صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 416
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، فَقَالَ الْمُؤَذِّنُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ. فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، فَقَالَ: حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَخَبَرُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ هَذَا الْبَابِ أَيْضًا، قَدْ خَرَّجْتُهُ فِي بَابٍ آخَرَ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: مَعْنَى خَبَرِ أُمِّ حَبِيبَةَ، قَالَ كَمَا يَقُولُ الْمُؤَذِّنُ حَتَّى يَفْرُغَ أَيْ إِلَّا قَوْلَهُ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، وَكَذَلِكَ مَعْنَى خَبَرِ أَبِي سَعِيدٍ: "فَقُولُوا كَمَا يَقُولُ"، أَيْ خَلَا قَوْلِهِ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ. وَخَبَرُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَمُعَاوِيَةَ مُفَسِّرَيْنِ لِهَذَيْنِ الْخَبَرَيْنِ. قَدْ بُيِّنَ فِي خَبَرِ عُمَرَ وَمُعَاوِيَةَ أَنَّ مَنْ سَمِعَ هَذَا الْمُنَادِي يُنَادِي بِالصَّلَاةِ إِنَّمَا يَقُولُ مِثْلَ مَا يَقُولُ، خَلَا قَوْلِهِ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، وَيَقُولُ: -إِذَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ- لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، الْمُصَلِّي (1). وَالْمُؤَذِّنُ لَا يَقُولُ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ فِي أَذَانِهِ. فَهَذَا الْقَوْلُ مِنْ سَامِعِ الْمُؤَذِّنِ، لَيْسَ هُوَ مِمَّا يَقُولُهُ الْمُؤَذِّنُ.
"حضرت محمد بن عمرو بیان کرتے ہیں کہ میرے والد محترم نے میرے دادا سے روایت بیان کی کہ میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان ؓ کے پاس تھا کہ مؤذن نے کہا: اللہ اکبر اللہ اکبر ( اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے ) تو حضرت معاویہ ؓنے فرمایا: اللہ اکبر اللہ اکبر ، تو اس نے کہا: اشھد ان لا الہ الا اللہ ، ( میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں) تو حضرت معاویہ ؓ نے بھی کہا: اشھد ان لا الہ الا اللہ ، تو اس نے کہا: اشھد ان محمد ا رسول اللہ ، ( میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (ﷺ) اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔) تو حضرت معاویہ ؓ نے بھی کہا: اشھد ان محمد ا رسول اللہ۔ تو اس نے کہا: حی علی الصلاۃ ( آو نماز کی طرف تو) حضرت معاویہ ؓ نے کہا: لا حول ولا قوۃ الا باللہ ( نیکی کرنے کی طاقت اور گناہ سے بچنے کی ہمت اللہ تعالیٰ کی توفیق کے بغیر نہیں ہے ۔) تو اس نے پکارا : حی علی الفلا ح ( آؤ کامیابی کی وکامرانی کی طرف ) تو حضرت معاویہ ؓ نے کہا: لا حول ولا قوۃ الا باللہ تو اس نے کہا: اللہ اکبر اللہ اکبر ، لا الہ الا اللہ ( اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ۔) تو حضرت معاویہ ؓ نے بھی کہا: اللہ اکبر اللہ اکبر ، لا الہ الا اللہ ، پھر فرمایا: رسول اللہ ﷺ اسی طرح فرمایا کرتے تھے۔ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں: حضرت عمر بن خطاب ؓ کی حدیث بھی اسی باب کے متعلق ہے ، میں نے اسے ایک اور باب میں بیان کیا ہے ۔ امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : حضرت ام حبیبہ ؓ کی حدیث کا معنی یہ ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ( اذان کا جواب دیتے ہوئے ) اسی طرح کلمات کہے جیسے مؤذن نے کہے۔ یہاں تک کہ وہ اذان سے فارغ ہو گیا ، سوائے حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ اور وَلَا قُوَّۃ اِلَّا بِاللہِ کہا) اسی طرح حضرت ابو سعید خدری ؓ کی حدیث کا معنی بھی یہی ہے کہ تم اذان کا جواب اسی طرح د و جیسے مؤذن کہتا ہے سوائے حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ اور حَیَّ عَلَی الْفَلاحِکے ۔ حضرت عمر بن خطاب اور حضرت معاویہ ؓ کی احادیث ان دو احادیث کی تفسیر بیان کرتی ہیں ، حضرت عمر اور حضرت معاویہ ؓ کی احادیث میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ جو شخص نما زکےلیے مؤذن کی اذان سنے تو وہ مؤذن ہی کی طرح کلمات دہرائے سوائے حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ اور حَیَّ عَلَی الْفَلاحِ کے کلمات کے ، ان کلمات کے جواب میں وہ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ کہے۔
أَشْهَدُ ← معاويةُ: الله أكبرُ الله أكبرُ. ← الْمُؤَذِنُ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، ← كُنْتُ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، ← جَدِّي، ← أَبِي ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 416
