صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2897
ثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَزَرِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَهْدَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِجَمَلِ أَبِي جَهْلٍ فِي هَدْيِهِ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَفِي رَأْسِهِ بُرَّةٌ مِنْ فِضَّةٍ، كَانَ أَبُو جَهْلٍ أَسْلَمَهُ يَوْمَ بَدْرٍ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذِهِ اللَّفْظَةُ، "جَمَلُ أَبِي جَهْلٍ" مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي كُنْتُ أَعْلَمْتُ فِي كِتَابِ الْبُيُوعِ فِي أَبْوَابِ الإفلاس أَنَّ الْمَالَ قَدْ يُضَافُ إِلَى الْمَالِكِ الَّذِي قَدْ مَلَكَهُ فِي بَعْضِ الْأَوْقَاتِ بَعْدَ زَوَالِ مِلْكِهِ عَنْهُ، كَقَوْلِهِ تَعَالَى: (اجْعَلُوا بِضَاعَتَهُمْ فِي رِحَالِهِمْ) [يوسف: 62] فَأَضَافَ الْبِضَاعَةَ إِلَيْهِمْ بَعْدَ اشْتِرَائِهِمْ بِهَا طَعَامًا، وَإِنَّمَا كُنْتُ احْتَجَجْتُ بِهَا، لِأَنَّ بَعْضَ مُخَالِفِينَا زَعَمَ أَنَّ قَوْلَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: إِذَا أَفْلَسَ الرَّجُلُ فَوَجَدَ الرَّجُلُ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنْ سَائِرِ الغرماء، فَزَعَمَ أَنَّ هَذَا الْمَالَ هُوَ مَالُ الْوَدِيعَةِ وَالْغَصْبِ، وَمَا لَمْ يَزَلْ مِلْكُ صَاحِبِهِ عَنْهُ، وَقَدْ بَيَّنْتُ هَذِهِ الْمَسْأَلَةَ بَيَانًا شَافِيًا فِي ذَلِكَ الْمَوْضِعِ.
حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صلح حدیبیہ والے سال ابو جہل سے حاصل ہونے والا اونٹ قربانی کے لیے بھیجا تھا، اس کی ناک میں چاندی کا چھلا ڈالا ہو اتھا۔ یہ اونٹ جنگ بدر والے دن مسلمانوں کو مال غنیمت میں ملاتھا۔ امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : یہ الفاظ "ابوجہل کا اونٹ " یہ اسی جنس سے ہے جسے میں نے کتاب البیوع میں باب الا فراس کے تحت بیان کیا ہے کہ کبھی مال کی نسبت اس کے سابقہ مالک کی طرف بھی کر دی جاتی ہے جبکہ اس کی ملکیت اب ختم ہو چکی ہوتی ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے (اجْعِلُوُا بِاَطعَتَھُمْ فِیْ رِحَالِھِمْ) (سورۃ یوسف:۲۶) "ان کینقدی (پونجی ان کے ساما ن میں رکھ دو۔" اس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف ؑ کے بھائیوں کے مال کی نسبت انہی کی طرف کی کہے حالانکہ وہ اس مال کے عوض گندم وغیرہ خرید چکے تھے (اور یہ مال ان کی ملکیت سے نکل چکا تھا) میں نے اس آیت سے استدالال اس لیے کیا ہے کیونکہ بعض ہمارے مخالفین کا خیال ہے کہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان : جب کوےؤئی شخص مفلس ہو جائے اور قرض خواہ اس کے مال کا زیادہ حقدار ہے۔ اس سے وہ یہ سمجھا ہے کہ اس مال سے مراد وہ مال ہے جو بطورامانت دیا ہوا تھا یا اس شخص نے غصب کیا ہوا تھا اور اس لیے ابھی پہلے مالک کی ملکیت ختم نہیں ہوئی تھی (لہٰذا وہ دوسروں سے زیادہ حقدار ہے۔ جبکہ امام ابن خزیمہ کے نزدیک اس مال کی نسبت اس شخص کی طرف اس کے سابقہ مالک ہوہونے کی حیثیت سے ہے) میں نے کتاب البیوع میں یہ مسئلہ خوب وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا ہے۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← عبد الله بن أبي نجيح ← مُحَمَّدٍ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَزَرِيُّ،
Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2897
