Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2897

ثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَزَرِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَهْدَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِجَمَلِ أَبِي جَهْلٍ فِي هَدْيِهِ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَفِي رَأْسِهِ بُرَّةٌ مِنْ فِضَّةٍ، كَانَ أَبُو جَهْلٍ أَسْلَمَهُ يَوْمَ بَدْرٍ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذِهِ اللَّفْظَةُ، "جَمَلُ أَبِي جَهْلٍ" مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي كُنْتُ أَعْلَمْتُ فِي كِتَابِ الْبُيُوعِ فِي أَبْوَابِ الإفلاس أَنَّ الْمَالَ قَدْ يُضَافُ إِلَى الْمَالِكِ الَّذِي قَدْ مَلَكَهُ فِي بَعْضِ الْأَوْقَاتِ بَعْدَ زَوَالِ مِلْكِهِ عَنْهُ، كَقَوْلِهِ تَعَالَى: (اجْعَلُوا بِضَاعَتَهُمْ فِي رِحَالِهِمْ) [يوسف: 62] فَأَضَافَ الْبِضَاعَةَ إِلَيْهِمْ بَعْدَ اشْتِرَائِهِمْ بِهَا طَعَامًا، وَإِنَّمَا كُنْتُ احْتَجَجْتُ بِهَا، لِأَنَّ بَعْضَ مُخَالِفِينَا زَعَمَ أَنَّ قَوْلَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: إِذَا أَفْلَسَ الرَّجُلُ فَوَجَدَ الرَّجُلُ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنْ سَائِرِ الغرماء، فَزَعَمَ أَنَّ هَذَا الْمَالَ هُوَ مَالُ الْوَدِيعَةِ وَالْغَصْبِ، وَمَا لَمْ يَزَلْ مِلْكُ صَاحِبِهِ عَنْهُ، وَقَدْ بَيَّنْتُ هَذِهِ الْمَسْأَلَةَ بَيَانًا شَافِيًا فِي ذَلِكَ الْمَوْضِعِ.

حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صلح حدیبیہ والے سال ابو جہل سے حاصل ہونے والا اونٹ قربانی کے لیے بھیجا تھا، اس کی ناک میں چاندی کا چھلا ڈالا ہو اتھا۔ یہ اونٹ جنگ بدر والے دن مسلمانوں کو مال غنیمت میں ملاتھا۔ امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : یہ الفاظ "ابوجہل کا اونٹ " یہ اسی جنس سے ہے جسے میں نے کتاب البیوع میں باب الا فراس کے تحت بیان کیا ہے کہ کبھی مال کی نسبت اس کے سابقہ مالک کی طرف بھی کر دی جاتی ہے جبکہ اس کی ملکیت اب ختم ہو چکی ہوتی ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے (اجْعِلُوُا بِاَطعَتَھُمْ فِیْ رِحَالِھِمْ) (سورۃ یوسف:۲۶) "ان کینقدی (پونجی ان کے ساما ن میں رکھ دو۔" اس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف ؑ کے بھائیوں کے مال کی نسبت انہی کی طرف کی کہے حالانکہ وہ اس مال کے عوض گندم وغیرہ خرید چکے تھے (اور یہ مال ان کی ملکیت سے نکل چکا تھا) میں نے اس آیت سے استدالال اس لیے کیا ہے کیونکہ بعض ہمارے مخالفین کا خیال ہے کہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان : جب کوےؤئی شخص مفلس ہو جائے اور قرض خواہ اس کے مال کا زیادہ حقدار ہے۔ اس سے وہ یہ سمجھا ہے کہ اس مال سے مراد وہ مال ہے جو بطورامانت دیا ہوا تھا یا اس شخص نے غصب کیا ہوا تھا اور اس لیے ابھی پہلے مالک کی ملکیت ختم نہیں ہوئی تھی (لہٰذا وہ دوسروں سے زیادہ حقدار ہے۔ جبکہ امام ابن خزیمہ کے نزدیک اس مال کی نسبت اس شخص کی طرف اس کے سابقہ مالک ہوہونے کی حیثیت سے ہے) میں نے کتاب البیوع میں یہ مسئلہ خوب وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← عبد الله بن أبي نجيح ← مُحَمَّدٍ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَزَرِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2897

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2898

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، نَا سَلَمَةُ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَهْدَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي هَدَايَاهُ جَمَلًا لِأَبِي جَهْلٍ فِي رَأْسِهِ بُرَّةٌ مِنْ فِضَّةٍ لِيَغِيظَ الْمُشْرِكِينَ بِذَلِكَ.

حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صلح حدیبیہ والے سال ابوجہل سے حاصل ہونے والا اونٹ بھی قربانی کے اونٹوں کے ساتھ روانہ کیا، اس کی ناس میں چاندی کا چھلہ بھی تھا۔ آپ نے یہ اونٹ مشرکین کو جلانے اور غم دلانے کے لیے بھیجا تھا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← عبد الله بن أبي نجيح ← مُحَمَّدٍ ← سَلَمَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2898

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَدَقَۃَ التَّطَوُّعِ · حديث 2446

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَزِيدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا حُبْشِيُّ بْنُ جُنَادَةَ السَّلُولِيُّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَنْ سَأَلَ وَلَهُ مَا يُغْنِيهِ؛ فَإِنَّمَا يَأْكُلُ الْجَمْرَ". وَقَالَ زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ: "مَنْ سَأَلَ مِنْ غَيْرِ فَقْرٍ؛ فَإِنَّمَا يَأْكُلُ الْجَمْرَ".

حضرت حبشی بن جنادہ سلولی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: "جس نے بقدر کفایت مال کے ہوتے ہوئے مانگا تو بے شک وہ آگ کے انگارے کھاتا ہے ۔"جناب زید بن اخزم کی روایت میں ہے: " جس شخص نے بغیر محتاجی کے مانگا تو بلاشبہ وہ جہنم کے انگارے کھاتا ہے ۔"

حُبْشِيُّ بْنُ جُنَادَةَ السَّلُولِيُّ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← أَبُو أَحْمَدَ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَزِيدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The gates of the doors gave charity for volunteering · Hadith 2446

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَدَقَۃَ التَّطَوُّعِ · حديث 2447

حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبَانٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "مَنْ سَأَلَ وَلَهُ قِيمَةُ أُوقِيَّةٍ (1) فَهُوَ مُلْحِفٌ".

حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: "جس شخص کے پاس ایک اوقیہ چاندی کی قیمت ( چالیس درھم) موجود ہو اور وہ سوال کرے تو وہ چمٹ اور لپٹ کر مانگنے والا شمار ہوگا۔"

"مَنْ سَأَلَ وَلَهُ قِيمَةُ أُوقِيَّةٍ فَهُوَ مُلْحِفٌ". ← النَّبِيِّ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ← ابْنُ أَبِي الرِّجَالِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبَانَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The gates of the doors gave charity for volunteering · Hadith 2447

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَدَقَۃَ التَّطَوُّعِ · حديث 2448

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ شَابُورَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "مَنْ سَأَلَ وَلَهُ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا فَهُوَ مُلْحِفٌ، وَهُوَ مِثْلُ سَفِّ الْمَسْأَلَةِ، يَعْنِي: الرَّمَلَ".

حضرت عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: "جس شخص نے اس حالت میں مانگا کہ اس کے پاس چالیس درہم موجود ہوں تو وہ چمٹ کر مانگنے والا ہے ۔ اس کی مثال اس شخص جیسی ہے جو ریت کھاتا ہے۔"

النَّبِيِّ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← دَاوُدَ بْنِ شَابُورَ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The gates of the doors gave charity for volunteering · Hadith 2448

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَدَقَۃَ التَّطَوُّعِ · حديث 2449

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَأَتَى بِطَعَامٍ لَيْسَ مَعَهُ لَحْمٌ. فَقَالَ: "أَلَمْ أَرَ لَكُمْ بُرْمَةً؟ " قُلْتُ: بَلَى. ذَاكَ لَحْمٌ تَصَدَّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةُ. فَقَالَ: "هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ، وَهُوَ مِنْهَا هَدِيَّةٌ".

