صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ فَضلِ الجُمُعَۃِ · حديث 1729
أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا يعقوب بن ابراهيم الدروقي حدثنا محمد بن مصعب ـ يعني القرقسائي ـ ثنا الأوزاعي عن أبي عمار عن عبد الله بن فروخ عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : خير يوم طلعت فيه الشمس يوم الجمعة فيه خلق آدم و فيه أدخل الجنة و فيه أخرج منها و فيه تقوم الساعة قال أبو بكر : قد اختلفوا في هذه اللفظة في قوله فيه خلق آدم إلى قوله و فيه تقوم الساعة أهو عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم أو عن أبي هريرة عن كعب الأحبار ؟ قد خرجت هذه الأخبار في كتاب الكبير من جعل هذا الكلام رواية من أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم و من جعله عن كعب الأحبار و القلب إلى رواية من جعل هذا الكلام عن أبي هريرة عن كعب أميل لأن محمد بن يحيى حدثنا قال : نا محمد بن يوسف : ثنا الأوزاعي عن يحيى عن أبي سلمة عن أبي هريرة : خير يوم تطلع فيه الشمس يوم الجمعة فيه خلق آدم و فيه أسكن الجنة و فيه أخرج منها و فيه تقوم الساعة قال قلت له : أشيء سمعته من رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قال : بل شيء حدثناه كعب و هكذا رواه أبان بن يزيد العطار و شيبان بن عبد الرحمن النحوي عن يحيى بن أبي كثير قال أبو بكر : و أما قوله : خير يوم طلعت فيه الشمس يوم الجمعة فهو عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم لا شك و لا مرية فيه و الزيادة التي بعدها : فيه خلق آدم إلى آخره هذا الذي اختلفوا فيه فقال بعضهم عن النبي صلى الله عليه و سلم و قال بعضهم : عن كعب قال أبو بكر : و أما قوله : خير يوم طلعت فيه الشمس يوم الجمعة فهو عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم لا شك و لامرية فيه و الزيادة التي بعدها : فيه خلق آدم إلى آخره هذا الذي اختلفوا فيه فقال بعضهم عن النبي صلى الله عليه و سلم و قال بعضهم : عن كعب
"حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہےکہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:"جمعہ کا دن وہ بہترین دن ہے جس میں سورج طلوع ہوا ہے ۔ اسی دن حضرت آدمؑ کو پیدا کیا گیا اور اسی دن انہیں جنت میں داخل کیا گیا اور اسی دن انہیں جنت سے نکالا گیا اور اسی دن قیامت قاتم ہوگی۔"امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں :"اس روایت کے الفاظ"اسی دن آدمی ؑ کو پیدا کیا گیا "سے لے کر "اسی دن آدمؑ کو پیدا کیا گیا"سے لے کر "اسی دن قیامت قائم ہوگی"تک کے الفاظ میں علمائے کرام کا اختلاف ہے کہ کیا یہ الفاظ حضرت ابوہریرہؓ نے رسول اللہﷺ سے بیان کیے ہیں یا جناب کعب الاحبار ؒ سے روایت کیے ہیں ؟ میں نے کتاب الکبیر میں یہ روایات بیان کر دی ہیں کہ کن راویوں نے یہ کلام حضرت ابوہریرہؓ کے واسطے سے نبی کریمﷺ سے روایت کیا ہے اور کن راویوں نے اسے جناب کعب الاحبار کا کلام بنا کر روایت کیا ہے ۔ جبکہ میرا دل ان راویوں کی روایت کی طر ف زیادہ مائل ہے جنہوں نے اسے حضرت ابوہریرہؓ کے واسطے سے جناب کعب ؓ کے کلام کے طور پر بیان کیا ہے ۔ کیونکہ ہمیں جناب محمد بن یحییٰ نے اپنی سند سے حضرت ابوہریرہؓ سے بیان کیا کہ "بہترین دن جس میں سورج طلوع ہوا ہے وہ جمعہ کا دن ہے اسی دن حضرت آدم ؑ پیدا ہوئے اور اسی دن انہیں جنت میں بسایا گیا اور اسی دن انہیں وہاں سے نکالا گیا اور اسی دن قیامت قائم ہوگی ۔"جناب ابوسلمہ کہتے ہیں : میں نے حضرت ابوہریرہؓ سے پوچھا : "کیا آپ نے یہ چیز رسول اللہﷺ سے سنی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا: ( نہیں ) بلکہ یہ چیز ہمیں کعب ؓ نے بیان کی ہے ۔ اسی طرح یہ روایت جناب ابان بن یزید عطار اور سیطان بن عبدالرحمان نحوی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے بیان کی ہے ۔ امام ابوبکرؒ بیان کرتے ہیں : حدیث کے یہ الفاظ "جمعہ کا دن وہ بہترین دن ہے جس میں سورج طلوع ہوا ہے ۔"تو اس میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ یہ الفا ظ حضرت ابوہریرہؓ نے رسول اللہﷺ سے بیان کیے ہیں اور اس کے بعد والے الفاظ "اسی دن حضرت آدمؑ پیدا کیے گئے " سے لے کر آخر تک۔ تو ان میں علمائے کرام کا اختلاف ہے ۔ کچھ کے نزدیک یہ نبی کریمﷺ سے مروی ہیں اور بعض دوسرے علماء کے نزدیک یہ جناب کعب ؓ سے مروی ہے ۔"
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَرُّوخَ ← أَبِي عَمَّارٍ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← محمد بن مصعب يعني القرقسائي ← يعقوب بن إبراهيم الدروقي، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › Collections are the gates of the preference of the congregation · Hadith 1729
