صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2198
حَدَّثَنَا عَلِي بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: أَخْبَرَني عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ: أَنَّ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ يُخْبِرُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، فَتَلَاحَى رَجُلانِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ. فَقَالَ: "إِنِّي خَرَجْتُ لِأُخْبِرَكُمْ لَيْلَةَ الْقَدْرِ فَتَلَاحَى فُلَانٌ وَفُلَانٌ، فَرُفِعَتْ، وَعَسَى أَنْ يَكُونَ خَيْرًا لَكُمْ، فَالْتَمِسُوهَا فِي التِّسْعِ، وَالسَّبْعِ، وَالْخَمْسِ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: "فَرُفِعَتْ" يَعْنِي: مَعْرِفَتِي بِتِلْكَ اللَّيْلَةِ.
''حضرت عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ شب قدر کی خبر دینے کےلیے گھر سے نکلے تو دو مسلمان شخص جھگڑرہے تھے۔ تو آپ نے فرمایا:''بے شک میں تمہیں شب قدر کی خبر دینے گھرسے نکلا تھا فلاں فلاں شخص جھگڑ رہے تھے تو شب قدر کی معرفت اٹھا لی گئی اور امید ہے کہ یہ تمہارے لیے بہتر ہوگا۔ لہذا تم اسے نویں،ساتویں اور پانچویں رات میں تلاش کرو۔''امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : ''(فَرُفِعَتْ) کا معنی ہے : یعنی میری اس رات کی معرفت و شناخت اٹھا لی گئی ہے۔''
عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ
Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2198
