صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1535
أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ، نَا أَبُو بَكْرٍ -يَعْنِي الْحَنَفِيَّ- نَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ -وَهُوَ ابْنُ سَعْدٍ أَبُو سَعْدٍ- قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي الْمَغْرِبَ، فَجِئْتُهُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ عَنْ يَسَارِهِ، فَنَهَانِي (1) فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ، ثُمَّ جَاءَ صَاحِبٌ لِي، فَصَفَفْنَا خَلْفَهُ، فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُخَالِفًا بَيْنَ طَرَفَيْهِ.
حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ:"رسول اللہ ﷺ نماز مغرب پڑھنے کے لیے کھڑے ہوۓ، میں آپ ﷺ کے پاس آیا اور آپ کی باہیں جانب کھڑا ہو گیا۔آپ ﷺ نے مجھے روکا اور اپنی دائیں جانب کھڑا کر لیا ، پھرمیرا ایک اور ساتھی آگیا تو ہم نے آپ ﷺ کے پیچھے صف بنالی۔لٰہذا رسو اللہ ﷺ نے ہمیں ایک ہی کپڑے میں نماز پڑھائی، آپ ﷺ نے اس کپڑے کے کناروں کو مخالف سمت میں ڈالا ہواتھا۔یعنی دایان کنارہ بائیں جانب اور بایان کنارہ دائیں جانب)"
يَسَارِهِ، فَنَهَانِي فَجَعَلَنِي ← قَامَ رَسُولُ اللَّهِ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ، فَجِئْتُهُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← شُرَحْبِيلُ -وَهُوَ ابْنُ سَعْدٍ أَبُو سَعْدٍ- ← الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، ← أَبُو بَكْرٍ -يَعْنِي الْحَنَفِيَّ- ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein · Hadith 1535
