صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2210
وَفِي خَبَر جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِذَا صَلَّى مَعَ الْإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ كُتِبَ لَهُ قِيَامُ لَيْلَةٍ". وَجَاءَ (1) فِي الْخَبَر: فَقَامَ بِنَا فِي الثَّالِثَةِ فَجَمَعَ أَهْلَهُ وَنِسَاءَهُ، فَقَامَ حَتَّى تَخَوَّفْنَا أَنْ يَفُوتَنَا الْفَلَاحُ، وَبَعْضُ أَصْحَابهِ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِمَّنْ قَدْ صَلَّى مَعَهُ قَارِئٌ لِلْقُرْآنِ لَيْسَ كُلُّهُمْ أُمِّيِّينَ.
''حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے :''تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا:''جب آدمی امام کے ساتھ نماز پڑھتا ہے حتی کہ وہ نماز سے فارغ ہو جاتا ہے تو اس کےلیے پوری رات کا قیام لکھا جاتا ہے۔''اور ایک روایت میں آیا ہے:''تو پھر آپ نے تیسری رات ہمیں قیام کرایا ، اپنے اہل و عیال اور ازواج مطہرات کو بھی جمع کیا۔ پھر آپ نے اپنا طویل قیام کیا کہ ہمیں فلاح کے چھوٹ جانے کا ڈر پید اہوا۔اورآپ کے ساتھ نماز پڑھنے والے صحابہ کرا م قاری اور حافظ تھے۔ وہ سب کےسب ان پڑھ نہیں تھے''
رَسُولُ اللَّه "إِذَا صَلَّى مَعَ الْإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← وَفِي خَبَر جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ
Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2210
