Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2732

ثَنَا الْحَسَنُ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثَنَا رَجَاءٌ أَبُو [21 - ب] يَحْيَى، ثَنَا مُسَافِعُ بْنُ شَيْبَةَ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو أَنْشَدَ بِاللَّهِ ثَلَاثًا، وَوَضَعَ أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "أَنَّ الْحَجَرَ وَالْمَقَامَ" بِمِثْلِهِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَسْتُ أَعْرِفُ أَبَا رَجَاءٍ هَذَا بِعَدَالَةٍ وَلَا جَرْحٍ، وَلَسْتُ أَحْتَجُ بِخَبَرِ مِثْلِهِ.

جناب مسافع بن شیبہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ کو تین بار قسم اٹھاتے ہوئے سنا ،انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں دے کر فرمایا:میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : "بےشک حجراسود اور مقام ابرہیم "مذکو بالا کی مثل حدیث بیان کی ۔"امام ابوبکر ؒفرماتے ہیں : "مجھے ابورجاء کے بارے میں جرح اور تعدیل کا علم نہیں ہے ۔میں اس قسم کے راویوں کی حدیث کو حجت و دلیل نہیں بناتا ۔"

"أَنَّ الْحَجَرَ وَالْمَقَامَ" بِمِثْلِهِ. ← رَسُولِ اللَّهِ ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو أَنْشَدَ بِاللَّهِ ثَلَاثًا، وَوَضَعَ أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ، ← مُسَافِعُ بْنُ شَيْبَةَ ← رَجَاءٌ أَبُو ب] يَحْيَى، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← الْحَسَنُ الزَّعْفَرَانِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2732

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2733

ثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ؛ ح وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْحَرَشِيُّ، ثنا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "نَزَلَ الْحَجَرُ الْأَسْوَدُ مِنَ الْجَنَّةِ أَشَدَّ بَيَاضًا مِنَ الثَّلْجِ فَسَوَّدَتْهُ خَطَايَا بَنِي آدَمَ".

۔۔حضرت ابن عباس ؓ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: "حجر اسود جنت سے نازل ہوا تو یہ برف سے زیادہ سفید تھا پھر اسے انسانوں کے گناہوں نے سیاہ کر دیا ۔"

النَّبِيِّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← زياد بن عبد الله ← مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْحَرْشِيُّ، ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2733

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2734

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صُدْرَانَ الْبَصْرِيُّ، ثَنَا أَبُو الْجُنَيْدِ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "الْحَجَرُ الْأَسْوَدُ يَاقُوتَةٌ بَيْضَاءُ مِنْ يَاقُوتِ الْجَنَّةِ، وَإِنَّمَا سَوَّدَتْهُ خَطَايَا الْمُشْرِكِينَ، يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِثْل أُحُدٍ يَشْهَدُ لِمَنِ اسْتَلَمَهُ وَقَبَّلَهُ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا".

۔۔حضرت ابن عباس ؓ ،نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : "حجر اسود جنتی یا قوت میں سے ایک سفید یا قوت تھا ۔بلاشبہ اسے مشرکو ں کے گناہوں نے سیا ہ کر دیا ہے ، قیامت والے دن اسے احد پہاڑ جیسا بنا کر اٹھا یا جائے گا ۔وہ دنیا والوں میں سے ہو ایک شخص کے حق میں گواہی دے گا جس نے اسے چھوایا بوسہ دیا ہو گا۔"

النَّبِيِّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو الْجُنَيْدِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صُدْرَانَ الْبَصْرِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2734

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2735

ثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، ثَنَا فُضَيْلٌ، يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ -قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُثْمَانَ -وَهُوَ ابْنُ خُثَيْمٍ- قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "لَيَبْعَثَنَّ اللَّهُ هَذَا الرُّكْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، لَهُ عَيْنَانِ يُبْصِرُ بِهِمَا، وَلِسَانٌ يَنْطِقُ بِهِ، يَشْهَدُ عَلَى مَنِ اسْتَلَمَهُ بِحَقٍّ".

۔۔حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : "حجر اسود کو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ضرور بہ ضرور اٹھائے گا ۔اسکی دو آنکھیں ہوں گی جن سے وہ دیکھے گا اور ایک زبان ہوگی جس سے با ت چیت کرے گا ،جس شخص نے اسے حق کے ساتھ چھوا ہوگا ،اس کے حق میں گواہی دے گا۔"

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُثْمَانَ -وَهُوَ ابْنُ خُثَيْمٍ- ← فُضَيْلٌ، يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ← بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2735

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2736

ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، حَدَّثَنِي ثَابِتٌ -وَهُوَ ابْنُ يَزِيدَ أَبُو زيد الْأَحْوَلُ- عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّ لِهَذَا الْحَجَرِ لِسَانًا وَشَفَتَيْنِ يَشْهَدُ لِمَنِ اسْتَلَمَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِحَقٍّ".

حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : "بے شک اس حجر اسود کی ایک زبا ن اور دو ہونٹ ہوں گے ،جس شخص نےاسے حق کے ساتھ چھوا ہوگا ،یہ اس کے حق میں قیا مت کے دن گواہی دے گا۔"

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← ثَابِتٌ -وَهُوَ ابْنُ يَزِيدَ أَبُو زيد الْأَحْوَلُ- ← الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2736

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1940

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ، ثَنَا عَبْد الرَّحْمَنِ، نَا مُوسَى بْنُ عَلِي؛ ح وَثَنَا يُونُسُ، نَا عَبْد اللَّه بْنُ وَهْبٍ؛ ح وَأَخْبَرَني ابْنُ عَبْد الْحَكَمِ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ أَخْبَرَهُمْ، قَالَ: أَخْبَرَني مُوسَى بْنُ عَلِي بْنِ رَبَاحٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، نَا عَبْد اللَّه -يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ-؛ ح وَحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نَا وَكِيعٌ، كِلَاهُمَا، عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِي بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِيه، عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "فَصْلُ مَا بَيْنَ صِيَامِنَا وَصِيَامِ أَهْلِ الْكِتَابِ أُكْلَةُ السَّحُورِ". وَفِي حَدِيثِ وَكِيعٍ: مَا بَيْنَ صِيَامِكُمْ.

''حضرت عمر و بن عاص رضی اللہ عنہ کے آزادکردہ غلام ابو قیس بیان کرتے ہیں کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : "ہمارے روزوں اور اہل کتاب کے روزوں کے درمیان فرق سحری کھانا ہے۔''جناب وکیع کی روایت میں ہے:''تمہارے روزوں (اور اہل کتاب کے روزوں ) کے درمیان ۔'

أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أَبِيهِ ← مُوسَى بْنِ عَلِي بْنِ رَبَاحٍ، ← وَكِيعٌ، كِلَاهُمَا ← وَحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ -يَعْنِي ابْن الْمُبَارَكِ- ← وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، ← مُوسَى بْنِ عَلِي بْنِ رَبَاحٍ، ← وَأَخْبَرَني ابْنُ عَبْد الْحَكَمِ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← وَثَنَا يُونُسُ، ← مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1940

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1941

نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْد الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، نَا خَالِدٌ -يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ- نَا هِشَامٌ صَاحِبُ الدَّسْتُوَائِيِّ، نَا قَتَادَةُ؛ ح وَثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ صَاحِبِ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ؛ ح وَثَنَا بُنْدَارٌ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، نَا عُمَرُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ زَيْد بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: تَسَحَّرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[202 - أ] ثُمَّ قُمْنَا إِلَى الصَّلَاةِ". قُلْتُ: كَمْ بَيْنَهُمَا؟ قَالَ: قَدْرُ قِرَاءَةِ خَمْسِينَ آيَةً. مَعَانِي أَحَادِيثِهِمْ سَوَاءٌ، وَهَذَا حَدِيثُ وَكِيعٍ.

''حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیا ن کرتے ہیں کہ ہم نے رسو ل اللہ ﷺ کے ساتھ سحری کی، پھر ہم نماز کےلیے اٹھ گئے۔میں نے پوچھا :سحری کرنے اور نماز کے درمیان کتنا وقعہ تھا؟انہوں نے جواب دیا: پچاس آیت کی قراءت کرنے کی مقدار کے برابر وقفہ تھا۔'

قَدْرُ قِرَاءَةِ خَمْسِينَ آيَةً. مَعَانِي أَحَادِيثِهِمْ سَوَاءٌ، وَهَذَا حَدِيثُ وَكِيعٍ. ← تَسَحَّرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّه أ] ثُمَّ قُمْنَا إِلَى الصَّلَاةِ". قُلْتُ: كَمْ بَيْنَهُمَا؟ ← زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← عُمَرُ بْنُ عَامِرٍ، ← سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، ← وَثَنَا بُنْدَارٌ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ← قَتَادَةَ ← هِشَامٍ صَاحِبِ الدَّسْتُوَائِيِّ، ← وَكِيعٌ، ← وَثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← قَتَادَةَ ← هِشَامٍ صَاحِبِ الدَّسْتُوَائِيِّ، ← خَالِدٌ -يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ-، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1941

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1942

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ الْيَمَامِيُّ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، ثَنَا سُلَيْمَانُ -وَهُوَ ابْنُ بِلَالٍ- عَنْ أَبِي حَازِمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ يَقُولُ: كُنْتُ أَتَسَحَّرُ فِي أَهْلِي، ثُمَّ تَكُونُ سُرْعَةٌ [بِي] أَنْ أُدْرِكَ صَلَاةَ الصُّبْحِ مَعَ رَسُولِ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. جُمَّاعُ أَبْوَابِ الْأَفْعَالِ اللَّوَاتِي تُفَطِّرُ الصَّائِمَ

''حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے گھر والوں کے ساتھ سحری کھانا پھر میں نماز فجر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ادا کرنے کےلیے جلدی کرتا۔'

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِي حَازِمٍ، أَنَّهُ ← سُلَيْمَانُ -وَهُوَ ابْنُ بِلَالٍ- ← يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ الْيَمَامِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1942

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1943

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْد الْأَعْلَى، أَخْبَرَنا ابْنُ وَهْبٍ، أَنَّ مَالِكًا حَدَّثَهُ؛ ح وَحَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: أَخْبَرَنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْد الرَّحْمَن، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة؛ ح وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِي، ثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِي؛ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ تَسْنِيمٍ، أَخْبَرَنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِي، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْد الرَّحْمَن أَنَّ أَبَا هُرَيْرَة حَدَّثَهُ: أَنَّ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ رَجُلا أَفْطَرَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ بِعِتْقِ رَقَبَةٍ، أَوْ صِيَامِ شَهْرَيْنِ، أَوْ إِطْعَامِ سِتِّينَ مِسْكِينًا. قَالَ مَالِكٌ فِي عَقِبِ خَبَرهِ: وَكَانَ فِطْرُهُ بِجِمَاعٍ.

''حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیا ن کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ماہ رمضان میں روزہ توڑنے والے شخص کو حکم دیا کہ وہ ایک گردن آزاد کرائے یا وہ ماہ کے روزے رکھے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلایئے۔''امام مالک نے اپنی روایت کے بعد فرمایا : ''اس شخص نے اپنی بیوی سے جماع کرکے روزہ توڑا تھا۔''

حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ← وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ تَسْنِيمٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِي، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← الشَّافِعِیُّ ← وَحَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← ابْنُ وَهْبٍ أَنَّ مَالِكًا ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1943

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1944

حَدَّثَنَا عَبْد الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، نَا سُفْيَان، قَالَ: حَفِظْتُهُ مِنْ فِي الزُّهْرِي، سَمِعَ حُمَيْدَ بْنَ عَبْد الرَّحْمَن يُخْبِرُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة قَالَ: جَاءَ رَجُل إِلَى النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؛ فَقَالَ: هَلَكْتُ. فَقَالَ: "وَمَا أَهْلَكَكَ؟ " قَالَ: وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي فِي شَهْرِ رَمَضَانَ. فَقَالَ: "هَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُعْتِقَ رَقَبَةً؟ ". قَالَ: لَا. قَالَ: "فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟ " قَالَ: لَا. قَالَ: "فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟ " قَالَ: لَا. قَالَ: "اجْلِسْ"، فَجَلَسَ فَأُتِيَ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ، قَالَ: وَالْعَرَقُ هُوَ الْمِكْتَلُ (1) الضَّخْمُ. قَالَ: "خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ". فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّه! أَعَلَى أَهْلِ بَيْتٍ أَفْقَرَ مِنَّا، فَمَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَفْقَرَ مِنَّا. فَضَحِكَ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ، وَقَالَ: "اذْهَبْ فَأَطْعِمْ أَهْلَكَ".

''حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کی : ''میں ہلاک ہو گیا۔''آپ نے پوچھا : تجھے کس چیز نے ہلاک کیا ہے؟ اس نے جواب دیا :''میں نے ماہ رمضان میں (دن کے وقت روزے کی حالت میں)اپنی بیوی سےہم بستری کر لی ہے ۔آپ نے پوچھا :''کیا تم ایک گردن آزاد کرنے کی استطاعت رکھتے ہو؟ اس نے کہا : نہیں ۔آپ نے پوچھا : توکیا تم دو ماہ کے مسلسل روزے رکھ سکتے ہو؟ اس نے جواب دیا :نہیں۔آپ نے فرمایا : بیٹھ جاؤ ۔تو وہ شخص بیٹھ گیا۔ پھر اس اثنا میں نبی کریم ﷺ کے پاس کھجوروں کا ایک ٹوکرا لایا گیا۔ عرق بڑے ٹوکرے کو کہتے ہیں۔آپ نے فرمایا : ''یہ ٹوکرا لے لو اور یہ کھجوریں صدقہ کردو۔''تو اس نے عرض کہ اے اللہ کے رسول ! کیا میں اپنے سے زیادہ غریب لوگوں پر صدقہ کروں؟ تو مدینہ منورہ کے پتھریلے اطراف کے درمیان ہم سے زیادہ غریب گھرانہ کوئی نہیں ہے۔ اس بات پر نبی کریم ﷺ خوب ہنسے حتی کہ آپ کے کچلی والے دانت مبارک ظاہر ہوگئے۔اور آپ نے فرمایا:"جاؤ اپنے گھر والوں ہی کو کھلا دو۔''

"خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ". فَقَالَ: ← وَالْعَرَقُ هُوَ الْمِكْتَلُ الضَّخْمُ. ← "اجْلِسْ"، فَجَلَسَ فَأُتِيَ النَبِيّ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ، ← لَا۔ ← "فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟ ← لَا۔ ← "فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟ ← لَا۔ ← وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي فِي شَهْرِ رَمَضَانَ. فَقَالَ: "هَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُعْتِقَ رَقَبَةً؟ ← جَاءَ رَجُل إِلَى النَبِيّ فَقَالَ: هَلَكْتُ. فَقَالَ: "وَمَا أَهْلَكَكَ؟ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← حُمَيْدَ بْنَ عَبْد الرَّحْمَن يُخْبِرُ، ← حَفِظْتُهُ مِنْ فِي الزُّهْرِي، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1944

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1945

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، نَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ الزُّهْرِي، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْد الرَّحْمَن، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة قَالَ: جَاءَ رَجُل إِلَى رَسُولِ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَقَالَ لَهُ: إِنَّ الْآخَرَ وَقَعَ عَلَى امْرَأَتِهِ فِي رَمَضَانَ. قَالَ: فَقَالَ لَهُ: "أَتَجِدُ مَا تُحَرِّرُ رَقَبَةً؟ " قَالَ: لَا. قَالَ: "أَفَتَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟ " قَالَ: لَا. قَالَ: "أَفَتَجِدُ مَا تُطْعِمُ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟ " قَالَ: لَا. قَالَ: فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ وَهُوَ الزِّنْبِيلُ فَقَالَ: "أَطْعِمْ هَذَا عَنْكَ". فَقَالَ: مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجَ مِنَّا، قَالَ: "فَأَطْعِمْ أَهْلَكَ".

''حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ ایک شخص رسو ل اللہ کی خدمت میں حاضر ہو اور آپ سے کہنے لگا کہ اس بد نصیب نے رمضان مبارک میں (دن کےوقت) اپنی بیوی سے ہم بستری کر لی ہے۔تو آپ ﷺ نے اس سے پوچھا :کیا تیرے پاس گردن آزاد کرنے کی طاقت ہے؟ اس نے عرض کیا نہیں ۔آپ نے دریافت کیا :کیا تم دو ماہ کے مسلسل روزے رکھ سکتے ہو؟ اس نے جواب دیا :نہیں ۔آپ نے کہا:کیا تمہارے پاس ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کی گنجائش ہے؟ اس نے عرض کی: نہیں ۔پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک بڑا ٹوکرا لا یا گیا جس مین کھجوریں تھیں۔اسے زنبیل کہتے ہیں۔ تو آپ نے فرمایا : ''اپنی طرف سے یہ کھجوریں (مساکین کو) کھلا دو۔''تو اس نے عرض کی:" مدینے کے دو پتھریلے کناروں کے درمیان ہم سے زیادہ محتاج کوئی گھرانہ نہیں ہے تو آپ نے فرمایا:''تو اپنے گھر والوں کو کھلا دو۔'

"فَأَطْعِمْ أَهْلَكَ". ← مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجَ مِنَّا، ← "أَطْعِمْ هَذَا عَنْكَ". ← فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّه بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ وَهُوَ الزِّنْبِيلُ ← لَا۔ ← "أَفَتَجِدُ مَا تُطْعِمُ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟ ← لَا۔ ← "أَفَتَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟ ← لَا۔ ← لَهُ: "أَتَجِدُ مَا تُحَرِّرُ رَقَبَةً؟ ← لَهُ: إِنَّ الْآخَرَ وَقَعَ عَلَى امْرَأَتِهِ فِي رَمَضَانَ. ← جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ، ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1945

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1946

نَا يُونُسُ بْنُ عَبْد الْأَعْلَى، أَخْبَرَنا ابْنُ وَهْبٍ؛ ح وَأَخْبَرَني ابْنُ عَبْد الْحَكَمِ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ أَخْبَرَهُمْ، قَالَ: أَخْبَرَني عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ؛ أَنَّ عَبْد الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ، حَدَّثَهُ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبَّادَ بْنَ عَبْد اللَّه بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَة تَقُولُ: أَتَى رَجُل إِلَى رَسُولِ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَسْجِدِ فِي رَمَضَانَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّه! احْتَرَقْتُ، فَسَأَلَهُ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا شَأْنُهُ. فَقَالَ: أَصَبْتُ أَهْلِيَ. قَالَ: "تَصَدَّقْ". قَالَ: وَاللَّه مَا لِي شَيْءٌ وَمَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ. قَالَ: "اجْلِسْ". فَجَلَسَ فَبَيْنَمَا هُوَ عَلَى ذَلِكَ، أَقْبَلَ رَجُل يَسُوقُ حِمَارًا عَلَيْهِ طَعَامٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "أَيْنَ الْمُحْتَرِقُ؟ "، فَقَامَ الرَجُل، فَقَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "تَصَدَّقْ بِهَذَا". فَقَالَ: عَلَى غَيْرنَا؟ فَوَاللَّه إِنَّا لَجِيَاعٌ، وَمَا لَنَا شَيْءٌ. قَالَ: "فَكُلُوهُ". وَقَالَ ابْنُ عَبْد الْحَكَمِ: قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّه! أَغَيْرنَا فَوَاللَّه ...

''حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ ایک شخص رمضان المبارک میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں مسجد میں حاضر ہوا اور کہنے لگا : اے اللہ کے رسول !میں برباد ہو گیا ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ا س سے پوچھا کہ اسے کیا ہوا ہے؟ تو اس نےبتایا کہ میں نے اپنی بیوی سے ہم بستری کر لی ہے ۔آپ نے فرمایا :صدقہ کرو۔''اس نے کہا : اللہ کی قسم ! میرے پاس کچھ نہیں ہے اور نہ میں صدقہ کرنے کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ نے فرمایا : بیٹھ جاؤ ۔ تو وہ بیٹھ گیا ۔ اسی اثنا میں کہ وہ بیٹھا ہو تھا ، ایک شخص گدھا ہانکتا ہو ا آ گیا ، جس پر کھانا لدا ہو تھا ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:''برباد ہونے والا شخص کہاں ہے؟ تو وہ شخص کھڑا ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ''یہ غلبہ صدقہ کردو۔تو اس نے عرض کی : کیا اپنے علاوہ کسی اور پر صدقہ کروں؟ اللہ کی قسم ! ہم خود بھوکے ہیں اور ہمارے پاس کچھ نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا: ''تو تم ہی اسے کھالو۔''جناب عبدالحکیم کی روایت میں ہے:''اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا اپنے علاوہ کسی اور شخص پر صدقہ کروں اللہ کی قسم ! (ہم تو خود بھوکے اور محتاج ہیں )۔''

عَائِشَة تَقُولُ: أَتَى رَجُل إِلَى رَسُولِ اللَّه فِي الْمَسْجِدِ فِي رَمَضَانَ، فَقَالَ: ← أَنَّهُ ← أَنَّ عَبَّادَ بْنَ عَبْد اللَّه بْنِ الزُّبَيْرِ ← أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ؛ أَنَّ عَبْد الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ، ← وَأَخْبَرَني ابْنُ عَبْد الْحَكَمِ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1946

chevron_left Previous
1…124125126…258
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden22. The groups of the gates of obligatory travel23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness24. The congregation of the gates of prayer on the rows25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr37. The gates of the prayer of fear38. Collections of the gates of an eclipse prayer39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals