صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2590
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، ثَنَا حَمَّادُ -يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ- عَنْ عَمْرٍو -وَهُوَ ابْنُ دِينَارٍ- عَنْ طَاوُوسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَّتَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ، وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ، وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ، وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا، فَهُنَّ لَهُنَّ وَلِمَنْ أَتَى عَلَيْهِنَّ (1). مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِنَّ، فَمَنْ كَانَ يُرِيدُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَمَنْ كَانَ دُونَهُنَّ فَمِنْ أَهْلِهِ، وَكَذَلِكَ حَتَّى أَهْلِ مَكَّةَ يُهِلُّونَ مِنْهَا.
۔۔حضر ت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے مدینہ منورہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ ،اہل شام کےلیے جفہ ،اہل یمن کےلیے یلملم اور اہل نجد کے لیے قرن منازل میقات مقرر فرمائے ہیں ۔یہ میقات ان علاقوں کے لوگوں کے لیے ہیں اور ان لوگوں کےلیے بھی جو دوسرے علاقوں کے رہائشی ہوں اور ان میقات سے گزر کر حج وعمرہ کےلیے جا رہے ہوں ۔لہذا جو شخص حج یا عمرہ ادا کرنا چاہتاہواور اس کا گھر ان میقات کے اندر (مکہ کی جانب واقع ہوتو وہ اپنے گھر ہی سے احرام باندھ لے گا۔ اسی طرح اہل مکہ اپنے گھروں سے احرام باندھ کرتلبیہ پڑھیں گےٍ
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوُوسٍ، ← عَمْرٍو -وَهُوَ ابْنُ دِينَارٍ- ← حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ-، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ،
Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2590
