Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 392

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ [57 - ب]، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْبِسْطَامِيُّ، نَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "إِذَا سَمِعَ الشَّيْطَانُ الْأَذَانَ بِالصَّلَاةِ أَدْبَرَ، وَلَهُ ضِرَاطٌ حَتَّى لَا يَسْمَعَهُ".

"حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جب شیطان نما زکےلیے اذان سنتا ہے تو پاد مارتا ہوا پیٹھ کر بھاگتا ہے تاکہ اذان نہ سن پائے ۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ، ← كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، ← أَنَسَ بْنَ عِيَاضٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْبِسْطَامِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ ب]

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 392

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 393

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، نَا جَرِيرٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، -وَاللَّفْظُ لِجَرِيرٍ- عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "إِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ ذَهَبَ حَتَّى يَكُونَ مَكَانَ الرَّوْحَاءِ". قَالَ سُلَيْمَانُ: فَسَأَلْتُهُ عَنِ الرَّوْحَاءِ. فَقَالَ: هِيَ مِنَ الْمَدِينَةِ عَلَى سِتَّةٍ وَثَلَاثِينَ مِيلًا".

"حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: شیطان جب نماز کےلیے اذان سنتا ہے تو چلا جاتا ہے حتی کہ مقام روحا ء پر پہنچ جاتا ہے ، سلیمان کہتے ہیں: میں نے ( استاد محترم ابوسفیان سے ) پوچھا : روحاء کہاں ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا: وہ مدینہ منورہ سے چھتیس میل کے فاصلے پر ہے ۔"

الرَّوْحَاءِ. فَقَالَ: هِيَ مِنَ الْمَدِينَةِ عَلَى سِتَّةٍ وَثَلَاثِينَ مِيلًا". ← سُلَيْمَانُ1 فَسَأَلْتُهُ ← النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ ذَهَبَ حَتَّى يَكُونَ مَكَانُ الرَّوْحَاءِ". ← "إِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا ← رَسُولِ اللَّهِ ← جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، -وَاللَّفْظُ لِجَرِيرٍ- ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 393

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 394

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْوَاسِطِيُّ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، نَا شُعْبَةُ، عَنْ مُهَاجِرٍ أَبِي الْحَسَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ، فَأَرَادَ الْمُؤَذِّنُ أَنْ يُؤَذِّنَ، فَقَالَ: "أَبْرِدْ"، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُؤَذِّنَ، فَقَالَ: "أَبْرِدْ". قَالَ شُعْبَةُ: الثَّالِثَةُ -أَكْبَرُ عِلْمِي- حَتَّى رَأَيْنَا فَيْءَ التُّلُولِ، يَعْنِي الْجِبَالَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ".

"حضرت ابو ذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے تو مؤذن نے اذان کہنے کا ارادہ کیا تو آپ نے فرمایا: ٹھنڈا کرو ، پھر اس نے اذان دینی چاہی تو آپ نے فرمایا: ( نماز کو ) ٹھنڈا کرو ۔ شعبہ کہتے ہیں : حتی کہ سایہ ٹیلوں کے برابر ہوگیا ۔ پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا: " بے شک گرم گی شدت جہنم کی بھاپ سے ہے تو نماز ( ظہر ) کو ٹھنڈا کر کے پڑھا کرو۔"

"أَبْرِدْ". ← "أَبْرِدْ"، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُؤَذِّنَ، ← كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فِي سَفَرٍ، فَأَرَادَ الْمُؤَذِّنُ أَنْ يُؤَذِّنَ، ← أَبَا ذَرٍّ ← زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← مُهَاجِرٍ أَبِي الْحَسَنِ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← أَحْمَد بْنُ سِنَانٍ الْوَاسِطِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 394

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 395

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، نَا حَفْصٌ -يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ- نَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَا وَرَجُلٌ، فَوَدَّعَنَا، ثُمَّ قَالَ: "إِذَا سَافَرْتُمَا وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَأَذِّنَا (1) وَأَقِيمَا، وَلْيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا"، قَالَ الْحَذَّاءُ: وَكَانَا مُتَقَارِبَيْنِ فِي الْقِرَاءَةِ.

"حضرت مالک بن حویرث ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں اور ایک اور آدمی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، پھر آپ نے ہمیں رخصت کیا تو فرمایا : جب تم دونوں سفر کرو اور نامز کا وقت ہوجائے تو اذان کہنا اور اقامت کہنا اور تم دونوں میں جو بڑا ہواسے تمہاری امامت کروانی چاہیے ۔"خالد حذا ء کہتے ہیں : ہم دونوں قرآن مجید کی قراء ت میں برابر تھے۔"

الْحَذَّاءُ: وَكَانَا مُتَقَارِبَيْنِ فِي الْقِرَاءَةِ. ← "إِذَا سَافَرْتُمَا وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَأَذِّنَا وَأَقِيمَا، وَلْيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا"، ← وَرَجُلٌ، فَوَدَّعَنَا، ثُمَّ ← اَتَیْتُ النَّبِیَّ ← مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ: ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← حَفْصٌ -يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ- ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 395

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 396

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، نَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِي، فَقَالَ: "إِذَا سَافَرْتُمَا فَأَذِّنَا وَأَقِيمَا، وَلْيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا".

" حضرت مالک بن حویرث ؓ بیان کرتےہ یں کہ میں اور میرا چچا زاد بھائی رسول اللہﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے ۔ تو ( الوداع کرتے وقت ) آپ نے فرمایا : جب تم دونوں سفر کرو تو اذان دو اور تکبیر کہو اور تم دونوں میں بڑا تمہاری امامت کروائے۔"

وَابْنُ عَمٍّ لِي، فَقَالَ: "إِذَا سَافَرْتُمَا فَأَذِّنَا وَأَقِيمَا، وَلْيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا". ← أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ ← مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ: ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 396

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 397

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، نَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، نَا مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَنَحْنُ شَبِيبَةٌ مُتَقَارِبُونَ، فَأَقَمْنَا عِشْرِينَ لَيْلَةً، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَحِيمًا رَفِيقًا، فَلَمَّا ظَنَّ أَنْ قَدِ اشْتَهَيْنَا أَهْلِينَا -أَوِ اشْتَقْنَا- سَأَلَنَا عَمَّا تَرَكْنَا بَعْدَنَا، فَأَخْبَرْنَاهُ، فَقَالَ: "ارْجِعُوا إِلَى أَهْلِيكُمْ، فَأَقِيمُوا فِيهِمْ، وَعَلِّمُوهُمْ، وَمُرُوهُمْ. وَذَكَرَ أَشْيَاءَ أَحْفَظُهَا، وَأَشْيَاءَ لَا أَحْفَظُهَا. وَصَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي. فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ، وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ". أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، نَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ. بِمِثْلِ حَدِيثِ بُنْدَارٍ. وَرُبَّمَا خَالَفَهُ فِي بَعْضِ اللَّفْظَةِ.

"حضرت مالک بن حویرث ؓ بیان کرتے ہیں کہ: ہم رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے جبکہ ہم ، ہم عمر نوجوان تھے۔ ہم ( آپ کے پاس) بیس راتیں رہے ۔ اور رسول اللہﷺ نہایت رحمد ل اور نرم مزاج تھے۔ پھر جب آپ نے محسوس کیا کہ ہم اپنے گھر والوں کی خواہش یا ا ن سے ملاقات کا اشتیاق کر رہے ہیں تو ہم سے پوچھا کہ ہم کن کو اپنے پیچھے چھوڑ کر آئے ہیں ؟ ہم نے آپ کو بتایا تو آپ نے فرمایا: "اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ ، ان کے ساتھ رہو اور انہیں ( دین کی ) تعلیم دو اور ( اچھے کاموں کا ) کا حکم دو۔" اور آپ نے کچھ چیزیں بیان فرمائیں ( جن میں سے کچھ مجھے یاد ہیں اور کچھ یاد نہیں) اور فرمایا: نماز اسی طرح پڑھو جیسے تم نے مجھے پڑھتے دیکھا ہے ۔ پھر جب نما ز کا وقت ہوجائے تو تم میں کوئی ایک تمہارے لیے اذان کہے اور تم میں سے بڑا تمہاری امامت کروائے ۔"عبدالوھاب بن عبدالمجید نے بندار کی روایت کی طرح بیان کیا ہے اور بعض اوقات بعض الفاظ میں ان کی مخالفت کی ہے ۔"

مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ: ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 397

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 398

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَأَبُو هَاشِمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، نَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِتَمَامِهِ.

"ابو قلابہ نے ملاک بن حویرث سے روایت بیان کی اور مکمل حدیث بیان کی۔"

مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِتَمَامِهِ. ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَأَبُو هَاشِمٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 398

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 399

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَنْصُورٍ السُّلَيْمِيُّ، نَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: سَمِعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا وَهُوَ فِي مَسِيرٍ لَهُ يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ. فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "عَلَى الْفِطْرَةِ". قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ. قَالَ: "خَرَجَ مِنَ النَّارِ"، فَاسْتَبَقَ الْقَوْمُ إِلَى الرَّجُلِ، فَإِذَا رَاعِي غَنَمٍ حَضَرَتْهُ الصَّلَاةُ فَقَامَ يُؤَذِّنُ.

"حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے ایک شخص کو سنا جبکہ آپ ایک سفر میں تھے ، وہ کہہ رہا تھا اللہ اکبر ، اللہ اکبر ( اللہ بہت بڑا ہے ، اللہ بہت بڑا ہے ) تو اللہ تعالیٰ کے نبی ﷺ نے فرمایا:( یہ شخص ) فطرت پر ہے ۔ اس نے کہا: اشھد ان لا الٰہ الا اللہ( میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔ آپ نے فرمایا: آگ سے نکل گیا۔"تو لوگ دوڑتے ہوئے اس شخص کی طرف گئے تووہ بکریوں کا چرواہا تھا، اسے نماز کا وقت ہو گیا تو وہ کھڑا ہو کر اذان دینے لگا۔"

أشهد أَن لَا إِلَه إِلَّا الله ← نَبِي الله على الْفطْرَة ← اللہُ أَکْبَرُ اللہُ أَکْبَرُ ← النَّبِيُّ رَجُلًا وَهُوَ فِي مَسِيرٍ لَهُ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← حُمَيْدٍ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَنْصُورٍ السُّلَيْمِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 399

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 400

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي صَفْوَانَ الْثَّقَفِيُّ، نَا بَهْزٌ -يَعْنِي ابْنَ أَسَدٍ-، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُغِيرُ عِنْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ، فَإِنْ سَمِعَ أَذَانَا أَمْسَكَ، وَإِلَّا أَغَارَ، فَاسْتَمَعَ ذَاتَ يَوْمٍ فَسَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، فَقَالَ: "عَلَى الْفِطْرَةِ". فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ. قَالَ: "خَرَجْتَ مِنَ النَّارِ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَإِذَا كَانَ الْمَرْءُ يَطْمَعُ بِالشَّهَادَةِ بِالتَّوْحِيدِ لِلَّهِ فِي الْأَذَانِ وَهُوَ يَرْجُو أَنْ يُخَلِّصَهُ اللَّهُ مِنَ النَّارِ بِالشَّهَادَةِ بِاللَّهِ بِالتَّوْحِيدِ فِي أَذَانِهِ، فَيَنْبَغِي لِكُلِّ مُؤْمِنٍ أَنْ يَتَسَارَعَ إِلَى هَذِهِ الْفَضِيلَةِ طَمَعًا فِي أَنْ يُخَلِّصَهُ اللَّهُ مِنَ النَّارِ. خَلَا فِي مَنْزِلِهِ، أَوْ فِي بَادِيَةٍ، أَوْ قَرْيَةٍ، أَوْ مَدِينَةٍ، طَلَبًا لِهَذِهِ الْفَضِيلَةِ، وَقَدْ خَرَّجْتُ أَبُوابَ الْأَذَانِ فِي السَّفَرِ أَيْضًا فِي مَوْضِعٍ غَيْرِ هَذَا الْمَوْضِعِ، فِي نَوْمِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ، وَأَمْرُهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِلَالًا بِالْأَذَانِ لِلصُّبْحِ بَعْدَ ذَهَابِ وَقْتِ تِلْكَ الصَّلَاةِ. وَتِلْكَ الْأَخْبَارُ أَيْضًا خِلَافُ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنْ لَا يُؤَذَّنَ لِلصَّلَاةِ بَعْدَ ذَهَابِ وَقْتِهَا، وَإِنَّمَا يُقَامُ لَهَا بِغَيْرِ أَذَانٍ.

"حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ صبح کی نماز کے وقت (دشمن کی بستیوں پر ) حمل آور ہوتے تھے پھر اگر اذان کی آواز سن لیتے تو ( حملہ کرنے سے) رک جاتے ( اور اگر اذان کی آواز نہ سنتے تو) حملہ کر دیتے ۔ چنانچہ ایک دن آپ نے ایک شخص کو سنا وہ کہہ رہا تھا: اللہ اکبر ، اللہ اکبر ( اللہ بہت بڑا ہے ، اللہ بہت بڑا ہے ) تو آپ نے فرمایا: وہ فطرت اسلام پر ہے ۔ تو اس نے کہا: اشھد ان لا الہ الا اللہ ( میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں) آپ نے فرمایا: تو جہنم کی آگ سے نجات پا گیا ۔ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں کہ جب کسی شخص کو اذان میں اللہ تعالیٰ کی توحید کے اعلان وگواہی دینے کی خواہش ہو اور وہ امید رکھتا ہو کہ اس کی اذان میں اللہ تعالیٰ کی توحید کی گواہی دینے سے اللہ تعالیٰ اسے جہنم کی آگ سے نجات عطا فرمائیں گے تو ہر مومن کو اس خواہش اور تمنا کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ اسے آگ سے نجات دے دیں گے ، اس فضیلت کے حصول میں سبقت کرنی چاہیے ۔ وہ اپنے گھر میں تنہا ہو یا جنگل میں یا بستی و شہر میں اکیلا ہو ، اس فضیلت واجر کو حاصل کرنے کےلیے ( اسے اذان دینی چاہیے ) میں نے اس جگہ کے علاوہ بھی کئی مقامات پر سفر میں اذان کے ابواب کو بیان کیا ہے ( مثلا ) نبی اکرمؓ کا صبح کی نماز سے سوئے رہ جانا حتی کہ سورج طلوع ہوگیا اور آپ ﷺ کا حضرت بلا لؓ کو نماز صبح کی اذان دینے کا حکم دینا جبکہ اس کا وقت ختم ہوچکا تھا ۔ یہ احادیث ان لوگوں کے قول کے برعکس ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ نماز کا وقت ختم ہو جانے کے بعد اس کےلیے اذان نہیں دی جائے گی بلکہ بغیر اذان کہے صرف اقامت کہی جائے گی۔"

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← بَهْزٌ -يَعْنِي ابْنَ أَسَدٍ-، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 400

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 401

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، نَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، يُحَدِّثُ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي سَالِمٌ، عَنْ أَبِيهِ؛ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى تَسْمَعُوا أَذَانَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ". أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بِهِ الْمَخْزُومِيُّ، نَا سُفْيَانُ وَقَالَ فِي كُلِّهَا: عَنْ، عَنْ.

" حضرت سالم ؒ اپنے باپ بزرگوار حضرت عبداللہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: "بلال ؓ رات کے وقت اذان کہتے ہیں تو تم ( روزہ رکھنے کےلیے کھاؤ پیو حتی کہ تم ابن ام مکتوم کی اذان سنو۔"امام ابو بکر ؒ نے اپنے استاد مخزومی سے بھی روایت کی ہے ، اس سند میں تمام جگہ عن سے روایت ہے ۔"

أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 401

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 402

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، نَا أَبُو عُثْمَانَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ؛ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ مِنْ سَحُورِهِ؛ فَإِنَّهُ يُؤَذِّنُ -أَوْ يُنَادِي- لِيَرْجِعَ قَائِمُكُمْ، وَيَنْتَبِهَ نَائِمُكُمْ، وَلَيْسَ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا وَهَكَذَا، حَتَّى يَقُولَ هَكَذَا وَهَكَذَا". أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَاهُ يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، نَا جَرِيرٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ -وَهُوَ التَّيْمِيُّ- عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ بِهَذَا.

" حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نےفرمایا: تم میں سے کسی شخص کو بلال ؓ کی اذان اس کی سحری سے نہ روکے کیونکہ وہ تو ا س لیے اذان دیتے ہیں تاکہ تمہارا نفل پڑھنے والا ( آرام کرنے کےلیے ) لوٹ جائے اور تمہارے سونے والے جاگ جائے اور ( صبح کا وقت ) ایسے ایسے نہیں ہوتا حتی کہ ( روشنی ) ایسے ایسے ہوجائے ۔ امام صاحب فرماتے ہیں ہمیں یوسف بن موسیٰ نے بھی یہ روایت بیان کی ہے ۔"

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← أَبُو عُثْمَانَ ← أَبِي ← الْمُعْتَمِرُ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 402

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 403

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، نَا يَحْيَى -يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ- عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا-؛ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ". وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَهُمَا إِلَّا قَدْرُ مَا يَرْقَى هَذَا، وَيَنْزِلُ هَذَا.

"حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: بے شک بلال ؓ رات کے وقت اذان دیتے ہیں ، تو تم ( روزے کےلیے ) کھاتے پیتے رہو حتی کہ ابن ام مکتوم ؓ اذان دیں ۔ اور ان دونوں اذانوں کے درمیان صرف اتنا وقفہ ہوتا تھا کہ یہ ( اذان دینے کےلیے چڑھ جائیں اور وہ اتر آئیں۔" 55 اس روایت کا بیان جسے بعض جہلاء نے نبی اکرمﷺ سے بیان کیا ہے کہ وہ اس روایت کے مخالف ہے جو ہم نے بیان کی ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: بلالﷺ رات کے وقت اذان دیتے ہیں

عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← يَحْيَى -يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ- ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 403

chevron_left Previous
1…156157158…258
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden22. The groups of the gates of obligatory travel23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness24. The congregation of the gates of prayer on the rows25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr37. The gates of the prayer of fear38. Collections of the gates of an eclipse prayer39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals