صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَدَقَۃَ التَّطَوُّعِ · حديث 2441
حَدَّثَنَا الدَّوْرَقِيُّ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ إِسْحَاقَ يَذْكُرُ؛ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ -يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ- أَخْبَرَنَا، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِبَيْضَةٍ مِنْ ذَهَبٍ أَصَابَهَا مِنْ بَعْضِ الْمَعَادِنِ، وَقَالَ الدَّوْرَقِيُّ: مِثْلَ الْبَيْضَةِ مِنْ الذَّهَبِ، قَدْ أَصَابَهَا مِنْ بَعْضِ الْمَعَادِنِ، وَقَالَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! خُذْ هَذِهِ مِنِّي صَدَقَةً، فَوَاللَّهِ مَا أَصْبَحْتُ أَمْلِكُ غَيْرَهَا، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ أَتَاهُ مِنْ شِقِّهِ الْأَيْمَنِ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ أَتَاهُ مِنْ شِقِّهِ الْأَيْسَرِ، فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ الرَّابِعَةَ، فَقَالَ: "هَاتِهَا" مُغْضَبًا، فَحَذَفَهُ بِهَا حَذْفَةً لَوْ أَصَابَهُ لَشَجَّهُ أَوْ عَقَرَهُ، ثُمَّ قَالَ: "يَأْتِي أَحَدُكُمْ بِمَالِهِ كُلِّهُ فَيَتَصَدَّقُ بِهِ، وَيَتَكَفَّفُ النَّاسَ، إِنَّمَا الصَّدَقَةُ عَنْ ظَهْرِ غِنًى". هَذَا حَدِيثُ ابْنِ رَافِعٍ. زَادَ الدَّوْرَقِيُّ: خُذْ عَنَّا مَالَكَ، لَا حَاجَةَ لَنَا فِيهِ.
حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہﷺ کے پاس سونے کا ایک انڈہ لے کر حاضر ہوا جو اسے کسی کان سے ملا تھا ۔ جناب الدورقی کی روایت میں ہے : انڈے کے برابر سونے کا ایک ٹکڑا لے کر حاضر ہوا جو اسے کسی کان سے ملا تھا ۔ تو اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسولﷺ: آپ مجھ سے یہ سونا صدقے کےلیے قبول فرمالیں ، اللہ کی قسم ! میں اس کے علاوہ کسی چیز کا مالک نہیں ہوں ۔ تو نبی ؑ نے اس سے اعراض کر لیا پھر وہ آپ کی دائیں جانب سے آیا اور پہلے کی طرح بات کی ۔ تو آپ نے پھر اس سے منہ موڑ لیا ۔ پھر وہ آپ کے بائیں طرف سے آیا اور پہلے جیسی گزارش کی تو آپ نے پھر منہ موڑ لیا پھر چوتھی بار اس کے عرض کرنے پر آپ نے فرمایا: "لاؤ۔"آپ نے اسے پکڑ کر زور سے پھینک دیا اگر وہ اس کے سر پر لگتا تو اس کا سر پھٹ جاتا ، اور ٹانگ پر لگتا تو وہ زخمی ہو جاتی ، پھر فرمایا: تم میں سےکوئی شخص اپنا سارا مال لے کر صدقہ کرنے آجاتا ہے ، پھر لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلا تا پھرتا ہے بے شک صدقہ تو وہ ہے جو مال داری باقی رکھے ۔"یہ روایت جناب ابن رافع کی ہے ۔ جناب الدورقی کی روایت میں یہ اضافہ ہے : اپنا مال واپس لےلو ، ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے ۔"
جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ بِبَيْضَةٍ مِنْ ذَهَبٍ أَصَابَهَا مِنْ بَعْضِ الْمَعَادِنِ، ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَزِيدُ -يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ-، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← ابْنَ إِسْحَاقَ يَذْكُرُ؛ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ← الدَّوْرَقِيُّ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،
Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The gates of the doors gave charity for volunteering · Hadith 2441
