Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3028

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا يَحْيَى، ثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُوَافِينَ لِهِلَالِ ذِي الْحِجَّةِ؛ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ، فَلْيُهِلَّ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُهِلَّ بِحَجَّةٍ فَلْيُهِلَّ، فَلَوْلَا أَنِّي أَهْدَيْتُ لَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ". فَمِنْهُمْ مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، وَمِنْهُمْ مَنْ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ. فَحِضْتُ قَبْلَ أَنْ أَدْخُلَ مَكَّةَ فَأَدْرَكَنِي يَوْمُ عَرَفَةَ وَأَنَا حَائِضٌ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ

حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ ہم رسول اللہﷺکے ساتھ ذوالحجہ کے شروع میں ( سفر حج کےلیے ) نکلے ۔ تو رسول اللہﷺنے فرمایا:"جو شخص صرف عمرے کا تلبیہ کہنا چاہے تو وہ صرف عمرے کا تلبیہ پکارے ، اور جو حج کا احرام باندھنا چاہے تو وہ باندھ لے ، اگر میں قربانی کا جانور ساتھ لے کر نہ آتا تو میں بھی عمرے کا تلبیہ پکارتا ۔" لہٰذا کچھ صحابہ کرام نے عمرے کا احرام باندھا اور کچھ نے حج کا احرام باندھا ۔ پھر مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے پہلے ہی مجھے حیض شروع ہوگیا پھر عرفہ کے دن تک میں حائضہ ہی رہی ۔ میں نے اس کی شکایت رسول اللہﷺ سے کی تو آپ نے فرمایا:"اپنے عمرے کے اعمال چھوڑ دو اور سر کے بال کھول کر کنگھی کر لو اور پھر حج کا احرام باندھ لو ۔ "پھر جب وادی محصب والی رات آئی تو آپ نے میرے ساتھ حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکر ؓ کو تنعیم بھیجا ۔ انھوں نے مجھے اپنے پیچھے اونٹ پر سوار کر لیا ۔ تو میں نے اپنے عمرے کی جگہ وہاں سے عمرے کا احرام باندھا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے اماں جی عائشہ کا حج اور عمرہ دونوں مکمل کر ا دیے لیکن اس میں ( بطور کفارہ ) کوئی قربانی ، روزے یا صدقہ نہیں دینا پڑا ۔ امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : نبی کریمﷺکے حج کے بارے میں مختلف روایات کو باہم متفق اور متحد کرتے وقت میں نےیہ مسئلہ بیان کیا تھا کہ حضرت عائشہ ؓ نے اپنے عمرے کے اعمال صرف اس لیے چھوڑ ے تھے کہ وہ حیض کی وجہ سے بیت اللہ شریف کا طواف نہیں کر سکتی تھیں ، اس کا مطلب یہ نہیں کہ انھوں نے عمرہ فسخ کر دیا تھا ۔ میں نے اسی مقام پر یہ بھی بیان کیا تھا کہ نبی کریمﷺ کا یہ فرمان: تمھارا ایک ہی طواف تمھیں تمھارے حج اور عمرے کےلیے کافی ہوگا ۔ یہ اس با ت کی دلیل ہے کہ انھوں نےعمرہ ترک نہیں کیا تھا بلکہ انھوں نے حیض آنے کی وجہ سے عارضی طور پر اس کے اعمال اد اکرنے چھوڑ دیے تھے کیونکہ ان کےلیے حیض کی وجہ سے طواف کرنا ممکن نہیں تھا۔ اور میں نے یہ بھی بیان کر دیا تھا کہ حدیث کے یہ الفاظ :"اس سلسلے میں انھیں کوئی قربانی ، روزے یا صدقہ نہیں دینا پڑا"اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ حج کے بعد جو عمرہ ادا کیا تھا اس میں کوئی قربانی ، روزے یا صدقہ نہیں کیا تھا ۔ اس تاویل کے صحیح ہونے کی دلیل یہ ہے کہ حضرت عائشہ ؓ کے تنعیم سے ادا کرنے والے اس عمرے سے پہلے نبی کریم نے اپنی ازواج مطہرات کی طرف سے گائے کی قربانی کی تھی ۔ کیا آپ نے اماں جی کی یہ کلمات نہیں سنے : پھر جب قربانی کا دن آیا تو ہمارے پاس گائے کا گوشت لایا گیا ۔ ہم نے پوچھا : یہ کیسا گوشت ہے؟ انھیں بتایا گیا کہ نبی کریمﷺنے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی ہے۔ اس طرح اماں جی نے بتا دیا کہ ان کے عمرہ تنعیمسے پہلے ان کے حج میں قربانی کی گئی تھی ۔ جناب محمد بن عبالرحمٰن بن نوفل کی روایت کے آخر میں ہے : حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں : آپ نے یعنی نبی کریمﷺنے فرمایا:(اپنے بھائی) عبدالرحمٰن کےساتھ تنعیم چلی جاؤ او روہاں سے اپنے عمرے کا احرام باندھ لو ، تو میں نے ایسے ہی کیا پھر کوئی قربانی بھی نہیں کی۔

حَائِضٌ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ ← خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ مُوَافِينَ لِهِلَالِ ذِي الْحِجَّةِ ← أَبِي أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 3028

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3029

ثناه محمد بن عمر و بن تمام ثنا يحيى بن عبد الله بن بكير حدثني ميمون بن مخرمة عن أبيه قال و سمعت محمد بن عبد الرحمن بن نوفل يقول سمعت هشام بن عروة يحدث عن عروة يقول سمعت عائشة : فذكر قصة طويلة و ذكر هذا الكلام الذي ذكرت في آخر الخبر قال و قال سمعت محمد بن عبد الرحمن يحدث عن عروة عن عائشة أنها حدثتهم عن عمرتهم بعد الحج مع رسول الله صلى الله عليه وسلم قالت : حضت فاعتمرت بعد الحج ثم لم أصم و لم أهد قال أبو بكر : فهذا الخبر يبين أنها أرادت أنها لم تصم و لم تهد بعد تلك العمرة التي اعتمرت من التنعيم لا قبلها

حضرت عروہ نے بیان کیا کہ میں نے حضرت عائشہؓ کو فرماتے ہوئ سنا ۔ پھر پورا قصہ بیان کیا ۔ اور پھر قصے کے آخر میں مذکورہ بالا کلام ذکر کی ۔ جناب محمد بن عبدالرحمٰن حضر ت عروہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضر ت عائشہ ؓ نے انھیں اپنے عمرے کے بارے میں بتایا جو انھوں نےرسول اللہﷺکے ساتھ حج ادا کرنے کےبعد ادا کیا تھا ۔ اماں جی فرماتی ہیں : مجھے حیض آگیا تو میں نے حج کے بعد اپنا عمرہ ادا کیا ، پھر میں نے نہ روزے رکھے اور نہ قربانی کی ۔ا مام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : یہ روایت اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ اماں جی کا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے تنعیم سے عمرہ ادا کرنے کے بعد ( بطور کفارہ ) نہ روزے رکھے تھے اور نہ قربانی کی تھی ، حج سے پہلے والا عمرہ مراد نہیں ہے ۔

حضت فاعتمرت بعد الحج ثم لم أصم و لم أهد ← عمرتهم بعد الحج مع رسول الله ← عائشة أنها حدثتهم ← عُرْوَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← و، ← هذا الكلام الذي ذكرت في آخر الخبر ← قصة طويلة و ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، ← و، ← أَبِيهِ ← ميمون بن مخرمة ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ، ← ثناه محمد بن عمر و بن تمام

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 3029

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3030

ثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الْفَضْلِ: أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمٍ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ، عَلَيْهِ فَرِيضَةُ اللَّهِ فِي الْحَجِّ، وَهُوَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَوِيَ عَلَى ظَهْرِ بَعِيرِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "فَحُجِّي عَنْهُ".

حضرت فضل ؓ سے روایت ہے کہ خثعم قبیلے کی ایک عورت نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول میرا والد بوڑھا آدمی ہے اور اس پر اللہ کا فریضہ حج فرض ہے لیکن وہ اونٹ پر بیٹھنے کی طاقت نہیں رکھتا ، تو نبی کریمﷺنے فرمایا:"تم اس کی طرف سے حج کر دو ۔"

الْفَضْلِ: أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمٍ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عِيسَى؛ ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 3030

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3031

ثنا عيسى بن إبراهيم ثنا ابن وهب أخبرني مالك و يونس و الليث و ابن جريح عن ابن شهاب عن سليمان بن يسار أن عبد الله بن عباس أخبره قال : كان الفضل بن عباس رديف رسول الله صلى الله عليه وسلم فأتت رسول الله صلى الله عليه وسلم إمرأة من خثعم تستفتيه فجعل الفضل ينظر إليها و تنظر إليه فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم يصرف وجه الفضل بيده إلى الشق الآخر قالت : يا رسول الله إن فريضة الله في الحج أدركت أبي شيخا لا يستطيع أن يثبت على الراحلة أفأحج عنه ؟ قال : نعم و ذلك في حجة الوداع بعضهم يزيد على بعض قال الليث : و حدثنيه ابن شهاب عن سليمان أو أبي سلمة أو كليهما عن ابن عباس

حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت فضل بن عباسؓ رسول اللہﷺکےپیچھے اونٹ پر سوار تھے اس دوران خثعم قبیلے کی ایک عورت رسول الہﷺ کے پاس مسئلہ پوچھنے کےلیے آئی ، حضرت فضل نے اس عورت کو دیکھنا شروع کر دیا اور وہ عورت بھی حضرت فضل کو دیکھنے لگی اور رسول اللہﷺنے حضرت فضل کا چہرہ اپنے دست مبارک سے دوسری طرف پھیر دیا ، اس عورت نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نےجو اپنے بندوں پر حج فرض کیا ہے تو ایسے وقت میں میرے والد بہت بوڑھے ہوچکے ہیں جبکہ وہ سواری پر بیٹھنے کی استطاعت بھی نہیں رکھتے ۔ تو کیا میں اس کی طرف سے حج ادا کردوں ؟ آپ نےفرمایا: "ہاں۔"یہ واقعہ حجۃ الوداع کا ہے ۔ بعض راوی دوسرے سے کچھ زیادہ الفاظ روایت کرتے ہیں ۔

سليمان بن يسار أن عبد الله بن عباس ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مالك و يونس و الليث و ابن جريح ← ابْنُ وَهْبٍ، ← عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 3031

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3032

ثنا عبد الجبار بن العلاء ثنا سفان قال سمعت الزهري ح و ثنا المخزومي ثنا سفيان ح و ثنا علي بن خشرم أخبرنا ابن عيينة عن الزهري عن سليمان بن يسار عن ابن عباس : أن امرأة من خثعم سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم غداة النحر و الفضل ردفه فقالت : يا رسول الله إن فريضة الله في الحج على عباده أدركت أبي شيخا كبيرا لا يستطيع أن يستمسك على الراحلة هل ترى أن أحج عنه ؟ قال : نعم و قال المخزومي : غداة جمع و قال : أن أحج عنه ؟ و لم يقل : و الفضل ردفه و لفظ ابن خشرم في المتن مثل حديث عبد الجبار غير أنه قال : أفأحج عنه قال : نعم

حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ قربانی والے دن کی صبح کو خثعم قبیلے کی ایک عورت نے رسول اللہﷺسے پوچھا ، جبکہ حضرت فضل ؓ آپ کے پیچھے سواری پر سوار تھے اس نےعرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر فریضہ حج میرے بوڑھے والد پر فرض ہو چکا ہے لیکن وہ سواری پر جم کر بیٹھنے کی اسطاعت نہیں رکھتا ، آپ کیا حکم دیتے ہیں ، کیا میں ان کی طرف سے حج اد اکردوں ؟ آپ نے فرمایا: "ہاں ۔"جناب مخزومی کی روایت میں ہے: مزدلفہ کی صبح ۔ اور کہا کہ میں ان کی طرف سے حج ادا کر دوں اور یہ روایت نہیں کیے : حضرت فضل آپ کے پیچھے سوار تھے ۔ جناب علی بن خشرم کی روایت کا متن جناب عبدالجبار کی روایت جیسا ہی ہے صرف یہ فرق ہے: کیا میں اس کی طرف سے حج ادا کر وں ؟ آ پ نے فرمایا:"ہاں۔"

سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ← و، ← سُفْيَانَ، ← المخزومي ← و، ← الزُّهْرِيِّ، ← سفان ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 3032

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3033

أَخْبَرَنَا الْفَقِيهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْمُسْلِمِ السُّلَمِيُّ، أَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ إِجَازَةً، أَخْبَرَنَا الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّابُونِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ، ثَنَا عَمِّي، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ وَاللَّيْثُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ؛ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ: كَانَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، قَالَ: فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمٍ تَسْتَفْتِيهِ، قَالَ: فَجَعَلَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا وَتَنْظُرُ إِلَيْهِ، قَالَ: فَجَعَلَ يَصْرِفُ وَجْهَ الْفَضْلِ بِيَدِهِ إِلَى الشِّقِّ الْآخَرِ. قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ فِي الْحَجِّ عَلَى عِبَادِهِ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَثْبُتَ عَلَى الرَّاحِلَةِ أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟ قَالَ: "نَعَمْ". وَذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ [297 - ب].

حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتےہیں کہ حضرت فضل ؓ ( مزدلفہ کی صبح ) رسول اللہﷺ کےپیچھے سوار تھے ۔ تو ایک عورت خثعم قبیلے کی آئی ، اس نے رسول اللہﷺسے سوال پوچھا ، اس دوران حضر ت فضل ؓ نے اس عورت کی طرف دیکھنا شروع کر دیا اور وہ عورت بھی ان کی طرف دیکھنے لگی ۔ تو رسول اللہﷺنے اپنے ہاتھ سے فضل ؓ کا چہرہ دوسری جانب کر دیا ۔ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر فریضہ حج میرے بوڑھے والد پر فرض ہوچکا ہے ،لیکن وہ سواری پر بیٹھنے کی بھی استطاعت نہیں رکتھے ہیں ، کیا میں ان کی طرف سے حج داد کروں ؟ آپ نے فرمایا:"ہاں ۔" یہ واقعہ حجۃ الوداع کے موقعہ پر پیش آیا تھا ۔

فَجَعَلَ يَصْرِفُ وَجْهَ الْفَضْلِ بِيَدِهِ إِلَى الشِّقِّ الْآخَرِ. ← فَجَعَلَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا وَتَنْظُرُ إِلَيْهِ، ← فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمٍ تَسْتَفْتِيهِ، ← كَانَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ ← أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ← ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ ← مَالِكٌ وَاللَّيْثُ ← عَمِّي، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّابُونِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ إِجَازَةً، ← الْفَقِيهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْمُسْلِمِ السُّلَمِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 3033

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3034

ثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الْقَزَّازُ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ بْنِ سَعِيدٍ، ثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ، ثَنَا مُوسَى بْنُ سَلَمَةَ الْهُذَلِيُّ، قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَسِنَانُ بْنُ سَلَمَةَ مُعْتَمِرَيْنِ فَلَمَّا نَزَلْنَا الْبَطْحَاءَ، قُلْتُ: انْطَلِقْ إِلَى ابْنِ الْعَبَّاسِ نَتَحَدَّثْ إِلَيْهِ، قَالَ: قُلْتُ -يَعْنِي لِابْنِ عَبَّاسٍ- إِنَّ وَالِدَةً لِي بِالْمِصْرِ (1) وَإِنِّي أَغْزُو فِي هَذِهِ الْمَغَازِي أَفَيُجْزِئُ عَنْهَا أَنْ أُعْتِقَ وَلَيْسَتْ مَعِي؟ قَالَ: أَفَلَا أُنَبِّئُكَ بِأَعْجَبَ مِنْ ذَلِكَ. أَمَرْتُ امْرَأَةَ سِنَانِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيِّ أَنْ تَسْأَلَ لِي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ أُمَّهَا مَاتَتْ وَمَا تَحُجُّ، أَمَا (1) تُجْزِئُ عَنْ أُمِّهَا أَنْ تَحُجَّ عَنْهَا؟ قَالَ: "نَعَمْ. لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّهَا دَيْنٌ فَقَضَتْهُ عَنْهَا لَمْ يَكُنْ يُجْزِئُ عَنْهَا؟ فَلْتَحُجَّ عَنْ أُمِّهَا".

جناب موسی بن سلمہ ہذلی بیان کرتے ہیں کہ میں اور سنان بن سلمہ عمرہ اد ا کرنے کےلیے گئے، جب ہم وادی بطحا میں اترے ، تو میں نے کہا : چلو حضرت ابن عباس ؓ کے پاس حاضر ہو کر ان سے گفتگو کرتے ہیں ۔ میں نے حضرت ابن عباسؓ سے عرض کیا: میری والدہ محترمہ مصر میں ہیں اور میں ادھر غزوات میں شریک رہتا ہوں کیا اگر میں ان کی طرف سے غلام آزاد کر وں گا تو انھیں اس کا اجر وثواب ملے گا جبکہ وہ میرے ساتھ نہیں ہیں؟ حضر تابن عباسؓ نے فرمایا: کیا میں تمھیں اس سے بھی زیادہ تعجب والی بات بتاؤں؟ میں نے سنان بن عبداللہ جہنی کی بیوی سے کہا کہ وہ رسول اللہﷺ سے میرا یہ مسئلہ پوچھے کہ ان کی والدہ فوت ہوگئی ہیں اور انھوں نے حج نہیں کیا تھا ، اگر وہ ان کی طرف سے حج اد اکر دیں تو کیا وہ انھیں کفایت کرے گا ؟ آپ نے فرمایا:"ہاں ، اگر اس کی والدہ کے ذمہ قرض ہوتا اور وہ ان کی طرف سے ادا کرتی تو کیا وہ اسے کفایت نہ کرتا ، اسے چاہیے کہ وہ اپنی والدہ کی طرف سے حج ادا کرے ۔"

مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ الْهُذَلِيِّ ← أَبُو التَّيَّاحِ، ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الْقَزَّازُ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 3034

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3035

ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: قَالَ فُلَانٌ الْجُهَنِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أَبِي مَاتَ وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ لَمْ يَحُجَّ، أَوْ لَا يَسْتَطِيعُ الْحَجَّ؟ قَالَ: "حُجَّ عَنْ أَبِيكَ".

حضرت ابن عباسؓ بیان کرتےہیں کہ فلاں جہنی شخص نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میرے والد بڑھاپے میں فوت ہوگئے ہیں اور حج نہیں کر سکے ، یا وہ حج کرنے کی استطاعت ہی نہیں رکھتے تھے ۔ آپ نے فرمایا:" تم اپنے والد کی طرف سے حج کر لو۔"

فُلَانٌ الْجُهَنِيُّ: ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ، ← أَبِي التَّيَّاحِ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 3035

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3036

ثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ؛ ح وَثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَنَّ مَالِكًا أَخْبَرَهُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ أَنَّهُ قَالَ: كَانَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمٍ تَسْتَفْتِيهِ، فَجَعَلَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا، وَتَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَصْرِفُ وَجْهَ الْفَضْلِ إِلَى الشِّقِّ الْآخَرِ. فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ فِي الْحَجِّ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَثْبُتَ عَلَى الرَّاحِلَةِ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟ قَالَ: "نَعَمْ". وَذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ.

حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت فضل بن عباسؓ رسول اللہﷺکے پیچھے سوار تھے کہ خثعم قبیلے کی ایک عورت آپ سے مسئلپ پوچھنے کےلیے آئی ۔ تو حضرت فضل ؓ نے اسے دیکھنا شروع کر دیا اور اس نے بھی حضرت فضل کو دیکھنا شروع کر دیا تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت فضلؓ کا چہرہ اپنے دست مبارک سے دوسری طرف پھیر دیا۔ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر فریضہ حج میرے بوڑھے باپ پر فرض ہوگیا ہے اوروہ سواری پر جم کر بیٹھنے کی استطاعت بھی نہیں رکھتا کیا میں اس کی طرف سے حج ادا کردوں؟ آپ نے فرمایا:"ہاں ۔"اور یہ واقعہ حجۃ الوداع کا ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ أَنَّ مَالِكًا ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی ← مَالِكٍ، ← الشَّافِعِیُّ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 3036

