صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1947
حَدَّثَنَا أَحْمَد بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثَنَا مُصْعَبُ بْنُ عَبْد اللَّه، نَا عَبْد الْعَزِيزِ بْنُ وَقَالَ الْعِرَاقِيُّونَ: يُطْعِمُ كُلَّ مِسْكِينٍ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ. فَأَمَّا ثُلُثُ صَاعٍ، فَلَسْتُ أَحْفَظُ عَنْ أَحَدٍ مِنْهُمْ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدْ يَجُوز أَنْ يَكُونَ تَرْكُ ذِكْر الْأَمْرِ بِصِيَامِ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ فِي هَذَا [203 - أ] الْخَبَر إِنَّمَا كَانَ لِأَنَّ السُّؤَالَ فِي هَذَا الْخَبَر إِنَّمَا كَانَ فِي رَمَضَانَ قَبْلَ [أَنْ] يَقْضِيَ الشَّهْرَ، وَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ لِهَذِهِ الْحَوْبَةِ لَا يُمْكِنُ الِابْتِدَاءُ فِيهِ إِلَّا بَعْدَ أَنْ يُقْضَى شَهْرُ رَمَضَانَ، وَبَعْدَ مُضِيِّ يَوْمٍ مِنْ شَوَّالٍ. فَأَمَرَ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمُجَامِعَ (1) بِإِطْعَامِ سِتِّينَ مِسْكِينًا، إِذِ الْإِطْعَامُ مُمْكِنٌ فِي رَمَضَانَ لَوْ كَانَ الْمُجَامِعُ مَالِكًا لِقَدْرِ الْإِطْعَامِ، فَأَمَرَهُ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِمَّا (2) يَجُوز لَهُ فِعْلُهُ مُعَجِّلًا، دُونَ مَا لَا يَجُوز لَهُ فِعْلُهُ إِلَّا بَعْدَ مُضِيِّ أَيَّامٍ وَلَيَالي وَاللَّه أَعْلَمُ. وَلَسْتُ أَحْفَظُ فِي شَيْءٍ مِنْ أَخْبَارِ أَبِي هُرَيْرَة أَنَّ السُّؤَالَ مِنَ (3) الْمُجَامِعِ قَبْلَ [أَنْ] يَنْقَضِيَ شَهْرُ رَمَضَانَ، فَجَازَ إِذَا كَانَ السُّؤَالُ بَعْدَ مُضِيِّ رَمَضَانَ أَنْ يُؤْمَرَ بِصِيَامِ شَهْرَيْنِ. لِأَنَّ الصِّيَامَ فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ لِلْكَفَّارَةِ (4) جَائِزَةٌ.
''حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ بلند سائے میں تشریف فرما تھے کہ آپ کے پاس بنی بیاض کا ایک شخص آیا اور اس نے عرض کی: اے اللہ کے نبی ! میں برباد ہو گیا ۔ نبی کریم ﷺ نے اسے پوچھا : تمہیں کیا ہوا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ میں اپنی بیوی سے (روزے کی حالت میں ) ہم بستری کر لی ہے۔ اور یہ کام رمضان المبارک میں کیاتو رسول اللہ ﷺ نے اسے حکم دیا کہ ایک گردن آزاد کرو۔ اس نے کہا کہ میرے پا س گردن آزاد کرنے کی طاقت نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا : ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو ۔ اس نے عرض کی : میرے پاس (اتنا اناج بھی) نہیں ہے۔ آپ نے کہا : بیٹھ جاؤ تو وہ بیٹھ گیا ۔ پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک بڑا ٹوکرالایا گیا جس میں بیس صاع (کھجوریں) تھیں تو آپ نے پوچھا : ابھی ابھی سوال کرنے والا شخص کہاں ہے؟ اس نے جواب دیا : اے اللہ کے رسول ! میں یہ حاضر ہوں۔آپ نے فرمایا : یہ لے لو او ر اسکا صدقہ کردو۔اس نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! کیا میں اپنے اور اپنے گھر والوں سے زیادہ محتاج اور فقیر پر صدقہ کروں؟ تو اس ذات کی قسم جس نےآپ کو حق دے کر بھیجا ہے آج را ت ہمارے پاس رات کا کھانا نہیں ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :''تو پھر اسے اپنے اور اپنے گھر والوں پر خرچ کر لے۔''اس روایت میں روزوں کا ذکر نہیں ہے۔ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں :''اگریہ الفاظ ثابت ہو جائیں:''ایک ٹوکرا لایا گیا جس میں بیس صاع اناج تھا ''تو پھر نبی کریم ﷺ نے اس جماع کرنے والے کو حکم دیا ہے کہ وہ ہر مسکین کو ایک تہائی صاع کھجوریں دے دے۔''کیونکہ بیس صاع جب ساٹھ مسکین میں تقسم کریں گے تو ہر مسکین کو تہائی صاع ملے گا ۔ لیکن میرا خیال نہیں کہ یہ الفاظ ثابت ہوں ۔ کیونکہ امام زہری ؒ کی روایت میں ہے: ''ایک ٹوکرا لا گیا جس میں پندرہ یا بیس صاع کھجوریں تھیں ۔ یہ امام زہری سے منصور بن معتمر کی خبر ہے ۔ جبکہ ہقل بن زیاد نے امام اوزاعی کے واسطے سے امام زہری سے بیان کیا ہے: ''پندرہ صاع '' میں نے یہ دونوں روایات بعد میں بیان کر دی ہیں ۔ مجھے نہیں معلوم کہ کسی حجازی یا عراقی عالم دین نے یہ فتویٰ دیا ہوکہ رمضان میں جما ع کے کفار ے میں ہر مسکین کو تہائی صاع کھلائے ۔ حجاز کے علماء کہتے ہیں :''وہ ہر مسکین کو ایک مد کھانا کھلا دے ، وہ کھجوریں ہوں یا دیگر اناج ۔ جبکہ عراقی علماء کہتے ہیں : ''ہر مسکین کو ایک صاع کھجوریں کھلائے ۔ جبکہ تہائی صاع کے متعلق میری معلومات کے مطابق کسی نے نہیں کیا۔امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں :'' مسکین کو ایک صاع کھجوریں کھلائے ۔ جبکہ تہائی صاع کے متعلق میری معلومات کے مطابق کسی نے نہیں کہا۔ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں: ''یہ ممکن ہے کہ اس روایت میں دو ما ہ کے مسلسل روزے رکھنے کا حکم اس لیے چھو ڑ دیا گیا ہو کیونکہ اس روایت میں یہ سوال رمضا ن المبارک کے دوران مہینہ مکمل ہونے سے پہلے کیا گیا ہے۔ جبکہ اس گناہ کی وجہ سے دو ماہ کے مسلسل روزے رکھنے کی ابتدا رمضان المبارک کے مکمل ہونے اور شوال کاایک دن گزرنے کے بعد ہی ممکن ہے۔ لہٰذا نبی کریم ﷺ نے جماع کرنے والے کو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کاحکم دیا کیونکہ اگر جماع کرنے والا مساکین کو کھانا کھلانے کی قدرت رکھتا ہو تو رمضان المبارک میں یہ کفارہ ادا کرنا ممکن ہے۔ اس طرح نبی کریم ﷺ نے اسے وہ حکم دیا ہے جس پر عمل کرناممکن تھا اور اس کا حکم نہیں دیا جس پر عمل کرنا کئی دن اور راتوں کے بعد ہی ممکن تھا ۔ واللہ اعلم ۔اور مجھے یاد نہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی کسی روایت میں یہ مذکور ہو کہ جماع کرنے والے کا سوال ماہ رمضان کے مکمل ہونےسے پہلے تھا ۔ لہذا اگر یہ سوال رمضان المبارک کےبعد ہو تو پھر اسے دو ماہ کے روزے رکھنے کا حکم بھی دیا جا سکتا ہے کیونکہ اس وقت ہی کفارے کے طور پر روزے رکھنا جائز و ممکن ہے۔''
أَبُو بَكْرٍ: قَدْ يَجُوز أَنْ يَكُونَ تَرْكُ ← أَحَدٍ مِنْهُمْ. ← الْعِرَاقِيُّونَ: يُطْعِمُ كُلَّ مِسْكِينٍ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ. فَأَمَّا ثُلُثُ صَاعٍ، فَلَسْتُ أَحْفَظُ ← عَبْد الْعَزِيزِ بْنُ ← مصعب بن عبد الله ← أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ،
Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1947
