صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3028
ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا يَحْيَى، ثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُوَافِينَ لِهِلَالِ ذِي الْحِجَّةِ؛ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ، فَلْيُهِلَّ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُهِلَّ بِحَجَّةٍ فَلْيُهِلَّ، فَلَوْلَا أَنِّي أَهْدَيْتُ لَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ". فَمِنْهُمْ مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، وَمِنْهُمْ مَنْ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ. فَحِضْتُ قَبْلَ أَنْ أَدْخُلَ مَكَّةَ فَأَدْرَكَنِي يَوْمُ عَرَفَةَ وَأَنَا حَائِضٌ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ
حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ ہم رسول اللہﷺکے ساتھ ذوالحجہ کے شروع میں ( سفر حج کےلیے ) نکلے ۔ تو رسول اللہﷺنے فرمایا:"جو شخص صرف عمرے کا تلبیہ کہنا چاہے تو وہ صرف عمرے کا تلبیہ پکارے ، اور جو حج کا احرام باندھنا چاہے تو وہ باندھ لے ، اگر میں قربانی کا جانور ساتھ لے کر نہ آتا تو میں بھی عمرے کا تلبیہ پکارتا ۔" لہٰذا کچھ صحابہ کرام نے عمرے کا احرام باندھا اور کچھ نے حج کا احرام باندھا ۔ پھر مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے پہلے ہی مجھے حیض شروع ہوگیا پھر عرفہ کے دن تک میں حائضہ ہی رہی ۔ میں نے اس کی شکایت رسول اللہﷺ سے کی تو آپ نے فرمایا:"اپنے عمرے کے اعمال چھوڑ دو اور سر کے بال کھول کر کنگھی کر لو اور پھر حج کا احرام باندھ لو ۔ "پھر جب وادی محصب والی رات آئی تو آپ نے میرے ساتھ حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکر ؓ کو تنعیم بھیجا ۔ انھوں نے مجھے اپنے پیچھے اونٹ پر سوار کر لیا ۔ تو میں نے اپنے عمرے کی جگہ وہاں سے عمرے کا احرام باندھا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے اماں جی عائشہ کا حج اور عمرہ دونوں مکمل کر ا دیے لیکن اس میں ( بطور کفارہ ) کوئی قربانی ، روزے یا صدقہ نہیں دینا پڑا ۔ امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : نبی کریمﷺکے حج کے بارے میں مختلف روایات کو باہم متفق اور متحد کرتے وقت میں نےیہ مسئلہ بیان کیا تھا کہ حضرت عائشہ ؓ نے اپنے عمرے کے اعمال صرف اس لیے چھوڑ ے تھے کہ وہ حیض کی وجہ سے بیت اللہ شریف کا طواف نہیں کر سکتی تھیں ، اس کا مطلب یہ نہیں کہ انھوں نے عمرہ فسخ کر دیا تھا ۔ میں نے اسی مقام پر یہ بھی بیان کیا تھا کہ نبی کریمﷺ کا یہ فرمان: تمھارا ایک ہی طواف تمھیں تمھارے حج اور عمرے کےلیے کافی ہوگا ۔ یہ اس با ت کی دلیل ہے کہ انھوں نےعمرہ ترک نہیں کیا تھا بلکہ انھوں نے حیض آنے کی وجہ سے عارضی طور پر اس کے اعمال اد اکرنے چھوڑ دیے تھے کیونکہ ان کےلیے حیض کی وجہ سے طواف کرنا ممکن نہیں تھا۔ اور میں نے یہ بھی بیان کر دیا تھا کہ حدیث کے یہ الفاظ :"اس سلسلے میں انھیں کوئی قربانی ، روزے یا صدقہ نہیں دینا پڑا"اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ حج کے بعد جو عمرہ ادا کیا تھا اس میں کوئی قربانی ، روزے یا صدقہ نہیں کیا تھا ۔ اس تاویل کے صحیح ہونے کی دلیل یہ ہے کہ حضرت عائشہ ؓ کے تنعیم سے ادا کرنے والے اس عمرے سے پہلے نبی کریم نے اپنی ازواج مطہرات کی طرف سے گائے کی قربانی کی تھی ۔ کیا آپ نے اماں جی کی یہ کلمات نہیں سنے : پھر جب قربانی کا دن آیا تو ہمارے پاس گائے کا گوشت لایا گیا ۔ ہم نے پوچھا : یہ کیسا گوشت ہے؟ انھیں بتایا گیا کہ نبی کریمﷺنے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی ہے۔ اس طرح اماں جی نے بتا دیا کہ ان کے عمرہ تنعیمسے پہلے ان کے حج میں قربانی کی گئی تھی ۔ جناب محمد بن عبالرحمٰن بن نوفل کی روایت کے آخر میں ہے : حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں : آپ نے یعنی نبی کریمﷺنے فرمایا:(اپنے بھائی) عبدالرحمٰن کےساتھ تنعیم چلی جاؤ او روہاں سے اپنے عمرے کا احرام باندھ لو ، تو میں نے ایسے ہی کیا پھر کوئی قربانی بھی نہیں کی۔
حَائِضٌ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ ← خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ مُوَافِينَ لِهِلَالِ ذِي الْحِجَّةِ ← أَبِي أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ
Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 3028