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3037

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الْجَزَّارُ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي الْحَجَّاجِ، ثَنَا عَوْفٌ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ أَدْرَكَ الْإِسْلَامَ، وَلَمْ يَحُجَّ، وَلَا يَسْتَمْسِكُ عَلَى الرَّاحِلَةِ، وَإِنْ شَدَدْتُهُ بِالْحَبَلِ عَلَى الرَّاحِلَةِ خَشِيتُ أَنْ أَقْتُلَهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "احْجُجْ عَنْ أَبِيكَ".

امام حسن بصری ؒ فرماتے ہیں : مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ایک شخص رسول اللہﷺ کے پاس آیا تو اس نے عرض کیا: میرے بوڑھے والد نے اسلام قبول کیا ہے اور حج نہیں کیا اور نہ وہ سواری پر جم کر بیٹھ سکتا ہے اور اگر میں اسے رسی کے ساتھ سواری پر باندھ دوں تو مجھے ڈر ہے کہ میں اسے قتل کر بیٹھوں گا ۔ تو رسول اللہﷺ نے فرمایا:"تم اپنے والد کی طرف سے حج کر لو ۔"

بلغني ← الْحَسَنِ، ← عَوْفٌ، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي الْحَجَّاجِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الْجَزَّارُ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 3037

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3038

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي الْحَجَّاجِ، عَنْ عَوْفٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمِثْلِ ذَلِكَ. إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: السَّائِلُ سَأَلَ عَنْ أُمِّهِ.

حضرت ابوہریرہؓ سے مذکورہ بالا کی طرح مروی ہے صرف یہ فرق ہے کہ اس روایت میں ہے: ایک سائل نے اپنی والدہ کے بارے میں سوال کیا۔

أُمِّهِ2، ← السَّائِلُ سَأَلَ ← النَّبِيِّ بِمِثْلِ ذَلِكَ. إِلَّا أَنَّهُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ سِيرِينَ، ← عَوْفٌ، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي الْحَجَّاجِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 3038

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3039

ثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: لَبَّيْكَ عَنْ شُبْرُمَةَ. فَقَالَ: "مَنْ شُبْرُمَةُ؟ " فَقَالَ: أَخِي أَوْ قَرِيبٌ لِي. قَالَ: "هَلْ حَجَجْتَ؟ " قَالَ: لَا. قَالَ: "فَاجْعَلْ هَذِهِ عَنْكَ، ثُمَّ حُجَّ عَنْ شُبْرُمَةَ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي هَذَا الْخَبَرِ بَانَ أَنَّ الْمُلَبِّيَ عَنْ غَيْرِهِ إِذَا لَمْ يَكُنْ قَدْ حَجَّ عَنْ نَفْسِهِ عَلَيْهِ أَنْ يَجْعَلَ [298 - أ] تِلْكَ الْحَجَّةَ عَنْ نَفْسِهِ.

حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک شخص کو ان الفاظ میں حج کی نیت کرتے ہوئے سنا: اے اللہ! میں شبرمہ کی طرف سے حاضر ہوں ۔ آپ نے پوچھا : "شبرمہ کون ہے ؟"اس نے عرض کی؟ میرا بھائی یا میر ا قریبی رشتہ دار ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے اپنی طرف سے بھی حج کر لیا ہے؟ اس نے کہانہیں ۔ آپ نے فرمایا:"پھر اس حج کو اپنی طرف سے ادا کرو پھر شبرمہ کی طرف سے ادا کرنا۔" امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : اس روایت میں ہے کہ جو شخص کسی دوسرے شخص کی طرف سے تلبیہ پکارے اور اس نے اپنا حج نہ کیا ہو تو اسے وہ حج پانی طرف سے اد اکرنا چاہیے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَزْرَۃَ ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 3039

chevron_left Previous
1…253254255…258
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals