Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1024

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، نَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ الْمَدَنِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ؛

" حضرت ابو سعید خدری ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: " جب تم میں سے کسی شخص کو اپنی نماز میں شک ہو جائے اور اسے پتہ نہ چلے کہ اس نے کتنی رکعات پڑھی ہیں ۔ ایک ، دو، تین یا چار پڑھی ہیں ؟ تو وہ اتنی رکعات مکمل کر لے جس میں اسے شک ہو ، پھر وہ تشہد میں بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے ، چنانچہ اگر اس کی نماز نا مکمل تھی تو اس نے اب پوری کر لی اور دوسجدے شیطان کی ذلت و خواری کا سبب ہوں گے، اور اگر اس نے اپنی نماز مکمل کر لی تھی تو ( یہ زائد ) رکعت اور دو سجدے اس کی لیے نفل ہوں گے۔"

زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ الْمَدَنِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of forgetfulness in prayer · Hadith 1024

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1025

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر ثنا به الربيع مرة أخرى من كتابه وقال : فليبن على ما استيقن ثم يسجد سجدتين من قبل السلام وقال أبو موسى و الدورقي و يونس : إذا شك أحدكم في صلاته فلا يدري ثلاثا صلى أم أربعا فليصل ركعة ويسجد سجدتين قبل السلام ثم باقي حديثهم مثل حديث الربيع قال لنا أبو بكر : في هذا الخبر عندي دلالة على أن صاحب المال إذا كان ماله غائبا عنه فأخرج زكاته و أوصلها إلى أهل سهمان الصدقة ناويا أن كان ماله سالما فهي زكاته وإن كان ماله مستهلكا فهو تطوع ثم بان عنده وصح أن ماله كان سالما أن ماله الذي أوصله إلى أهل سهمان الصدقة كان جائزا عنه في الصدقة المفروضة في ماله الغائب إذ النبي صلى الله عليه وسلم قد أجاز عن المصلي هذه الركعة التي صلاها بإحدى اثنين إن كانت صلاته التي صلاها ثلاثا فهذه الركعة رابعة التي هي فرض عليه وإن كانت صلاته تامة فهذه الركعة نافلة فقد أجزت عنه هذه الركعة من الفريضة وهو إنما صلاها على أنها فريضة أو نافلة

" امام صاحب فرماتے ہیں: امام ربیع نے ہمیں ایک مرتبہ اپنی کتاب سے بیان کرتے ہوئے فرمایا: لہٰذا وہ یقین پر بنا کرے ، پھر سلام پھیرنے سے پہلےدو سجدے کرے اور جناب ابو موسیٰ ، دورقی ایر یونس نے اپنی روایت میں کہا: جب تم میں سے کسی شخص کو اپنی نماز میں شک ہو جائے ، پھر اسے پتہ نہ چلے کہ اس نے تین رکعات پڑھی ہیں یا چار ، تو اسے ایک رکعت پڑھ لینی چاہیے اور سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کر لے۔" ان کی باقی روایت جناب ربیع کی روایت کی طرح ہی ہیں ۔ امام ابو بکر رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: " اس حدیث میں میرے نزدیک اس بات کی دلیل ہے کہ مالدار شخص کا مال جب اس کے پاس موجود نہ ہو ( تجارت و غیرہ کی غرض سے کسی علاقہ میں بیٹھا ہوا ہو ) پھر اس کی زکوۃ نکال کر اس کے حقداروں کو پہنچا دے اور اس کی نیت یہ ہو کہ اگر اس کا مال صحیح سلامت ہوا تو یہ اس کی زکوۃ ہے اور اگر اس کا مال تبا ہ و برباد ہو گیا تو یہ اس کا صدقہ ہے ، پھر اسے صحیح اطلاع مل گئی کہ اس کا مال صحیح سلامت ہے تو اس کا وہ مال جو اس نے اپنے غیر موجود مال کی فرض زکوۃ کے طور پر صدقہ و زکوۃ کے حقداروں کو پہچایا تھا وہ جائز اور درست ہو گا۔ کیونکہ نبی کریم نے نمازی کی ایک رکعت کو جائز قرار دیا ہے۔ جو اس نے دو طرح کی نیت سے ادا کی تھی ۔ کہ اگر اس کی ادا شدہ نماز تین رکعات ہوئی تو یہ اس کی چوتھی فرض رکعت ہو گی ، اور اگر اس کی نماز مکمل ہو چھی تھی تو یہ رکعت نفل ہو گی۔ اور اس کی یہ رکعت فرض نماز سے کفایت کر جائے گی حالانکہ اس نے یہ رکعت فرض یا نفل کی نیت سے ادا کی تھی۔"