حضرت عائشہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ میرے پاس تشریف لائے تو آپ کو کھانا پیش کیا گیا جس کے ساتھ گوشت نہیں تھا ۔ تو آپ نے پوچھا : "کیا میں نے تمھاری ہنڈ یا نہیں دیکھی تھی؟ ( جس میں گوشت پک رہا تھا)" میں نے عرض کیا : بالکل ضرور دیکھی تھی لیکن وہ گوشت تو حضرت بریرہ ؓ کو صدقہ دیا گیا ہے ۔ آپ نے فرمایا: "وہ اس کے لیے صدقہ ہے ۔ اور ہمارے لیے بریرہ کی طرف سے ہدیہ ہے ( اس لیے لاؤ۔ اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں)۔"

"هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ، وَهُوَ مِنْهَا هَدِيَّةٌ". ← "أَلَمْ أَرَ لَكُمْ بُرْمَةً؟ قُلْتُ: بَلَى. ذَاكَ لَحْمٌ تَصَدَّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةُ. ← دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ فَأَتَى بِطَعَامٍ لَيْسَ مَعَهُ لَحْمٌ. ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The gates of the doors gave charity for volunteering · Hadith 2449

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَدَقَۃَ التَّطَوُّعِ · حديث 2450

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ جَبْرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَا مِنْ صَدَقَةٍ أَفْضَلُ مِنْ صَدَقَةٍ تَصَدَّقَ بِهَا عَلَى مَمْلُوكٍ عِنْدَ مَلِيكِ سَوْءٍ".

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ظالم برے حاکم کے ماتحت غلاموں پر صدقہ کرنا سب صدقوں سے افضل ہے ۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُجَاهِدُ بْنُ جَبْرٍ، ← بَشِيرُ بْنُ مَيْمُونٍ، ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The gates of the doors gave charity for volunteering · Hadith 2450

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَدَقَۃَ التَّطَوُّعِ · حديث 2451

أَخْبَرَنَا الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّابُونِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنِ اللَّيْثِ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ؛ ح وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَدِ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "جَهْدُ الْمُقِلِّ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ".

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ انھوں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ!کونسا صدقہ افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: "کم مال دار شخص کا محنت سے کما کر کیا ہوا صدقہ افضل ہے اور سب سے پہلے ان لوگوں پر خرچ کر و جن کا نفقہ تمھارے ذمے ہے ۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ← يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو الْيَدِ، ← وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِي، ← اللَّيْثِ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّابُونِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The gates of the doors gave charity for volunteering · Hadith 2451

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَدَقَۃَ التَّطَوُّعِ · حديث 2452

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فَقِيرًا فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ، فَإِنْ كَانَ فَضْلًا فَعَلَى عِيَالِهِ، فَإِنْ كَانَ فَضْلًا فَعَلَى [248 - ب] قَرَابَتِهِ أَوْ ذِي رَحِمِهِ، فَإِنْ كَانَ فَضْلًا فَهَاهُنَا، وَهَاهُنَا".

حضرت جابر ؓ نبی کریمﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص ضرورت مند اور محتاج ہو تو سب سے پہلے اپنی جان پر خرچ کرے ۔ پھر اگر مال بچ جائے تو اپنے گھر والوں پر خرچ کرے ۔ پھرا گر مال بچ جائے تو اپنے گھر والوں پر خرچ کرے ، اگر پھر بھی بچ جائے تو اسے اپنے قرابت دار رشتہ داروں پر خرچ کرے ، اس کے بعد بھی زائد مال موجود ہو تو اسے ادھر ادھر محتاج لوگوں میں تقسیم کر دے ۔"

النَّبِيِّ ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← أَيُّوبَ، ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The gates of the doors gave charity for volunteering · Hadith 2452

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَدَقَۃَ التَّطَوُّعِ · حديث 2453

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ: كُنَّا نَتَحَامَلُ، فَكَانَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالصَّدَقَةِ الْعَظِيمَةِ، فَيُقَالُ: مُرَائِي (1) وَيَجِيءُ الرَّجُلُ بِنِصْفِ صَاعٍ، فَيُقَالُ إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنْ هَذَا. فَنَزَلَتْ: (الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ وَالَّذِينَ لَا يَجِدُونَ إِلَّا جُهْدَهُمْ). الْآيَةَ [التوبه:79].

حضر ت ابومسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم مزدوری کیا کرتے تھے ۔ تو جب کوئی شخص بہت بڑا صدقہ لے کر آتا تو کہہ دیا جاتا : بے شک اللہ تعالیٰ اس شخص کے نصف صاع سے غنی ہے ۔ تو یہ آیت نازل ہوئی:(اَلَّذِیْنَ یَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِیْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ فِی الصَّدَقٰتِ وَالَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ اِلَّا جُھْدَھُمْ)(التوبۃ:۷۹) " جو لوگ طعن کرتے ہیں کھلے دلے سے خیرات کرنے والے مومنوں پر ، ( ان کے ) صدقات کے بارے میں اور ان پر بھی جو اپنی تھوڑی سی) محنت مزدوری کے سوا کچھ نہیں رکھتے ۔"

إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ ← مُرَائِي وَيَجِيءُ الرَّجُلُ بِنِصْفِ صَاعٍ، فَيُ ← كُنَّا نَتَحَامَلُ، فَكَانَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالصَّدَقَةِ الْعَظِيمَةِ، فَيُقَ ← أَبِي مَسْعُودٍ، ← أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The gates of the doors gave charity for volunteering · Hadith 2453

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَدَقَۃَ التَّطَوُّعِ · حديث 2454

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ -وَهُوَ ابْنُ الْقَعْقَاعِ- عَنْ أَبِي زُرَعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَيُّ الصَّدَقَةِ أَعْظَمُ؟ قَالَ: "أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ تَخْشَى الْفَقْرَ، وَتَأْمُلُ الْبَقَاءَ، وَلَا تَمْهَلْ حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ قُلْتَ لِفُلَانٍ كَذَا، وَلِفُلَانٍ كَذَا، أَلَا وَقَدْ كَانَ لِفُلَانٍ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذِهِ اللَّفْظَةُ "أَلَا وَقَدْ كَانَ لِفُلَانٍ" مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي يَقُولُ: إِنَّ الْوَقْتَ إِذَا قَرُبَ فَجَائِزٌ أَنْ يُقَالَ: قَدْ كَانَ الْوَقْتُ، وَدَخَلَ الْوَقْتُ إِذَا قَرُبَ، وَقَدْ كَانَ لِفُلَانٍ وَإِنْ لَمْ يَدْخُلْ، لِأَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِنَّمَا أَرَادَ بِقَوْلِهِ ألَا وَقَدْ [كَانَ] لِفُلَانٍ أَيْ قَدْ قَرُبَ نُزُولُ الْمَنِيَّةِ بِالْمَرْءِ إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومُ فَيَصِيرُ الْمَالُ لِغَيْرِهِ، لَا أَنَّ الْمَالَ يَصِيرُ لِغَيْرِهِ قَبْلَ قَبْضِ النَّفْسِ (1). وَمِنْ هَذَا الْجِنْسِ قَوْلُ الصِّدِّيقِ: وَإِنَّمَا هُوَ الْيَوْمُ هُوَ وَارِثٌ.

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ﷺ!کونسا صدقہ اجر وثواب میں عظیم ہے ؟ آپ نے فرمایا: "تمھارا اس حال میں صدقہ کرنا کہ تم صحت مند ہو ، مال کاطمع رکھتے ہو، فقر وفاقہ کا تمھیں ڈرہو اور تمھیں زندگی کی امید ۔ ہو اس وقت کا انتظار نہ کرو حتی کہ جب جان حلق میں پہنچ جائے تو تم کہو: فلاں کےلیے اتنا مال ہے ۔ فلاں شخص کو اتنا مال دے دو ، وہ تواب دوسروں کا ہو ہی چکا ہے ۔"امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں یہ الفاظ "کہ وہ تو اب دوسروں کا ہو چکا ہے۔"یہ مسئلہ اسی قسم کا ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب وقت قریب ہوجائے تو یہ کہنا جائز ہے کہ وقت ہوچکا ہے اور دَخَلَ اْلَوقْتُ(وقت ہوگیا) اس وقت کہتےہیں جب وقت قریب ہوجائے اور یہ مال دوسروں کا ہو چکا ہے اگرچہ ابھی وقت نہیں ہوا۔ کیونکہ نبی کریمﷺ کا یہ فرمانا کہ یہ مال اب دوسروں کا ہو چکا ہے ۔ اس سے آپ کی مراد یہ ہے کہ اب اس شخص کی موت قریب آچکی ہے کیونکہ جان حلق میں اٹکی ہوئی ہے تو یہ مال اب دوسروں کا ہو جائے گا ۔ یہ مطلب نہیں کہ اس کی جان نکلنے سے پہلے ہی یہ مال دوسروں کا ہو جائے گا ۔ اسی قسم سے حضرت ابوبکر صدیق کا یہ فرمان ہے: بلا شبہ آج فلاں شخص اس کا وارث ہے ۔

أَتَى رَسُولَ اللَّهِ رَجُلٌ فقَالَ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ -وَهُوَ ابْنُ الْقَعْقَاعِ- ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The gates of the doors gave charity for volunteering · Hadith 2454

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2899

ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ وَكَتَبْتُهُ مِنْ أَصْلِهِ، ثَنَا يَعْقُوبُ، ثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ الْمِصْرِيُّ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَبَحَ يَوْمَ الْعِيدِ كَبْشَيْنِ، ثُمَّ قَالَ حِينَ وَجَّهَهُمَا: " (إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ [حَنِيفًا] وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ) [الأنعام: 79] (إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ) [285 - ب] (وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (162) لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ) [الأنعام: 163] بِاسْمِ اللَّهِ، واللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ مِنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ".

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عید قربان کے دن دو مینڈھے ذبح کیے، پھر جب انھیں قبلہ رخ لٹایا تو یہ آیت پڑھی:(إِنِّیْ وَجَّھْتُ وَاجْیَکی لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ حَنِیْفاً وَّمَا أَنَامِنَ الْمُشْرِکِنَعٰ)(انعام: ۷۹) بے شک میں نے اپنا چہرہ اس ذات کی طرف مرکوز کر لیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے میں اسی (اللہ ) کا پرستارہوں اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔"اور یہ آیت پڑھی :(اِنَّ صَاَصتِیْ وَنُسْکِیْ وَمَاَمانیَوَمَاَ تِیْ لِلہِ رَبِّ الْاٰ لَمِیْنَ۔لَاشَرِیْکَلَہُوَبِذٰلِاُکِمِرْتُوَاَنَااَوَّلُالْمُسْلِمِیْنَ)بے شک میری نماز ، میری قربانی میری زندگی اور میری موت، (سب کچھ) اللہ رب العا لمین ہی کے لیے ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی (بات یعنی توحید) کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں۔"بِمِفَ اللہِ اِللہُ اَکْرَ "(اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں ۔ اللہ سب سے بڑا ہے) اے اللہ تیرے ہی دئیے ہوئے (رزق) سے قربانی کر رہا ہوں اور تیری ہی خوشنودی کے حصول کے لیے کر رہا ہوں اسے محمد اور آپ کی امت کی طرف سے قبول فرما۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي عَيَّاشٍ، ← خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، ← يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ الْمِصْرِيُّ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ -وَكَتَبْتُهُ مِنْ أَصْلِهِ-

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2899

chevron_left Previous
1…237238239…258
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden22. The groups of the gates of obligatory travel23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness24. The congregation of the gates of prayer on the rows25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr37. The gates of the prayer of fear38. Collections of the gates of an eclipse prayer39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals