صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1036
وأخبرنا أبو بكر نا عيسى بن إبراهيم الغافقي ثنا ابن وهب حدثني عمر ببن الحارث حدثني قتادة بن دعامة عن ابن سيرين عن أبي هريرة : عن رسول الله صلى الله عليه وسلم مثله يعني أنه سجد سجدتي السهو يوم جاءه ذو اليدين بعد التسليم قال أبو بكر : خبر ابن سيرين عن أبي هريرة دال على إغفال من زعم أن هذه القصة كانت قبل نهي النبي صلى الله عليه وسلم وألفاظ رواة هذا الخبر علم أن هذا القول جهل من قائله في خبر ابن سيرين عن أبي هريرة : صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم وهكذا رواه مالك بن أنس عن داود بن الحصين عن أبي سفيان مولى بني أبي أحمد عن أبي هريرة قال : صلى لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم
" حضرت ابو ہریرہ ؓ نبئی کریم ﷺ سےبمذکورہ بالا حدیث کی مثل روایت بیان کرتے ہیں۔ یعنی" آپ نے سہو کے دو سجدے کیے جس دن سلام پھیرنے کے بعد ذولیدین آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا ( اور نماز میں کمی کی اطلاع دی تھی ) امام ابو بکر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ابن سیرین کی حضرت ابو ہریرہ ؓ سے یہ حدیث اس شخص کی غفلت پر دلالت کرتی ہے جس کا خیال ہے کہ یہ قصہ نبی اکرم ﷺ کے نماز میں کلام کرنے کی ممانعت سے پہلے کا ہے اور جو شخص علمی سوجھ بوجھ رکھتا ہو اور اس نے نبی اکرم ﷺ کے فرامین اوراس حدیث کے راویون کے الفاظ میں غور کیا ہو وہ جان لیتا ہے کہ یہ بات کہنے والے کی جہالت پر مبنی ہے ۔جناب ابن سیرین کی حضرت ابو ہریرہ ب سے مروی حدیث کے یہ الفاظ ہیں : " رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی۔" اسی طرح امام مالک بن انس رحمہ اللہ نے اپنی سند کے ساتھ یہ روایت بنی ابی احمد کے آزاد کردہ غلام جناب ابو سفیان کے واسطے سے حجرت ابو ہریرہ ؓ سے بیان کی ہے ۔اس مین "صلی بنا "کی بجائے "صلی لنا "کے الفاظ ہیں ( مطلب ایک ہی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی۔)"
أبي هريرة دال على إغفال من زعم ← أبو بكر خبر ابن سيرين ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ سِيرِينَ، ← قَتَادَةَ بْنِ دِعَامَةَ، ← عمر ببن الحارث ← ابْنُ وَهْبٍ، ← عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ
Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of forgetfulness in prayer · Hadith 1036
