صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 733
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ، وَالْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مِسْعَرٌ؛ ح وَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى -يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ- عَنْ مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَيْضًا، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ؛ وَحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْقِبْطِيَّةِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا بِأَيْدِينَا: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، يَمِينَا وَشِمَالًا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَا لِي أَرَى أَيْدِيَكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمُسٍ. لِيَسْكُنْ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ". هَذَا حَدِيثُ بُنْدَارٍ. وَقَالَ آخَرُونَ: "أَمَا يَكْفِي أَحَدُكُمْ أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ، ثُمَّ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ"، إِلَّا أَنَّ ابْنَ خَشْرَمٍ قَالَ فِي حَدِيثِهِ: ثُمَّ يُسَلِّمُ مِنْ عَنْ يَمِينِهِ، وَمِنْ عَنْ شِمَالِهِ". وَفِي حَدِيثِ وَكِيعٍ: "عَلَى أَخِيهِ مِنْ عَنْ يَمِينِهِ، وَمِنْ عَنْ شِمَالِهِ". قَالَ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ فِي حَدِيثِ يَزِيدَ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا: السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ، السَّلَامُ عَلَى جَبْرَائِيلَ، السَّلَامُ عَلَى مِيكَائِيلَ، وَأَشَارَ أَبُو خَالِدٍ -يَعْنِي يَزِيدَ بْنَ هَارُونَ- بِيَدِهِ فَرَمَى بِهَا يَمِينَا وَشِمَالًا. قَالَ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ، يَعْنِي نَحْوَ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ.
''حضرت جابر بن سمرہؓ بیان کرتے ہیں کہ جب ہم نبی اکرمﷺ کے پیچھے نماز پڑھتے تو ہم اپنی دائیں اور بائیں جانب السلام علیکم کہتے ہوئے یا ہاتھوں سےاشارہ کرتے''تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا:کیا ہوا ہے کہ میں تمہارے ہاتھوں کو(حرکت کرتے ہوئے)دیکھتا ہوں گویا کہ وہ سرکش گھوڑوں کی دمیں ہیں۔تم میں سے کسی شخص کو چاہیے کہ وہ نماز میں پر سکون رہے۔''یہ بندار کی روایت ہے ۔دیگر راویوں نے یہ الفاظ بیان کیے ہیں۔''کیا تم میں سے کسی شخص کو یہ کافی نہیں ہے وہ اپنا ہاتھ اپنی ران پر رکھے پھر اپنے دائیں اور بائیں جانب سلام پھیر لے''ابن خشرم نے اپنی روایت میں یہ الفاظ روایت کیے ہیں: ''پھر اپنی دائیں جانب سے اور اپنی بائیں جانب سے سلام پھیر دے۔''وکیع کی روایت میں ہے۔پھر اپنے دائیں جانب والے بھائی اور اپنے بائیں جانب والے بھائی پر سلام کہے۔''جناب حسن محمد نے یزید کی حدیث میں یہ الفاظ بیان کیے ہیں:جب ہم رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھتے تو ہم کہتے: السلام علی اللہ،(اللہ پر سلام ہو)السلام علی جبرائیل(جبرائیل پر سلام ہو)السلام علی میکائیل(میکائیل پر سلام ہو)اور ابو خالد بن بارون نے اپنےہاتھ کے ساتھ دائیں اور بائیں اشارہ کیا۔''
آخَرُونَ: "أَمَا يَكْفِي أَحَدُكُمْ ← كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ النَّبِيِّ قُلْنَا بِأَيْدِينَا: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَمِينًا وَشِمَالًا، ← جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْقِبْطِيَّةِ، ← مِسْعَرٍ، ← وَكِيعٌ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ← مِسْعَرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَيْضًا، ← مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ← عِيسَى -يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ- ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ← مِسْعَرٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← بُنْدَارٌ، وَالْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 733