فلي بن على ما استيقن ثم يسجد سجدتين من قبل السلام ← به الربيع مرة أخرى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of forgetfulness in prayer · Hadith 1025

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1026

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أبي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي أَخِي؛ ح وَثَنَا مُحَمَّدٌ أَيْضًا، ثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ -وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ- عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلَا يَدْرِي كَمْ صَلَّى، ثَلَاثًا أَمْ أَرْبَعًا، فَلْيَرْكَعْ رَكْعَةً يُحْسِنُ رُكُوعَهَا وَسُجُودَهَا وَيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ". قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى: وَجَدْتُ هَذَا الْخَبَرَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ فِي كِتَابَ أَيُّوبَ مَوْقُوفًا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ هُوَ ابْنُ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَخُو عَاصِمٍ وَوَاقِدٍ، وَهُوَ أَكْبَرُهُمْ. قَالَ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ سَعِيدٍ الدَّارِمِيَّ يَقُولُ: عَاصِمٌ وَعُمَرُ وَزِيدٌ وَوَاقِدٌ وَأَبُو بَكْرٍ وَفَرْقَدٌ هَؤُلَاءِ كُلُّهُمْ إِخْوَةٌ. وَعَاصِمٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَالَ لَنَا الدَّارِمِيُّ هَذَا فِي عَقِبِ خَبَرِهِ،

" حضرت عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: " جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھےاور اسے یہ پتہ نہ چلے کہ اس نے کتنی رکعات پڑھی ہیں ، تین یا چار؟ تو اسے چاہیے کہ ایک رکعت پھر پڑھ لے، اس کے رکوع و سجود خوب سنوار کر ادا کرے اور ( آخر میں ) دو سجدے کر لے۔" محمد بن یحییٰ بیان کرتے ہیں : " میں نے یہ روایت ایوب کی کتاب میں ایک اور جگہ پر موقوف دیکھی ہے ۔ " امام ابو بکر فرماتے ہیں : " عمر بن محمد ، وہ زید بن عبد اللہ بن عمر بن خطاب ؓ کا بیٹا ہے اور عاصم اور واقد کا بڑا بھائی ہے ۔" وہ فرماتے ہیں : " میں نے احمد بن سعید الدارمی رحمۃ اللہ علیہ کو فرماتے ہوئے سنا :عاصم ، عمر ، زید ، واقد ، ابو بکر اور فرقد یہ شب بھائی ہیں ۔ اور عاصم وہ محمد بن زین بن عبد اللہ بن خطاب کا بیٹا ہے، امام ابو بکر فرماتے ہیں : " امام دارمی نے ہمیں یہ بات اپنی روایت کے بعد بیان کی۔"

عَبْدُ اللَّهِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ -وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ- ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ← أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← وَثَنَا مُحَمَّدٌ أَيْضًا، ← أَخِي ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of forgetfulness in prayer · Hadith 1026

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1027

وَالَّذِي حَدَّثَنَاهُ، قَالَ: ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ حَيَّانَ، أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ الْعُمَرِيُّ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ قَالَ: بَيْنَا الْحَجَّاجُ يَخْطُبُ وَابْنُ عُمَرَ شَاهِدٌ وَمَعَهُ ابْنَانِ لَهُ أَحَدُهُمَا عَنْ يَمِينِهِ وَالْآخَرُ عَنْ شِمَالِهِ، إِذْ قَالَ الْحَجَّاجُ: ابْنُ الزُّبَيْرِ نَكَّسَ كِتَابَ اللَّهِ، نَكَّسَ اللَّهُ قَلْبَهُ، قَالَ: وَابْنُ عُمَرَ مُسْتَقْبِلُهُ. فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: إِنَّ ذَاكَ لَيْسَ بِيَدِكَ وَلَا بِيَدِهِ. قَالَ: فَسَكَتَ الْحَجَّاجُ. ثُمَّ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ قَدْ عَلَّمَنَا وَكُلَّ مُسْلِمٍ، وَإِيَّاكَ أَيُّهَا الشَّيْخُ أَنْ تَعْقِلَ. فَجَعَلَ ابْنُ عُمَرَ يَضْحَكُ، فَحَكَاهُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ حَبِيبٍ، قَالَ: ثُمَّ وَثَبَ فَأَجْلَسَهُ ابْنَاهُ. فَقَالَ: دَعُونِي فَإِنِّي تَرَكْتُ الَّتِي فِيهَا الْفَضْلُ أَنْ أَقُولَ لَهُ: كَذَبْتَ.

" جناب حبیب بن ابی ثابت بیان کرتے ہیں کہ اس دوران کہ حجاج خطبہ دے رہا تھا اور حضرت ابن عمر ؓ بھی موجود تھے اور ان کے ساتھ ان کے دو بیٹے ان کی دائیں اور بائیں جانب بیٹھے تھے، جب حجاج نے کہا: ابن الزبیر نے اللہ کی کتاب قراں مجید کو جھکا دیا ہے ، اللہ اس کے دل کو اوندھا کرے۔حبیب نے کہا : اور حجرت ابن عمر اس کی طرف متوجہ تھے چنانچہ حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا: یہ کام تیرے اور اس کے اختیار میں نہیں ہے ۔ راوی نے کہا:ھضاج خاموش ہو گیا پھر اس نے کہا: بے شک اللہ تعالیٰ نے ہمیں اور مسلمانوں کو علم عطا کیا ہے، اے بوڑھے تم بھی عقل سے کام لو۔ تو حضرت ابن عمر نے ہنسنا شروع کر دیا ۔ پھر یہ قصہ عاصم کے واسطے سے حبیب سے بیان کیا تو کہا : پھر حضرت ابن عمر ؓ ( حجاج کی طرف ) اچھلے تو ان کے بیٹوں نے انہیں بٹھا دیا ۔ انہوں نے فرمایا: مجھے چھوڑ دو کیونکہ میں اصل فضیلت والی بات تو اسے کہی نہیں کہ تو ( حجاج) جھو ٹا ہے ۔

حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← عَاصِمٍ الْعُمَرِيِّ، ← إسحاق بن منصور بن حيان ← وَالَّذِي

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of forgetfulness in prayer · Hadith 1027

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1028

قَالَ الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّابُونِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، نَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَا: ثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ؛ ح وَثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَخْبَرَنَا فُضَيْلٌ -يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ- عَنْ مَنْصُورٍ؛ ح وَثَنَا أَبُو مُوسَى وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَا: ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ، ثَنَا مَنْصُورٌ؛ ح وَثَنَا أَبُو مُوسَى، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ؛ ح وَثَنَا أَبُو مُوسَى أَيْضًا، ثَنَا أَبُو دَاوُدَ أَيْضًا نَحْوَهُ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزَادَ فِي الصَّلَاةِ أَوْ نَقَصَ مِنْهَا، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! حَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ؟ قَالَ: "وَمَا ذَاكَ؟ " فَذَكَرْنَا لَهُ الَّذِي صَنَعَ، فَثَنَى رِجْلَهُ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيْنَا، فَقَالَ: "إِنَّهُ لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ أَنْبَأْتُكُمْ، وَلَكِنِّي بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ، فَإِذَا نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي، وَأَيُّكُمْ مَا شَكَّ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَنْظُرْ أَحْرَى ذَلِكَ لِلصَّوَابِ، فَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ، ثُمَّ يُسَلِّمْ، وَيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ". هَذَا حَدِيثُ أَبِي مُوسَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ. قَالَ أَبُو مُوسَى، قَالَ ابْنُ مَهْدِيٍّ: فَسَأَلْتُ سُفْيَانَ عَنْهُ، فَقَالَ: قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ مَنْصُورٍ، وَلَا أَحْفَظُهُ. وَلَمْ يَذْكُرْ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ فِي حَدِيثِهِ: التَّحَرِّيَ، وَقَالَ: "فَأَيُّكُمْ سَهَا فِي صَلَاتِهِ فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى، فَلْيُسَلِّمْ ثُمَّ لِيَسْجُدْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي هَذَا الْخَبَرِ إِذَا بَنَى عَلَى التَّحَرِّي سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ بَعْدَ السَّلَامِ. وَهَكَذَا أَقُولُ. وَإِذَا بَنَى عَلَى الْأَقَلِّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ قَبْلَ السَّلَامِ، عَلَى خَبَرِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ. وَلَا يَجُوزُ عَلَى أَصْلِي دَفْعُ أَحَدِ الْخَبَرَيْنِ بِالْآخَرِ، بَلْ يَجِبُ اسْتِعْمَالُ كُلِّ خَبَرٍ فِي مَوْضِعِهِ. وَالتَّحَرِّي هُوَ أَنْ يَكُونَ قَلْبُ الْمُصَلِّي إِلَى أَحَدِ الْعَدَدَيْنِ أَمْيَلَ، وَالْبِنَاءُ عَلَى الْأَقَلِّ مَسْأَلَةٌ غَيْرُ مَسْأَلَةِ التَّحَرِّي، فَيَجِبُ اسْتِعْمَالُ كِلَا الْخَبَرَيْنِ فِيمَا رُوِيَ فِيهِ.

" حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی تو اس نماز میں کچھ اضافہ کر دیا یا اس میں کچھ کمی کر دی، پھر آپ ہماری طرف اپنے چہرہ مبارک کے ساتھ متوجہ ہوئے ، ہم نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! کیا نماز میں کچھ تبدیلی ہو گئی ہے ؟ آپ نے پوچھا : وہ کیا ( تبدیلی ) ہے ؟ تو ہم نے آپکو آپکے عمل کے متعلق بتادیا ۔ لہٰذا آپ نے اپنا پاوں موڑا اور قبلہ رخ ہو کر دو سجدے کیے، پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر آپ نے فرمایا: اگر نماز میں کوئی تبدیلی ہوتی تو میں تمہیں بتا دیتالیکن میں ایک انسان ہوں ، میں بھی تمہاری طرح بھول جاتا ہوں ، اس لیے جب میں بھول جاوں تو میری یاد دہانی کرا دیا کرو ۔ اور تم میں سے جس شخص کو بھی اپنی نماز میں ( کمی بیشی ) کا شک ہو تو وہ درست ( تعداد رکعات ) کے متعلق غورو فکر کرے پھر اس کے مطابق نماز مکمل کرلے، پھر سلام پھر لے اور دو سجدے کر لے ۔" ابو مو سیٰ کی عبد الرحمان سے روایت ہے : ابو موسیٰ کہتے ہیں : جناب ابن مہدی نے فرمایا: میں نے امام سفیان سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا:: میں نے یہ روایت منصور سے سنی تھی مگر مجھے یاد نہیں ۔ جنا ب احمر بن عبدہ نے اپنی روایت میں " التحری " ( تحقیق و جستجو ) کے الفاظ بیان نہیں کیے۔ اور کہا: " تم میں سے جس شخص سے اپنی نماز میں بھول ہو جائے اور اسے پتہ نہ چلے کہ اس نے کتنی نماز پڑھ لی ہے تو وہ سلام پکرنے کے بعد سہو کے دو سجدے کر لے۔ امام ابو بکر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ نمازی جب تحقیق و جستجو پر بنیاد کر کے ( نماز مکمل کرے گا) تو سہو کے دو سجدے سلام پکرنے کے بعد کرے گااور یہی پیرا موقف ہے۔ اور جب کم ترین عدد پر بنا کرے گاتو سہو کے دو سہو کے دو سجدے سلام پھیرنے سے پہلے کرے گا ۔ جیسا حضرت ابو سعید خدری ؓ کی روایت میں ہے ۔ میرے نزدیک ایک روایت کو دوسری کے ساتھ رد کرنا اصلا درست اور جائز نہیں ہے بلکہ ہر روایت پر اس کے مقام پر عمل کرنا واجب ہے۔ "التحری " ( تحقیق و جستجو یہ ہے کہ نمازی کا دل کسی ایک عدد کی طرف زیادہ مائل ہو جبکہ کم سے کم عدد پر بنیاد رکھنے کا مسئلہ تھری کے مسئلے سے مختلف ہے ۔ لہٰذ ادونوں روایتوں پر اسی طرح عمل کرنا واجب ہے جیسے وہ بیان کی گئی ہیں ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← زَائِدَۃَ، ← أَبُو دَاوُدَ، أَيْضًا نَحْوَهُ ← أَبُو مُوسَى أَيْضًا، ← مَنْصُورٌ، ← زَائِدَۃَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← أَبُو مُوسَى، ← مَنْصُورٌ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ، ← أَبُو مُوسَى وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، ← مَنْصُورٌ، ← فُضَيْل يَعْنِي ابْن عِيَاض ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّابُونِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of forgetfulness in prayer · Hadith 1028

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1029

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَفِظْتُهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي الْأَعْرَجُ، عَنِ ابْنِ بُحَيْنَةَ؛ ح وَثَنَا الْمَخْزُومِيُّ، نَا سُفْيَانُ؛ ح وَثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ؛ ح وَثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ، ثَنَا سُفْيَانُ قَالَ: سَمِعْتُهُ (1) يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنِ ابْنِ بُحَيْنَةَ، وَهَذَا حَدِيثُ عَبْدِ الْجَبَّارِ -حَدِيثُ الزُّهْرِيِّ- قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً نَظُنُّ أَنَّهَا الْعَصْرُ، فَلَمَّا كَانَ فِي الثَّانِيَةِ قَامَ وَلَمْ يَجْلِسْ، فَلَمَّا كَانَ قَبْلَ التَّسْلِيمِ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ وَهُوَ جَالِسٌ.

" حضرت ابن بحسینہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی ، ہمارا خیالم ہے کہ وہ عصر کی نماز تھی ، پھر جب آپ دوسری رکعت میں تھے تو آپ کھڑے ہو گئے اور ( تشہد ) کے لیے نہ بیٹھے ( اور کھڑے ہو گئے ) پھر جب سلام پھیرنے سے قبل ( تشہد بیٹھے ہوئے تھے ) تو آپ نے بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کیے۔"

ابْنِ بُحَيْنَةَ، وَهَذَا حَدِيثُ عَبْدِ الْجَبَّارِ -حَدِيثُ الزُّهْرِيِّ- ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ، ← الزهري ويحيى بن سعيد، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ← سُفْيَانَ، ← المخزومي ← ابْنِ بُحَیْنَۃَ، ← الْأَعْرَجِ ← حَفِظْتُهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of forgetfulness in prayer · Hadith 1029

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1030

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثَنَا عَمِّي، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ -وَهُوَ ابْنُ عُثْمَانَ- عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ، أَنَّهُ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً مِنَ الصَّلَوَاتِ فَقَامَ مِنَ اثْنَتَيْنِ فَسُبِّحَ بِهِ، فَمَضَى حَتَّى فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ وَلَمْ يَبْقَ إِلَّا التَّسْلِيمُ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ.

" حضرت عبد اللی بن بحسینہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نمازوں میں سے ایک نماز پڑھائی تو آپ دوسری رکعت میں ( تشہد بیٹھے بغیر ) کھڑے ہو گئے تو آپ کو سبحان اللہ کہہ کر یاد دلایا گیا مگر آپ نے اپنی نماز جاری رکھی حتیٰ کہ نماز سے فارغ ہو گئے اور صرف سلام باقی رہ گیا ، لہٰذا آپ نے سلام سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیے۔"

عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ أَنَّهُ ← الْأَعْرَجِ ← الضَّحَّاكُ -وَهُوَ ابْنُ عُثْمَانَ-، ← ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، ← عَمِّي، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of forgetfulness in prayer · Hadith 1030

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1031

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَزَرِيُّ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ؛ ح وَثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنِ ابْنِ بُحَيْنَةَ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. وَقَالَ يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ فِي حَدِيثِهِ: فَسَبَّحْنَا بِهِ، فَلَمَّا اعْتَدَلَ مَضَى وَلَمْ يَرْجِعْ. قَالَ الْفَضْلُ: فَسَبَّحُوا بِهِ، فَمَضَى وَلَمْ يَرْجِعْ.

اس بات کا بیان کہ نمازی جب دو رکعتوں کے بعد سیدھا کھڑا ہو جائے ، پھر اسے " سبحان اللہ " کہہ کر متنبہ کیا جائے کہ وہ تشہد کی لیے بیٹھنا بھول گیا ہے تو اسے اپنی نماز جاری رکھنی چاہیےاور دوبارہ ( اٹھنے کے بعد ) نہ بیٹھے ، اور سلام پھیرنے سے پہلے اسے دو سجدے کرنے چاہئیں

الْفَضْلُ: فَسَبَّحُوا بِهِ، فَمَضَى وَلَمْ يَرْجِعْ. ← يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ فِي حَدِيثِهِ: فَسَبَّحْنَا بِهِ، فَلَمَّا اعْتَدَلَ مَضَى وَلَمْ يَرْجِعْ. ← الْحَدِيثَ. ← «صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ ← ابْنِ بُحَیْنَۃَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← یَحْیَی بْنُ حَکِیمٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَزَرِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of forgetfulness in prayer · Hadith 1031

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1032

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَا: ثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ: أَنَّهُ نَهَضَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ فَسَبَّحُوا بِهِ، فَاسْتَتَمَّ (1)، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ حِينَ انْصَرَفَ. ثُمَّ قَالَ: أَكُنْتُمْ تَرَوْنِي أَجْلِسُ، إِنَّمَا صَنَعْتُ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ. هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ مَنِيعٍ. قَالَ [113 - ب] أَبُو بَكْرٍ: لَا أَظُنُّ أَبَا مُعَاوِيَةَ إِلَّا وَهِمَ فِي لَفْظِ هَذَا الْإِسْنَادِ.

حجرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے مروی ہے کہ وہ دو رکعتوں میں ( تشہد بیٹھنے کی بجائے )کھڑے ہو گئے تو مقتدیوں نے سبحان اللہ کہہ کر انہیں متوجہ کیا ۔ تو انہون نے نماز کی اور نماز ختم کرتے وقت دو سجدے کر لیے ، اور فرمایا: تمہارا کیا خیال تھا کہ میں بیٹھ جاوں گا ، بلا شبہ میں نے اس طرح کیا ہے جیسے میں نے رسول اللہ ﷺ کو کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔ یہ ابن منیع کی حدیث کے الفاظ ہیں ۔ امام ابو بکر کہتے ہیں : میرا خیال ہے کہ ابو معاویہ کو اس سند میں وہم ہو اہے۔"

سَعْدَ بْنَ اَبِیْ وَقَّاصِ ← قَيْسٍ ← إِسْمَاعِيلُ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of forgetfulness in prayer · Hadith 1032

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1033

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثَنَا رَوْحٌ، ثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسَافِعٍ، أَنَّ مُصْعَبَ بْنَ شَيْبَةَ أَخْبَرَهُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ نَسِيَ شَيْئًا مِنْ صَلَاتِهِ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ". هَكَذَا قَالَ أَبُو مُوسَى: عَنْ عُقْبَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَهَذَا الشَّيْخُ يَخْتَلِفُ أَصْحَابُ ابْنِ جُرَيْجٍ فِي اسْمِهِ. قَالَ حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ: عَنْ عُتْبَةَ بْنِ مُحَمَّدٍ. وَهَذَا الصَّحِيحُ -عِلْمِي-.

" حضرت عب د اللہ بن جعفر ؓ نبی کریم ﷺ سے باین کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جو شخص اپنی نماز سے کوئی چیز بھول جائے تو بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے۔" جناب ابو موسیٰ نے حضرت عبد اللہ بن جعفر ؓ کے شاگرد کا نام عقبہ بن محمد بن حارچ ہی بیان کیا ہے۔ امام ابو بکر فرماتے ہیں : اس شیخ ( عقبہ بن محمد ) کے نام میں ابن جریح کے اصحاب کا اختلاف ہے ۔ حجان بن محمد اور عبد الرزاق نے ( اس کا نام ) عقبہ بن محمد بیان کیا ہے۔ میرے علم کے مطابق یہی صحیح ہے۔

عُتْبَةَ بْنِ مُحَمَّدٍ. وَهَذَا الصَّحِيحُ -عِلْمِي-. ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ: ← أَبُو بَكْرٍ: وَهَذَا الشَّيْخُ يَخْتَلِفُ أَصْحَابُ ابْنِ جُرَيْجٍ فِي اسْمِهِ. ← عُقْبَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ. ← أَبُو مُوسَى، ← "مَنْ نَسِيَ شَيْئًا مِنْ صَلَاتِهِ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ". هَكَذَا ← النَّبِيِّ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← عُقْبَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ. ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسَافِعٍ، أَنَّ مُصْعَبَ بْنَ شَيْبَةَ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← رَوْحٌ، ← أَبُو مُوسَی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of forgetfulness in prayer · Hadith 1033

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1034

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ وَبِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ، -وَهَذَا حَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَلَاءِ- ثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فَسَهَا، فَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ، فَقَالَ لَهُ ذُو الْيَدَيْنِ: أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ، أَمْ نَسِيتَ؟ فَقَالَ: "مَا قَصُرَتِ الصَّلَاةُ، وَمَا نَسِيتُ". فَقَالَ: "أَكَمَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ؟ " فَقَامَ، فَصَلَّى، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا خَبَرٌ مَا رَوَاهُ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ غَيْرُ أَبِي كُرَيْبٍ وَهَذَا، يَعْنِي بِشْرَ بْنَ خَالِدٍ.

" حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھائی اور بھول گئے تو آپ نے دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا۔ ذوالیدین نے آپ سے عرض کیا : " کیا نماز کم ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا: نہ نماز کم ہوئی ہے اور نہ میں بھولا ہوں ۔ پھر آپ نے( صحابہ کرام سے )پوچھا : کیا ایسا ہی ہوا ہے جیسا ذولیدین کہہ رہا ہے ؟ (صحابہ کرام نے عرض کی جی ہاں ) تو آپ کھڑے ہوئے اور ( باقی ) نماز پڑھی پھر دو سجدے کیے۔ امام ابو بکر کہتے ہیں : "یہ روایت ابو اسامہ سے صرف ابو کریب اور بشر بن خالد لہی بیان کرتے ہیں ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← أَبُو أُسَامَةَ ← -وَهَذَا حَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَلَاءِ- ← بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ، ← محمد بن العلاء الهمداني ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of forgetfulness in prayer · Hadith 1034

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1035

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ، نَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، نَا بِشْرٌ -يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ- ثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: صَلَّى بِنَا أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ح وَثَنَا بُنْدَارٌ، ثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ، ثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: ح وَثَنَا بُنْدَارٌ، ثَنَا حُسَيْنٌ -يَعْنِي ابْنَ الْحَسَنِ- ثَنَا ابْنُ عَوْنٍ؛ ح وَثَنَا بُنْدَارٌ، ثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛

" حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سہہ پہر کی دو نمازوں میں سے ایک نماز پڑھائی، آپ نے دورکعتیں ادا کرنے کت بعد سلام پھیر دیا ۔ پھر آپ مسجد ( کے قبلے ) میں آڑی ترچھی پڑی ہوئی لکڑی کے پاس تشریف لائےاور اس پر اپنے دونوں ہاتھو ں کے ساتھ ٹیک لگائی۔ گویا کہ آپ سخت ناراض ہوں ۔ راوی کہتے ہیں : ( اسی دوران میں ) جلد باز لوگ مسجد کے دروازوں سے نکل گئے ۔ اور ( آپس میں ) کہنے لگے: نماز کم ہو گئی ہے۔ حالانکہ لوگوں میں حضرت ابو بکر اور حضرت عمر بھی موجود تھے مگر وہ بھی آپ سے بات کرنے سے ڈرگئے۔ لوگوں میں ایک لمبے ہاتھوں والا آدمی بھی تھا ، جسے ذولیدین کہا جاتا تھا ، اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا آپ بھول گئے ہیں یا نماز کم ہو گئی ہے ؟ آپ نے فرمایا : نہ میں بھولا ہوں نہ نماز کم ہوئی ہے ۔ پھر آپ نے لوگون سے پوچھا : کیا ذولیدین ٹھیک کہہ رہا ہے؟ صحابہ نے عرض کی : جی ہاں ! راوی کہتے ہیں : آپ تشریف لائے اور چھوڑی ہوئی نماز ادا کی، پھر سلام پھیرا، پھر اللہ اکبر کہہ کر اپنے سجدوں جیسا سجدہ یا اس سے بھی چویل سجدہ کیا ۔ پھر آپ نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور اللہ اکبر کہا ۔ ( ابن عون ) راوی کہتے ہیں ۔ بسا اوقات شاگردوں نے ( ابن سیرین سے ) کہا: " پھر آپ سلام پھیرا " تو ابن سیرین نے فرمایا : مجھے حضرت عمران بن حصین ؓ سے خبر ملی ہے کہ انہوں نے ( اپنی روایت میں ) فرمایا : پھر آپ نے سلام پھیرا ۔" ( یہ لافاظ حضرت ابو ہریرہ ؓ کی مذکورہ بالا روایت میں نہیں ہیں اس لیے ابن سیسرین نے شاگردوں کے استفسار پر حضرت عمران سے یہ الفاظ بیان کیے) یہ جناب صنعانی کی روایت کے الفاظ ہیں ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدٍ ← ابْنِ عَوْنٍ ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← وَثَنَا بُنْدَارٌ، ← ابْنِ عَوْنٍ ← حُسَيْنٌ -يَعْنِي ابْنَ الْحَسَنِ- ← وَثَنَا بُنْدَارٌ، ← أَبُو هُرَيْرَةَ ← مُحَمَّدٍ ← ابْنِ عَوْنٍ ← مُعَاذُ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ، ← وَثَنَا بُنْدَارٌ، ← «صَلَّى بِنَا أَبُو الْقَاسِمِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← ابْنِ عَوْنٍ ← بِشْرٌ -يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ- ← وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْد الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of forgetfulness in prayer · Hadith 1035

chevron_left Previous
1…173174175…258
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals