Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1914

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّه بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ مَا لَا أُحْصِي غَيْر مَرَّةٍ، ثَنَا أَبُو خَالِدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عَمَّارٍ، فَأُتِيَ بِشَاةٍ مَصْلِيَّةٍ، فَقَالَ: كُلُوا، فَتَنَحَّى بَعْضُ الْقَوْمِ، فَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ. فَقَالَ عَمَّارٌ: مَنْ صَامَ الْيَوْمَ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.

مجمل غیر مفسر لفظ کے ساتھ اس دن کے روزے کی ممانعت کا بیان جس کے بارے میں شک ہو کہ یہ دن رمضان کا ہے یا شعبان کا

«إِنِّي صَائِمٌ» ← كُلُوا، فَتَنَحَّى بَعْضُ الْقَوْمِ، ← كُنَّا عِنْدَ عَمَّارٍ، فَأُتِيَ بِشَاةٍ مَصْلِيَّةٍ، ← صِلَۃَ بْنَ زُفَرَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← عَمْرَو بْنَ قَيْسٍ، ← أَبُو خَالِدٍ؛ ← عَبْد اللَّه بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ مَا لَا أُحْصِي غَيْر مَرَّةٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1914

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1915

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، نَا مُحَمَّدٌ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ- نَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْبَخْتَرِيِّ قَالَ: أَهْلَلْنَا هِلَالَ رَمَضَانَ وَنَحْنُ بِذَاتِ عِرْقٍ، قَالَ: فَأَرْسَلْنَا رَجُلا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ. فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّ رَسُولَ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "إِنَّ اللَّه قَدْ أَمَدَّهُ لَكُمْ لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ". وَثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، ثَنَا أَبُو دَاوُدَ، ثَنَا شُعْبَةُ بِمِثْلِهِ.

"جناب ابو البختری بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رمضان المبارک کا چاند دیکھا جبکہ ہم ذات عرق مقام پر تھے ۔ کہتے ہیں تو ہم نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس کے بارے میں پوچھنے کے لیے ایک آدمی بھیجا تو حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا:" بے شک رسول اللہﷺ نے فرمایا: "بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے دیکھنے کےلیے چاند کو پھیلا دیا ہے ۔ پس اگر چاند تم پر بادلوں میں چھپ جائے تو تم تیس کی گنتی مکمل کر لو۔"

فَأَرْسَلْنَا رَجُلا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ. فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ← أَهْلَلْنَا هِلَالَ رَمَضَانَ وَنَحْنُ بِذَاتِ عِرْقٍ، ← أَبَا الْبَخْتَرِيِّ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدٌ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ-، ← بُنْدَارٌ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1915

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1916

حَدَّثَنَا عَلِي بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، نَا إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ- عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَرْمَلَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ: أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ بِنْتَ الْحَارِثِ بَعَثَتْهُ إِلَى مُعَاوِيَةَ بِالشَّامِ، [200 - أ] قَالَ: فَقَدِمْتُ الشَّامَ فَقَضَيْتُ حَاجَتَهَا، وَاسْتَهَلَّ عَلَيَّ هِلَالُ رَمَضَانَ وَأَنَا بِالشَّامِ، فَرَأَيْنَا الْهِلَالَ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، وَرَآهُ النَّاسُ وَصَامُوا، وَصَامَ مُعَاوِيَةُ، فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فِي آخِرِ الشَّهْرِ فَسَأَلَنِي عَبْد اللَّه بْنُ عَبَّاسٍ -ثُمَّ ذَكَرَ الْهِلَالَ، فَقَالَ: مَتَى رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ؟ فَقُلْتُ: رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ. فَقَالَ: أَنْتَ رَأَيْتَهُ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، أَنَا رَأَيْتُهُ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، وَرَآهُ النَّاسُ، وَصَامُوا، وَصَامَ مُعَاوِيَةُ. قَالَ: لَكِنَّنَا رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ السَّبْتِ، فَلَا نَزَالُ نَصُومُهُ حَتَّى نُكْمِلَ ثَلَاثِينَ أَوْ نَرَاهُ، فَقُلْتُ: أَوَلَا تَكْتَفِي بِرُؤْيَةِ مُعَاوِيَةَ وَصِيَامِهِ؟ قَالَ: لَا، هَكَذَا أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.

"جناب کریب سے روایت ہے کہ ام افضل بنت حارث نے انہیں حضرت معاویہ ؓ کے پاس ملک شام بھیجا ۔ وہ کہتے ہیں :"میں شام آیا اور ان کا کام اور ضرورت پوری کردی اور میں نے رمضان المبارک کا چاند شام ہی میں دیکھا پس ہم نے جمعہ کے رات کو چاند دیکھا اور لوگوں نے چاند دیکھا اور روزہ رکھا ۔ "اور حضرت معاویہ ؓ نے بھی روزہ ر کھا ۔ پھر میں مہینے کے آخر میں مدینہ منورہ واپس آیا تو حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے مجھ سے سوال کرتے ہوئے چاند کا ذکر کیا تو پوچھا : تم نے چاند کب دیکھا تھا؟ میں نے عرض کی کہ ہم نے چاند جمعہ کی رات کو دیکھا تھا ۔ انہوں نے دریافت کیا: کیا تم نے خود جمعہ کی رات کو چاند دیکھا تھا؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ میں نے خود جمعہ کی رات کو چاند دیکھا تھا ۔ اور لوگوں نے بھی چاند دیکھا تھا اور ورزہ رکھا اور حضرت معاویہ ؓ نے بھی روزہ رکھا تھا تو حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا: لیکن ہم نے چاند ہفتہ کی رات کو دیکھا تھا لہٰذا ہم اسی طرح مسلسل روزے رکھتے رہیں گے حتی کہ تیس دن مکمل کر لیں یا چاند دیکھ لیں ۔ میں نے عرض کی: کیا آپ حضرت معاویہ ؓ کی رؤیت اور ان کے روزوں پر کفایت نہیں کریں گے ؟ انہوں نے جواب دیا : نہیں، ہمیں رسول اللہﷺ نے اسی طرح حکم دیا ہے ۔"

كُرَيْبٍ، ← محمد يعني إبن أبي حرملة ← إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ- ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1916

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1917

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، قَالَا: ثَنَا عَبْد الرَّحْمَنِ، قَالَ بُنْدَارٌ: نَا شُعْبَةُ، وَقَالَ يَحْيَى: عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ (1)، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، عَنِ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ".

"جناب حیات بن حکیم بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر ؓ کو نبی کریمﷺ سے بیان کرتے ہوئے سنا کہ آپ نے فرمایا:"مہینہ انتیس دن کا ہوتا ہے ۔"

"الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ". ← النَّبِيِّ ← ابْنِ عُمَرَ ← جَبَلَةُ بْنُ سُحَيْمٍ، ← شُعْبَةُ، ← شُعْبَةُ، وَقَالَ يَحْيَى: ← بُنْدَارٌ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1917

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1918

حَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ وَالْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ وَأَحْمَد بْنُ مَنِيعٍ وَمُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، قَالُوا: ثَنَا إِسْمَاعِيلُ -وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ- أَخْبَرَنا أَيُّوبُ، وَقَالَ الزَّعْفَرَانِيُّ وَمُؤَمَّلٌ: عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّمَا الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ".

"حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: "بے شک مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے ۔"

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← الزَّعْفَرَانِيُّ وَمُؤَمَّلٌ: ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ، ← مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ← أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1918

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1919

حَدَّثَنَا عَلِي بْنُ الْمُنْذِرِ، نَا ابْنُ فُضَيْلٍ، نَا حُصَيْنٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ قَالَ: خَرَجْنَا لِلْعُمْرَةِ، فَلَمَّا نَزَلْنَا بِبَطْنِ نَخْلَةَ رَأَيْنَا الْهِلَالَ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: هُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: وهُوَ ابْنُ لَيْلَتَيْنِ. قَالَ: فَلَقِيَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقُلْنَا: رَأَيْنَا الْهِلَالَ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: هُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: هُوَ ابْنُ لَيْلَتَيْنِ. فَقَالَ: أَيَّ لَيْلَةٍ رَأَيْتُمُوهُ؟ قُلْنَا: لَيْلَةَ كَذَا وَكَذَا. فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[قَالَ: "إِنَّ اللَّه] مَدَّهُ (2) لِرُؤْيَتِهِ فَهُوَ لِلَيْلَةِ رَأَيْتُمُوهُ".

"جناب ابوالبختری بیان کرتے ہیں کہ ہم عمرہ اد اکر نے کے لیے نکلے ۔ پھر جب ہم بطن نخلہ مقام پر اترے تو ہم نے چاند دیکھا۔ کچھ لوگ کہنے لگے کہ یہ تین راتوں کا ہے اور کچھ نے کہا کہ یہ دوسری رات کا چاند ہے ۔ کہتے ہیں : ہم حضرت ابن عباسؓ سے ملے تو ہم نے عرض کی: ہم نے چاند دیکھا تو کچھ لوگوں نے کہا: یہ تیسری رات کا چاند ہے اور کچھ نے کہا کہ یہ دوسری رات کا ہے ۔ تو انہوں نے پوچھا: تم نے اسے کس رات دیکھا تھا ۔ ہم نے جواب دیا : اس اس رات کو دیکھا تھا تو ا نہوں نے فرمایا:"بے شک رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے : "بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے چاند کو دیکھنے کےلیے اسے بڑا کر دیا ہے ۔ وہ اسی رات کا ہے جس رات تم نے اسے دیکھا تھا ۔"

أَيَّ لَيْلَةٍ رَأَيْتُمُوهُ؟ قُلْنَا: لَيْلَةَ كَذَا وَكَذَا. ← بَعْضُهُمْ: هُوَ ابْنُ لَيْلَتَيْنِ. ← بَعْضُ الْقَوْمِ: هُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ، ← فَلَقِيَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقُلْنَا: رَأَيْنَا الْهِلَالَ ← بَعْضُهُمْ: وهُوَ ابْنُ لَيْلَتَيْنِ. ← بَعْضُ الْقَوْمِ: هُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ، ← خَرَجْنَا لِلْعُمْرَةِ، فَلَمَّا نَزَلْنَا بِبَطْنِ نَخْلَةَ رَأَيْنَا الْهِلَالَ، ← أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← حُصَيْنٍ ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1919

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1920

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، نَا مَرْوَانُ -يَعْنِي ابْنَ مُعَاوِيَةَ- نَا إِسْمَاعِيلُ؛ ح وَحَدَّثَنَا عَبْدةُ بْنُ عَبْد اللَّه، أَخْبَرَنا مُحَمَّدٌ -يَعْنِي ابْنَ بِشْرٍ- ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "الشَّهْرُ هَكَذَا، وَهَكَذَا، وَهَكَذَا". وَفِي حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَقُولُ: "الشَّهْرُ هَكَذَا، وَهَكَذَا"، ثُمَّ قَبَضَ أَصَابِعَهُ فِي الثَّالِثَةِ.

"حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: مہینہ اس طرح اور اس طرح اور اسی طرح ہوتا ہے ۔ جناب محمد بن بن بشر کی روایت میں ہے :" رسول اللہﷺ ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ آپ فرما رہے تھے : "مہینہ ایسے ، ایسے اور ایسے ہوتا ہے پھر تیسری مرتبہ اپنی انگلی کو بند کر کے ( انتیس کا اشارہ کیا)"

أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← مُحَمَّدٌ -يَعْنِي ابْنَ بِشْرٍ- ← وَحَدَّثَنَا عَبْدةُ بْنُ عَبْد اللَّه، ← إِسْمَاعِيلُ ← مَرْوَانُ -يَعْنِي ابْنَ مُعَاوِيَةَ- ← مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1920

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1921

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، ثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي سِمَاكٌ أَبُو زُمَيْلٍ، حَدَّثَنِي عَبْد اللَّه بْنُ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنِي -يَعْنِي عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ- قَالَ: لَمَّا اعْتَزَلَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نِسَاءَهُ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّه! إِنَّمَا كُنْتَ فِي غُرْفَةٍ تِسْعًا وَعِشْرِينَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ" [200 - ب].

"حضرت عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہﷺ نے اپنی بیویوں سے علیحدگی اختیار کی تو میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ بالا خانے میں انتیس دن رہے ہیں ( جبکہ آپ نے ایک مہینے کی علیحدگی اختیار کی تھی) تو رسول اللہﷺ نے فرمایا:"بےشک مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے ۔"

لَمَّا اعْتَزَلَ رَسُولُ اللَّه نِسَاءَهُ، قُلْتُ: ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← -يَعْنِي ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← سِمَاكٌ أَبُو زُمَيْلٍ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1921

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2710

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى وَعِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ يُونُسُ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، وَقَالَ عِيسَى: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ يَقْدَمُ مَكَّةَ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ الْأَسْوَدَ أَوَّلَ مَا يَطُوفُ حِينَ يَقْدَمُ، يَخِبُّ ثَلَاثَ أَطْوَافٍ مِنَ السَّبْعِ.

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا ،جب آپ مکہ مکرمہ پہنچے تو آپ نے طواف کی ابتداء میں حجراسود کا استلام کیا ۔پھر سات میں سے تین چکروں میں دلکی چال چلے ( اور چار چکر عام رفتار سے چلے ) "

أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← عِيسَى؛ ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← يُونُسَ ← يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى وَعِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2710

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2711

حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ قَالَ: قَبَّلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الْحَجَرَ، فَقَالَ: أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّكَ حَجَرٌ، وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ. قَالَ عَمْرٌو: وَحَدَّثَنِي مِثْلَهَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ أَسْلَمَ.

حضرت عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ نے حجراسود کو بوسہ دیا توفرمایا: آگاہ رہ ، اللہ کی قسم !مجھے خوب علم ہےکہ تو ایک پتھر ہی ہے (جو کسی نفع و نقصا ن کا مالک نہیں ) اور اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تمہیں بوسہ نہ دیتا ۔"جناب عمرو کہتے ہیں : مجھے زید بن اسلم نے اپنے والد گرامی اسلم سے اسی طرح حدیث بیان کی ہے ۔

سَالِمٍ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يونس بن يزيد وعمرو بن الحارث ← ابْنُ وَهْبٍ، ← عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2711

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2712

حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَيْبٍ، نَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: اسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْحَجَرَ فَاسْتَلَمَهُ، ثُمَّ وَضَعَ شَفَتَيْهِ عَلَيْهِ يَبْكِي طَوِيلًا، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا هُوَ بِعُمَرَ يَبْكِي. فَقَالَ: "يَا عُمَرُ! هَاهُنَا تُسْكَبُ الْعَبَرَاتُ".

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنا چہرہ مبارک حجراسود کی طرف کیا اور حجر اسود کا استلام کیا ، پھر آپ نے اپنے ہونٹ اس پررکھ دیے اور دیر تک روتے رہے پھر مڑ کر دیکھا تو حضرت عمر بھی رورہے تھے ۔آپ نے فرمایا :اے عمر ،اس جگہ آنسوبہانے جاتے ہیں

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَوْنٍ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← سلمة بن شيب

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2712

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2713

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ -وَهُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ- عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: فَدَخَلْنَا مَكَّةَ حِينَ ارْتِفَاعِ الضُّحَى، فَأَتَى -يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -- بَابَ الْمَسْجِدِ فَأَنَاخَ رَاحِلَتَهُ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَبَدَأَ بِالْحَجَرِ، فَاسْتَلَمَه وَفَاضَتْ عَيْنَاهُ بِالْبُكَاءِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: وَرَمَلَ ثَلَاثًا وَمَشَى أَرْبَعًا حَتَّى فَرَغَ، فَلَمَّا فَرَغَ قَبَّلَ الْحَجَرَ، وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَيْهِ، ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ.

۔۔حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم چاشت کے وقت مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو نبی اکرم ﷺ مسجد حرام کے دروازے پر آئے اور اپنی اونٹنی کو بٹھایا پھر مسجد حرام میں داخل ہوئے ،آپ نے حجراسود سے ابتداء کی ، اس کا استلام کیا تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے پھر بقیہ حدیث بیان کی ۔اور فرمایا : "آپ نے طواف کے تین چکروں میں دلکی چال چلی اور چار چکر عام رفتار سے لگائے ،جب آپ طواف سے فارغ ہوگئے تو آپ نے حجرا سود کو بوسہ دیا ،اپنے دونوں ہاتھ اس پر رکھے اور پھر انہیں اپنے چہرے مبارک پر ملا۔"

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي جَعْفَرٍ -وَهُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ- ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2713

chevron_left Previous
1…120121122…258
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden22. The groups of the gates of obligatory travel23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness24. The congregation of the gates of prayer on the rows25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr37. The gates of the prayer of fear38. Collections of the gates of an eclipse prayer39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals