Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ فَضَائِلِ المَسَاجِدِ وَبِنَا ئِھَا وَتَظِیمِھَا · حديث 1297

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الْحَكَمِ، نَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ حَنْطَبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: (1) قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "عُرِضَتْ عَلَيَّ أُجُورُ أُمَّتِي حَتَّى الْقَذَاةُ يُخْرِجُهَا الرَّجُلُ مِنَ الْمَسْجِدِ، وَعُرِضَتْ عَلَيَّ ذُنُوبُ أُمَّتِي فَلَمْ أَرَ ذَنْبًا هُوَ أَعْظَمُ مِنْ سُورَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ أَوْ آيَةٍ أُوتِيهَا رَجُلٌ ثُمَّ نَسِيَهَا".

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجھ پر میری امت کے اجر و ثواب پیش کیے گئے حتی کہ وہ تنکا بھی جسے کوئی آدمی مسجد سے نکال دیتا ہے ۔ اور مجھ پر میری امت کے گناہ پیش کئے گے تو میں نے اس سے بڑا کوئی گناہ نہیں دیکھا کہ کسی شخص کو قرآن مجید کی کوئی سورت یا آیات دی گئ(اس نے یاد کی) پھر اسے بھلا دیا (اسے یاد نہ رکھا نہ اس پر عمل کیا)

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْمُطَّلِبِ بْنِ حَنْطِبٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الْحَكَمِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization · Hadith 1297

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ فَضَائِلِ المَسَاجِدِ وَبِنَا ئِھَا وَتَظِیمِھَا · حديث 1298

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ، نَا عُمَرُ بْنُ سُلَيْمٍ -كَانَ يَنْزِلُ فِي بَنِي قُشَيْرٍ- حَدَّثَنِي أَبُو الْوَلِيدِ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: مَا بَدْءُ هَذَا الْحَصَى فِي الْمَسْجِدِ؟ قَالَ: مُطِرْنَا مِنَ اللَّيْلِ، فَجِئْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ لِلصَّلَاةِ، قَالَ: فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَحْمِلُ فِي ثَوْبِهِ الْحَصَى فَيُلْقِيهِ فَيُصَلِّي عَلَيْهِ. فَلَمَّا أَصْبَحْنَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَا هَذَا؟ " فَأَخْبَرُوهُ، فَقَالَ: "نِعْمَ الْبِسَاطُ هَذَا"، قَالَ: فَاتَّخَذَهُ النَّاسُ. قَالَ، قُلْتُ: مَا كَانَ بَدْءُ هَذَا الزَّعْفَرَانِ؟ قَالَ: جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ، فَإِذَا هُوَ بِنُخَاعَةٍ فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَحَكَّهَا، وَقَالَ: "مَا أَقْبَحَ هَذَا! " قَالَ: فَجَاءَ الرَّجُلُ الَّذِي تَنَخَّعَ فَحَكَّهَا ثُمَّ طَلَى عَلَيْهَا الزَّعْفَرَانَ ... (2) قَالَ: إِنَّ هَذَا أَحْسَنُ مِنْ ذَلِكَ. قَالَ: قُلْتُ: مَا بَالُ أَحَدِنَا إِذَا قَضَى حَاجَتَهُ نَظَرَ إِلَيْهَا إِذَا قَامَ عَنْهَا؟ فَقَالَ: إِنَّ الْمَلَكَ يَقُولُ لَهُ: انْظُرْ إِلَى مَا نَحَلْتَ بِهِ إِلَى مَا صَارَ.

جناب ابو الولید بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر ؓ سے پوچھا : مسجد میں یہ کنکریاں بچھانے کی ابتدا کیسے ہوئی؟ انہوں نے فرمایا : ایک رات ہم پر بارش ہوئی ، تو ہم نماز پڑھنے کے لیے مسجد آئے تو آدمی اپنے کپڑے میں کنکریاں اٹھا کر لے آتا اسے بچھا کر اس پر نماز پڑھ لیتا ، پھر جب ہم نے صبح کی تو رسول اللہ ﷺ نے دریافت کیا : یہ کیا ہے؟ تو صحابہ کرام نے صورت حال آپ کو بتا دی ، آپ نے فرمایا: یہ بہت اچھا بچھونا ہے ۔ چنانچہ لوگوں نے کنکریاں بچھانا شروع کر دیں ۔ کہتے ہیں میں نے پوچھا :یہ زعفران لگانا کب شروع ہوا ؟ انہوں نے فرمایا:رسول اللہ ﷺ صبح کی نماز کے لیے تشریف لائے تو اچانک آپ نے مسجد کے قبلہ میں ناک کی ریزش دیکھی۔ تو آپ نے اسے کھرچ دیا اور فرمایا: یہ کتنی قبیح اور گندی حرکت ہے ، چنانچہ جس شخص نے وہ ریزش پھینکی تھی وہ آیا اس نے صاف کر دیا اور پھر اس پر زعفران کا لیپ کر دیا ۔ آپ نے فرمایا : یہ اس سے بہتر اور احسن حرکت ہے ،کہتے ہیں ،میں نے عرض کی : کیا وجہ ہے جب ہم میں سے کوئی قضائے حاجت(پیشاب ،پا خانے) سے فارغ ہوتا ہے تو اٹھتے وقت اس کی طرف دیکھتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : بے شک ایک فرشتہ کہتا ہے ۔ جو چیز تم نے حاصل کی تھی اس کے انجام کو دیکھ۔

فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَحْمِلُ فِي ثَوْبِهِ الْحَصَى فَيُلْقِيهِ فَيُصَلِّي عَلَيْهِ. فَلَمَّا أَصْبَحْنَا، ← مُطِرْنَا مِنَ اللَّيْلِ، فَجِئْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ لِلصَّلَاةِ، ← قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: مَا بَدْءُ هَذَا الْحَصَى فِي الْمَسْجِدِ؟ ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← عُمَرُ بْنُ سُلَيْمٍ -كَانَ يَنْزِلُ فِي بَنِي قُشَيْرٍ- ← عَبْدُ الصَّمَدِ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization · Hadith 1298

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ فَضَائِلِ المَسَاجِدِ وَبِنَا ئِھَا وَتَظِیمِھَا · حديث 1299

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، ثَنَا حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ- ثَنَا ثَابِتٌ [141 - ب] عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ امْرَأَةً سَوْدَاءَ كَانَتْ تَقُمُّ الْمَسْجِدَ، فَمَاتَتْ، فَفَقَدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ عَنْهَا بَعْدَ أَيَّامٍ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّهَا مَاتَتْ، قَالَ: "فَهَلَّا آذَنْتُمُونِي"، فَأَتَى قَبْرَهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا.

حجرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک سیاہ رنگ کی عورت مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی ، وہ فوت ہو گی(اور صحابہ کرام نے اسے دفن کر دیا ) رسول اللہﷺ نے اسے گم پایا تو کچھ دنوں کے بعد اس کے بارے میں پوچھا۔ ااپ کو بتایا گیا کہ وہ فوت ہو گئ ہے ۔ آپ نے فرمایا : تم نے مجھے اطلاع کیوں نہ کی ؟ پھر آپ اس کی قبر پر تشریف لائے اور اس کی نماز جنازہ پڑھی۔

أَبِي رَافِعٍ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ-، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization · Hadith 1299

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ فَضَائِلِ المَسَاجِدِ وَبِنَا ئِھَا وَتَظِیمِھَا · حديث 1300

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ الْقَطَوَانِيُّ، نَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تَلْتَقِطُ الْخِرَقَ وَالْعِيدَانَ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْقَبْرِ.

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت مسجد سے چیتھڑے اور تنکے وغیرہ اٹھایا کرتی تھی ، پھر اس کی قبر پر نماز پڑھنے تک باقی حدیث بیان کی۔

الْحَدِيثَ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْقَبْرِ. ← أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تَلْتَقِطُ الْخِرَقَ وَالْعِيدَانَ مِنَ الْمَسْجِدِ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ الْقَطَوَانِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization · Hadith 1300

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ فَضَائِلِ المَسَاجِدِ وَبِنَا ئِھَا وَتَظِیمِھَا · حديث 1301

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ نَا بُنْدَارٌ، وَأَبُو مُوسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلْقَمَةَ -وَهُوَ ابْنُ مَرْثَدٍ- عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ؛ ح وَثَنَا أَبُو عَمَّارٍ، نَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ أَبِي سِنَانٍ الشَّيْبَانِيِّ؛ ح وَثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، نَا وَكِيعٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَجُلٌ: مَنْ دَعَا إِلَى الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا وَجَدْتَ، إِنَّمَا بُنِيَتِ الْمَسَاجِدُ لِمَا بُنِيَتْ لَهُ". هَذَا حَدِيثُ وَكِيعٍ.

حجرت بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھائی تو ایک شخص کہنے لگا : سرخ اونٹ کی طرف کس نے پکارا ہے؟(کس نے اسے دیکھا ہے) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(اللہ کرے) تو اونٹ نہ پائے ، بلا شبہ مساجد تو انہی کاموں کے لیے بنائی گی ہیں جن کے لیے بنائی گی ہیں (عبادت اور ذکر الہیٰ کے لیے) یہ وکیع کی حدیث ہے ۔

رَجُلٌ: مَنْ دَعَا إِلَى الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ، ← "صلى رسول اللَّه ← أَبِيهِ ← سُلَيْمَانَ بْنُ بُرَيْدَةَ ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ← وَكِيعٌ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ← سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ أَبِي سِنَانٍ الشَّيْبَانِيِّ؛ ← وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، ← أَبُو عَمَّارٍ، ← أَبِيهِ ← سُلَيْمَانَ بْنُ بُرَيْدَةَ ← عَلْقَمَةَ -وَهُوَ ابْنُ مَرْثَدٍ- ← سُفْيَانَ، ← مُؤَمَّلٍ، ← بُنْدَارٌ وَأَبُو مُوسَى، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization · Hadith 1301

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ فَضَائِلِ المَسَاجِدِ وَبِنَا ئِھَا وَتَظِیمِھَا · حديث 1302

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، نَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، أَنَّهُ شَهِدَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "مَنْ سَمِعَ رَجُلًا يَنْشُدُ ضَالَّةً فِي الْمَسْجِدِ فَلْيَقُلْ لَهُ: لَا أَدَّاهَا اللَّهُ عَلَيْكَ فَإِنَّ الْمَسَاجِدَ لَمْ تُبْنَ لِهَذَا". أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى يَقُولُ: أَبُو عَبْدِ اللَّهِ هَذَا هُوَ سَالِمٌ الدَّوْسِيُّ، يُقَالُ لَهُ: سَبَلَانُ.

حضرت اب ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا ہے: جو شخص کسی آدمی کو مسجد میں گم شدہ چیز کا اعلان کرتے ہوئے سنے تو وہ اسے یہ (بد دعا) دے دے :اللہ تعالی تمہیں یہ چیز واپس نہ دلائے۔ کیونکہ مساجد اس کام کے لیے نہیں بنائی گئیں ۔

أَبِي عَبْدِ اللهِ، مَوْلَى شَدَّادِ بْنِ الْهَاد ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← حَيْوَةُ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization · Hadith 1302

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ فَضَائِلِ المَسَاجِدِ وَبِنَا ئِھَا وَتَظِیمِھَا · حديث 1303

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ نَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، نَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ: سَمِعَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَجُلًا يَنْشُدُ ضَالَّةً فِي الْمَسْجِدِ، فَغَضِبَ وَسَبَّهُ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: مَا كُنْتَ فَحَّاشًا يَا ابْنَ مَسْعُودٍ. قَالَ: إِنَّا كُنَّا نُؤْمَرُ بِذَلِكَ.

جناب ابو عثمان بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن مسعودؓ نے ایک شخص کو مسجد میں گم شدہ چیز کا اعلان کرتے ہوئے سنا، تو آپ سخت غضب ناک ہوئے اور اسے برا بھلا کہا ۔ تو ایک شخص نے عرض کی : اے ابن مسعود ! آپ تو فحش گوئی نہیں کرتے تھے؟انہوں نے فرمایا : ہمیں (ایسے موقع پر) ایسے ہی کرنے کا حکم دیا جاتا تھا۔

كُنَّا نُؤْمَرُ بِذَلِكَ. ← لَهُ رَجُلٌ: مَا كُنْتَ فَحَّاشًا يَا ابْنَ مَسْعُودٍ. ← ابْنُ مَسْعُودٍ رَجُلًا يَنْشُدُ ضَالَّةً فِي الْمَسْجِدِ، فَغَضِبَ وَسَبَّهُ، ← أَبِي عُثْمَانَ ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization · Hadith 1303

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ فَضَائِلِ المَسَاجِدِ وَبِنَا ئِھَا وَتَظِیمِھَا · حديث 1304

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ نَا بُنْدَارٌ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الشَّرْيِ وَالْبَيْعِ فِي الْمَسْجِدِ، وَأَنْ يُنْشَدَ فِيهِ الشِّعْرُ، وَأَنْ يُنْشَدَ فِيهِ الضَّالَّةُ، وَعَنِ الْحِلَقِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ.

حضرت عمرو بن عاصؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مسجد میں خرید و فروخت سے منع فرمایا ہے۔ اور یہ کہ اس میں شعر پڑھے جائیں اور اس میں گم شدہ چیز کا اعلان کیا جائے ، نیز جمعہ والے دن نماز جمعہ سے قبل (گفتگو کے لیے)حلقے بنانے سے منع کیا ہے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← بُنْدَارٌ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization · Hadith 1304

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ فَضَائِلِ المَسَاجِدِ وَبِنَا ئِھَا وَتَظِیمِھَا · حديث 1305

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثَنَا النُّفَيْلِيُّ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا رَأَيْتُمْ مَنْ يَبِيعُ أَوْ يَبْتَاعُ فِي الْمَسْجِدِ، فَقُولُوا: لَا أَرْبَحَ اللَّهُ تِجَارَتَكَ، وَإِذَا رَأَيْتُمْ مَنْ يَنْشُدُ فِيهِ الضَّالَّةَ، فَقُولُوا: لَا أَدَّى اللَّهُ عَلَيْكَ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَوْ لَمْ يَكُنِ الْبَيْعُ يَنْعَقِدُ لَمْ يَكُنْ لِقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا أَرْبَحَ اللَّهُ تِجَارَتَكَ مَعْنًى.

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم مسجد میں کسی شخص کو کوئی چیز بیچتے ہوئے یا خریدتے ہوئے دیکھو تو یہ بد دعا دو ۔اللہ تمہاری تجارت کو نفع بخش نہ بنائے ، اور جب تم اس میں کسی کو گم شدہ چیز کا اعلان کرتے دیکھو تو یہ بد دعا دو: اللہ تمہیں یہ چیز واپس نہ لو ٹائے۔ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : اگر (مسجد میں تجارت کرنے والوں کی )خرید و فروخت منعقد ہی نہ ہوتی تو نبی کریم ﷺ کے اس فرمان کے کچھ معنی باقی نہیں رہتے : اللہ تمہاری تجارت کو نفع بخش نہ بنائے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ← يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ1 ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← النُّفَيْلِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization · Hadith 1305

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ فَضَائِلِ المَسَاجِدِ وَبِنَا ئِھَا وَتَظِیمِھَا · حديث 1306

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، نَا أَبُو خَالِدٍ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبَيْعِ وَالِابْتِيَاعِ، وَأَنْ يُنْشَدَ الضَّوَالُّ، وَعَنْ تَنَاشُدِ الْأَشْعَارِ، وَعَنِ التَّحَلُّقِ لِلْحَدِيثِ [142 - أ] يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ -يَعْنِي فِي الْمَسْجِدِ-.

حضرت عمرو بن عاصؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے مسجد میں خرید و فروخت کرنے کی،گم شدہ چیزوں کے اعلان کرنے ، شعر پڑھنے اور جمعہ والے دن نماز سے پہلے گفتگو کے لیے حلقے بنانے سے منع فرمایا ہے۔

تَنَاشُدِ الْأَشْعَارِ، ← الْبَيْعِ وَالِابْتِيَاعِ، وَأَنْ يُنْشَدَ الضَّوَالُّ، ← «نَهَى النَّبِيُّ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← أَبُو خَالِدٍ؛ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization · Hadith 1306

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ فَضَائِلِ المَسَاجِدِ وَبِنَا ئِھَا وَتَظِیمِھَا · حديث 1307

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: مَا حَفِظْتُهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ إِلَّا عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: مَرَّ عُمَرُ بِحَسَّانَ وَهُوَ يُنْشِدُ فِي الْمَسْجِدِ فَلَحَظَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: قَدْ كُنْتُ أَنْشُدُ وَفِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ. ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ: أَنْشُدُكَ اللَّهَ أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "أَجِبْ عَنِّي، اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ"؟ قَالَ: نَعَمْ. وَحَدَّثَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: وَثَنَاهُ الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ: بِهَذَا مِثْلَهُ، وَقَالَ سَعِيدٌ: قَدْ كُنْتُ أُنْشِدُ فِيهِ، وَفِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ. وَقَالَ الْحَسَنُ: قَدْ كُنْتُ أُنْشِدُ فِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ.

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ سید نا عمر ؓ حضرت حسان ؓ کے پاس سے گزرے جبکہ وہ مسجد میں شعر پڑھ رہے تھے۔ تو حضرت عمر نے ان کی طرف (غصے سے) دیکھا ۔ تو انہوں نے عرض کی :میں (اس وقت بھی) شعر پڑھا کرتا تھا جبکہ اس میں تم سے افضل ہستی موجود ہوتی تھی(یعنی نبی کریم ﷺ) پھر وہ حضرت ابو ہریرہ ؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں ، کیا تم نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے (اے حسان) میری طرف سے (مشرکین کی ہجوکا ) جواب دو ، اے اللہ! اس کی مدد روح القدس کے ساتھ فرما ؟ انہوں نے فرمایا : ہاں !(میں نے آپ کا یہ فرمان سنا ہے ) جناب سعید کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: میں اس مسجد میں شعر پڑھا کرتا تھا جبکہ اس میں تم سے افضل شخصیت موجود تھی۔ جناب حسن کی روایت میں الفاظ اسی طر ح ہیں : میں شعر پڑھا کرتا تھا (جبکہ) اس مسجد میں تم سے بہتر و اعلیٰ ہستی موجود تھی۔

سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization · Hadith 1307

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ فَضَائِلِ المَسَاجِدِ وَبِنَا ئِھَا وَتَظِیمِھَا · حديث 1308

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو قُدَامَةَ، نَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ وَاصِلٍ مَوْلَى أبي عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "عُرِضَتْ عَلَيَّ أَعْمَالُ أُمَّتِي حَسَنُهَا وَسَيِّئُهَا، فَوَجَدْتُ فِي مَحَاسِنِ أَعْمَالِهَا إِمَاطَةَ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ، وَوَجَدْتُ فِي مَسَاوِي أَعْمَالِهَا النُّخَاعَةَ فِي الْمَسْجِدِ لَا تُدْفَنُ".

مسجد میں تھوکنا منع ہے جب کہ اسےدفن نہ کیا جائے

اَبِیْ ذَرٍّ ← أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، ← یَّحْیَی بْنِ یَعْمُرَ ← یَّحْیَی بْنِ عَقِیلٍ ← وَاصِلٌ مَوْلٰی اَبِیْ عُیَیْنَۃَ ← مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← أَبُو قُدَامَةَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization · Hadith 1308

chevron_left Previous
1…707172…258
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden22. The groups of the gates of obligatory travel23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness24. The congregation of the gates of prayer on the rows25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr37. The gates of the prayer of fear38. Collections of the gates of an eclipse prayer39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals