَالَ: "يَنْظُرُ فِي كِتَابِهِ، وَيَتَجَاوَزُ لَهُ عَنْهُ. إِنَّهُ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ يَوْمَئِذٍ يَا عَائِشَةُ هَلَكَ. وَكُلُّ مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ يُكَفِّرُ اللَّهُ بِهِ عَنْهُ حَتَّى الشَّوْكَةُ تَشُوكُهُ". جَمِيعُهُمَا لَفْظًا وَاحِدًا.

حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو آپ کی کسی نماز میں یہ دےا مانگتے ہوئے سنا: " اللھُمَّ حَاسِبْنِیْ حِسَاباً یَّسِیْرَا"(اے اللہ! مجھ سےا ٓسان حساب لینا پھر جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول!آسان حساب کیسے ہوگا؟ آپ نے فرمایا: " بندے کے اعمال نامے کو دیکھ کر( اس کے گناہوں سے) در گزر کیا جائے گا۔ کیونکہ اے عائشہ ! اس دن جس سے تفصیلی حساب لیا گیا وہ ہلاک ہو جائے گا۔ اور مومن کو جو بھی تکلیف پہنچتی ہے ، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس کے گناہ معاف فرما دیتے ہیں ، حتی کہ وہ کانٹا جو اسے چبھتا ہے ، ( وہ بھی گنایون کا کفارہ بن جاتا ہے) " دونوں راویوں نے ایک جیسے الفاظ بیان کیے ہیں ۔

فِي بَعْضِ صَلَاتِهِ: "اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا". فَلَمَّا انْصَرَفَ، قُلْتُ: ← رَسُولِ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← إِسْمَاعِيلُ ← وَثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance · Hadith 849

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الکَلَامِ المُبَاحِ فِی الصَّلاَۃِ وَالدُّعَاءِ وَالذِّکرِ، وَمَساَلَۃِ الرَّبِّ عَذَّوَجَلَّ وَمَا یُضَاھِی ھٰذَا وَیُقَارِبُہُ · حديث 850

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، ثَنَا وَكِيعٌ، ثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ الْيَمَامِيُّ؛ وَثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ، ثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! عَلِّمْنِي كَلِمَاتٍ أَدْعُو بِهِنَّ فِي صَلَاتِي. قَالَ: "سَبِّحِي اللَّهَ عَشْرًا، وَاحْمَدِيهِ عَشْرًا، وَكَبِّرِيهِ عَشْرًا، ثُمَّ سَلِيهِ حَاجَتَكِ، يُقَلْ (1) نَعَمْ نَعَمْ".

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ام سلیم ؓ رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ر ہوئیں اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! مجھے کچھ کلمات سکھا دیں جو میں اپنی نماز میں بطور دعا پڑھو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: دس مرتبہ سُبْحَانَ اللہِ دس مرتبہاَلْحَمْدُلِلہِ اور دس مرتبہ اَللہُ اَکْبَرُپڑھ لیا کرو، پگر اپنی حاجت اور ضرورت کا سوال کرو تو وہ فرمائے گا: ہاں ، ہاں ( تمہاری دعا اور التجا قبول ہے)۔

جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَتْ: ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← وَكِيعٌ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ الْيَمَامِيُّ؛ وَثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ، ← وَكِيعٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance · Hadith 850

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الکَلَامِ المُبَاحِ فِی الصَّلاَۃِ وَالدُّعَاءِ وَالذِّکرِ، وَمَساَلَۃِ الرَّبِّ عَذَّوَجَلَّ وَمَا یُضَاھِی ھٰذَا وَیُقَارِبُہُ · حديث 851

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ثَنَا أَبُو خَالِدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "إِنِّي أُرِيتُكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ كَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ" قَالَتْ عَمْرَةُ: قَالَتْ عَائِشَةُ: فَكُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي صَلَاتِهِ: "اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ".

حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: " مجھے تم دکھائے گئے ہو کہ تم قبروں میں دجال کے فتنے کی طرح آزمائے جارہے ہو۔" حضرت عمرہ ؓ کہتی ہیں کہ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں : تو میں رسول اللہ ﷺ کو اپنی نماز میں یہ دعا مانگتے ہوئے سنا کرتی تھی۔"اللھُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ۔": اے اللہ! میں جہنم کے عذاب اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔

فِي صَلَاتِهِ: "اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ". ← عَائِشَةُ: فَكُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ ← عَمْرَةَ ← "إِنِّي أُرِيتُكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ كَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ" ← رَسُولِ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو خَالِدٍ؛ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance · Hadith 851

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الکَلَامِ المُبَاحِ فِی الصَّلاَۃِ وَالدُّعَاءِ وَالذِّکرِ، وَمَساَلَۃِ الرَّبِّ عَذَّوَجَلَّ وَمَا یُضَاھِی ھٰذَا وَیُقَارِبُہُ · حديث 852

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنَّ أَبَاهُ وَشُعَيْبًا أَخْبَرَاهُمْ، قَالَا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو فِي صَلَاتِهِ: "اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ". قَالَتْ عَائِشَةُ، فَقَالَ قَائِلٌ: مَا أَكْثَرَ مَا تَسْتَعِيذُ مِنَ الْمَغْرَمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَقَالَ: "إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَرِمَ حَدَّثَ فَكَذَبَ، وَوَعَدَ فَأَخْلَفَ".

حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی نماز میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے: "اللہُمَّ إِنَّیْ أَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَالْمَمَاتِ، اللھُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُبِکَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ"" (اے للہ ! میں عذاب قبر سے تیری پناہ میں آتا ہوں، اور میں دجال کے فتنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اور میں زندگی اور موت کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، اے اللہ! میں گناہ میں ملوث ہونے، قرض میں پھنسنے سے تیری پناہ میں آتا ہوں ۔" حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں : ایک کہنے والے نے کہا: اے اللہ کے رسول ! آپ قرض سے کس قدر زیادہ پناہ مانگتے ہیں ؟ بے شک آدمی جب مقروض ہو جاتا ہے تو بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے۔"

أَبُو عَبْدِ الْحَكَمِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance · Hadith 852

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الکَلَامِ المُبَاحِ فِی الصَّلاَۃِ وَالدُّعَاءِ وَالذِّکرِ، وَمَساَلَۃِ الرَّبِّ عَذَّوَجَلَّ وَمَا یُضَاھِی ھٰذَا وَیُقَارِبُہُ · حديث 853

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ- ثَنَا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ؛ ح وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ؛ ح وَثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَنْصُورٍ السُّلَيْمِيُّ، نَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ؛ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، ثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، ثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ -يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ- عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: كَانَ قِتَالٌ بَيْنَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ أَتَاهُمْ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ، ثُمَّ قَالَ لِبِلَالٍ: "يَا بِلَالُ! إِذَا حَضَرَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ وَلَمْ آتِ فَمُرْ أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ". فَلَمَّا حَضَرَتِ الْعَصْرُ أَذَّنَ بِلَالٌ، ثُمَّ أَقَامَ، ثُمَّ قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: تَقَدَّمْ [98 - أ] فَتَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ فَدَخَلَ فِي الصَّلَاةِ، ثُمَّ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَشُقُّ النَّاسَ حَتَّى قَامَ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: وَصَفَّحَ الْقَوْمُ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ لَا يَلْتَفِتُ. فَلَمَّا رَأَى أَبُو بَكْرٍ التَّصْفِيحَ لَا يُمْسَكُ عَنْهُ، الْتَفَتَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيِ امْضِهْ. فَلَمَّا قَالَ، لَبِثَ أَبُو بَكْرٍ هُنَيْهَةً يَحْمَدُ اللَّهَ عَلَى قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "امْضِهْ"، ثُمَّ مَشَى أَبُو بَكْرٍ الْقَهْقَرَى عَلَى عَقِبَيْهِ فَتَأَخَّرَ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقَدَّمَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ. فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ، قَالَ: "يَا أَبَا بَكْرٍ! مَا مَنَعَكَ إِذْ أَوْمَأْتُ إِلَيْكَ أَلَّا تَكُونَ مَضَيْتَ"؟ قَالَ: لَمْ يَكُنْ لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يَؤُمَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلنَّاسِ: "إِذَا نَابَكُمْ فِي صَلَاتِكُمْ شَيْءٌ فَلْيُسَبِّحِ الرِّجَالُ، وَلْيُصَفِّحِ النِّسَاءُ". وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَازِمٍ فِي حَدِيثِهِ: فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَكَذَا، يَأْمُرُهُ أَنْ يُصَلِّيَ، فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ يَدَهُ، فَحَمِدَ اللَّهَ ثُمَّ رَجَعَ الْقَهْقَرَى وَرَاءَهُ. وَقَالَ عَبْدُ الْأَعْلَى فِي حَدِيثِهِ: فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْ كَمَا أَنْتَ، فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ يَدَيْهِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ رَجَعَ الْقَهْقَرَى. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَبَعْضُهُمْ يَزِيدُ عَلَى بَعْضٍ فِي الْحَدِيثِ.

" حضرت سہل بن سعد بیان کرتے ہیں کہ بنو عمرہ بن عوف کے درمیان جھگڑا ہو گیا تو نبی کریم ّﷺ کو اس کی اطلاع ملی ، اآﷺ ّ نے ظہر کی نماز ادا کی ، پھر ان کے پاس ان کی صلح کرانے کیلیے تشریف لائے، پھر حضرت بلال ؓ کو حکم دیا : اے بلال! جب نماز عصر کا وقت ہو جائے اور میں واپس نہ آوں تو ابو بکر کو کہنا کہ لوگوں کو نماز پڑھا دے۔ چنانچہ جب نماز عصر کا وقت ہو تو تو بلال ؓ نے اذان کہی، پھر اقامت کہی، اور حضرت ابو بکر سے عرض کیا کہ آگے بڑھیے، تو حضرت ابو بکر نے آگے بڑھ کر نماز شروع کر دی ، اسی دوران رسول اللہ ﷺ بھی آگئےاور لوگوں کو ایک طرف ہٹاتے ہوئے آگے بڑھے یہاں تک کہ حضرت ابو بکر کے پیچھے کھڑے ہوگئے، صحابی کہتے ہیں : لوگوں نے تالی بجائی اور ابو بکر ؓ جب نماز شروع کر دیتے تو ادھر ادھر توجہ نہ دیتے تھے، پس پھر جب حضرت ابو بکر ؓ نے محسوس کیا کہ تالی مسلسل بج رہی ہے تو انہوں نے پھرنا چاہا لیکن رسول اللہ ﷺ نے انہیں اشارہ کیا نماز جاری رکھو، آپ نے انہیں نماز جاری رکھنے کا اشارہ کیا تو ابو بکر ؓ رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان " نماز جاری رکھو" پر کچھ دیر تک اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرتے رہے۔ پھر حضرت ابو بکر ؓ ایڑیوں کے بل چل کر پیچھے آگئے، نبی کریم نے یہ دیکھا تو آپ آگے بڑھے اور لوگوں کو نماز پڑھائی۔پھر جب آپ نے اپنی نماز مکمل کرلی تو فرمایا : اے ابو بکر ! جب میں نے تمہیں اشارہ کر دیا تھا تو پھر کس چیز نے تمہیں نماز جاری رکھنے سے منع کیا؟ حضرت ابو بکر ؓ نے عرض کیا: ابو قحافہ کے بیٹے کو زیب نہیں دیتا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی امامت کرائے۔ نبی کریم ﷺ نے لوگوں سے کہا: جب تمہیں تمہاری نماز میں کوئی چیز پیش آجائے تو سبحان اللہ کہیں اور عورتیں تالی بجائیں۔ جناب ابن ابی حازم کی روایت میں یہ الفاظ ہیں : " رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابو بکر ؓ کی طرف اس طرح اشارہ کیا اور انہیں نماز جاری رکھنے کا حکم دیا تو حضرت ابو بکر نے اپنا ہاتھ بلند کیا اور الحمد للہ کہا اور پھر الٹے پاوں پیچھے آگئے۔" جناب عبدالاعلٰی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں : " رسول اللہ ﷺ نے ان کی طرف اشارہ کیا کہ جیسے ہو ویسے ہی رہو( یعنی نماز جاری رکھو) تو حضرت ابو بکر ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان پر اپنے ہاتھ اٹھائے اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی۔ پھر الٹے پاوں پیچھے لوٹ آئے، امام ابو بکر فرماتے ہیں : " بعض راویوں نے دوسروں کے مقابلے میں حدیث کے الفاظ میں اضافہ کیا ہے۔"

هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ← سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِي حَازِمٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَزِيعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَنْصُورٍ السُّلَيْمِيُّ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← أَبُو حَازِمٍ ← حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ-، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance · Hadith 853

chevron_left Previous
1…515253…258
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden22. The groups of the gates of obligatory travel23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness24. The congregation of the gates of prayer on the rows25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr37. The gates of the prayer of fear38. Collections of the gates of an eclipse prayer39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals