Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 452

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ -يَعْنِي الْحَنَفِيَّ-، نَا الضَّحَّاكُ -وَهُوَ ابْنُ عُثْمَانَ-، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيُسَلِّمْ عَلَى النَّبِيِّ، وَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبُوابَ رَحْمَتِكَ، وَإِذَا خَرَجَ فَلْيُسَلِّمْ عَلَى النَّبِيِّ، وَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ أَجِرْنِي مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ".

" حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو اسے چاہیے کہ نبی ﷺ پر سلام بھیجے اور یہ دعا پڑھے:"اللھم افتح لی ابواب رحمتک ""اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے ۔" اور جب وہ مسجد سے باہر نکلے تو اسے نبی ﷺ پر سلام پڑھنا چاہیے نیز یہ دعا پڑھے: "اللھم اجرنی من الشیطان الرجیم""اے اللہ ! مجھے شیطان مردود سے محفوظ فرما۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← الضَّحَّاكُ -وَهُوَ ابْنُ عُثْمَانَ-، ← أَبُو بَكْرٍ -يَعْنِي الْحَنَفِيَّ- ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 452

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 453

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ -يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ- عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ عَايِذٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ: أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى الصَّلَاةِ وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي بِنَا، فَقَالَ حِينَ انْتَهَى إِلَى الصَّفِّ: اللَّهُمَّ ائْتِنِي أَفْضَلَ مَا تُؤْتِي عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ. فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الصَّلَاةَ. قَالَ: "مَنِ الْمُتَكَلِّمُ آنِفًا؟ "، قَالَ الرَّجُلُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِذًا تَعْقِرُ جَوَادَكَ وَتُسْتَشْهَدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ".

"حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نماز کےلیے جبکہ نبی اکرم ﷺ ہمیں نماز پڑھا رہے تھے ، جب وہ صف تک پہنچا تو اس نے یہ دعا مانگی ، اے اللہ ! مجھے اس سے افضل ( مقام ) عطا فرما جو تو اپنے نیک بندوں کو عطا فرمائے گا۔ پھر جب نبی اکرمﷺ نے نماز مکمل کی تو پوچھا : ابھی ابھی کون بول رہا تھا۔ ا س شخص نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! وہ میں ہوں ۔ تو نبی ﷺ نے فرمایا: پھر تو تمہارے عمدہ گھوڑے کی ٹانگیں کاٹ دی جائیں گی اور تم اللہ کی راہ میں شہید کیے گئے ۔"

أَبِيهِ سَعْدٍ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ عَائِذٍ، ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ -يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ- ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 453

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 454

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْجُنَيْدِ، نَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى، ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ: فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ (2) - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَسْبِغِ الْوُضُوءَ، ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ فَكَبِّرْ"، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ. هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ.

"حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا تو اس نے نماز پڑھی پھر وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو سلام کیا۔" پھر مکمل حدیث بیان کی ۔ اور کہا کہ رسول اللہﷺ نے اسے فرمایا: جب تم نماز کےلیے کھڑے ہو تو مکمل وضو کرو پھر قبلہ رخ ہو کر اللہ اکبر کہو۔ اور انہوں نے پوری حدیث بیان کی ۔ یہ ابن نمیر کی روایت کے الفاظ ہیں۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْجُنَيْدِ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَی ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 454

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 455

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَدِيٍّ الْحَارِثِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ [63 - أ]: "إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ". زَادَ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ: "وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوَى".

"جناب علقمہ بن وقاص لیثیؒ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب ؓ کو سنا ، وہ فرما رہے تھے : میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اعمال کی قبولیت کا دارومدار نیت پر ہے ۔"یحییٰ بن حبیب نے ان الفاظ کا اضافہ بیان کیا ہے : "اور بلاشبہ ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔"

أ]: "إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ". زَادَ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ: "وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوَى". ← رَسُولِ اللَّهِ ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← عَلْقَمَۃَ بْنِ وَقَّاصِ اللَّیْثِیِّ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَدِيٍّ الْحَارِثِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 455

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 456

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ؛ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا قَامَ لِلصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى تَكُونَا بِحَذْوِ مَنْكِبَيْهِ ثُمَّ كَبَّرَ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَإِذَا رَفَعَ مِنَ الرُّكُوعِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَلَا يَفْعَلُهُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ.

"حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہﷺ جب نماز کےلیے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں تک بلند کرتے پھر اللہ اکبر کہتے ۔ پھر جب رکوع کرنے کا ارادہ فرماتے تو اسی طرح ( رفع یدین ) کرتے ، پھر جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اسی طرح ( رفع الیدین ) کرتے ۔ اور جب سجدوں سے اپنا سر مبارک اٹھاتے تو رفع یدین نہیں کرتے تھے۔"

سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ ابْنِ عُمَرَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 456

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 457

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، نَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابِهِ، فَرَأَيْتُهُمْ يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ فِي الْبَرَانِسِ.

سردیوں میں کپڑوں کے نیچے سے رفع الیدین کرنے کی رخصت کا بیان اور دونوں ( ہاتھوں ) کو رفع الیدین کرتے وقت کپڑے سے باہر نکلانے کو ترک کرن

صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ وَأَصْحَابِهِ، فَرَأَيْتُهُمْ يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ فِي الْبَرَانِسِ. ← وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ← أَبِيهِ ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← سُفْيَانَ، ← سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 457

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 458

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، مَا لَا أُحْصِي

"حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نماز میں اپنی انگلیوں کو خوب کھول کر رکھا کر تے تھے ۔"امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : جناب محمد بن رافع نے ہمیں یہ حدیث ہمارے عراق کی طرف سفر کرنے سے پہلے بیان کی ، انہوں نے فرمایا: ہمیں عبداللہ بن سعید اشج ابو سعید کندی نے حدیث بیان کی ، سوائے اس کے کہ انہوں نے ( اپنی روایت میں ) فرمایا: بلاشبہ رسول اللہﷺ جب نما زکےلیے کھڑے ہوتے تو اپنی انگلیوں کو خوب اچھی طرح کھول لیتے ۔"

عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، مَا لَا أُحْصِي ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 458

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 459

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا يحيى بن حكيم نا أبو عامر حدثنا ابن أبي ذئب عن سعيد بن سمعان قال : دخل علينا أبو هريرة مسجد بني وريق قال : ثلاث كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يفعل بهن تركهن الناس كان إذا قام إلى الصلاة قال هكذا - وأشار أبو عامر بيده ولم يفرج بين أصابعه ولم يضمها وقال : هكذا أرانا ابن أبي ذئب قال أبو بكر : وأشار لنا يحيى بن حكيم ورفع يديه ففرج بين أصابعه تفريجا ليس بالواسع ولم يضم بين أصابعه ولا باعد بينهما رفع يديه فوق رأسه مدا - وكان يقف قبل القراءة هنية يسأل الله تعالى من فضله وكان يكبر في الصلاة كلما سجد ورفع قال أبو بكر هذه الشبكة شبكة سمجة بحال ما أدري ممن هي وهذه اللفظة إنما هي رفع يديه مدا ليس فيه شك ولا ارتياب أن يرفع المصلي يديه عند افتتاح الصلاة فوق رأسه

"جناب سعید بن سمعان بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ ؓ ہمارے پاس بنی زریق کی مسجد میں تشریف لائے تو انہوں نے فرمایا: تین کام ایسے ہیں جنہیں رسول اللہﷺ کیا کرتے تھے ، لوگوں نے انہیں ترک کر دیا ہے ۔ آپ جب نماز کےلیے کھڑے ہوتے تو آپ ایسے کرتے ، ابو عامر نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے دکھایا ، اور اپنی انگلیوں کے درمیان زیادہ فاصلہ رکھا اور نہ انہیں ملایا ۔ ( بلکہ درمیانی حالت میں رکھا ) اور کہا کہ ابن ابی ذئب نے ہمیں اسی طرح کر کے دکھایا تھا ۔ امام ابو بکر فرماتے ہیں : ( ہمارے استاد ) یحییٰ بن حکیم نے ہمیں اشارہ کر کے دکھایا تو اپنے ہاتھ بلند کیے اور اپنی انگلیوں کے درمیان بہت زیادہ فاصلہ نہ کیا اور نہ انگلیوں کو آپس میں ملایا اور نہ ان کے درمیان دوری ڈالی ۔ اور اپنے دونوں ہاتھوں کو سر کے اوپر بلند کیا۔ اور نبی اکرمﷺ قراءت کرنے سے پہلے تھوڑی دیر خاموش کھڑے رہتے اور اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل وکرم کا سوال کرتے ، اور آپ ﷺ نماز میں جب بھی سجدہ کرتے اور سجدے سے اٹھتے تو اللہ اکبر کہتے : "امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : یہ الجھاؤ ہر حال میں بڑا شدید الجھاؤ ہے ، مجھے معلوم نہیں کہ یہ کس راوی کی طر ف سے ہے ۔ جبکہ ان الفاظ میں کہ آپ نے اپنے ہاتھ خوب بلند کیے " کوئی شک وشبہ نہیں کہ نمازی ، نماز کی ابتداء میں اپنے ہاتھ اپنے سر سے بلند کرے ۔"

سَعِيدِ بْنِ سَمْعَانَ ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← أَبُو عَامِرٍ ← یَحْیَی بْنُ حَکِیمٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 459

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 460

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا بندار نا يحيى عن بن أبي ذئب ح وحدثنا البسطامي حدثنا ابن أبي فديك عن ابن أبي ذئب عن سعيد بن سمعان عن أبي هريرة : فذكر الحديث قالا : رفع يديه مدا ولم يشبكا وليس في حديثهما قصة ابن أبي ذئب أنه أراهم صفة تفريج الأصابع أو ضمها

" جناب سعید بن سمعان ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں تو انہوں نے مکمل حدیث بیان کی ۔ ( جنات ابن ابی ذئب کے دونوں شاگرد : یحییٰ اور ابن ابی فدیک) کہتے ہیں : "آپ نے اپنے ہاتھ اٹھاتے ہوئے بلند کیے ۔" دونوں نے کوئی الجھاؤ بیان نہیں کیا اور ان دونوں کی روایت میں ابن ابی ذئب کا قصہ مذکورہ نہیں ہے کہ انہوں نے اپنے شاگردوں کو انگلیاں کھولنے یا بند کرنے کی کیفیت دکھائی تھی۔"

الْحَدِيثَ. ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ سَمْعَانَ ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ← الْبِسْطَامِيُّ، ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← يَحْيَى ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 460

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 461

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى ثُمَّ سَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَدَّ عَلَيْهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ"، حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مِرَارٍ، فَقَالَ الرَّجُلُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَعْلَمُ غَيْرَ هَذَا. فَقَالَ: "إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَكَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ بِمَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا، وَافْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا". قَالَ أَبُو بَكْرٍ [63 - ب]: هَذَا حَدِيثُ بُنْدَارٍ.

"حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ مسجد میں داخل ہوئے ( آپ کے بعد ) ایک شخص آیا ، اس نے نماز پڑھی ( پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ) آپ کو سلام عرض کیا ، آپ نے اس کے سلام کا جواب دیا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: واپس جاؤ اور نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ( وہ دوبارہ پڑھ کر آیا تو آپ نے پھر وہی ارشاد فرمایا) حتی کہ آپ نے تین بار ایسے کیا ( اسے واپس لوٹایا اور اس نے نماز پڑھی ) تو اس شخص نے عرض کی : ( اے اللہ کے رسول! ) اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر معبوث فرمایا ہے میں اس کے علاوہ ( نماز کا طریقہ ) نہیں جانتا ( لہٰذا آپ مجھے درست طریقہ سکھا دیں ) تو آپ نے فرمایا: جب تم نماز کےلیے ( قبلہ رخ ) کھڑے ہو تو اللہ اکبر کہو ، پھر جو حصہ تمہیں قرآن مجید سے آسان لگے اس کی تلاوت کرو ، پھر پورے اطمینان وسکون سے رکوع کرو ، پھر اٹھو حتی کہ اعتدال کے ساتھ کے ساتھ کھڑے ہوجاؤ ، پھر مکمل اطمینان کے و سکون کے ساتھ سجدہ کرو ، پھر سجدے سے سر اٹھاؤ تو پورے اطمینان سے بیٹھ جاؤ ، اور اپنی پوری نماز میں اسی طرح (اطمینان وسکون اختیار ) کرو ۔ امام ابوبکر فرماتے ہیں : یہ بندار کی روایت ہے ۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، ← یَحْیَی بْنُ حَکِیمٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 461

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 462

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ وَأَبُو صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ، جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَمِّهِ الْمَاجِشُونِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَنَّهُ كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ كَبَّرَ، ثُمَّ قَالَ: "وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ. إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ. لَا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ، وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ. اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ. وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ، لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا، لَا يَصْرِفُ سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ، وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ. أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ". قَالَ أَبُو صَالِحٍ: "لَا إِلَهَ لِي إِلَّا أَنْتَ".

"حضرت علی بن ابی طالب ؓ رسول اللہﷺ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ آپ جب نماز شروع کرتے تو اللہ اکبر کہتے پھر یہ دعا پڑھتے : وَجَّھْتُ ۔۔۔۔۔۔۔۔اُتُوْبُ اإلَیْکَمیں نے اپنا چہرہ اس ذات کی طر ف متوجہ کر دیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو یکسو ہر کر پیدا فرمایا ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں ۔ بلاشبہ میری نماز ، میری قربانی ، میرا جینا اور میرا مرنا اللہ کےلیے ہے جو تمام جہانوں کو پالنے والا ہے ۔ اس کا کوئی شریک نہیں ، مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے ۔ اور میں پہلا مسلمان ہوں ۔ اے اللہ! تو ہی بادشاہ ہے ، تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے ۔ تو ہی میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں ۔ میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے اور میں اپنے گناہوں کا اقرار و اعتراف کر تا ہوں لہٰذا تو میرے تمام گناہ معاف فرما دے ، بے شک تیرے سوا کوئی ذات گناہوں کو نہیں بخشتی اور مجھے عمدہ وبہترین اخلاق اپنانے کی توفیق عطا فرما ، عمدہ اخلاق کی توفیق توہی دیتا ہے ، اور مجھے برے اخلاق سے پھیر دے ، صرف تو ہی برے اخلاق سے پھیر سکتا ہے ، میں ( احکام بجا لانے کے لیے ) حاضر ہوں اور فرماں برداری کےلیے کمر بستہ ہوں ، ساری خیر وبھلائی تیرے ہاتھوں میں ہے ، اور برائی کی نسبت تیری طرف نہیں ہے ، میں تیری توفیق سے قائم ہوں اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے ، تو بہت بابرکت ہے اور تیری ذات بڑی بلند ہے ، میں تجھ سے معافی کا طلب گار ہوں اور تیری طرف رجوع کر تا ہوں ( توبہ کرتا ہوں) ۔ "ابو صالح کی روایت میں یہ الفاظ ہیں : "تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے ۔"

مِنَ الْمُشْرِكِينَ ← وَجَّهْتُ وَجْهِي لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ← الْأَعْرَجِ ← عمه الماجشون بن أبي سلمة ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ وَأَبُو صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ جَمِيعًا ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 462

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 463

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى (1)، نَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، وَعَنْ عَمِّهِ الْمَاجِشُونِ، عَنِ الْأَعْرَجِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ. قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى: وَأَحَدُهُمْ يَزِيدُ عَلَى صَاحِبِهِ الْحَرْفَ وَالشَّيْءَ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَوْلُهُ: "وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ"، أَيْ: لَيْسَ مِمَّا يُتَقَرَّبُ بِهِ إِلَيْكَ.

"امام صاحب اپنے استاد محمد بن یحییٰ سے مذکورہ بالا روایت کی طرح روایت بیان کرتے ہیں ۔ جناب محمد یحییٰ فرماتے ہیں : ( میرے اساتذہ میں سے ) ایک دوسرے سے کچھ الفاظ کا اضافہ بیان کرتے ہیں ۔ امام ابو بکر ؒ فرماتےہیں: آپ کا یہ فرمان اور شر کی نسبت تیری طرف نہیں ہے ،کا مطلب یہ ہے کہ شران چیزوں میں سے نہیں جن سے تیرا تقرب حاصل کیا جاتا ہے ۔"

أَبُو بَكْرٍ: قَوْلُهُ: "وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ"، أَيْ: لَيْسَ مِمَّا يُتَقَرَّبُ بِهِ إِلَيْكَ. ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى: وَأَحَدُهُمْ يَزِيدُ عَلَى صَاحِبِهِ الْحَرْفَ وَالشَّيْءَ. ← الْأَعْرَجِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ. ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، وَعَنْ عَمِّهِ الْمَاجِشُونِ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ، ← أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 463

chevron_left Previous
1…161162163…258
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden22. The groups of the gates of obligatory travel23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness24. The congregation of the gates of prayer on the rows25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr37. The gates of the prayer of fear38. Collections of the gates of an eclipse prayer39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals