Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَدَقَۃَ التَّطَوُّعِ · حديث 2441

حَدَّثَنَا الدَّوْرَقِيُّ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ إِسْحَاقَ يَذْكُرُ؛ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ -يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ- أَخْبَرَنَا، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِبَيْضَةٍ مِنْ ذَهَبٍ أَصَابَهَا مِنْ بَعْضِ الْمَعَادِنِ، وَقَالَ الدَّوْرَقِيُّ: مِثْلَ الْبَيْضَةِ مِنْ الذَّهَبِ، قَدْ أَصَابَهَا مِنْ بَعْضِ الْمَعَادِنِ، وَقَالَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! خُذْ هَذِهِ مِنِّي صَدَقَةً، فَوَاللَّهِ مَا أَصْبَحْتُ أَمْلِكُ غَيْرَهَا، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ أَتَاهُ مِنْ شِقِّهِ الْأَيْمَنِ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ أَتَاهُ مِنْ شِقِّهِ الْأَيْسَرِ، فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ الرَّابِعَةَ، فَقَالَ: "هَاتِهَا" مُغْضَبًا، فَحَذَفَهُ بِهَا حَذْفَةً لَوْ أَصَابَهُ لَشَجَّهُ أَوْ عَقَرَهُ، ثُمَّ قَالَ: "يَأْتِي أَحَدُكُمْ بِمَالِهِ كُلِّهُ فَيَتَصَدَّقُ بِهِ، وَيَتَكَفَّفُ النَّاسَ، إِنَّمَا الصَّدَقَةُ عَنْ ظَهْرِ غِنًى". هَذَا حَدِيثُ ابْنِ رَافِعٍ. زَادَ الدَّوْرَقِيُّ: خُذْ عَنَّا مَالَكَ، لَا حَاجَةَ لَنَا فِيهِ.

حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہﷺ کے پاس سونے کا ایک انڈہ لے کر حاضر ہوا جو اسے کسی کان سے ملا تھا ۔ جناب الدورقی کی روایت میں ہے : انڈے کے برابر سونے کا ایک ٹکڑا لے کر حاضر ہوا جو اسے کسی کان سے ملا تھا ۔ تو اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسولﷺ: آپ مجھ سے یہ سونا صدقے کےلیے قبول فرمالیں ، اللہ کی قسم ! میں اس کے علاوہ کسی چیز کا مالک نہیں ہوں ۔ تو نبی ؑ نے اس سے اعراض کر لیا پھر وہ آپ کی دائیں جانب سے آیا اور پہلے کی طرح بات کی ۔ تو آپ نے پھر اس سے منہ موڑ لیا ۔ پھر وہ آپ کے بائیں طرف سے آیا اور پہلے جیسی گزارش کی تو آپ نے پھر منہ موڑ لیا پھر چوتھی بار اس کے عرض کرنے پر آپ نے فرمایا: "لاؤ۔"آپ نے اسے پکڑ کر زور سے پھینک دیا اگر وہ اس کے سر پر لگتا تو اس کا سر پھٹ جاتا ، اور ٹانگ پر لگتا تو وہ زخمی ہو جاتی ، پھر فرمایا: تم میں سےکوئی شخص اپنا سارا مال لے کر صدقہ کرنے آجاتا ہے ، پھر لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلا تا پھرتا ہے بے شک صدقہ تو وہ ہے جو مال داری باقی رکھے ۔"یہ روایت جناب ابن رافع کی ہے ۔ جناب الدورقی کی روایت میں یہ اضافہ ہے : اپنا مال واپس لےلو ، ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے ۔"

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ بِبَيْضَةٍ مِنْ ذَهَبٍ أَصَابَهَا مِنْ بَعْضِ الْمَعَادِنِ، ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَزِيدُ -يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ-، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← ابْنَ إِسْحَاقَ يَذْكُرُ؛ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ← الدَّوْرَقِيُّ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The gates of the doors gave charity for volunteering · Hadith 2441

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَدَقَۃَ التَّطَوُّعِ · حديث 2442

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ وَهْبٍ حَدَّثَهُمْ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي [عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ] (1) عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ؛ أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ تِيبَ عَلَيْهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَنْخَلِعُ مِنْ مَالِي، صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "أَمْسِكْ بَعْضَ مَالِكَ، فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ". وَأَخْبَرَنَا يُونُسُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، بِهَذَا مِثْلِهِ (2).

حضرت کعب بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ جب ان کی تو بہ قبول ہوئی تو انھوں نے رسول اللہﷺ سے عرض کی: اے اللہ کےرسول! میرا سارا مال اللہ اور اس کے رسول کی طرف صدقہ ہے ، میں اس سے دستبردار ہوتا ہوں تو رسول اللہﷺ نے انھیں حکم دیا : "اپنا کچھ مال رکھ لو تو وہ تمھارے لیے بہتر ہے ۔"

لِرَسُولِ اللَّهِ حِينَ تِيبَ عَلَيْهِ: ← أَبِيهِ أَنَّهُ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ وَهْبٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The gates of the doors gave charity for volunteering · Hadith 2442

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَدَقَۃَ التَّطَوُّعِ · حديث 2443

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا -صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا- ابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "سَبَقَ دِرْهَمٌ مِائَةَ أَلْفٍ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! [248 - أ] كَيْفَ يَسْبِقُ دِرْهَمٌ مِائَةَ أَلْفٍ؟ قَالَ: "رَجُلٌ كَانَ لَهُ دِرْهَمَانِ فَأَخَذَ أَحَدَهُمَا فَتَصَدَّقَ بِهِ، وَآخَرُ لَهُ مَالٌ كَثِيرٌ فَأَخَذَ مِنْ عَرَضِهَا مِائَةَ أَلْفٍ".

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: " ایک درھم ایک لاکھ درہم پر سبقت لے گیا۔" صحابہ کرام نے عرض کیا : اے اللہ کے رسولﷺ! ایک درہم ایک لاکھ درہم پر کیسے سبقت لے گیا؟ آپ نے فرمایا: "ایک شخص کے پاس صرف دو درہم تھے تو اس نے ایک درہم صدقہ کر دیا۔ جبکہ دوسرے شخص کے پاس کثیر مال ودولت تھا تو اس نے اس میں ایک لاکھ درہم صدقہ کیا۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← صَفْوَانُ بْنُ عِيسَی ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The gates of the doors gave charity for volunteering · Hadith 2443

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَدَقَۃَ التَّطَوُّعِ · حديث 2444

حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنِ اللَّيْثِ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ، حَدَّثَهُ؛ ح وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَدِ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "جَهْدُ الْمُقِلِّ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ".

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ انھوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کونسا صدقہ افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: "کم مالدار شخص کا تکلیف کے ساتھ صدقہ کرنا افضل ہے ۔ اور سب سے پہلے اپنے اہل وعیال پر خرچ کرو۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ← يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو الْيَدِ، ← وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِي، ← اللَّيْثِ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The gates of the doors gave charity for volunteering · Hadith 2444

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَدَقَۃَ التَّطَوُّعِ · حديث 2445

وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، أَنْبَأَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فَقِيرًا فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ، فَإِنْ كَانَ فَضْلًا فَعَلَى عِيَالِهِ، فَإِنْ كَانَ فَضْلًا فَعَلَى قَرَابَتِهِ أَوْ ذِي رَحِمِهِ، فَإِنْ كَانَ فَضْلًا فَهُنَا وَهَاهُنَا".

حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:"جب تم میں سے کوئی شخص محتاج ہو تو وہ سب سے پہلے اپنی جان پر خرچ کر ے ۔ اگر مال بچ جائے تو اپنے اہل وعیال پر خرچ کر ے ، اگر مزید مال بچ جائے تو اپنے قریبی رشتہ دار وں پر خرچ کرے ، اگر پھر بھی مال زائد موجود ہو تو پھر ادھر ادھر ضرورت مندوں پر خرچ کر دے ۔"

النَّبِيِّ ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← أَيُّوبَ، ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The gates of the doors gave charity for volunteering · Hadith 2445

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2890

ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمِنًى. قَالَ: "وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذِهِ اللَّفْظَةُ "وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ" مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي أَعْلَمْتُ فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ مِنْ كُتُبِي أَنَّ الْحُكْمَ بِالنَّظيرِ وَالشَّبِيهِ وَاجِبٌ، لِأَنَّ فِي قَوْلِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ" دَلَالَة عَلَى أَنَّهُ أَبَاحَ الذَّبْحَ أَيْضًا إِنْ شَاءَ الذَّابِحُ مِنْ مِنًى، وَلَوْ كَانَ عَلَى خِلَافِ مَذْهَبِنَا فِي الْحُكْمِ بِالنَّظِيرِ وَالشَّبِيهِ وَكَانَ عَلَى مَا زَعَمَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا مِمَّنْ خَالَفَ الْمُطَّلِبِيَّ فِي هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ، وَزَعَمَ أَنَّ الدَّلِيلَ الَّذِي لَا يُحْتَمَلُ غَيْرُهُ أَنَّهُ إِذَا خَصَّ فِي إِبَاحَةِ شَيْءٍ بِعَيْنِهِ كَانَ الدَّلِيلُ الَّذِي لَا يُحْتَمَلُ غَيْرُ مَنْ زَعَمَ أَنَّ مَا كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ الشَّيْء بِعَيْنِهِ مَحْظُورٌ، كَانَ فِي قَوْلِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ" دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ كُلَّهَا لَيْسَ بِمَذْبَحٍ، وَاتِّفَاقِ الْجَمِيعِ مِنَ الْعُلَمَاءِ عَلَى أَنَّ جَمِيعَ مِنًى مَذْبَحٌ، كَمَا خَبَّرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهَا مَنْحَرٌ دَالٌ عَلَى صِحَّةِ مَذْهَبِنَا، وَبُطْلَانِ مَذْهَبِ مُخَالِفِينَا، إِذْ مُحَالٌ أَنْ يَتَّفِقَ الْجَمِيعُ مِنَ الْعُلَمَاءِ عَلَى خِلَافِ دَلِيلِ قَوْلِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَجُوزُ غَيْرُهُ.

حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے منیٰ میں قربانی کا جانور ذبح کیا اور فرمایا:"منیٰ کا سارا علاقہ اونٹ کی قربان گاہ ہے۔"امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں: حدیث کےیہ الفاظ "منیٰ کا سارا علاقہ قربان گاہ ہے۔" یہ مسئلہ اسی قسم کا ہے جسے میں اپنی کتب میں بیان کر چکا ہوں کہ ایک جیسے ،ملتے جلتے مسائل میں ایک ہی حکم لگانا واجب ہے ۔ کیونکہ نبی کریم ﷺ کے یہ الفاظ :"پورا منیٰ اونٹ کی قربان گاہ ہے"اس بات کی دلیل ہے کہ آپ نے سارے منیٰ میں گائے ، بکری وغیرہ ذبح کرنے کو بھی جائز قرار دیا ہے۔ اگر معاملہ ہمارے مخالفین کے موقف کے مطابق ہوتا کہ ایک جیسے مسائل میں ایک جیسا حکم لگانا درست نہیں اور جیسا کہ ہمارے بعض ساتھیوں نے جناب مطلبی کی مخالفت میں کہا ہے اس کا خیال ہے کہ جب کسی مخصوص چیز کو جائز قرار دیا جائے تو دیگر چیزیں ممنوع ہوں گی تو پھر نبی کریم ﷺ کے اس فرمان :"پورامنیٰ اونٹ کی قربان گاہ ہے " میں یہ دلیل ہوتی کہ پورا منیٰ دیگر جانوروں کا ذبح خانہ نہیں ہے۔ حالانکہ تمام علمائے کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ منی کا سارا علاقہ گائے بکری کے لیے ذبح خانہ ہے ۔ جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے بتایا ہے کہ سارا منی اونٹ کی قربان گاہ ہے۔ آپ کا یہ فرمان ہمارے موقف کےدرست ہونے اور ہمارے مخالفین کے موقف کے غلط ہونے کی دلیل ہے۔ کیونکہ یہ باممکن ہے کہ تمام علمائے کرام نبی کریمﷺ کے قول کے خلاف متفق ہو جائیں۔

"وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ". ← ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ بِمِنًى. ← جَابِرٍ ← أَبِيهِ ← جَعْفَرٌ، ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2890

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2891

ثَنَا سَلمُ بْنُ جُنَادَةَ، ثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ أُمِّهِ مُسَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ -تَعْنِي رَجُلٌ-: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! أَلَا نَبْنِي بِمِنًى بِنَاءً فَيُظِلَّكَ؟ قَالَ: "لَا، مِنًى مَنَاخُ مَنْ سَبَقَ".

حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے نبیﷺ !کیا ہم آپ کے لیے منیٰ میں عمارت نہ بنا دیں جس کے سائے میں آپ تشریف فرما ہو سکیں ؟ آپ نے فرمایا:" نہیں ، منیٰ اسی کی جگہ ہے جو پہلے آجائے۔"

"لَا، مِنًى مَنَاخُ مَنْ سَبَقَ". ← -تَعْنِي رَجُلٌ-: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! أَلَا نَبْنِي بِمِنًى بِنَاءً فَيُظِلَّكَ؟ ← عَائِشَةَ ← أُمِّهِ مُسَيْكَةَ، ← يُوسُفَ بْنِ مَاهَكٍ، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ، ← اِسْرَائِیْلُ ← وَكِيعٌ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2891

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2892

ثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ [285 - أ]؛ ح وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ (1)، ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: فَنَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِهِ ثَلَاث وَسِتِّينَ -يَعْنِي بَدَنَةَ- فَأَعْطَى عَلِيًّا فَنَحَرَ مَا غَبَرَ. وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، وَنَحَرَ عَلِيٌّ مَا بَقِيَ.

جناب جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ،وہ فرماتے ہیں: حضرت جابر بن عبداللہ ؓؓ کے پاس آئے ، انھوں نے فرمایا: نبی کریم ﷺ نے اپنے ہاتھ سے تریسٹھ اونٹ نحر کیے، پھر آپ نے بقیہ اونٹ حضرت علی ؓ کو دیے تو انھوں نے انھیں نحر کیا۔ جناب علی بن حجر کی روایت میں بَیَکر( جوباقی بچے ) کا لفظ آیا ہے ۔ (جبکہ محمد بن بشار کی روایت میں غَرَان (باقی ماندہ اونٹ) کالفظ ہے۔"

أَبِي ← جَعْفَرٌ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِيهِ ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2892

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2893

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، ثَنَا يُونُسُ؛ ح وَثَنَا الصَّنْعَانِيُّ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثَنَا يُونُسُ؛ ح وَثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ- ثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ؛ ح وَثَنَا الدَّوْرَقِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَا: ثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ جُبَيْرٍ قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ أَتَى عَلَى رَجُلٍ قَدْ أَنَاخَ بَدَنَتَهُ بِمِنًى لِيَنْحَرَهَا، فَقَالَ: ابْعَثْهَا قِيَامًا مُقَيَّدَةً سُنَّةُ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. هَذَا حَدِيثُ زِيَادِ بْنِ أَيُّوبَ.

جناب زیادہ بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر ؓ کو دیکھا کہ وہ ایک شخص کے پاس آئے جس نے منیٰ میں اپنی قربانی کے اونٹ کو نحر کرنے کے لیے بٹھا یا ہوا تھا۔ آپ نے فرمایا: اسے اٹھا کر کھڑا کر واور سنتِ محدی ﷺ کے مطا بق ایک ٹانگ باندھ کر نحر کرو۔ یہ روایت جناب زیادہ بن ایوب کی ہے۔

رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ أَتَى عَلَى رَجُلٍ قَدْ أَنَاخَ بَدَنَتَهُ بِمِنًى لِيَنْحَرَهَا، ← زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ، ← يُونُسَ ← هُشَيْمٌ ← الدَّوْرَقِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ- ← زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ← يُونُسَ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← الصَّنْعَانِيُّ، ← يُونُسَ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2893

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2894

ثَنَا عَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثَنَا وُهَيْبٌ، ثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: وَنَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِهِ سَبْعَ بَدَنَاتٍ قِيَامًا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَبَرُ أَنَسٍ مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي أَعْلَمْتُ فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ مِنْ كُتُبِنَا فِي ذِكْرِ الْعَدَدِ الَّذِي لَا يَكُونُ نَفْيًا عَمَّا زَادَ عَلَى ذَلِكَ الْعَدَدِ، وَلَيْسَ فِي قَوْلِ أَنَسٍ نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِهِ سَبْعَ بَدَنَاتٍ أَنَّهُ لَمْ يَنْحَرْ بِيَدِهِ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعِ بَدَنَاتٍ، لِأَنَّ جَابِرًا قَدْ أَعْلَمَ أَنَّهُ قَدْ نَحَرَ بِيَدِهِ ثَلَاثَةً وَسِتِّينَ مِنْ بُدْنِهِ.

حضرت انس بیان کرتے ہیں ک رسول اللہ ﷺ نے اپنے دست مبارک سے سات اونٹ کھڑے کر کے نحر کیے۔امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : حضرت انس ؓ کی یہ روایت اسی قسم سے ہے جسے میں اپنی کتابوں میں کئی مقامات پر بیان کر چکا ہوں کہ کوئی عدد اپنے سے زائد کی نفی نہیں کرتا لہٰذا حضرت انس ؓ کا یہ فرمان کہ "رسول اللہ ﷺ نے اپنے دست مبارک سے سات اونٹ نحر کیے"، اس سے یہ دلیل نہیں ملتی کہ آپ نے سات سے زیادہ اونٹ نحر نہیں کیے کیونکہ حضرت جابر ؓ نے بیان کیا ہے کہ رسول ﷺ نے اپنے دست مبارک سے تریسٹھ اونٹ نحر کیے تھے۔

وَنَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ بِيَدِهِ سَبْعَ بَدَنَاتٍ قِيَامًا. ← أَنَسٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← وُهَيْبٌ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ← عَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2894

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2895

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ بن مالك: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ، وَيُسَمِّي، وَيُكَبِّرُ، وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَذْبَحُ بِيَدِهِ وَاضِعًا قَدَمَهُ عَلَى صِفَاحِهَا.

حضرت اسن بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ دو خوبصورت چتکبرے سینگوں والے مینڈھے ذبح کرتے اور "بِمِسا اللہِ اَللہُ اَکْرَﷺ " پڑھتے میں نے آپ کو اپنے دست مبارک سے ذبح کرتے ہوئے دیکھا ، آپ نے اپنا قدم اسکے پہلو پر رکھا ہوا تھا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2895

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2896

ثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: فَقُلْتُ لَهُ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ؟ قَالَ: نَعَمْ. كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَحِّي، بِمِثْلِهِ.

جناب قتادہ ؒ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت انس ؓ کو فرماتے ہوئے سنا ۔ امام شعبہ کہتے ہیں ، میں نے پوچھا :کیا آپ نے حضرت انس سے یہ حدیث سنی ہے؟ انھوں نے فرمایا: ہاں۔ رسول اللہ ﷺ ذبح کرتے تھے ۔ مذکورہ بالا کی مثل روایت بیان کی ۔

نَعَمْ. كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُضَحِّي، بِمِثْلِهِ. ← فَقُلْتُ لَهُ: أَنْتَ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2896

chevron_left Previous
1…236237238…258
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden22. The groups of the gates of obligatory travel23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness24. The congregation of the gates of prayer on the rows25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr37. The gates of the prayer of fear38. Collections of the gates of an eclipse prayer39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals